گھر کو آگ لگ گئی گھر کے ”چراغوں“ سے !
طیبہ ضیاء ـ 1 ستمبر ، 2010
”ذات دی کوڑھ کِرلی تے چھتیراں نوں جپھے“۔۔۔ پنجابی کھلاڑی اس پنجابی محاورے کا مفہوم سمجھتے ہونگے ۔ اوقات سے زیادہ ہاتھ مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متوسط گھرانوں کے یہ کم پڑھے لکھے لڑکے جب باہرکی دنیا دیکھ لیتے ہیں تو ان کے پر پُرزے نکل آتے ہیں۔ اپنی اوقات سے زیادہ پیسہ، نشہ ، لڑکیاں، شہرت، عزت ۔۔۔ دیکھ کران کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں اور اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔کون سا پاکستان،کہاں کی حب الوطنی،کون سا دین کس کا اسلام ۔۔۔ سب بھول جاتے ہیں۔ ان غداروں کے لئے پھانسی کی سزا بھی کم ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ دھوکا ۔۔۔ غداری ۔۔۔ فراڈ ۔۔۔ بیوپاری ۔۔۔ سیالکوٹ کے درندوں کا واقعہ ابھی تازہ تھا کہ کرکٹرز کے شرمناک واقعہ نے ادھ میھ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ان ”جرائم پیشہ“ کھلاڑیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جائے، ان کے چہروں پر کالک مل کر گدھوں پر بٹھا کر چاروں صوبوں میں گھمایا جائے۔ ان لوگوں نے پاکستان کے کسی ایک شہر ، قصبے یا صوبے کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ نہیں لگایا بلکہ پورے پاکستان کی پیشانی کو داغدار کیا ہے۔ دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک دو شہری نہیں انہوں نے تو سترہ کروڑ شہریوں کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔ ان غداروں کو پاکستان کے گدھے بھی اپنی پیٹھ پر بٹھانا اپنی توہین سمجھیں گے ۔۔۔گھر کو آگ لگ گئی گھر کے ”چراغوں“ سے ۔۔۔ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے تو آج اس گھر کو آگ نہ لگاتے۔کیا یہ اپنے ان گھروں کو جہاں ان کے والدین رہتے ہیں آگ لگا سکتے تھے؟ ان چراغوں کو کال کوٹھریوں کی تاریکی میں ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے۔ قتل کا قصاص ہوتا ہے غداری کا قصاص نہیں ہوتا۔ قتل ایک شخص کا ہوتا ہے اور غداری پورے ملک کا قتل ہے۔ اس کی عزت و وقار کا قتل ۔۔۔ اعتماد اور مان کا قتل ۔۔۔ چار کھلاڑیوں کو ہی نہیں اس میچ فکسنگ کے گھناﺅنے جرم میں جتنے لوگ ملوث ہیں سب کو ہتھکڑیاں پہنائی جائیں۔ بشمول ”حیدر آبادی گھر داماد“ کے تمام نام سامنے لائے جائیں۔ متوسط گھرانوںکے یہ چند چھوکرے راتوں رات ارب پتی بننا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کو موت بھول چکی ہے۔ پیسہ ۔۔۔ پیسہ ۔۔۔ پیسہ ۔۔۔! آصف علی زرداری کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی ٹیم کی تعلیم و تربیت کے اثرات پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ دنیا بھر میں منشیات ، جنسیات اور میچ فکسنگ کے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ مغرب میں منشیات اور جنسیات کو مغربی کلچر کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر وہاں کا قانون اس معاملہ میں بھی سخت ہے بالخصوص پبلک فیگر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا۔ ملک و قوم کے جذبات اور وقار سے کھیلنے والوں کا انجام نئے آنے والوں کے لئے سبق آموز ہوتا ہے۔ کرکٹروں کی اندھی ہوس اور غداری نے انہیں پَل بھر میں زمین پر لا پٹخا ہے۔ بس اتنی سی کہانی تھی ۔۔۔! دنیا بھر میں کئی شہرت یافتہ کھلاڑی ان لعنتوں میں ملوث ہیں مگر پاکستانی غداری میں بھی بازی لے گئے ہیں۔ پاکستان میںسب مل ملا کر کھاتے ہیں۔ ہر ادارہ کرپٹ ہے۔ کوئی کسی پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ پولیس ڈاکے ڈلوا سکتی ہے تو کھلاڑی ڈاکہ کیوں نہیں ڈال سکتے؟ ملک و قوم کی جان مال کے محافظ اگر چار پیسوں کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں تو کھلاڑی چار پیسے کیوں نہیں بنا سکتے؟ جرنیل نوے دن کاکہہ کر نو نو سال اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں تو کھلاڑی چار دن کی جوانی سے لطف اندوز کیوں نہیں ہو سکتے؟ حکمران ٹین پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ بن سکتے ہیں تو کھلاڑی پچاس پرسنٹ بننے کا حق نہیں رکھتے؟ حب الوطنی کے کئی دعویدار اگر بھارت اور امریکہ کے” پیڈ“ ہو سکتے ہیں تو کھلاڑی پیڈ کیوں نہیں ہو سکتے؟گھر کے بھیدی گھر پر بمباری کروا سکتے ہیں توکھلاڑی دھماکے کیوں نہیںکر سکتے؟ سیاستدانوں کی دولت باہر ہے تو کھلاڑی باہر دولت کیوں نہیں رکھ سکتے؟ پاکستان میں بڑے بڑے اندر اور باہر سے کھاتے ہیں تو یہ چھوٹے چھوٹے اندر اور باہر سے کیوں نہیں کھا سکتے؟ بڑے بڑے صاف صاف بچ جاتے ہیں تو یہ چھوٹے چھوٹے کیوںکر دھرے جا ئیں؟ ان کے سروں پر بڑوں کا ہاتھ ہے اوربڑوں پر این آر اوکا ہاتھ ہے۔ سب پر کسی نہ کسی کا ہاتھ ہے۔ سب کے پیچھے کوئی نہ کوئی ہے۔ سب کو سب کچھ معلوم ہے۔کھلاڑیوں کو ملک کے اندر سے مکمل حمایت حاصل رہی ہے مگر بد نصیبی سے اس بار بڑی بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں۔گورے کسی کو نہیں بخشتے سوائے ان کے جن کے بارے میں امریکہ سے ہدایات آ جائیں۔ امریکہ غداروںکو محبوب رکھتا ہے مگر صرف ”سیاسی غداروں“ کو ۔۔۔ شعیب ملک کا بہنوئی بھی بہت کھا چکا۔ میچ فکسنگ میں خاندانوں کے خاندان شامل ہیں ۔۔۔ پیسہ آتا ہوا کس کو بُرا لگتا ہے ۔۔۔ اوپر سے نیچے تک ۔۔۔ اندر سے باہر تک ۔۔۔ ایک دوسرے پر پردے ڈالتے ہیں۔ جب سے کرکٹ ایجاد ہوئی ہے پاکستانی کھلاڑی کسی نہ کسی سکینڈل میں ملوث رہے ہیں۔ ان چھوکروں نے دیکھا کہ جب سب کھا رہے ہیں تو ہم کیوں نہ کھائیں۔ پاکستان کے ساتھ جب کوئی مخلص نہیں تو ہم کیوں پیسہ گنوائیں۔ کرکٹ آج ہے کل نہیں، پیسہ تو قبر میں بھی ساتھ جائے گا بلکہ گھر والوں کو بھی بخشوائے گا۔ پاکستان سے کسی کو محبت نہیں۔ جس ملک کی وجہ سے عزت، پیسہ ، شہرت حاصل کرتے ہیں اسی کے سر پر خاک ڈالتے ہیں۔ وطن عزیزکو ماں سمجھتے تو ماں کا سودا نہ کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔۔۔! یہ جملہ امریکیوں نے پاکستانیوں کے لئے بولا تھا ۔۔۔ ضمیر فروشوں اور غداروں نے کر دکھایا ہے۔ اب تو ہمارے بچے بھی پوچھتے ہیں کہ پاکستان کو کیا پرابلم ہے؟ وہاں ہر کام خراب کیوں ہو رہاہے؟ پاکستان کی پرابلم یہ ہے کہ اس نے اپنی آستین میں ان گنت سانپ پال رکھے ہیں جو ان باریک اور چھوٹے چھوٹے سانپوں کو دودھ پلاتے رہتے ہیں اور پھر بین بجا بجاکر ان کی کمائی کھاتے ہیں۔ پاکستان کا پرابلم یہ ہے کہ پہلے وہ چراغ بناتا ہے۔ پھران میں روشنی بھرتا ہے اورجب ان کی روشنی سے پورا پاکستان جگمگانے لگتا ہے تو اس روشنی کو ایمان کی روشنی تصور کرنے لگتا ہے۔ اگر اس کے چراغ ایمان سے روشن ہوتے تو غیروں کے گھر کے چراغ نہ بنتے۔ غیروں کے تیل پر روشن یہ چراغ بہت جلد بجھ جاتے ہیں ۔۔۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں