تبدیلی قبلۂِ حاجات کی
رفیق ڈوگر ـ 1 جون ، 2009
ہم جو سترہ کروڑ کے قریب اہلِ پاکستان ہیں ہمارا قبلۂِ حاجات کون سا ہے؟ ہم میں سے جو بھی اور جتنے بھی اہلِ صلوٰۃ ہیں ان کا قبلہ صلوٰۃ تو ایک ہی ہے ان کا بھی جو ’’ کعبہ میں بھی ڈھونڈے ہیں رستہ گنگوہ کا‘‘ لکھتے اور پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں مگر ہم سب کا قبلۂِ حاجات کون سا ہے؟ سیاسی ‘ جماعتی ‘ مفاداتی اور ذاتی حوالوں سے تو الگ الگ اہلِ حاجت کے قبلے سب کو معلوم ہیں۔ ’’منہ طرف گڑھی خدا بخش‘‘ والوں کے‘ قبلہ حاجات سے کون واقف نہیں؟ اور ’’منہ طرف نائن زیرو کے‘‘ والوں کے ’’منہ طرف جاتی عمرہ‘‘ کے والوں کے ’’منہ طرف نت ہائوس کے‘‘ والوں کے۔ اہلِ حاجات کے قبلہ ہائے مفادات تو سب جانتے ہیں۔ ہاں ’’منہ طرف آرمی ہائوس کے‘‘ والوں کا ان دنوں کون سا قبلہ ہے۔ اس بارے میں البتہ شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ہم بات کرنے چلے تھے اس ’’قبلہ‘‘ کی جس سے ہم سترہ کروڑ کے قریب اہلِ پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی حاجاتِ حاکمانہ و مفاداتانہ وابستہ کر رکھی ہیں جو بات کہتے ہوئے ہمارے وزیر داخلہ‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور وزیراعظم تک شرم محسوس کرتے آئے تھے۔ وہ روزِ رفتہ پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل اطہر عباس نے سی این این کو دئیے انٹرویو میں کھل کر کہہ دی تھی اس کے بعد بارک حسین اوباما اور ان کے سامراجی ساتھیوں کو کوئی شرم ورم آئی ہوگی؟ اس کا کوئی خدشہ نہیں ان کے دو لاکھ بیالیس ہزار جدید ترین ہتھیار چوری ہو جائیں اور انہیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ چور کون ہے اور گئے کہاں ہیں وہ اتنے قیمتی ہتھیار؟ ہے نہیں یہ اس صلیب پوش چچا سام کیلئے بحرِ خجالت میں ڈوب مرنے کا مقام۔ جس کے سیارے فضائوں سے ہمارے دریائوں میں پانی کی لہروں کی رفتار بھی ناپ لیتے ہیں اسے یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی مقدار کتنی ہے۔ جس کے ڈرون فضائوں سے دیکھ لیتے ہیں کہ کس گاڑی میں کون سوار ہے۔ اتنا باخبر ہو صلیب پوش سام اور وہ اتنا نااہل بھی ہو کہ اس کے اتنے زیادہ اتنے قیمتی ہتھیار چوری ہو جائیں چوری ہوتے رہیں اور وہ نہ تو انہیں چوروں سے بچا سکے اور نہ ہی بچانے کا کوئی بندوبست کر سکے؟ صلیب پوش چچا سام کی اسی نااہلی کے سبب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ہمارے حکمرانوں کا قبلۂِ حاجات و مفادات بھی وہی نااہل تو نہیں؟ میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ وہ چوری ہوئے جدید ترین امریکی ہتھیار ہم اہلِ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ سوات میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سوات اور مالاکنڈ میں شریعتِ محمدی کے نفاذ کیلئے’’جہاد‘‘ کرنے والوں کے پاس افغانستان پر قابض نیٹو فوجوں کے زیر استعمال ہتھیار بھی ہیں۔ ہم خدانخواستہ یہ تو ہرگز ہرگز نہیں کہتے کہ ’’اصل میں سارے ایک ہیں‘‘ لیکن یہ سوچنا تو مجبوری ہے کہ نیٹو فوج کے ہتھیار اہلِ شریعت محمدی والوں تک کیسے پہنچ گئے۔ ان فوجوں کے ہتھیاروں کی تو چوری کی دنیا میں کہیں کبھی کوئی چھوٹی موٹی خبر بھی شائع نہیں ہوئی۔ تو کیا نیٹو فوجوں کے کمانڈر بھی ہمارے ملک کے اس حصہ میں شریعتِ محمدی کا نفاذ چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو انہوں نے اس نظام کی مخالفت کرنے والے خواتین و حضرات کو بتا کیوں نہیں دیا تھا کہ ہم بھی وہی چاہتے ہیں چپ کرو اور چوسنی چوسو۔ میجر جنرل اطہر عباس نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ ان دہشت گردوں کو بیرونی ایجنسیاں تربیت اور ہتھیار دے رہی ہیں وہ ایجنسیاں کس کی ہیں اور کس کس کی ہیں یہ بتانا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہوگا کیا ہم سترہ کروڑ پر حکومت کرنے والے اہلِ اختیار بتائیں گے ہمیں؟ یا اب بھی وہ اپنے صدر مکرم کی بی بی جی کی تصویر کی پوجا پاٹ میں ہی لگے رہیں گے؟ کیا اس سے ہمارے اس شبہ کی تصدیق نہیں کر دی پاک فوج کے ترجمان نے کہ اتنے ہائی ٹارگٹ متعین کرنے اور ان پر کامیاب حملے کرنے کرانے والے کسی گلی محلے سے نہیں آیا کرتے اعلیٰ مہارت رکھنے والوں سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ تو ہم لکھ ہی چکے ہیں کہ امریکی سی آئی اے اور بھارتی ’’را‘‘ کے تعاون اور مدد سے افغانستان کے ہیروئن فروش تین کھرب ڈالر کی سالانہ ہیروئن دنیا میں بیچتے ہیں اور ان سے سی آئی اے اور ’’را‘‘ اپنا جو حصہ وصول کرتی ہیں وہ ایسے آپریشنوں پر استعمال کیا جاتا ہے جن کا امریکی منصوبہ ساز اعلان نہیں کرتے ان آپریشنوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردوں اور ان کے کمانڈروں کو بیرون ملک سے مالی امداد مل رہی ہے اور ملتی رہی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے جو باتیں سی این این کو بتائی ہیں وہ فوج کے سربراہ نے اپنے چیف کمانڈر اور ہمارے صدر مکرم کو بھی لازماً بتائی ہوں گی اس کے باوجود ابھی تک ہمارے صدر اور چیف کمانڈر نے امریکہ سے ‘ نیٹو ممالک سے اور ان کے کمانڈروں سے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا؟ ڈیوڈ پیٹریاس سے جواب کیوں طلب نہیں کیا کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا طالبان کے ترجمان مسلم خاں کے پاس گرین کارڈ بھی ہے؟ یہ بھی پیٹریاس سے پوچھنا چاہئے کہ مولانا صوفی محمد قبلہ کے دیوانے مسلم خاں بھی امریکہ سے افغانستان پر امریکی قبضہ کے بعد ہی آئے تھے۔ مولانا فضل اللہ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کابل پہنچ چکے ہیں مگر ان کے ترجمان مولانا سراج الدین؟ جن کی تعلیم و تربیت افغانستان کے کمیونسٹ حکمرانوں نے کی تھی۔ کیسے کیسے فدائی ہیں قبلہ صوفی جی کے۔ تو پھر اب بھی وقت نہیں آیا ہمارے لئے اپنا قبلۂِ حاجات درست کرنے کا؟ کیا حکمرانوں کی ذاتی مجبوریاں اور حاجتیں ایسے ہی ہمارا خون چوستی رہیں گی؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں