میمو کہانی ختم یا پھر....

ـ 1 فروری ، 2012
جاوید صدیق
امریکہ روانہ ہونے سے کچھ دیر پہلے حسین حقانی نے فون پر راقم سے بات کی۔ حسین حقانی ایک فاتحانہ لہجے میں گفتگو کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ جو کہانی میرے خلاف گھڑی گئی تھی اس کا انجام ہو گیا ہے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز ایسے ناقابل اعتماد شخص کے کہنے پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کرنے کا کیا جواز تھا۔ حسین حقانی نے ایک اہم صحافی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ کوئی اس صحافی سے پوچھے کہ وہ جو کہانیاں گھڑتے رہے وہ کس کے کہنے پر ایسا کرتے رہے۔ میمو سکینڈل کے بارے میں باخبر حلقوں میں عام تاثر یہی ہے کہ یہ معاملہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ میمو معاملے میں سب سے اہم کردار منصور اعجاز کا تھا۔ منصور اعجاز کلیدی گواہ تھا لیکن اس کا ماضی اس حد تک داغدار تھا کہ کوئی اس پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ لوگوں کو اس بات پر بھی حیرت تھی کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے والے شخص کو اچانک ان کے ساتھ ہمدردی کیسے پیدا ہو گئی! منصور اعجاز نے میمو سکینڈل کی تحقیقات کے لئے قائم کئے گئے کمشن کے سامنے پیش ہونے کے لئے سکیورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔ جس سے اس کی حیثیت مزید مشکوک ہو گئی۔ بعض باخبر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ منصور اعجاز پر امریکیوں نے بھی دبا¶ ڈالا کہ وہ پاکستان نہ جائے کیونکہ اس کے جانے سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جو ابتداءمیں میمو کے معاملے میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور میمو سکینڈل کے ذریعہ وہ حکومت کو اور خاص طور پر صدر زرداری کو ایوان صدر سے چلتا کرنا چاہتے تھے ان کی بھی دلچسپی بھی بوجوہ کم ہو گئی ہے ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان بھی ایک انڈر سٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ حکومت اس سال کے آخر تک انتخابات کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ قبل از و قت انتخابات عوام اور فوج میں حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف نے بھی اب میمو کیس کی پیروی میں دلچسپی لینا کم کر دی ہے۔
ایک سینئر قانون دان نے جو حالات سے اچھی طرح آشنا ہے راقم کو بتایا کہ سکیورٹی اداروں کی میمو کیس میں پیچھے ہٹنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مخالف وکلاءان کے سربراہوں کو کٹہرے میں لانے اور ان سے جرح کرنے پر مصر تھے یہ سربراہ اس صورت حال سے بچنا چاہتے تھے ایک اور فیکٹر جس نے میمو کیس کی شدت کو کم کیا ہے وہ امریکہ کی پس پردہ کوششیں ہیں امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ میمو پاکستان میں عدم استحکام کا سبب بنے۔ حسین حقانی نے وزیراعظم ہاوس میں بیٹھ کر امریکہ میں اپنے حق میں زبردست لابنگ کی ان کی اہلیہ ان کے پیغامات مختلف امریکی حکام تک پہنچاتی رہیں۔ وہ خود بھی امریکی دوستوں سے رابطے میں تھے بعض امریکی سینیٹروں نے حسین حقانی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی دانشوروں کے ایک گروپ نے بھی حسین حقانی کے انسانی حقوق کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے مشروط رہائی کے بعد حسین حقانی امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر نہیں رہے۔ لیکن وہاں ان کی یونیورسٹی کی جاب ابھی موجود ہے وہ دوبارہ پڑھانا شروع کر سکتے ہیں۔ پیر کی رات ان سے جو گفتگو ہوئی اس میں انہوں نے ایک دو صحافیوں کو خوب لتاڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان صحافیوں نے بلاوجہ اس معاملے کو اچھالا اور ملک میں ایک طرح سیاسی اضطراب پیدا کیا۔ انہیں شاید کوئی ذاتی فائدہ ہوا ہو گا لیکن ملک کا نقصان ہوا ہے۔ حسین حقانی نے اپنی گفتگو میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ 1993ءسے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ حقانی کو صدر زرداری آئندہ انتخابات میں پارٹی کی طرف سے میڈیا کے محاذ پر کوئی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔ حسین حقانی نوازشریف اور بےنظیر بھٹو دونوں کے میڈیا ایڈوائزر رہ چکے ہیں‘ جنرل مشرف بھی انہیں اپنا ایڈوائزر بنانے پر غور کر رہے تھے لیکن حسین حقانی کے مخالف لوگوں نے 1999ءمیں ان کا کام نہیں بننے دیا تھا۔ حسین حقانی امریکہ میں اپنا حلقہ اثر بنا چکے ہیں۔ انہیں کسی بھی تھنک ٹینک یا کسی دوسرے ادارے میں اسائنمنٹ مل سکتی ہے۔ لکھنے پڑھنے اور بولنے میں حسین حقانی خاصے تیز ہیں۔ ایک حلقہ اب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میمو سکینڈل کی تلوار اب بھی حکومت کے سر پر لٹک رہی ہے ضرورت پڑنے پر یہ تلوار حکومت کا سر قلم بھی کر سکتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں