پولیس کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہونا چاہئے
محمد مصدق ـ 1 فروری ، 2010
وفاقی حکومت ہمیشہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرتی ہے لیکن اس مرتبہ پاک افواج کیلئے خاص طور پر تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔ اگرچہ ملک کی اقتصادی صورتحال دیکھ کر یہ اضافہ خزانے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے لیکن موجودہ مشکل حالات میں فوج جس طرح سے اینٹی پاکستان دشمنوں کو نیست و نابود کرکے ملک کی سرحدوں اور پاکستان کی سالمیت کی حفاظت کر رہی ہے اس کی وجہ سے یہ اضافہ اتنا بڑا محسوس نہیں ہوا لیکن دوسری طرف دہشت گردوں کے خلاف پولیس کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور موجودہ آئی جی پولیس اور سی سی پی او نے باقاعدہ۔ بد عنوان پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں پولسی ملازمین کو اسی جیل میں بند کر دیا جس میں وہ بے گناہ شہریوں کو بند کیا کرتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ فوج کے ساتھ پولیس اور رینجرز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا جاتا۔ بلوچستان میں کسی کے اکسانے پر پولیس نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے غلط قدم اٹھایا جس کی پاداش میں ان سے اسلحہ واپس لے لیا گیا۔ ان کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے کمیٹی بنا دی گئی۔ اگر حکومت تدبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتی تو ان کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیتی۔ پاکستان میں تو کمیٹی اس وقت بنائے جاتے ہیں جب کوئی کام نہ کرنا ہو چنانچہ وفاقی حکومت میں درجنوں رپورٹس ایسی پڑی ہیں جو مختلف کمیٹی قائم کرنے کے بعد انہوں نے بناکر دی تھیں لیکن کسی بھی رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
ایک روز پہلے الحمراءمیں امیر فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام پولیس شہداءکی حوصلہ افزائی کیلئے بہت اچھی تقریب ہوئی جس میں سی سی پی او پرویز راٹھور نے بھی شرکت کی۔ این پی سی سی آئی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرپرسن ندیم بھٹی مہمان خصوصیتھے اور انہوں نے پولیس کیلئے بہت اچھے الفاظ استعمال کئے اور بھرپور خراج تحسین پیش کیا کہ پولیس والوں کی جرات کو سلام ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دشمن کو شہروں میں للکارتے ہیں اور خصوصاً لاہور میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں جو حیرت انگیز کامیابی ملی ہے اس کیلئے پولیس کے افسروں کے علاوہ ان کا ہر جوان بھی شاباش کا مستحق ہے۔ سی سی پی او پرویز راٹھور نے نوائے وقت کو بتایا پولیس نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ ہر قیمت پر پنجاب خصوصاً لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو مکمل کنٹرول میں رکھے گی اور شرپسندوں پر جرائم کے دروازے بند کر دے گی۔ نئی فرینزک لیبارٹری بہت تیزی سے تکمیل کے مراحل طے پا رہی ہے اس کے بعد ملزم اور جرائم پیشہ افراد کا کھرا ناپنے میں بہت زیادہ کامیابی حاصل ہوگی اور تفتیش جدید سائنسی خطوط پر ممکن ہو سکے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں