قائداعظم اور پنڈت جواہر لال نہرو

ـ 31 جنوری ، 2012
ڈکٹر محمد سلیم dmsdmsaleem@yahoo.com
جواہر لال نہرونے کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور سات بار جیل کاٹی۔ آزادی کے بعد وہ 1947ءمیں ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہوئے اور مرتے دم تک (27مئی 1964ئ) اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ غیرجانبدار ملکوں کی تحریک کے بانیوں میں سے تھے‘ وہ ایک معروف خطیب تھے ان کی سب سے عمدہ تقریر وہ ہے جو انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر کی۔ کہتے ہیں‘ ”بہت پہلے ہم نے مقدر سے ایک وعدہ کیا تھا اور اب وہ وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے.... آج رات بارہ بجے‘ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے‘ انڈیا زندہ اور آزاد ہو کر جاگ اٹھے گا۔ تاریخ میں ایسے لمحے کم آتے ہیں‘ جب ہم قدیم سے نکل کر جدید میں قدم رکھتے ہیں۔ جب ایک عہد ختم ہو جاتا ہے اور جب ایک قوم کی روح جسے بہت دیر سے دبا کر رکھا گیا تھا‘ اظہار کا موقع پاتی ہے۔
1937ءکی انتخابی مہم کے دوران نہرو نے یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں صرف دو فریق ہیں‘ کانگریس اور حکومت۔ اسکے جواب میں جناح نے کہا کہ ہندوستان میں دو نہیں بلکہ تین فریق ہیں اور تیسرا فریق مسلمان ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس خواہ مخواہ مسلم لیگی امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے۔ اس بیان پر نہرو بہت تلملائے۔ انہوں نے جناح پر ناروا حملے کئے اور کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جداگانہ ہستی کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔
اس پر علامہ اقبال نے اپنے اخباری بیان میں کہا ‘ ”میرے دل میں پنڈت نہرو کی بہت عزت ہے‘ لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے بلاوجہ مسٹر جناح کے ساتھ الجھنے کی کوشش کی ہے۔ مسٹر جناح آج مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سب سے معمتد علیہ لیڈر ہیں‘ انہوں نے اپنے ملک کی جو خدمت کی ہے وہ کسی اور لیڈر سے کم نہیں لیکن مسٹر جناح تخیل کی دنیا میں پرواز کرنے کی بجائے حقیقت بینی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لئے انکی قوم پرستی اور حب الوطنی حقائق و واقعات کے صحیح تجزیے پر مبنی ہے۔ مجھے امید ہے کہ پنڈت نہرو کو جلد اس بات کا احساس ہو جائیگا کہ مسٹر جناح مسلمانوں میں کتنی بلند حیثیت اور ارفع مقام کے مالک ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے اگر کسی شخص کو بات کرنے کا حق ہے تو وہ صرف مسٹر جناح ہیں۔“
7 جنوری 1940ءکو قائداعظم نے ایک اخباری بیان میں کہا‘ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ پنجاب اور دوسری جگہوں کے اپنے حالیہ دورے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے مجھ پر اس انداز سے حملے کئے ہیں جو کسی ذمہ دار سیاست دان کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں ہر صورت میں انڈیا پر برطانیہ کی حکمرانی کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ انکی یہ بات نہ صرف بلاوجہ ہے بلکہ کمینگی کا اظہار بھی۔ قائداعظم کے اس بیان کے بعد پنڈت نہرو کو پھر کبھی پبلک میں انکے بارے میں اس قسم کی دروغ گوئی کی جسارت نہ ہوئی۔ البتہ تب سے قائداعظم ان پر فقرہ چست کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
1945-46ءکی انتخابی مہم کے دوران 3 نومبر 1945ءکو نہرو نے ویول سے کہا کہ مسلم لیگ ایک رجعت پسند جماعت ہے‘ اسکے نظریات ناقابل قبول ہیں اور اس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ مرکزی اسمبلی کیلئے انتخابات میں مسلم لیگ نے سو فیصد کامیابی حاصل کی لیکن نہرو انتخابات کے ان نتائج کو قبول کرنے پر اپنے آپ کو فوری طور پر آمادہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کرپس کے نام 27 جنوری 1946ءکو خط لکھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مسلم لیگ کیلئے ہندوستان کا میدان صاف تھا‘ کانگریس پر تمام مدت پابندی لگی رہی اسکے رہنماءقید رہے‘ اس لئے ہم مسلمان عوام سے رابطہ نہ کر سکے۔ گزشتہ تین ماہ میں ہم نے مسلمانوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور اسکے نتائج حوصلہ افزا نکلے ہیں۔ شاید اس کا انتخابات پر اثر نہ پڑے کیونکہ ہمیں کم وقت ملا ہے لیکن ہم نے مسلمان عوام میں رابطے کی ٹھوس بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات بہت جلد ظاہر ہونگے۔
یہ تھی نہرو کی طرف سے حکومت کو دھوکہ دینے کی ایک کوشش یعنی مسلمان عوام سے رابطہ حوصلہ افزا رہا ہے لیکن اگر اسکے اثرات انتخابات میں ظاہر نہیں ہونگے تو پھر دنیا کو اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ صرف آپکے دعوے سے؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کا تو ہندو عوام سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا پھر انہوں نے ہندو مہاسبھا کو ووٹ کیوں نہیں دیئے؟ صرف اس لئے نا کہ وہ کانگریس ہی کو ہندو مفادات کی محافظ جماعت سمجھتے تھے۔ اس خط میں نہرو نے یہ بھی لکھا کہ مسلم لیگ نہ ہی راست اقدام کرنے کے اہل ہے اور نہ ہی کوئی مصیبت کھڑی کر سکتی ہے۔ بلاشبہ نہرو کے یہ اندازے قائداعظم کی سیاسی بصیرت کے بارے میں شدید غلط فہمی پر مبنی تھے۔ چنانچہ چند مہینوں کے بعد جب قائداعظم کی رہنمائی میں مسلم لیگ نے راست اقدام کا طے کیا تو کانگریس اور حکومت دونوں کی پریشانی قابل دید تھی۔
22 مارچ 1947ءکو ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن دہلی پہنچے‘ 24 مارچ کو انہوں نے گورنر جنرل اور وائسرائے کے طور پر حلف اٹھایا اور فوراً بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ 25 مارچ کو نہرو انہیں ملنے آئے تو ماﺅنٹ بیٹن نے پوچھا کہ جناح کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے‘ اس پر نہرو نے کہا:
”جناح کو کامیابی زندگی میں بہت دیر سے ملی ہے‘ ساٹھ سال کی عمر کے بعد۔ اس سے پہلے وہ ہندوستان کی سیاست میں کبھی اہم شخصیت نہیں رہے۔ وہ ایک کامیاب وکیل تھے لیکن کوئی ایسے خاص بھی نہیں۔ ان کی کامیابی کا راز انکی مستقل طور پر منفی انداز اختیار کرنے کی صلاحیت میں ہے۔“
آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ نہرو جان بوجھ کر حقائق کو جھٹلا رہے تھے یا ان میں واقعی یہ صلاحیت ہی نہیں تھی کہ قائداعظم کی شخصیت اور بے پناہ صلاحیتوں کو سمجھ سکیں۔ یاد رہے کہ قائداعظم صرف 33 برس کے نوجوان تھے کہ امپیریل قانون ساز اسمبلی کے منتخب ہو گئے اور پہلے ہی اجلاس میں ان کا وائسرائے منٹو سے ٹکراﺅ ہو گیا۔ جس انداز سے انہوں نے شاہ برطانیہ کے نمائندے سے بات کی‘ اس سے دنوں میں سارے ہندوستان میں انکی دھوم مچ گئی۔ چند برسوں ہی میں وہ پارلیمانی خطابت کے شہسوار تسلیم کئے گئے۔ انکی سوجھ بوجھ کو اس زمانے کے نامور منصف مزاج رہنماﺅں نے خراج تحسین ادا کیا۔ وہ چالیس سال کے تھے کہ انکی منفرد سعی سے میثاق لکھنو منظور ہوا۔ اس پر سروجنی نائیڈو نے انہیں ”ہندو مسلم اتحاد کا سفیر“ کہا اور ان کا شمار ہندوستانی کے چوٹی کے قومی رہنماﺅں میں ہونے لگا۔ سائمن کمیشن کا بائیکاٹ‘ گول میز کانفرنسیں‘ 1935ءکا ایکٹ‘ 1936-37ءکے انتخابات‘ ان سب میں ان کا رول انکی عظمت کا روشن چراغ ہے۔ اس روشنی میں کسی کی آنکھیں نہ کھل سکیں تو اس میں قائداعظم کا کیا قصور؟ جہاں تک انکی وکالت کا تعلق ہے اور تو اور کانگریس کے انتہائی قریبی دوست سٹیفورڈ کرپس کو بھی کہنا پڑا کہ جناح انتہائی باکمال وکیل تھے۔ ہندوستان کے وکلاءمیں نمایاں اور ایک عمدہ ماہر دستور۔
قائداعظم کا پاکستان کا مطالبہ ہندو مسلم مسئلے کا ایک مثبت حل تھا۔ انکی قدآور شخصیت‘ بے عیب اخلاق کے سانچے میں ڈھلی تھی۔ ان کا روشن دماغ‘ انکی برجستہ جواب دینے کی صلاحیت اور انکی بے مثال دیانت داری‘ ان کی عظمت کے درخشاں ستارے تھے۔
نہرو چاہتے تھے کہ عبوری حکومت میں انہیں وزیراعظم تسلیم کیا جائے لیکن مسلم لیگ کے نمائندوں نے اسکی نفی کر دی اور وہ کیوں نہ کرتے؟ وائسرائے کی نئی ایگزیکٹو کونسل بھی 1935ءکے ایکٹ کے تحت بنائی گئی تھی اور اس میں وزیراعظم کے عہدے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ قائداعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں وزارت کا تصور ہی غلط ہے۔ گدھے کو ہاتھی کہہ دینے سے وہ ہاتھی نہیں بن جائیگا۔
مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی پر 21 دسمبر 1946ءکو قائداعظم نے پنڈت جواہر لال نہرو کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پرجوش پنڈت ہیں جو نہ (اپنے تصورات اور ناقابل عمل خیالات کو) بھولتے ہیں‘ نہ (نئے تجربات اور واقعات سے) کچھ سیکھتے ہیں اور نہ ہی انکی عمر بڑھتی ہے۔ وہ تو بس پیٹرپان (Peter Pan) ہیں۔
قیام پاکستان سے چند ہفتے پیشتر قائداعظم نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس کی‘ اس پریس کانفرنس میں ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں مولویوں کی حکومت ہو گی؟ اس پر قائداعظم نے مسکرا کر کہا کہ ہندوستان میں پنڈتوں کی حکومت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یاد رہے کہ یہ طے ہو چکا تھا کہ پنڈت جواہر لال نہرو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہونگے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں