جسٹس (ر) ندیر احمد غازی
قیادت کا فقدان ہی انارکی اور طوائف الملوکی کاباعث ہوتا ہے اور اس خرابی کا حقیقی سبب وہ افراد ہوتے ہیں جو نااہلیت کا حقیقی پیکر ہوتے ہیں لیکن نام نہاد اہلیت سے ایسے مرصع نظر آتے ہیں کہ گویا کشتی ملت کے پتوار انہیں کے دستِ ہنرمند میں زیب دیتے ہیں۔ یہ افراد خود پسندی اور خوشامد پابندی کے دوشیطانی اصولوں کے بہت بڑے جبل استقامت ہوتے ہیں۔ طعن و تشنیع اور تنقید کی آندھیوں میں بھی پتھر فطرت ڈھیٹ کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ ان کی زبان اور ان کا قلم ہمہ وقت کذب بیانی اور طوماربازی پر کمر بستہ رہتے ہیں اور اپنی استدلال سے پوری قوم کیلئے گمراہی اور مایوسی کا ایسا بھیانک اور دہشت زدہ ماحول پیدا کرتے ہیں کہ روشنی میں ضیعف نظر آتا ہے۔ قوم کیلئے مطلوبہ یقین میں لڑکھڑاہٹ آنے لگتی ہے اگر کوئی درد بھرا انسان انہیں روکنے کی کوشش کرے تو اسکے اعتبار کو ایسا گہنا دیتے ہیں کہ لوگ نیکی کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
راقم کو یاد آیا کہ آج سے دس برس پہلے کی بات ہے جب لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ایک برادر اسلامی ملک کے موقر سفیر کی کتاب کی تقریب رونمائی تھی۔ تب ہمارے دیرینہ کرم فرما سابق صوبائی وزیر قانون اورپاکستان بارکونسل کے رکن رانا اعجاز احمد خان اس تقریب کے میزبان اول تھے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حاضر ملازمت چیف جسٹس صاحب صدارت فرما رہے تھے۔ جناب سفیر مذکور مہمان خاص تھے جبکہ نقیب محفل راقم السطور تھا۔ موقع مناسب جان کر چند مقررین نے عدالت اور قاضی کے رویوں کو ہرانداز سے بیان کرتے ہوئے شکایات پیش کیں تو اس وقت کے چیف جسٹس نے نہایت ہی بے اعتنائی اور مستی احوال میں ڈوبی ہوئی آواز کا سہارا لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سول ججز پر اعتراض کرنیوالے نامساعد حالات کا جائزہ لینا کیوں بھول جاتے ہیں حالانکہ ایسے مشکل ترین حالات میں کام کرنا ایک ولی اللہ کا کام ہی ہوسکتا ہے‘ اس لئے معتریضین احتیاط کریں۔سامعین تو بسااوقات عدم آباد کے باسی ہوا کرتے ہیں اور قاضی القضاۃ کا احترام تو بہرحال ایک مسلمہ فرض ہے، لیکن دیوانگی طبع تو سچائی کے محمل کو جا پکڑتی ہے فقیر نے عرض کیا کہ اگر سول جج ولی اللہ ہوں تو چیف جسٹس تو قطب مدار کے منصب پر فائز سمجھے جائینگے۔ بندہ پرور آپکے منصب کی بلندی پر کون اعتراض کرے لیکن یہ تقسیم ولایت اور مسائل جہد و امانت تبصرہ اہل نظر پر ہی چھوڑ دیں ورنہ غالب تو سب سے بڑا تجزیہ شعار تھا بس اپنی عادتِ قدیم کے سبب خاموش رہااور اعترافی شعر کہہ ڈالا…؎
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
جواباً برسرمجلس تو انہوں نے شیر کی سی نظر سے دیکھا اور پھر ہمارا ورق محبت انکی کتاب دوستاں سے خارج ہوگیا۔ایک سابق اٹارنی جنرل اور ہمارے دیرینہ دوست سابق آئی جی رانا مقبول(موجودہ سیکرٹری پراسیکیوشن) نے ہمیں بزرگانہ نصیحت کی کہ مزاج شاہاں سمجھنا سیکھو اور بس یہ باتیں زبان پر لانے کی نہیں ہوتیں دل میں سمائے رکھو لیکن ایسے کڑوے سچ اندر نہیں رہتے کہ گھٹی میں نجانے کس بزرگ کی شیریں فطرت رویے شامل ہو چکے ہیں۔
پھر ایک مرتبہ فن خوشامد کا ایک معتبر حوالہ دیکھنا پڑا اور طبیعت نے اظہار بے زاری کیا تو غصے کے طوفان میں بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ قصہ یہ تھا کہ جناب اے کے بروہی مرحوم حاکم وقت ضیاء الحق کو خلافت راشدہ کا پانچواں خلیفہ فصل بنانے کے چکر میں تھے۔ راقم نے اردو ڈائجسٹ میں برائے بیداری بزرگاں چند سطور تحریر کی تھیں کہ ضیاء الحق کی تعریف کرتے ہوئے چوہدری اور میراثی کا پیمانہ اختیار مت کیجئے۔
مشرف کی خوشامد میں تو بڑے نامور شجاع بھی پانی بھرتے تھے اور ان کو دس مرتبہ باوردی صدر بنانے پر بڑا ہی یقینی بیان دیا کرتے تھے۔ کچھ مہم جُو یہ بھی کہا کرتے کہ ظفر علی شاہ کیس نے جنرل کوتین سال دیئے اور ہم ہوتے تومشرف کو سات سال دیتے۔ لال حویلی کے مکین شیخ رشید اور مشرف کابینہ کے تمام افراد کو اب رہ رہ کر یاد آرہا ہے کہ پرویز مشرف تو بہت بڑا آمر تھا اور جابر تھا۔ پوچھا جائے کہ تب آپ لذت حیات کے اندھے کنوئوں میں بے بس کیوں تھے؟
دوستو! یہ ایک عجیب جنگل ہے جہاں کے درندے ہر بدلتے موسم میں نئی بولیاں بولتے ہیں اور اپنی ہر بولی کو وزنی قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں کبھی بھی پچھتاوے کا پسینہ ان کی جبیں نیازمند پر نظر نہیں آتا۔ ان کی جبیں نیاز ہمیشہ نئے آستانوں پر کھیلنے کیلئے آمادہ رہتی ہے اور عوام الناس کو ہر وقت یہ باور کرانے پر زور رہتا ہے کہ ہم تمہارے دردوں کا مداوا ہیں۔ ہمارے لئے جیوے جیوے کا راگ لاپتے رہو۔ آپس میں بٹ کر رہو لیکن ہمارے ساتھ جڑ کر رہو ہم کشتی وطن کے کھیون ہارے ہیں۔ ناخدائی سے خدائی تک کے سفر میں مصروف ہیں فی الحال نہیں جب معاذ اللہ پورے خدا بن جائینگے تو تمہاری قسمت سنوار دیں گے۔ مگر کون کس کی قسمت سنوارے گا۔ ذرا اپنی خبر لینا چاہئے کہ مصیبت کی دلدل میں کون کتنا گہرا دھنستا جارہا ہے اور خدا کی نافرمانی کبھی بھی بلندی عطا نہیں کرتی بلکہ اشرافیہ کی بدکاریوں کے سبب جو عذاب نازل ہوا کرتے ہیں ان میں سے ایک بڑا عذاب یہ بھی ہے کہ آسمان سے رحمتوں اور نعمتوں کے نزول کا سلسلہ بہت ہی سست پڑ جاتا ہے۔ جھوٹ رزق کو کھا جاتا ہے۔ جھوٹ، مسلسل جھوٹ، خوش کن جھوٹ، پچھلے دور کی قیمتوں کا حوالہ دیکر کہتے ہیں ہم قیمتوں کو وہیں لوٹا دینگے۔ قیمت تو نہیں لوٹنی البتہ ہماری اجتماعی قسمت کئی بار 10 سال پیچھے کی طرف لوٹ گئی اوراب ہم پھر سے 1947ء کی غریب قوم ہیں بلکہ بے حسی میں تو ہم 1857ء تک لوٹ گئے ہیں۔
غور کیجئے! قائدین ملت دس سالہ زوال کا منصوبہ بناتے ہیں اور ارباب عقل و دانش طبلہ پرسنگت میں خوشامدی گیت الاپتے ہیں۔
خوشامد+جھوٹ=ذلت آمیز بربادی
ذرا آنیوالے ایام میں معاشی حالات کا تصور کیجئے۔ فصلیں بے زبان فصلیں پانی کی بوند بوند کو ترستی ہیں۔ بادل آتے ہیں بن برسے چلے جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے۔ اس رب کریم کی رحمت بے پایاں اپنے بندوں کے رجوع اور توبہ کو بہت محبوب رکھتی ہے۔خطا کار بچہ جب اپنی خطائوں کی معافی کیلئے ماں کے قدموں پر سر رکھتا ہے تو جواب میں ممتا مچل مچل جاتی ہے ہمارا رب تو 70مائوں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے اور توبہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے مگر…؎
ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ راہرو منزل ہی نہیں
لیکن توبہ کیلئے کچھ اعترافِ قصوراوراپنے گناہوں پرشرمندگی کا اظہار بھی تو چاہئے۔ ندامت کے آنسو رحمتِ خداوندی کو اپنے قریب ترین کر لیتے ہیں۔ بے بسی اور عاجزی کا اعتراف معافی کادرکھول دیتا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ہندوستان کی مسلم ریاست ٹونک میں قبل از آزادی قحط پڑنے کا شدید اندیشہ تھا اور بارش نہیں ہو رہی تھی۔ نواب ٹونک، قاضی وقت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے نواب اور قاضی اور سب اعیان سلطنت اکٹھے ہو کر نماز استسقاء ادا کرتے تھے اور قوم کی اجتماعی معافی کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت الحاح و زاری سے اپنی قوم کی اور اپنی حاجات مانگتے تھے۔کتاب جادۂ نَسیاں کے مصنف نے اس واقعہ کو اس طرح سے بیان کیا ہے۔
’’ہوا یہ کہ ریاست میں امساکِ باراں تھا۔ برسات کا موسم گزرا جارہا تھا اور بارش نہیں ہوئی تھی اس لئے نماز استسقاء ادا کرنے کا فیصلہ ہوا اور جیسا کہ حکم ہے کہ ایسی نماز پیادہ چل کر میدان میں جا کر پڑھیں۔ نواب صاحب پیادہ چل کر عدالتِ شرعیہ گئے اور عدالت کے ناظم (قاضی محمد عرفان خان) صاحب سے کہا:
’’چلئے قاضی صاحب قحط سالی ہے چل کر نماز پڑھیں۔‘‘ قاضی صاحب نے فرمایا ’’جی ہاں سرکار! قحط سالی ہے نماز پڑھنے چلنا چاہئے، آپ اور ہم سب گناہ گار ہیں، مگر آپ راعی ہیں، رعایا کے بہت سے گناہوں کی ذمہ داری بھی آپ پر عائد ہوتی ہے۔ آپ اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ سچے دل سے توبہ کریں، پھر کیوں رحمت الٰہی جوش میں نہیں آئے گی۔‘‘ نواب خاموشی اور تاثر سے سنتے رہے اور کہنے لگے’’بے شک میں خاطی و عاصی ہوں اور میری ہی شامت اعمال سے یہ خشک سالی ہے۔ آپ چلئے، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کروں گا۔‘‘ نماز ہوئی، امام صاحب نے مسنون دعائیں پڑھیں۔ نواب زور زور سے الحاح وزاری کر رہے تھے۔
’’بارِالٰہ! میں گناہ گار ہوں، سیاہ کار ہوں تو نے مجھے اپنے بندوں پر راعی بنایا ہے مگر میں ان کے حقوق ادا نہیں کرسکا اور میری ہی شامت اعمال نے یہ دن دکھایا ہے تجھے ان بزرگوں اور معصوم بچوں کا واسطہ، ان بے زبان جانوروں کا واسطہ، ہم پر رحم فرما، ہماری خطائیں معاف کردے اور بارانِ رحمت برسادے۔ میں تجھ سے عفو کی بھیک مانگتا ہوں۔ میں اپنے تمام خفیہ اور ظاہر گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔‘‘
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ نواب کی آنکھیں ابھی برس رہی تھیں کہ گھر کر بادل آگئے اور ٹوٹ کر برسنے لگے۔ سب نمازی اپنے اپنے گھروں کو بھیگتے ہوئے لوٹ رہے تھے اور اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ یہ انداز اپنانے ہی سے کوئی راستہ کھلتا ہوا نظر آتا ہے ورنہ خشک دریا ہمارا منہ چڑاتے رہیں گے اور ہمارے ارباب بست وکشاد ہمارے لئے کب ظاہری کوششیں بروئے کار لائیں گے اور پانی زمینی یا آسمانی ہماری بے آب فصلوں کو آبدار کرے گا اور کیا وہ نواب ٹونک کے کردار کو اپنے لئے مثال بنائیں گے؟
جنرل مشرف کے خیر خواہ اب طوطاچشمی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ اب وہ سیر چشم ہو چکے ہیں بلکہ شکم سیر ہوگئے ہیں۔ اب یہ رندِ بے در نئے میکدوں کی تلاش میں ہیں اور اپنے بیان حلفی کو دورِ جنون کی حرکات سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ رند کردار لوگ جنون و ہوش کے خود ساختہ پیمانے اپنی وکالتِ بے جا کیلئے استعمال کرتے ہیں ابھی اچانک خبر آئے کہ یورپ بہادر پھر اپنے گماشتوں کو دولہا بنا کر تخت اقتدار پر بٹھانے آرہا ہے یہ چوبدار وفادار برائے یورپی دلدار فرشی سلام کو حاضر ہو جائیں گے اور فقیر رہ نشین اپنی کٹیا کے قریب بیٹھے کسی دلدارِ بے زار کا وظیفہ نہیں جپتے بلکہ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں اور اپنی وفاداریوں کا قبلہ خدا اور رسولﷺ کو سمجھتے ہیں اور ہم سے فقیر جو مشرف گزیدہ ہیں کبھی بھی دست طلب غیر کے سامنے دراز نہ کرنے کا عہد نبھاتے رہیں گے۔ اگرچہ راقم کا نام جنرل مشرف نے برائے جج ہائیکورٹ، لاہوردومرتبہ مسترد کردیا تھا کہ ہم دیندار ججوں کے متحمل نہیں ہوسکتے حالانکہ موجودہ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری صاحب نے اپنی تجاویز و سفارشات میں میرا نام بھی بھجوایا تھا لیکن مشرف صاحب نے جناب چیف جسٹس کی تجویز و سفارش پر یکسر قلم پھیر دیا تھا۔ جی چاہتا ہے کہ پوری قوم مل کر درد بھری آواز میں ہاتھ اٹھا کر یوں عرض کریں گے…ع
یارب رہے سلامت فرماں رواں ہمارا