سیل ِ بلا کے بعد!

ـ 31 اگست ، 2010
سید منور حسن (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش سے دوچار ہے۔ پورا ملک سیلاب کی زد میں ہے اور جو علاقے پانی میں گھرے ہوئے ہیں انکے درمیان یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون زیادہ بڑی مصیبت اور تباہی کاشکار ہوا ہے،اور کس کی مصیبت کب تک ٹلنے کو آئیگی۔انفرا سٹرکچر ، پل، سڑکیں،فصلیں پانی میںبہہ گئی ہیں، مویشی ضائع ہو گئے ہیں،گھر تباہ ہو گئے ہیں اورسامان سیلاب اپنے ساتھ لے گیاہے۔ تن کے کپڑوں کیساتھ لاکھوں لوگ چاروں طرف موجود ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔اس قیامت خیز تباہی نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ نے ریسکیو اور ریلیف کے حوالے سے انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔حکومتی اداروں کے پاس وہ انفراسٹرکچر موجود ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ بارشیں کتنی ہونے جارہی ہیںاورسیلاب کا کہاں اور کس پیمانے پر خدشہ ہے‘ اگرغریب لوگوں کو آنیوالے خطرے سے آگاہ کیاجاتاتو جو تباہی اس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے بچا جا سکتاتھا۔ سندھ میں تو حکومتی سطح پر انتہائی بے حسی اور نااہلی کا مظاہرہ کیا گیا۔ پنجاب اور خیبر پی کے میں تباہ کن صورتحال دیکھنے کے بعد بھی وہاں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائوکی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی۔ جیکب آباد، شکار پور اور دوسرے علاقوں سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ سول انتظامیہ کہیں موجود نہیں تھی۔ خیبر پی کے کی حکومت ہو یا سندھ کی، پنجاب کا معاملہ ہویا بلوچستان کا،ہر جگہ حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی تکالیف بڑھتی جا رہی ہیں کہ صحیح معنوں میں کہیں ریلیف نہیں مل رہاہے۔ انتخاب کے ذریعے وجود میں آنیوالی حکومتوں سے لوگ بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پوری کوشش کرینگی لیکن منتخب حکومتوں نے جمہوریت کو بھی ناکام کیا ہے اور جمہور کوبھی بڑے پیمانے پر نقصان اور مایوسی سے دوچار کیاہے۔ خیبر پی کے ، سندھ اور پنجاب میںکئی دن میں نے سیلاب متاثرین کیساتھ گزارے ہیں، تینوں حکومتوں کی ریسکیواور ریلیف میں ناکامی متاثرین کی باتوں سے جھلکتی ہے۔
یہ امر خاصا افسوسناک ہے کہ ہفتوں گزرنے کے بعدبھی سیلاب متاثرین کیلئے خیمہ بستیاں نہیں بسائی جا سکی ہیں اور وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حکومت کو لاکھوںکی تعداد میں خیمے ملے ہیں، ان سے خیمہ بستیاں وجود میں آجانی چاہیے تھیں لیکن ایسا اب تک نہیں ہو سکا۔الخد مت فائونڈیشن اوردیگر مذہبی این جی اوز نے خیمہ بستیاںبسائی ہیں۔ آصف زرداری صاحب کی اصطلاح میں اس حوالے سے سارا کام نان سٹیٹ ایکٹرزکر رہے ہیں جبکہ سٹیٹ ایکٹرز بیرون ملک دوروں اور اندرون ملک فضائی جائزوں اور جعلی کیمپوں کے دوروں میںمصروف ہیں۔ خیبر پی کے‘ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بیسیوں مقامات پر فوری خیمہ بستیاں بسانے کی ضرورت ہے۔ خیبر پی کے کی حکومت کو توبراہ راست ہزاروں خیمے ملے ہیں لیکن ان کا کہیں وجود نہیں ہے۔
متاثرین کا ایک اور فوری مسئلہ سحر اور افطار کا ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں الخدمت فائونڈیشن اور دیگرلوگوں نے کوشش کی ہے کہ مسجدوں اور کیمپوں میں سحر اور افطار کابندوبست کیا جائے۔اگر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر لوگوں کیلئے دو وقت کھانے کاانتظام کیا جائے تو اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ کس قدر مشکل کام ہے۔حکومت کو اس معاملے میں بھی پیش قدمی کرنی چاہیے اور متاثرہ علاقوں میں جتنے لوگ اور تنظیمیں کام کر رہی ہیں، ان سے بھی تعاون حاصل کرنا چاہیے۔
سیلاب کرپشن و کمیشن میں گھری حکومت کی بچی کھچی ساکھ بھی بہا لے گیاہے۔ وفاقی و صوبائی وزرا متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں تو عوام جگہ جگہ اکٹھے ہوکر ان کیخلاف نعرے لگاتے ہیں، متاثرہ علاقوں میں انکی پوزیشن فی الحقیقت گالی سے بھی بدتر ہے۔ بیرون ملک بھی حکومتی ساکھ بہتر نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کہنا پڑا کہ حکومت پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے عالمی برادری امداد دینے میں ہچکچا رہی ہے۔ سعودی عرب، ایران، ترکی اور کئی دوسری حکومتوںاورمصر، ملائشیا،برطانیہ اور دیگر ملکوں سے فلاحی تنظیموں اور ڈاکٹروں نے جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن سے رابطہ کرکے متاثرین سیلاب کی خدمت کی ہے۔پاکستان میں سعودی سفیر نے پانچ ٹن چاول کی صورت میں ذاتی عطیہ الخدمت فائونڈیشن کے حوالے کیاہے۔ باہرسے آنیوالی ڈونر ایجنسیوں اور ٹیموں میں سے کوئی حکومت کیساتھ کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انھوںنے این جی اوز کا تعاون حاصل کیا ہے، اور لوگوں سے مقامی طور پر کہاہے کہ آپ مل کر این جی او بنا لیں تو ہم امداد کرینگے۔یہ کوئی بہترصورتحال نہیں ہے۔ ہمیں بھی یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ کوئی ہم سے آکے کہے کہ آپ کی حکومت تو کرپٹ ہے لیکن آپ اچھے ہیںاور ہم آپ کے ساتھ مل کے کام کرنا چاہتے ہیں۔
اس صورتحال کے باوجود حکمران سدھرنے اور اپنا تشخص بہتر بنانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔سعودی سفیر نے مجھے بتایا کہ سعودی عرب نے ٹنوں کے حساب سے چارٹرڈ طیاروں میں کجھوریں بھجوائی ہیں۔ متاثرین تک تو یہ کھجوریں نہیں پہنچیں البتہ اطلاعات ہیں کہ بازاروں میں فروخت ہو رہی ہیں۔کئی علاقوں سے ایسی اطلاعات ملیں کہ وزیروں اور بااثر لوگوں نے امداد کو اپنے گوداموں میں سٹور کر لیا ہے اور متاثرین نے حملہ کرکے اور تالے توڑ کر وہاں سے سامان نکالا ہے۔ جن علاقوں میں امداد تقسیم ہو رہی ہے،اسکے بارے میں بھی کم سے کم الفاظ میں یہ کہاجا سکتا ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہورہی ہے۔اگر یہی کیفیت جاری رہی تو مرکزی و صوبائی حکومتوں اور حکومتی اداروں سے عوام کااعتماد بالکل اٹھ جائیگااورایک انارکی جیسی کیفیت پیدا ہو جائیگی۔ اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی بنیادوں پر امداد تقسیم کرنے کاسلسلہ بند کیا جائے اور مستحقین تک امداد پہنچائی جائے۔
حکومت کو اپنی ساکھ اور اعتمادبحال کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں‘ جو فنڈز مل رہے ہیں ان سے متاثرین کوگھروں کی تعمیر کیلئے فی خاندان ایک لاکھ روپے امداد دی جانی چاہیے،اور مویشی فراہم کرنے چاہئیں کہ مویشی ان کی معیشت ہے اور روز مرہ گزر اوقات کا ذریعہ بھی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یوٹیلٹی بلز ختم، کسانوں کے قرضے معاف اور زراعت کیلئے غیر سودی قرضے فراہم کرنے چاہئیں۔ خیبر پی کے میں منڈا ڈیم کو تمام کاموں میں ترجیح دی جانی چاہیے کہ اس پر اگلی فصل کا انحصار ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں