الطاف بھائی اور چھائونی کا درخت
ـ 31 اگست ، 2010
محمد طارق چودھری ۔۔۔
چھائونیوں میں فوج کے سربراہ کا حکم نافذ ہے۔ اگرچہ یہ انکی ملکیت نہیں پھر بھی ان پر سپاہ کو مکمل اختیار اور اقتدار حاصل ہے۔ وہ درخت جو چھائونی والوں نے خود لگایا اور ہاتھوں سے اگایا ہو۔ ان کو مکمل اختیار کہ ایسا درخت بوقت ضرورت اکھاڑ کر پھینک دیں یا کاٹ کر جلا ڈالیں۔ جو کاٹ جلایا وہ فنا ہو گیا۔ جو اکھاڑ پھینکا وہ بھی خود سے دوبارہ پا بہ گل نہیں ہوسکتا۔ چند دنوں میں اسکی جڑ ہی سوکھ جاتی ہے جو درخت سایہ دار ہو اور خوش نما لگے وہی زندگی پا سکتا ہے۔ بدنما ہو جائے یا فوج کیلئے سدراہ تو انجام تک جانے میں لمحوں کی بات ہے۔ کراچی چھائونی کی فضا میں تناور ہو کے کٹ جانیوا لا درخت فنا میں اتر گیا۔ لاہوری پھر سے بارآور ہونے کا آرزو مند ہے وہ بھی باغباں کی منت اور اعانت کے بغیر…؎
آرزو اور آرزو کے بعد خون آرزو
ایک مصرعے میں ہے بند داستان زندگی
الطاف بھائی نے فوج سے گملا مانگا نہ جڑ پکڑنے کی بات کی وہ تو کچھ دنوں کیلئے بیرک میں سستانا یا چھائونی کے چھتناور کا سایہ مانگتے ہیں۔ انکے حسن طلب پر فون کی چھلنیاں بولتی ہیں۔
جن کو ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
ابھی کل کی بات ہے ماڈل ٹائون میں دبکے تھے نامعلوم کرنل کی آواز پر نکل کھڑے ہوئے اور بامراد لوٹے۔ اب تک نہ جان سکے کہ جہاں کی مٹی وہیں لگے تو مناسب اجنبی ماحول میںلیپ دیں تو دو ایک دھوپ میں اکھڑ پڑے یا دراڑیں چھوڑ دے۔ چھوٹا اس بھید کو پا گیا اور اب الطاف حسین بھی۔ جو نہ جان سکے وہ آئے دن کڑوی گولی پر بسر کرتے ہیں۔ زرداری کے بعد اب گیلانی نے بھی ایسی گولیاں ذخیرہ کر لی ہیں۔ چند ایک تو کھلا بھی چکے جو در چھوڑ گیا پھر دربدر ہے۔ اب امریکہ سے آس بندھی ہے مگر وہ بھی تو چھائونی میں ہی کاشت کرے ہے۔ نہیں معلوم، تو زرداری سے پوچھ لیں…؎
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں کیا آس لگائے بیٹھے ہو
الطاف حسین کی طرف سے فوج کی دہائی جوابِ آں غزل ہے یا نہلے پہ دہلا۔ زیادہ دن نہیں گزرے۔ اے این پی کے بشیر بلور نے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انکے مطالبے پر حکومت سندھ نے کچھ برا نہیں منایا حالانکہ اس کا صاف مطلب تھا کہ حکومت سندھ ناکام ہو چکی ہے تو پھر اسمبلی معطل کر کے گورنر راج کیوں نہیں؟ دوسری طرف سندھ کے وزیرداخلہ نے دھمکی دی کہ مفاہمت میرے رستے کی دیوار نہ ہو تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ والوں کو چوراہے میں لٹکا دوں‘‘ پھر ارشاد ہوا میں خود سب سے بڑا بدمعاش ہوں ( یہ اعزاز بھی خود رکھ لیا) اس طرح کراچی میں غارت گری کا سارا الزام ایم کیو ایم کے گلے میں باندھ دیا حالانکہ مقتولین میں دوتہائی الزام دھرنے والوں کا کارنامہ ہے۔ متحدہ جس نے اپنا لسانی تشخص ترک کرکے قومی دھارے میں آنے کی کوشش کی وہ پارلیمنٹ میں چوتھی بڑی پارٹی ہونے کے باوجود جزیرے میں قید ہے جس کو چاروں طرف سے حاسد اتحادی ہمسایوں نے گھیر رکھا ہے۔ بظاہر خوش رو بباطن زہر خند۔ دو طاقتور ہمسائے بد باطنی میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ ایک کے پاس حملہ آور ہونے کی ہمت ہے دوسرے کے پاس صوبائی انتظامیہ کا موثر ہتھیار، ایم کیو ایم کو دوسرے علاقوں اور ہمسایوں سے مدد اور ہمدردی کی کوئی امید نہیں کہ ماضی میں سب کو للکارتے اور پچھاڑتے رہے۔اے این پی کی سیاست اور ذوالفقار مرزا کی للکار کا ایسے مسکت جواب آیا کہ ہفتہ بھر سے ٹی وی اور اخبارات سیلاب کی مصیبت بھول کر الطاف حسین پر مرتکز ہیں۔ انکے ناروا اور غیر جمہوری بیان پر بھی ایم کیو ایم کے لیڈر اور ترجمان ’’بیک فٹ‘‘ پر نہیں گئے۔ انہوں نے اپنے قائد کا بآواز بلند موثر دفاع کیا۔ وہ سب غلط مقدمہ بھی جارحانہ لڑتے رہے۔ الطاف حسین کا بیان نپاتلا، سوچا سمجھا تھا یہ اتحادی حاسدوں کی خفیہ چالوں کا دلیرانہ جواب ہے۔
کراچی کی اس تحریک کی مقامیت سے قومی سیاست کی طرف پیش قدمی کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ انکے سابق اور مو جودہ اتحادیوں میں کسی نے بھی اس مثبت پیش رفت کا ساتھ دیا نہ ہاتھ پکڑا۔ ہر اتحادی نے کراچی میں انکی مقبولیت اور سٹریٹ پاور کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا پھر موقع پاتے ہی انہیں کھدیڑ ڈالا۔ انکے اتحادیوں میں بدترین استحصال سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے کیا۔ جس نے چیف جسٹس کیخلاف عناد نکالنے کیلئے کراچی کی اس جماعت کو استعمال کیا۔
زرداری صاحب کی مشکوک قیادت سندھ میں متاثرین سیلاب کے ساتھ سرد مہری اور سست ردعمل نے اندرون سندھ سیاسی خلا پیدا کر دیا ہے۔ پشتے اور بندوں کو توڑنے میں جاگیردار ممبران اسمبلی کی سنگ دلی اور خود غرضی نے جاگیردار اور ہاری کے مابین نفرت کا رشتہ قائم کر دیا ہے۔ جاگیرداروں کیخلاف الطاف حسین کی مہم انہیں اندرون سندھ بھی ویسے ہی پر جوش نوجوان کارکن فراہم کر سکتی ہے جس طرح کے اسی(80) کی دہائی میں کراچی سے مل گئے تھے۔ نئے کارکنوں کی تربیت اور مالی وسائل کراچی سے بآسانی فراہم ہو جائیں گے۔ اندرون سندھ نئی قسم کی کشمکش جلدہی متوقع ہے۔ الطاف حسین کو دلکش نعروں کی ایجاد، مجمع اکٹھا کرنے اور تنظیمی امور میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ وہ اپنی جماعت میں نگرانی کا موثر نظام، کارکنوں کی نبض پر ہاتھ اور لیڈروں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ پارٹی کی ساکھ اور نئی نسل میں مقبولیت برقرار رکھنا بڑا کارنامہ ہے۔ الطاف حسین نے طاقت اور تشدد کو سیاست اور تنظیم کیساتھ یوں ہم آہنگ کر دیا ہے کہ پارٹی چھوڑ جانے اور پالیسی سے اختلاف کرنے کا کسی کو یارا نہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت میں کسی انتخابی امیدوار کو ذاتی مقبولیت اور وسائل پر انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی۔ ذاتی نفع اندوزی کیلئے بدعنوانی کا کوئی سوال نہیں۔ کرپشن اور بھتہ خوری کا جو کچھ الزام ہے وہ پارٹی پر ہے کسی فرد پر نہیں۔ کوئی ممبر پارلیمنٹ یا لیڈر ذاتی منفعت کیلئے پارٹی کو استعمال نہیں کر سکتا‘ ایسا استحقاق اگر کچھ ہے تو صرف قائد کیلئے۔
بے نام کارکنوں کو اعلیٰ مناصب تک پہنچا دینے کا کام جماعت اسلامی نے کیا یا پھر ایم کیو ایم نے اگرچہ دونوں کی سیاست اور نظریات میں شرقین کا فاصلہ ہے۔ ایک اسلام کے نام پر نظریاتی جماعت دوسری اقتدار کی سیاست کرنیوالی سیکولر مگر دونوں سیاست میں وڈیرہ شاہی اور اجارہ داری کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ دونوں کی اعلیٰ قیادت نے خود کو حکومتی عہدوں اور مناصب سے دور رکھ کر اعلیٰ مثال قائم کی۔ ان جماعتوں نے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے اس عذر کی قلعی کھول دی کہ حکومت اور پارٹی عہدے الگ کرنے سے نظم قائم نہیں رکھا جا سکتا نہ بدعنوانی کی دولت کے بغیر کامیاب سیاست کی جا سکتی ہے‘ ان لوگوں نے بڑی جماعتوں کے غیر اخلاقی دعوے غلط ثابت کر دیئے۔ پی پی پی، اے این پی اور سرکاری انتظامیہ کے گٹھ جوڑ نے ایم کیو ایم کو نئے امکانات کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ لمبی مدت سے تنے رسے پر چل رہی ہے۔
اب یہ غیر روایتی حلیفوں کی تلاش میں ہے۔ ایم کیو ایم لسانیت سے نکل رہی ہے۔ عین اس وقت لسانیت ہی پیپلزپارٹی کا آخری سہارا ہے مگر حالیہ سیلاب کی تباہ کاری اور حکومت کی نااہلی و سرد مہری اور منتخب ممبران کی خود غرضی نے لسانیت کا سہارا بھی کمزور کر دیا۔ سندھ کارڈ سیلاب میں بہہ گیا۔ اب سندھ کا میدان پیر پگارا، الطاف حسین اور ممتاز بھٹو کیلئے خالی ہو رہا ہے:
اٹھا لے ہاتھ سے بڑھ کر جو مینا اسی کا ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں