لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالرزاق
سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد مغربی پاکستان پر نئی قیادت نے عنان حکومت سنبھال لی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملک پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنانے کا عزم کر لیا۔ انہوں نے خارجہ پالیسی میں Bilatralism کا نعرہ لگایا اور اس پر عمل بھی کیا۔ انہوں نے اسلامی سربراہ کانفرنس بلا کر عالم اسلام کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب دیکھا اور اسکی تعبیر کیلئے بھی اقدامات کئے۔ انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو ملک کی خوشحالی کیلئے استعمال کرنے کی تدبیر سوچی۔ روس کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو روس نے یحیٰی دور میں وعدہ کردہ اسٹیل مل کا تحفہ پاکستان کو دیا جو روس کی طرف سے خیر سگالی کی نشانی کے طور پر اب بھی موجود ہے اور پاکستان کی ترقی میں ایک عظیم اضافہ ہے۔ روس کیساتھ خیر سگالی کیلئے پاکستان کے راستے افغانستان سے ماسکو تک سڑک کے راستے راہداری اور تجارت کی راہ ہموار ہوئی۔ اب مغرب کو شدید تکلیف ہوئی۔
یوں تو پاکستان بہت خوشحال ہوگا ! روس بھی معاشی طور پر طاقتور ہوگا اور پھر مغرب اور امریکہ کا دنیا پر رعب ختم ہوگا۔ سارے سر جوڑ کر سوچنے لگے کہ کیسے مغرب اور امریکہ کی Hegemony کو قائم کیا جائے۔ اس کا ایک ہی حل ان کو نظر آیا اور وہ یہ تھا کہ روس کو زک پہنچائی جائے۔ پاکستان کی ترقی کو روکا جائے۔ اس منزل کے حصول کیلئے امریکہ کو پاکستان میں ایک ڈکٹیٹر کی ضرورت پڑی۔ یہ ضرورت جنرل ضیاء الحق نے پوری کی۔ انہوں نے بھٹو کو قید کیا ملک میں مارشل لگایا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرایا۔ انہوں نے اپنی قوم کے ہزاروں نوجوان افغان جنگ میں جھونک دئیے۔ کسی نے جنرل ضیاء الحق سے ان سب شہیدوں کے لہو کا حساب لینے کی جرات نہیں کی مگر اللہ جل شانہ، کا انصاف تو ضرور ہے۔اللہ کے انصاف سے کوئی بھی ظالم بچ نہیں سکتا۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ کیسے یہ ٹولہ ختم ہوا۔ آخر شہید کا لہو رنگ لایا پاکستان ایٹمی صلاحیت بن گیا۔ مغرب اور امریکہ کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ مگر دنیا میں ایک نئے نظام نے جنم لیا‘ اب دنیا Unipolar Words بن گئی۔ دنیا میں واحد طاقت صرف امریکہ ہی بن گیا۔ امریکہ بدمست ہوگیا۔ انہوں نے دنیا کے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی بنائی۔ بحرہند سے ماسکو تک کے زمینی راستہ پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی بنائی۔ کردستان، عظیم اسرائیل عظیم بلوچستان بنانے اور پاکستان کو توڑنے کی حکمت عملی بنائی۔ اب انکے عزائم کے راستے میں پاکستان میں نوازشریف کی قیادت رخنہ اندوز ہوئی۔
امریکی صدر کلنٹن نے جب نوازشریف سے پاکستان کے راستے افغانستان پر حملہ کرنے کی اجازت چاہی تو نوازشریف نے انہیں یہ جواب دیا کہ وہ اپنا ملک کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کیلئے Staging Ground کے طور پر استعمال کرنے نہیں دینگے۔ یہ اعتراف امریکی صدر کلنٹن نے امریکی کانگریس میں ایک سوال کے جواب میں کیا۔ اب پھر امریکہ کو ایک ڈکٹیٹر کی ضرورت پڑی تو جنرل پرویز مشرف نے اپنے ٹولے کی مدد سے نوازشریف حکومت کا تختہ الٹ دیا اور خود عنان حکومت سنبھال لی۔ جنرل پرویز مشرف کو امریکہ کی طرف سے جو ایجنڈا ملا اس کے خدوخال وقت کے ساتھ یوں نمایاں ہوئے۔
(1 افغانستان پر امریکی قبضہ حاصل کرنے کیلئے امریکہ کی اعانت اور مدد کرنا۔
(2 افغانستان پر امریکی حملے کیلئے پاکستان کو Staging ground کے طور پر استعمال ہونے دینا۔
(3 بلوچستان کے ساحلی بندرگاہ پسنی پر امریکی اڈہ قائم ہونے کی اجازت دینا۔
(4 جیکب آباد کا ہوائی اڈہ کلی طور پر امریکہ کے تصرف میں دینا۔
(5 کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں میں امریکہ کیلئے گودیاں مخصوص کرنا جہاں سے امریکی ٹینک، توپیں اسلحہ بارود او دیگر لاجسٹیکل سامان بلاروک ٹوک افغانستان روانہ کرنا۔
(6 کراچی سے طورخم اور چمن تک پاکستانی شاہراہ جات کے مفت اور آزادانہ استعمال کی اجازت دینا اور جہاں چاہیں وہاں پر لاجسٹک ٹرمینل کیلئے جگہ مخصوص کرنا۔
(7 پاکستان کے اندر امریکی میرین فوجی، CIA اور دیگر امریکی جاسوس ادارہ جات کو پاکستان میں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینا۔
(8 صوبہ سرحد کے زیرانتظام علاقہ FATA اور وفاق کے زیرانتظام علاقہ جات FATA یعنی وانا وزیرستان اور مالاکنڈ ڈویژن میں امریکی جاسوس ادارہ CIA اور دیگر جاسوس اداروں کو Operate کرنے کی کھلی چھٹی دنیا اور ملک کے حساس اداروں کو امریکی جاسوسوں کے کام میں منحل نہ ہونے کو یقینی بنانا وغیرہ صدر پرویز مشرف کے فرائض منصبی میں شامل تھے۔ اس ساری صورتحال سے فائدہ اٹھا کر امریکہ نے پاکستان کو کمزور کرنا اور ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ مشرق وسطیٰ میں کردستان بنانے میں امریکہ کو ناکامی ہوئی کیونکہ ایران اور ترکی نے اپنے علاقہ جات کو بچانے کی اچھی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔
ادھر عظیم اسرائیل کے منصوبہ کو لبنان کے حزب اللہ نے بری طرح ناکام کیا۔ یوں امریکہ مایوس اور نامراد ہوا تھا تو اپنی ساری توانائیاں پاکستان کو تباہ کرنے پر صرف کرنے لگا۔ افغانستان کے علاقہ جبل السراج میں ایک محفوظ مقام پر امریکہ نے جاسوسی نیٹ ورک ہیڈ کوارٹر بنایا۔ جس میں امریکی CIA، برطانوی MI-5 انڈیا کے RAW اسرائیل کے Mosad اور جرمنی کے جاسوس ادارجات کے اہل کار پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف عمل ہیں۔ پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے اور افراتفری اور خانہ جنگی پھیلانے کیلئے یہاں پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
پاکستان کیخلاف جنگ کرنے کا منصوبہ تیار ہو چکا تھا۔ امریکہ نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا کہ مالا کنڈ ڈویژن میں طالبان کیخلاف کارروائی شروع کرے۔ مغرب اور امریکہ کو توقع تھی کہ طالبان کیخلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں پاکستان میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوگی۔ ادھر اقوام متحدہ سے مینڈیٹ لیکر امریکی اور برطانوی اور پہلے سے موجود دس ہزار انڈین آرمی مغربی سرحدوں سے پاکستان میں داخل کر دی جائیگی۔ مغربی ممالک اور امریکی پالیسی سازوں کے اندازوں کے مطابق اگر پاکستان اپریل میں فوجی آپریشن کرتا ہے تو جولائی تک پاکستان کے اندر مداخلت کا جواز پیدا ہوگا اس لئے امریکہ نے جولائی 2009ء تک سترہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں پہنچانے کا پروگرام بنا لیا۔
ادھر پاکستان کی فوجی قیادت نے امریکی نیت کو بھانپ لیا۔ پاکستان آرمی کی اعلیٰ قیادت نے اپنی حکمت عملی کچھ یوں وضع کی کہ خانہ جنگی کی نوبت ہی نہ آئے۔ پہلے ہی سے طے شدہ منصوبہ کے تحت مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ عوام کیلئے خیمہ بستیوں کا منصوبہ تیار کیا جا چکا تھا۔ جونہی فوجی آپریشن شروع ہوا، تو سول عوام کا انخلاء بھی یقینی بنایا گیا۔ جب سارے سویلین علاقہ سے نکل آئے تو پیچھے صرف شدت پسند رہ گئے۔ بہترین فوجی حکمت عملی اختیار کرکے اور پاکستان ائرفورس کا مؤثر استعمال کر کے دو مہینوں کے اندر شدت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی۔ مغربی دنیا حیران رہ گئی۔ انکی پاکستان پر حملہ کی تدبیر ناکام ہوئی۔ اس لئے امریکہ نے مزید امریکی فوج کی افغانستان میں تعیناتی کو ابھی بے سود سمجھ کر رد کیا۔
ISPR کے سربراہ کے بیان کیمطابق 2004ء سے لیکر آج تک شدت پسندوں کیخلاف جنگ میں تقریباً ایک ہزار نو سو افسر اور جوان شہید ہوئے اور پانچ ہزار کے قریب افسر اور جوان رخصتی ہوئے۔ آخرکار شہیدوں کا لہو رنگ لایا ۔ پاکستان کے طول و عرض میں امن قائم ہوا۔ مہذب ممالک میں ایسے معاملات میں پوری تفتیش کی جاتی ہے کہ اس ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا پاکستان میں بھی اس معاملہ کی پوری چھان بین ہوگی؟۔ اب تک جو کچھ دیکھا گیا تو یہ معاملہ واضح ہے کہ ان سارے حالات کی ذمہ داری کلی طور پر جنرل پرویز مشرف اور اس کو اقتدار میں لانے والے ٹولے پر عائد ہوتی ہے۔
کیا یہ Crimnal negligence ہے یا ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اپنے آقاؤں کے اشاروں پر کیا گیا ہے۔ قوم یہ توقع کرتی ہے کہ اس معاملے کی پوری چھان بین کر کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی مہم جو ٹولہ پاکستان کو ایسی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی جسارت نہ کرے اور قوم کے شہیدوں کے لہو کا پورا پورا حساب بھی لیا جاسکے۔