پاکستان کا واٹر وژن

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ـ 30 جنوری ، 2012
انسانی زندگی کیلئے جس طرح ہوا ضروری ہے اسی طرح پانی کی بھی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے اندازوں کے مطابق کسی بھی ملک میں بسنے والے ہر انسان کی زندگی اور ضروریات زندگی کیلئے کم از کم1000کیوبک میٹرسالانہ پانی کی ضروریات ہوتی ہےں۔ ا س سے کم پانی کی دستیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ملک پانی کی قلت کا شکار ہو گیا ہے جس سے زراعت، صنعت ، حیوانات اور انسانی زندگی سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔1951میں جب مغربی پاکستان کی آبادی صرف تین کروڑ اور چالیس لاکھ تھی ،تو اس وقت کے پانی کے وسائل کے مطابق ہر مغربی پاکستانی کیلئے فی کس سالانہ 5260کیوبک میٹر پانی میسر تھا۔ اب آبادی میں بے ہنگم اضافہ، 1961 میں تین مشرقی دریاﺅں(راوی، ستلج، بیاس) کا پانی انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت ہندوستان کو دینے، پچھلے 36 سالوں سے پاکستان میں کوئی بھی ڈیم نہ بنانے، بنے ہوئے ڈیموں میں مٹی اکٹھا ہو جانے او ر تین مغربی دریاﺅں پر بھی ہندوستان کے32ڈیم بناکر پانی پر ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پاکستان کی تقریباً18کروڑ آبادی کیلئے اب صرف1038کیوبک میٹر فی کس سالانہ پانی میسر ہے۔ا س صورتِ حال کےساتھ پاکستان اگلے چند سالوں میںپانی کی زبردست قلت کا شکار ہو سکتاہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی مزید تباہی لائےگی۔ چونکہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے جس کی2.3% GDP فیصدی سے بھی کم اورآبادی میں اضافہ2.17فیصدی سے بھی زیادہ ہے جو جنوبی ایشیاءمیں سرفہرست ہے۔ایک تحقیق کے مطابق سال 2010میں پاکستان میںہر ایک منٹ کے بعد دو پاکستانی موت کا شکار ہو ئے جبکہ آٹھ بچوں نے جنم لیا یعنی ہر منٹ کے بعد آبادی میں چھ نفوس کا اضافہ ہوتا رہا۔ یہی حال اب بھی ہے جبکہ ایران، ملیشا، انڈونیشا، بنگلہ دیش، ہندوستان اور چین جسے ممالک میں آبادی بڑھنے کی شرح ، پاکستان سے کم ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کو قومی خزانے میںتبدیل کرنے کیلئے ہمیں عوام کیلئے تعلیم، صحت، ملازمتیں، پانی، بجلی، گیس اور ہنر کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا تو یہ بھی تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان میں پانی کی قلت کا باعث ہندوستان کے وہ32ڈیمز بھی ہیں جن میں 40ملین ایکڑ فیٹ(MAF)پانی ہندوستان نے ذخیرہ کر لیا ہے۔ اس میںMAF 10ڈیڈ واٹر ہے اور باقیMAF 30 پانی ہندوستان ناجائز استعمال کر رہاہے۔ یہ پانی ہمارے دو بڑے ڈیمز تربیلا اور منگلہ کے مجموعی پانی سے بھی زیادہ ہے۔ چونکہ تربیلا ڈیم میںتعمیر کے وقت1976میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 11.62ملین ایکڑ فٹ تھی جو مٹی جمع ہونے کی وجہ سے ابMAF 7.3رہ گئی ہے۔ اسی طرح منگلا میں1967میںMAF 5.88پانی ذخیرہ ہو سکتا تھا۔ اب کم ہو کر پانی کی گنجائش صرفMAF 4.6رہ گئی ہے۔ اس ناگفتہ بہ حالت سے نکلنے کیلئے پاکستان کو مزید ڈیم بنانے ہونگے لیکن بدقسمتی سے پچھلے36سالوں سے ایک ڈیم بھی نہ بنا کر ہماری سیاسی قیادت مجرمانہ غفلت کا شکار رہی ہے۔ قارئین! اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ صرف دیامیر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہوا جو 2020میں مکمل ہو گا ۔ یہ ڈیمMAF 6.5پانی ذخیرہ کر ےگاMW 4500بجلی پیدا کرےگا۔ باقی کرم تنگی، منڈا، داسو، اکھوڑی، سکردو اور شیوک ڈیمز کے منصوبے اور فیز یبلیٹی کے مختلف مراحل پر ہیں لیکن ابھی تک تعمیری کام شروع کرنے کے دور دور تک کوئی نشانات نہیں۔
پاکستان میں اس وقت پانی سے بجلی پیدا کرنے کی شرح بجلی کی کل پیداوار کا صرف34فیصدی ہے جبکہ سارے دریاﺅں اور نہروں پر موزوں جگہوں پر بند باندھ کر اپنی سوفیصدی ضروریات پورا کرنے کیلئے ہم 59000میگاواٹ سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ نتیجہ WAPDA کی ایک تحقیق کے بنیا د پر اخذ کیا گیاہے۔ لیکن بدقسمتی سے پچھلے36سالوں میں اقتدار پر قابض سیاسی اور غیر سیاسی حاکموں نے اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر کڑوے فیصلے کرنے سے گریز کیا۔ کہا یہ جاتاہے کہ دریا کے بہاﺅ کے ساتھ تو مردہ مچھلی بھی رواں دواں رہتی ہے۔ مزا توتب ہے کہ قومی سوچ والا نڈر قائد ساری تنقید اور عوامی مخالفت کے باوجود اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈال کر بھی وہ کام کر گزرے جو ہمارے آنے والی نسلوں کے مفاد میںہو۔ جنرل ضیاءالحق اپنا اقتدار بچانے کے لےے سرحد کے فوجی گورنر ، جنرل مرحوم فضلِ حق سے بلیک میل ہو گئے۔ میاں نواز شریف نے بھی ایٹمی دھماکوں کے بعد کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیااور پھر سیاسی بلیک میلروں کے آگے سرنگوں ہوں گے۔ بے نظیر بھٹو شہید بھی اس وقت کے پانی اور بجلی کے وزیر غلام مصطفی کھر کے ترلوں کے باوجود کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ نہ کر سکیں۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی اس معاملے کو نہائت خلوص سے ہاتھ ڈالا لیکن مشیروں نے اُن کو ایسا ڈرایا کہ انہوں نے بھی اپنا اقتدار بچانے کیلئے توبہ کرلی۔ یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ کالا باغ ڈیم بنا جاتے تو مخالفت کے باوجود اُن کا تاریخ میں ایک بہت بڑا نام ہوتا۔ جنرل صاحب کے نااہل مشیروں نے اُن سے سٹیل ملز کیس کے بعد ججوں کے خلاف ریفرنس جیسی سیاسی خود کشی تو کروالی لیکن یہ نالائق مشیر اُن سے کالا باغ ڈیم بنوانے میں ناکام رہے۔ تاریخ ہمیشہ غلط مشورہ دینے والے چمچوں کو نہیں بلکہ غلط مشورہ سننے والے بونے سیاسی قائدین کو مورد الزام ٹہراتی ہے۔ زرداری صاحب کے دور حکومت میںتو ایک بہت سنہری موقعہ تھا۔ اسفند یار ولی اپنے صوبے کا نام پختون خواہ رکھوانے کیلئے تقریباً دیوانے ہو چکے تھے۔ جیسے کہ نام کی تبدیلی سے پشاور شہر میںدودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ اگر آصف زرداری صاحب مخلصی کا اظہار کرتے ہوئے اسفند یارولی سے صرف یہ استعداءکرتے کہ صوبے کانام بدل جائےگا ،آپ پاکستان پر صرف یہ احسان کردیں کہ اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے کالا باغ ڈیم کو سیاسی ایشو بناکر بلیک میلنگ سے اجتناب کریں۔ لیکن وہ ایسا تب کرتے اگر وہ خود تعصب کا شکار نہ ہوتے۔ پانی سے بجلی تیار کرنے پر صرف ایک روپیہ چھ پیسے فی یونٹ خرچ ہوتے ہیں۔ تیل سے چلنے والی بجلی گھروں سے یہ بجلی 9روپے اورکچھ پیسے فی یونٹ دستیاب ہے اور کرائے کے بجلی گھر 17روپے 74پیسے فی یونٹ چارج کر رہے ہیں۔ قارئین! ملک کی قسمت بدلنے کیلئے کالا باغ ڈیم کے علاوہ اور بہت سارے ڈیمز پر بہت جلدی کام شروع کر دینا چاہےے۔ سکردو کے علاقے میں اگر تھری گورجز کٹزرا ڈیم تعمیر کیا جائے جو انڈس، شیوک اور شگر کی وادیوں پر مشتمل ہوگا تو وہ کالا باغ ڈیم سے بھی چھ گناہ بڑا ڈیم ہو گا۔ جہاں سےMW 15000بجلی پیدا ہو سکتی ہے اور 35ملین ایکڑ فیٹ پانی کا ذخیرہ بھی کیا جا سکتاہے۔ لیکن اس پر واپڈا کا اعتراض یہ ہے کہ سکردو شہر سمیت کوئی25کلومیٹر کا علاقہ زیرآب آجائے گا، سوا دو لاکھ لوگ منتقل کرنے پڑینگے چونکہ 20000گھر زیر آب آئینگے۔ اس وادی میںموجود ائیر پورٹ کو ختم کرنا پڑےگا اور کٹزراڈریم علاقے کے ماحولیات پر منفی اثر ڈالے گا۔ قارئین! حال ہی میں تعمیر ہونےوالے چین کے تھری گورجز ڈیم کی جھیل600کلومیٹر لمبی ہے۔ اس ڈیم سے22500 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ اس کو بننے میں14سال لگے،13000کسانوں نے بلا معاوضہ جگہ دی، ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو ئے اور تقریباً1300آثار قدیمہ اس ڈیم میں ڈوب گئے لیکن قومی مفاد میں حکومتی چین نے یہ ڈیم بنا دیا۔اس وقت چین کے پاس چھوٹے بڑے80000ڈیمز ہیں اور مزید بن رہے ہیں۔ ہندوستان میں 4290 ڈیمز ہیں، ترکی میں51،ایران میں48اور جاپان جیسے چھوٹے جزیرے میں بھی40ڈیم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قیادت دنیا سے کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار ہے؟ دُکھ کی بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ چونکہ ہمارے سیاسی ماحول میں ہرکوئی ہر قیمت پر اقتدار کا متمنی ہوتاہے خواہ ضمیر کو مردہ کرنا پڑے ، غیرت بیچنی پڑے، ناقابل یقین سیاسی کلا بازی کھانی پڑے، اصول پرستی کو خیر باد کہنا پڑے اور تھوکا ہوا چاٹنا پڑے۔ اقتدا رکے حصول کے بعد پھر ساری توانائی اقتدا رپرچمٹے رہنے اور اسکی طوالت پر خرچ ہوتی ہے۔ سیاسی اور غیر سیاسی حاکموں نے اپنی کرپشن اور غلط فیصلوں سے نڈھال پاکستانی ریاست کو صرف اس صورت میں اپنے چنگل سے آزاد کیا جب اُن کو بے عزت کرکے زبردستی نکالا گیا۔ ملک ہر لحاظ سے تباہی کے دہانے پر ہی کیوں نہ پہنچ جائے نام نہاد قائدین ڈھٹائی سے اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں۔ خواہ اُن کو ایسے لوگوں سے اتحاد ہی کیوں نہ کر نا پڑے جن سے اُن کے زبردست نظریاتی اختلافات ہوں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں