سانحہ سیالکوٹ ، سیلاب کی تباہ کاریاں اور سیاسی چپقلش

جاوید قریشی ـ 30 اگست ، 2010
سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے بہیمانہ قتل اور اس کے بعدغیض وغضب میں ڈوبے درندہ صفت حملہ آوروں کے ہاتھوں ہلاک ہو جانے والوں کی لاشوں کی بے حرمتی نے ساری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی سوال کرتا ہے اکیسویں صدی کے کسی مہذب معاشرہ میں یہ سب کچھ ممکن ہے؟ لیکن ہم مہذب معاشرہ کہلانے کے مستحق ہی کب تھے۔ جس معاشرہ میں قانون کے محافظ قانون اپنے ہاتھوں میں لے کرجھوٹے پولیس مقابلوں کا اہتمام کریں اور ہلاک شدگان کی میتوں کو ٹرک میں ڈال کر پورے شہر میں نمائش کریں ، شہریوں سے داد وصول کر کے گلوں میں ہار ڈلوائیں اور ان کے اقدام پر کوئی باز پرس سرے سے نہ ہو تو پھر گوجرانوالہ کے بعد سیالکوٹ میں درندگی کے ایسے واقعات ہو جانا کوئی اچنبھہ کی بات نہ ہو نا چاہئے ۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیالکوٹ کے اس مزموم واقعہ کی ذمہ داری جس نے ’’ گڈ گورننس‘‘کی ساری پول کھول کے رکھ دی ہے کس پر عائد ہو تی ہے۔ اولاً تو وہ لوگ جو اس وحشیانہ بر بریت میں براہ راست ملوث تھے اور مقتولین کے جسموں پر اس طرح لاٹھیوں کی بارش کر رہے تھے کہ حیوانوں پر بھی ایسا ظلم نہ دیکھا ہو گا۔ پھر جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور مقتولین میں زندگی کی آخری رمق بھی باقی نہ رہی تو جو سلوک ان لوگوں نے میتوں کے ساتھ کیا اس قدر شرمناک ، وحشیانہ اور ناقابل برداشت تھا کہ ان کے تصور ہی سے گردنیں شرم سے جھک جانی چاہئے تھیں۔ اس پر وہ مجمع عا م جو تماشہ دیکھ رہا تھا اور جس میں پولیس افسران بھی اول سے آخر تک یہ اندوہناک ڈرامہ دیکھ رہے تھے ۔ پولیس افسران یا عوام کسی نے ان درندوں کا ہاتھ روک کر انہیں درندگی سے باز نہیں رکھا بلکہ ان کے اس مکروہ فعل پر تالیاں بجا کر انہیں داد دی۔ عقل حیران ہو جاتی ہے کہ اتنی بے رحمی ، اتنی سفاکی انسانیت کی اتنی تذلیل ایک مسلم معاشرہ میں کس طرح ممکن ہے۔ غالباً یہ سب کچھ اس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ فوری اور پرائیویٹ انصاف کے مسلک کو قبول عام مل چکا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ پولیس نہ صرف مجرموں کو پکڑتی نہیں اگر پکڑ لے تو تفتیش درست نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرم کو سزا نہیں مل پاتی۔ لہٰذا پولیس یا ریاستی اداروں سے انصاف کی توقع رکھنا تضیح اوقات ہے۔
سیالکوٹ کے سانحہ کی ذمہ داری میں پولیس دوسرے نمبر پر آئے گی ۔ پولیس کے وہ عمال اور افسران جو جان کنی کے اس واقعہ کے دوران خود موقعہ پر موجود تھے انہوں نے نہ صرف ان دو نوجوانوں کے ہلاک کئے جانے میں کسی طرح کی مزاحمت نہیں کی بلکہ یک گو نہ اطمینان سے یہ شرمناک ڈرامہ دیکھتے رہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس کو کبھی بھی ان خود ساختہ ’’مقابلوں‘‘سے اجتناب کرنے کی تلقین حکمرانوں کی طرف سے نہیں کی گئی نا ہی ان مقابلوں میں ملوث پولیس اہل کاروں کا کوئی بال بیکا کر سکا بیشتر اوقات یہ لوگ اپنے جرائم سے بغیر سزا بھگتے ہی نکل آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسارواج بغیر حکمرانوں کے اشارے کے ممکن نہیں۔کوئی ایک واقعہ ایسا ہو کہ ان فرضی پولیس مقابلوں میں کسی پولیس افسر کو قانون کے مطابق سزا ملی ہو۔اور جب قانون کے مطابق لوگوں سے بر تائو معدوم ہوتا جائے گا غیر قانونی رواج اس کی جگہ لے لیں گے۔ لوگ پولیس تفتیش کو نظر انداز کرکے عدالتوں سے انصاف نہ مل سکنے کے یقین کے ساتھ اپنے معاملات کو خود اپنے ہاتھ میں لے کر ’’انصاف‘‘کرنا شروع کر دیں گے۔
سانحہ سیالکوٹ میں تیسرا قصور وار فریق وہاں پر موجود عوام اور شہری قرار پائیں گے۔ جو اس تمام واقعہ کو دیکھتے رہے کسی نے ظالموں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ جب وہ دونوں نوجوان آخری سانسیں لے چکے اور درندہ صفت لوگوں نے ان کے بے جان جسموں کو جانوروں کی طرح لٹکا دیا توموجود لوگوں نے تالیاں بجا کر دندگی کی داد دی۔ ان کا قصور غالباً لاٹھیاں برسانے والوں اور پولیس اہلکاروں سے بھی بڑھ کر ہے کہ ان کی خاموشی نے حملہ آور بدمعاشوں کی حوصلہ افزائی کی اور پولیس والوں کو کسی قسم کی مداخلت سے باز رکھا۔ لوگوں کا رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہم انسانی زندگی کی قدر و قیمت سے قطعی بے گانہ ہو چکے اور صیحح اور غلط کی ہر تمیز سے عاری۔ ایسا ایک دو سال میں نہیں ہوا۔
18 ویں ترمیم کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ارشاد کیا کہ نئے پولیس آرڈر کے تحت کوئی نگرانی نہیں جس کی وجہ سے 97 فیصد ملزمان بری ہو جاتے ہیں ۔ جسٹس افتخار چوہدری نے مزید کہا کہ نیا پولیس آرڈر اور مقامی حکومتوں کا نیا نظام بالکل ناکام ہو چکے ۔ ملک کی تاریخ کے بد ترین سیلابوں کے دوران قوم نے دیکھ لیا کہ انتظامیہ اور عوام کے نمائندے کہیں نظر نہیں آئے۔ لوگوں نے اپنے طور پر اپنے ستم زدہ بھائی بہنوں کی مدد کیلئے ٹرکوں میں سامان ِ رسد بھر کے خطرناک شاہراہوں پر اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کیمپوں کی رخ کیا جہاں یہ لوگ عارضی طور پر ٹھہرائے گئے تھے کہ ان کی کوشش بد نظمی اور افراتفری کی نظر ہو گئی۔ متاثرین میں نظم و ضبط قائم کرنے کو کوئی نہیں تھا۔ لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو ا اور وہ امداد جو زیادہ لوگوں کی تکلیف کا مداوا کر سکتی تھی ۔ چند لوگوں کے ہاتھ آئی اور ختم ہو گئی۔ کہیں کہیں امداد لانے والوں کے ساتھ بد سلو کی اور تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ اگر انتظامیہ مستعد اور اپنے محاز پر موجود ہوتی تو ایسے واقعات کا ارتکاب روکا جا سکتا تھا۔چیف جسٹس کے اس اِرشاد سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ’’فوری اور عوامی انصاف‘‘کے واقعات کیوں زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ پولیس کیوں مادر پدر آزاد خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتی۔
ذہنوں میں تشدد اور قتل و غارت کی بو باس دور کرنے کی بنیادی ذمہ داری تو ریاست ہی پر عائد ہوتی ہے لیکن وہ ریاست یہ اہم فرض ادا نہیں کر سکتی جس کی حاکمیت کی بنیاد ہی تشدد پرہو۔ ایسی ریاست ایک پر امن معاشرہ قائم نہیں کر سکتی۔ پاکستان سے تشددختم کرنے کا کام نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ ریاست کے بنیادی ستون سیاسی جماعتیں ، میڈیا، ٹریڈ یونین، سول سوسائٹی انسانی حقوق کی پرچارک تنظیمیں اپنا رول ادا کرنا شروع نہیں کر دیتیں۔ سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات اپنی تمام تر بربریت کے باوجود ریاست کو درپیش مسائل میں سے چند ایک ہیں۔ جن پر قابو پا لینا ایسا دشوار بھی نہ ہونا چاہئے۔ اس سے ملتے جلتے مسائل کراچی (Target Killing) اور بلوچستان میں آباد کاروں کی چن چن کے ہلاکتوں کا ہے۔ کراچی کے حالات کسی طرح حکومت کے قابو میں نہیں آ رہے ہیں۔ آئے دن لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ حکمران ان ہلاکتوں کا ’’ نوٹس‘‘ لے لیتے ہیں اور بیان دیتے ہیں کہ حکومت ہلاکتوں کی اجازت نہیں دے گی۔ گویا کہ اس قسم کے جرائم حکومت کی اجازت سے ہی سر زد ہوتے ہیں۔ اگر حکومت ایک مرتبہ سنجیدگی سے فیصلہ کر لے کہ ہلاکتیں واقعی ختم کر دی جائیں گی تو ناممکن ہے کہ پھر بھی امن امان کراچی میں قائم نہ ہو ۔ خدا جانے وہ کیا عوامل ہیں جو ایسا ہونے نہیں دے رہے۔ اس قتل و غارت میں ملوث جملہ سیاسی جماعتیں پی ۔ پی ۔پی کے ساتھ صوبے یا مرکز میں کولیشن میں ہیں ۔ اگر تمام فریق اور ایجنسیز سر جوڑ کر بیٹھیں ، تمام واقعات پبلک کر دیئے جائیں اور عہد کیا جائے کہ ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ہر قیمت پر کیاجائے گا تب ہی اس شہر میں امن آئے گا ورنہ حکومتی اعلان ہوتے رہیں گے۔ پولیس اور رینجرز شہرمیں گشت جاری رکھیں گے اور بے گنا ہ جان سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی جانوں کو سیاست کی چوکھٹ پر بھینٹ چڑھانے کا سلسلہ ختم ہو۔
بلوچستان کی صورت حال بھی انتہائی تشویش ناک اور تکلیف دہ ہے آباد کاروں کو چن چن کر ہلاک کیا جا رہا ہے ہلاک شدگان میں ایسے پروفیشنل بھی شامل ہیں (ڈاکٹر ، وکیل ، پروفیسرز، ججز وغیرہ ) جو کئی پشتوں سے بلوچ عوام کی خدمت کامستحسن فرض ادا کر رہے ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ بلوچستان کے پیدائشی شہر ی نہیں ہیں ۔ حکومت پاکستان کو اپنی " دیگر مصروفیات" میں بلوچ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کا وقت نہیں مل سکا ہے۔ بلوچستان کی صورت ایک ٹائم بم ایسی ہے کہ جو کسی وقت بھی پھٹ کے قابو سے باہر ہو سکتا ہے ۔ بلوچ عوام کی محرومیاں اور شکایات فوری طور پر دور ہونی چاہیں۔ اس کے لئے بلوچ عوام کے حقیقی نمائندوں سے بامقصد مذاکرات فوری طور پر شروع کئے جائیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کا مسئلہ تو بڑی حد تک حل ہو گیا ہے لیکن ہو سکتا ہے صوبائی انتظامیہ کے پاس فوری طور پر ماہر اور تربیت یافتہ عملہ کی کمی ہو جسے باہمی رضا مندی سے مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ کے بد ترین سیلاب اور مملکت کو لاحق دیگر مسائل کا تقاضہ تو یہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر ملک کو ان ناگہانی آفات سے نجا ت دلائیں لیکن ہو اس کے بر عکس رہا ہے ۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین کے متنازعہ بیان جس کے ذریعہ انہوں نے ملک کے ’’محب وطن جرنیلوں ‘‘سے تقاضہ کیا کہ وہ جاگیردار، زمینداروں ، زرداروں، کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف مارشل لاء کی طرز کا کوئی منصوبہ بنائیں جس میں متحدہ ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ الطاف حسین صاحب کے اس بیان نے تو گو یا ایک سیاسی طوفان ملک میں کھڑا کر دیا ہے۔ پیر بگارا کے علاوہ قریب قریب تمام جماعتوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے ’’قائد تحریک‘‘ کے خلاف دستور کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ الطاف حسین کے بیان کے خلاف ن لیگ سب سے آگے ہے۔ ادھر اے ۔ این ۔ پی نے بھی الطاف حسین کے بیان کو جمہوریت مخالف قرار دے کر اسے مسترد کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں ن لیگ نے متحدہ کے خلاف اور متحدہ نے ن لیگ کے خلاف تحاریک جمع کرادی ہیں لگتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس کا فی ہنگامہ خیز ہوں گے۔
ملک کی 17/18 کروڑ آبادی میں سے دو کروڑ کے لگ بھگ اپنا سب کچھ سیلاب کی نظر کر کے بے سہارا بے آسرا کھلے آسمان تلے امداد اور اپنی آبادکاری کے منتظر ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جنہیں ابھی تک کسی قسم کی امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے جس بااعتماد ، تجربہ کار ، دیانتدار حکومت اور انتظامیہ کی ضرورت تھی وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ سیاسی جماعتیں متحد ہونے کی بجائے ایک دوسرے سے بر سر پیکار نظر آتی ہیں۔ ملک کے انفراسٹرکچر کو اربوں کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ پل ، سڑکیں۔ مکان ، مال مویشی، خوراک سب کچھ سیلاب کی نظر ہوا۔ اس وقت ضرورت قربانی اور ایثار کی ہے۔ خود غرضی اور مطلب براری کی نہیں…؎
’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں