انقلاب آ رہا ہے
ڈاکٹر حسین احمدپراچہ ـ 30 اگست ، 2010
گزشتہ نصف صدی سے پاکستانی عوام انقلابوں کی زد میں ہے۔ ایوب خان کے فوجی انقلاب میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب عوام کی زندگیوں میں خوشی بھی آئے گی اور خوشحالی بھی۔ فوجی حکمران نے کہا کہ خزاں رسیدہ عوام کو بوسیدہ سیاست دانوں سے نجات دلا دی گئی ہے اور جیسے ملک میں انقلاب آیا ہے ایسے ہی عوام کی زندگی میں بھی انقلاب آئے گا۔ مگر ہوا کیا کہ ایوبی خانوادے کی زندگی میں خوشحالی کا انقلاب ضرور آیا اور مردِ کوہستانی کی اولاد تاجر و صنعتکار بن گئی مگر بیچارے عوام پہلے سے بھی بدحال ہوگئے۔ ایوب خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی انقلابی سوچ کا مظاہرہ کیا۔ وہ سیاست کو اقتدار کے ایوان اور امراء کے عشرت کدوں سے نکال کر گلی محلے میں لے آئے انہوں نے عوام کے اندر یقین اور نظام وکہنہ سے نفرت پیدا کی۔ انہوں نے صبح نو کی نوید سنائی۔ انہوں نے سیاسی، سماجی اور معاشی انقلاب کی برکات گنوائیں۔ انہوں نے بڑے بڑے عوامی اجتماعات میں دعویٰ کیا کہ اقتدار عوام کی میراث ہے اور یہ میراث انہیں مل کر رہے گی۔1970 کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے ٹکٹ عوامی نمائندوں کو دئیے، غریبوں کو دئیے، بے نوائوں کودئیے، نیم متوسط اور متوسط لوگوں کو دئیے حتیٰ کہ کھمبوں کو دئیے۔ جب 1970 کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو عوامی انقلاب برپا ہوچکا تھا مگر صرف سات سال کے اندر اندر ذوالفقار علی بھٹو کا عوامی و انقلابی بخار اتر چکا تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ اقتدار کا وہ تاج جو ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کے سرپر رکھا تھا اسے انہوں نے 1977 کے انتخابات کے موقع پر واپس جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے سروں پر رکھ دیا اور عوام کو یکسر نظر انداز کردیا۔ ایوب خان کے فوجی انقلاب سے وابستہ خواب جیسے چکنا چور ہوگئے تھے اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوام کی وابستہ اُمیدوں کے چراغ بھی گل ہوگئے۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو کی المناک موت نے انہیںایک بار پھر عوام کی آنکھوں کا تارا بنادیا اور پھر بھٹو کے شیدائیوں نے بے نظیر کے روپ میں بھٹو کو دیکھا اور اپنی تمام تر اُمیدوں اور تمنائوں کا مرکز و محور بینظیر بھٹو کو بنالیا۔ مگر دوبارہ برسرِ اقتدار آکر بھی بے نظیر بھٹو وہ عوامی انقلاب نہ لاسکیں جس کا وعدہ اُن کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا اور جسے بینظیر نے اپنا نعرہ بنا لیا تھا۔ بے نظیر کی کربناک اور المناک موت کے بعد اُن کے شوہر آصف علی زرداری نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے پھراسی نعرے کا ذکر کیا جو نعرہ بے نظیر نے اپنے والد بھٹو کی موت کے بعد دوہرایا تھا کہ…؎
مانگ رہا ہے ہر انسان.......روٹی، کپڑا اور مکان
یہ سارے انقلاب بے ثمر رہے کیونکہ ان کے پیچھے مطلب براری تھی، اخلاص نہ تھا۔1980کی دہائی میں صدر ضیاء الحق نے اسلامی انقلاب کی خوشخبری دی مگر اسلامی انقلاب کے بجائے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور ہیروئن فروشی اور کلاشنکوف برداری کا کلچر عام ہوا۔نوّے کی دہائی میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے نرم انقلاب کا نعرہ لگایا۔ جنرل صاحب اس انقلاب کی آمد کی نوید اکثر سناتے تھے بلکہ اب تک سنا رہے ہیں۔ تاہم یہ سہل ممتنع قسم کے انقلاب کے بارے میں جنرل صاحب سے پوچھا جائے تو وہ اس انقلاب کی آمد کا ایک ایسا پیچیدہ پروگرام بیان کرتے ہیں جس کی تہہ تک پہنچنے کیلئے افلاطونی قسم کی عقل درکار ہوتی ہے۔ یہ عقل عام لوگوں کے پاس نہیں۔ جنرل صاحب کا نرم انقلاب نہ تو خونی انقلاب ہے اور نہ ہی جمہوری انقلاب۔ یہ انقلاب نہ تو طاقت کے بل بوتے پر آئے گا اور نہ ہی انتخابی جدوجہد کے ذریعے برپا ہوگا۔جنرل صاحب دو تین دہائیوں سے عوام کے دلوں پر دستک دے رہے اور اُن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ نرم انقلاب لے آئیں اور جنرل صاحب جیسے نرم خواور نرم رو انقلابی قائدین کو برسرِ اقتدار لے آئیں۔ مگر انقلاب بھلا آہستہ خرامی اور نرم روی اور اپیلوں سے کب برپا ہوتا ہے۔
آج ظلم بڑھتا جارہا ہے اور امیر اور غریب کے درمیان زمین اور آسمان جیسا فاصلہ پیدا ہوچکا ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوگیا ہے اور اب جبکہ امراء اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر دادِ عیش دے رہے ہیں اور انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران عوام کو پانی کی منہ زور موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اس وقت تقریباً ڈیڑھ دو کروڑ عوام سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں اور امداد اُن تک نہیں پہنچ رہی اس سے سیلاب زدگان میں شدید نوعیت کا غیظ و غضب پروان چڑھ رہا ہے۔ دوچار نہیں لاکھوں کی تعداد میں بے جا نماں عوام کہ جن کے گھروں کو سیلاب بہا کر لے گیا ہے کھلے آسمان تلے اور برستی بارش میں محض اللہ کے سہارے بیٹھے ہیں اور بیرون ملک سے آئی ہوئی امداد بھی حکمرانوں کی حویلیوں اور تجوریوں میں جارہی ہے۔ یہ دیکھ کر سیلاب زدگان کا غم و غصہ پہاڑ جیسی بلندی کو چھو رہا ہے۔ایسے غیظ و غضب کو دیکھ کر ہی میاں شہباز شریف جیسے سیاست دان عوامی مصائب و مشکلات سے بے نیاز حکمرانوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر تمہاری بے حسی یونہی جاری رہی تو پھر انقلاب فرانس جیسا خونی انقلاب آئے گا جس کے نتیجے میں جگہ جگہ عوامی عدالتیں لگیں گی اور جو عوامی انصاف سے کام لیتے ہوئے خون کی ندیاں بہا دیں گی کم از کم تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں سے میں سرگودھا میں ایک تعلیمی تحقیق کے سلسلے میں مقیم ہوں اور نہایت ہی خوشگوار حیرت کے ساتھ ایک عظیم انقلاب کو اپنی آنکھوں سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ وطنِ عزیز کے جاگیر داروں، وڈیروں اور زمینداروں نے پہلے دیہاتوں اور گوٹھوں میں تعلیمی ادارے نہ قائم کرکے غریبوں کو تعلیم سے محروم رکھا اور پھر تعلیم کو انتہائی مہنگا کرکے امیروں کی جاگیر بنادیا۔ انہیں اطمینان تھا کہ وہ اس طرح چکی کے دو پاٹوں میں غریبوں کو پیس کررکھ دیں گے اور انہیں زیورِ تعلیم سے مکمل طورپر محروم کرکے رکھ دیں گے۔ مگر یہاں سرگودھا میں بھکر، میانوالی، جھنگ اور گجرات وغیرہ جیسے علاقوں سے آنے والے والدین اپنے بچوں کو سرکاری اداروں کی دلدل میں پھینکنے کے بجائے اعلیٰ پرائیویٹ کالجوں میں داخل کروا رہے ہیں۔ اُن کی اکثریت انتہائی غریب، بہت مفلوک الحال، بہت محتاج اور مسکین ہے مگر وہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے اپنی زمینیں، اپنی جائیدادیں اور اپنے زیورات تک بیچ رہے ہیں اور رات دن محنت مزدوری کرکے بچوں کی فیسیں ادا کر رہے ہیں۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ تعلیمی انقلاب کی یہ خوشبو پاکستان کے گوشے گوشے اور قریے قریے میں پھیل چکی ہے۔ یہ مفلوک الحال لوگ روٹی کپڑے اور مکان جیسے نعروں سے متنفر ہوچکے ہیں، لاتعلق ہوچکے ہیں۔ ان کے بچے انتہائی ذمہ دار بن چکے ہیں وہ مزید پُرفریب سیاسی نعرے میں آنے کو تیار نہیں۔
میٹرک میں اُن کے اعلیٰ نمبر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے دیہاتی علاقوں میں جاگیرداروںکی منشاء کے برعکس تعلیم عام ہوچکی ہے اور دیہاتی لوگوں کو اب معلوم ہوگیا ہے کہ ہمیں کوئی روٹی کپڑا مکان نہ دے گا بلکہ ہم خود محنت کرکے اور ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے حقیقی انقلاب لائیں گے۔ پاکستان کے سیاست دانوں، حکمرانوں اور استحصالی طبقوں کو خبر ہو بلکہ وہ خبردار ہوجائیں کہ حقیقی انقلاب آرہا ہے اُن کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں