نظریاتی چوک سے دفاع پاکستان تک

ـ 29 جنوری ، 2012
پروفیسر نعیم مسعود
امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی پاکستان پر جس طرح معاشی، معاشرتی، خارجی، داخلی اور سیاسی زور آزمائی چل رہی ہے، اس پر ”انتخابی سیاست“ سے ہٹ کر سوچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اپنی اپنی سیاست میں الجھ کر یہ نہ بھول جایا جائے کہ دشمن عناصر پاکستان اور اسلام کو تنقید کا نشانہ بنانے کےلئے زبانی اور عملی داﺅ پیچ کا استعمال پورے جوش کے ساتھ کر رہے ہیں۔ چند میر جعفروں اور میر صادقوں کو خرید لیا جاتا ہے اور نیچے کارکنان کو سمجھ ہی نہیں آتی۔ پاکستان میں ہونےوالی دہشت گردی کا طریقہ واردات بھی یہی ہے کہ اسلام اور پاکستان کو نشانہ بنانے کےلئے تخریب کار یہود و نصاریٰ ہمارے آرام و سکون، معیشت اور معاشرت کےخلاف تانا بانا بنتے رہتے ہیں۔
پچھلے چار عشروں سے یہود و نصاریٰ پاکستان کےخلاف ہیں۔ ایک دور ذوالفقار علی بھٹو سے جنرل ضیاالحق پر مشتمل تھا اور دونوں کو طریقے طریقے سے ٹھکانے لگایا گیا اور ہم سیاسی محاذ آرائیوں میں الجھے رہے۔ دوسرا دور بے نظیر بھٹو اورمیاں نواز شریف کی حکومتوں کا تھا جس میں امریکہ ہم سے اپنی مرضی کی خارجی پالیسیاں بنواتا رہا۔ تیسرا دور جنرل پرویز مشرف کا تھا جس میں ڈرون حملے ایک ”دوست“ ملک کی جانب سے ہوتے رہے اور معاشی و صنعتی کباڑہ کسی دوسرے ”دوست“ ملک نے کردیا۔ ہم، ہمارے حکمران اور ماہرین دیکھتے ہی رہ گئے۔ اب چوتھا دور آصف علی زرداری کا ہے جس میں جنرل پرویز مشرف کا ایجنڈا دوسری قسط میں پورا کیا جا رہا ہے۔
یہود و نصاریٰ جو تانا بنا بن رہے ہیں اس میں ہماری سیاست کےخلاف بھی دہشت گردی کا عمل جاری ہے، عوام کے دل و دماغ میں بٹھا دیا گیا کہ سیاست ایک الگ عمل ہے اور مذہب ایک دوسری چیز۔ اس فلاسفی سے کبھی بایاں بازو بنتا ہے اور کبھی بابو اور مولانا خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اسی تخریب کاری سے ہمارے سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججوں کے درمیان بھی سرد جنگ شروع کرا دی جاتی ہے۔ کہیں کوئی منصور اعجاز پیدا ہو جاتے ہیں اور کبھی کسی حسین حقانی کی سمجھ نہیں آتی۔ سکرپٹ دشمنان اسلام کا ہوتا ہے اور اکادمی ہماری۔ ایسی صورت حال میں ہمیں ایک ایسی قیادت اور ایک ایسا طبقہ چاہئے جو سچی بات کو سچ کی طرح کرے ”سیاسی راگ“ نہ الاپے۔ اس سچائی کی ذمہ داری ماضی میں بھی لی گئی مگر اس پر سیاست غالب آ گئی لیکن اس سچ کی ذمہ داری ایک دفعہ پھر لی گئی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ اس دفعہ سچ پر پھر سیاست یا ”سیاہ ست“غالب آ جائے.... ڈر لگتا ہے کیونکہ ....
اک گردن مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خون ریز بہت ہے
ان دنوں دفاع پاکستان کانفرنس نے یہ اہم ذمہ داری لی ہے۔ انکی کوشش ہے کہ حکمران اور عوام بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے حوالے سے آنکھیں کھولیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بھارت کےساتھ اگر کوئی تعلقات والا معاملہ رکھنا بھی ہے تو برابری کی بنیاد پر رکھا جائے اور چشم بینا کو بروئے کار لایا جائے۔ کشمیر اور پانیوں کے معاملہ پر بھارت مکاری کا مرتکب ہے اور ہم اسکے آگے بچھے چلے جاتے ہیں جو غلط ہے۔ اسرائیل کے حوالے سے دفاع پاکستان کونسل کا خیال ہے کہ اسکی موساد ایجنسی ایران، عراق اور مڈل ایسٹ میں سرگرم عمل ہے جو را اور سی آئی اے کےساتھ مل کر پورے عالم اسلام میں خانہ جنگی، بگاڑ اور انتشار کو جنم دے رہی ہے۔ اسی طرح امریکہ، روس اور چین پر نظر رکھنے علاوہ ایران کو نیچا دکھانے کےساتھ ساتھ افغانستان و بلوچستان کی معدنیات اور عراق کے تیل پر دسترس چاہتا ہے۔ بظاہر کچھ ہے اور درون خانہ کچھ ہے ....
جا بجا میلے لگے ہیں لال ہونٹوں کے منیر
تیرگی میں دیکھنے کو چشم بینا چاہئے
واضح رہے کہ دفاع پاکستان کونسل (کانفرنس) نے یکے بعد دیگرے لاہور اور راولپنڈی میں دو اچھے اجتماع کئے ہیں۔ گو میڈیا نے اسے میرٹ کے حساب سے پذیرائی نہیں بخشی مگر پھر بھی حساس حلقوں اور دانش مند طبقوں میں اس پر غور بھی ہوا اور گفت و شنید بھی۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اسکے تھنک ٹینک کے علاوہ میاں نواز شریف، اے این پی، ایم کیو ایم اور عمران خان بھی انکی باتوں، تصورات اور فکر پر توجہ دیں۔
قرآن و سنت کو فراموش کر کے جینا کوئی جینا نہیں جب پاکستان کے تصور کو حقیقت کا رنگ دینے کی ٹھانی گئی اس وقت اسلام ہی ہمارا معاملہ اور ضرورت تھی۔ محض ایک ریاست کو وجود میں لانا پیش نظر نہیں تھا۔ ایک نظریاتی ریاست کا قیام مطلوب و مقصود تھا۔ مصور پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے بھی محض ایک خطے کا تصور نہیں کیا تھا بلکہ ایک نظریاتی جغرافیہ چاہا تھا، جو کہ اسلام کا قلعہ ہو، جسے دیکھ کر امت مسلمہ تقویت محسوس کرے۔ جو نقشہ دنیا پر اپنا مذہبی رنگ مخصوص تہذیب اور نمونہ رکھے۔ وہ نمونہ جو ملت اسلامیہ کےلئے باعث فخر اور قابل مثال بنے۔ مگر وقت گزرنے کےساتھ ساتھ ہم مصلحتوں کے ایسے بھنور میں پھنسے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی فلاسفی، محنت اور عزم کو فراموش کرنا اپنا فیشن بنا لیا۔ قائداعظم کے جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد سیاسیاست معاشیات اور عمرانیات ہمارے لئے کڑے امتحانات بن گئے۔ جنرل ایوب خان کی آمریت کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی فلاسفی، عقیدت اور رہنمائی کےساتھ ساتھ جمہوریت قبول نہیں تھی۔ بس عنان اقتدار قبول تھی۔ جنرل یحیٰی خان کو ”ہوش“ سے لگاﺅ نہیں تھا وہ استحکام پاکستان کےلئے کیا کرتے؟؟
ذوالفقار علی بھٹو کا آغاز سول آمریت سے ہوا اور بعد ازاں خودپسندی پر مبنی جمہوریت ان کا منشور جا بنا۔ یوں مسلسل قرآن و سنت کو نظرانداز کرنے کا چلن ہمارا دستور بن گیا۔ یعنی قرآن و سنت، اقبالیات، طریقہ قائد، جمہوریت کی پاسبانی اور نظریاتی پختگی کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں کچھ امید بندھی مگر مصلحتوں کی آمیزش نے یہاں بھی نظریہ اسلام اور آئین کو دو رنگی کے رنگ میں رنگ دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار اپنے اہداف ہی مقرر نہ کر سکے۔ بغیر کسی مناسب ہدف اور تعین کے یہ لوگ عنان اقتدار کو تھامنے کی دوڑ میں ہانپتے رہ گئے۔ جنرل پرویز مشرف سا آمر آیا تو اس نے ضیائی پالیسی کی اس روح کو بھی کچل کر رکھ دیا جس کا اثر بہرحال بے نظیر بھٹو صاحب پر بھی تھا کہ سر پر چادر اور ہاتھ میں تسبیح۔ پرویزی دور میں ”روشن خیالی“ نے تیرگی کو برپا کر دیا۔ ظلمت کے اس اندھیرے میں دہشت گردی، ڈرون حملے، لال مسجد کے آنسو، جہاد کی پامالی، سود کی فراوانی، اپنوں کی غیروں کے ہاتھ فروخت، امریکی بالادستی اور مخصوص انداز میں جمہوریت کی گردن پر چھری چلتی رہی.... چھری!!! رہی سہی کسر زرداری دور نے پوری کر دی، جس نے سب کو اپنا بنا کر چھوڑ دیا۔ کسی کو کوئی سمجھ ہی نہ آ سکی کہ یہ قید ہے یا رہائی ہے!!!
صدر آصف علی زرداری کے دور میں آٹے میں نمک کے برابر بناﺅ ملا مگر بگاڑ کی مقدار بہرحال آٹے کے برابر ہی رہی۔ دلخراش باتوں میں امریکہ اور اس کی ایجنسیوں کو معصوم عوام کو مارنے کےلئے ڈرون سے پستول تک کے استعمال کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ حتیٰ کہ نظریہ پاکستان، قرارداد پاکستان، استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دےدیا گیا۔ اس ملک کو پسندیدہ قرار دے دیا گیا جس نے قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان کی سالمیت پر حملہ کر دیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کو دولخت کر دیا۔ روز اول سے کشمیریوں پر رنج و الم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ”ماحول“ پانی اور معاہدوں پر اس طرح قبضہ گروپ بن کر بیٹھا ہوا ہے کہ جب چاہا سندھ طاس معاہدے کو نیست و نابود کر دیا۔ جب چاہا پانی روک کر پاکستان کو خشک سالی پر مجبور کر دیا۔ اور جب چاہا پانی چھوڑ کر ہماری معیشت اور مجبوریوں کے ساتھ ساتھ غریب عوام کو تنکے کی طرح بہا دیا.... ہاں! اس بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے دیا جو اقوام متحدہ کے معاہدوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشمیر میں بدمعاشی دکھا دکھا کر امت مسلمہ کا منہ چڑاتا ہے اور پاکستان میں مخصوص مداخلت سے ہماری افغان انڈرسٹینڈنگ کو پیوند خاک کر تا ہے۔ آخر یہ بھارت اس حکومت اور اس دور کے حکمرانوں کو ”پسندیدہ ترین“ کیوں نظر آتا ہے.... محض اپنی خاطر اور اپنے اقتدار کی خاطر، کمزوریوں اور حب الوطنی کے ساتھ ساتھ قومی حمیت کے فقدان کی خاطر؟؟؟
بہرحال ان تمام چیلنجوں کے باوجود رب کعبہ نے اس قوم اور وطن کو ہر دور میں ایسی شخصیات سے نوازا جو اذان دینے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں جن کا چلن ہے کہ بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الااللہ۔ تحریک پاکستان میں جہاں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ جیسے افراد توحید و سنت کے لئے کوشاں تھے وہاں استحکام پاکستان کے لئے مولانا شاہ احمد نورانیؒ مولانا عبدالستار نیازیؒ مولانا مفتی محمودؒ اور مودودیؒ نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ان لوگوں نے ہمیشہ کلمہ حق کو اطوار بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اب مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر سے بھی ”سیاست“ کی کم اور حق سچ کی توقعات ہیں!!! عنان اقتدار گر نہیں تھام سکے لیکن نکیل حکومت تھامنے والوں کو سیدھا راستہ بتاتے رہے۔ قرآن و سنت کی حکومت کے لئے محنت کرتے رہے۔ ایوان اقتدار کے نشوں کے سامنے اللہ اکبر صدا لگائے رکھی۔ خواص و عوام کے ایمان کی بیٹریاں چارج کرتے رہے۔ ہر کڑے وقت اور نازک موقع پر قیادت کی درست نشاندہی کے فریضے کو عبادت کی طرح نبھاتے رہے۔ کسی بھی طرح بزرگان دین اور علمائے کرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی سے آج کے جدید دور تک انہوں نے معاشروں اورریاستوں کو توازن بخشا۔ نظریاتی تحفظ کے معاملہ میں ان سے بڑھ کر کسی کا بھی کردار دکھائی نہیں دیتا۔ ان نظریاتی محافظوں ہی کے سبب آج پاکستان صرف جغرافیائی چوک نہیں بلکہ اقوام عالم کا نظریاتی چوک بھی ہے.... نظریاتی چوک!!! اس نظریاتی چوک کی باسبانی میں حمید نظامی سے مجید نظامی تک اور نوائے وقت کا کردار بھی عدیم النظیر ہے۔ قلم و قرطاس پر بھی ایسی توجہ کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ، حساس لوگ دانش ور اور علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عوام بھی دفاع پاکستان کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔ میڈیا صرف شوبز کے لئے بے چین نہ رہے اور صرف بھارتی گانوں کے بیک گراﺅنڈ میں چلانے کو صحافت نہ سمجھیں۔ جی ہاں آج نظریاتی صحافت کی بھی ضرورت ہے.... نظریاتی صحافت!!!
قلم و قرطاس کے جہاں، زبان و وعظ کے جہاد، جہاد بالسیف اور سیاسی جہاد کی ضرورت آج ماضی سے بھی زیادہ ہے۔ لاہور، مینار پاکستان کے سائے تلے ”دفاع پاکستان کانفرنس“ بیٹری کے چارج کےلئے بہت ضرورت تھی۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے بروقت اذان دےکر سیاسی نہیں نظریاتی اذان دی ہے۔ اس منظر سے صاف نظر آیا کہ انہوں نے آج تخت و تاج نہیں مانگا بلکہ نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کے ذریعے پاکستان اور قوم کا حق مانگا ہے۔ ایسی آواز اور ایسی صدا کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔
امریکہ، بھارت اور دیگر اسلام دشمن عناصر نے پاکستان کو تر نوالہ سمجھ رکھا ہے۔ انہیں سمجھانے کی ضرورت تھی، اور ضرورت تھی کہ حکمران جاگ اٹھیں۔ دفاع پاکستان کونسل مبارکباد کی مستحق ہے اور اس کے اخلاص کی بڑھوتری کے لئے ”سیاسی نہیں“ نظریاتی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حافظ محمد سعید، جنرل حمید گل، ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا محمد احمد لدھیانوی، حافظ محمد سعید، جنرل حمید گل، ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا محمد احمد لدھیانوی اور مولانا سمیع الحق کے جذبوں اور اخلاص کو حقیقی نظریاتی رنگ عطا کر دیں اور یہ رنگ عوام تک پھیل جائیں۔ آمین! ان سب کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ دشمن ہے دشمن ہے۔ بھارت مکار پڑوسی اور مکار دشمن ہے دشمن ہے۔ یہ درست اور بالکل درست بات ہے۔ اسلام ہی نظریہ حیات اور طریقہ حیات ہے۔ یہ بھی درست ہے اور بلاشبہ اسلامی نظام ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے اور نظریہ پاکستان ہی نظریہ اسلام اور نظریہ اسلام ہی نظریہ پاکستان ہے۔ یہ سب ہے تو دفاع پاکستان ہے۔ ورنہ مصلحتیں، یہ کمزوریاں اور یہ ”سیاہ ستیں“ فراڈ ہیں.... فراڈ!!!.... فراڈ چاہئے نہ ”سیاہ ست“ درکار ہے۔ نظریہ اسلام ہی اس عالمی فکری چوک اور جغرافیائی چوک کا پاسبان ہے!!!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں