انسانی ہمدردی اور تشدد کے منطقی مناظر
1 ـ 29 اگست ، 2010
کیا ہم ایک وحشی سماج ہیں یا محض ایک عسکری ریاست؟ حال ہی میں مختلف محاذوں پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے خود ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے متضاد تصورات کو اجاگر کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ سیلاب پاکستانی ریاست اور سماج کے بارے میں بعض دلچسپ منطقی مناظر سامنے آئے ہیں۔ ایسے موقع پر جب قدرتی آفت نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے سماج ایک بار پھر امدادی کاموں کیلئے باہر نکلا ہے۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کی جانب سے دھڑادھڑ عطیات جمع کرائے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کے گروپوں میں پاکستان یوتھ الائنس جیسا گروپ ان چند امداد پہنچانے والوں میں شامل ہے جو راجن پور اور اس سے آگے کے علاقوں میں پہنچے ہیں۔ فوج کے سوا ریاست اور حکومت کے سویلین ادارے سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں کہیں نظر نہیں آتے۔ علاوہ ازیں حکومت اور دیگر ہر کسی کے مابین بہت زیادہ عدم اعتماد پایا جاتا ہے اور بمشکل ہی کوئی شہری حکومت کو عطیات دینے کیلئے تیار ہے جبکہ ہماری قیادت نے اس آفت کو ایک مذاق بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کا آغاز صدر پاکستان نے کیا اور پھر انہوں نے یورپ کے اپنے سیاحتی دورے کو جاری رکھا۔ بعد ازاں وزیراعظم کو جعلی ریلیف کیمپوں کے دورے کرائے گئے اور اب مضحکہ خیز انداز میں فی خاندان 20 ہزار کی قلیل مالی امداد صدر اور وزیراعظم کی جانب سے سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فی خاندان فوری طور 5 ہزار روپے وصول کرینگے۔ حکومت کی جانب سے عام استعمال کی اشیاء اور بنیادی خوردنی آئٹمز کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں جاننا چاہئے کہ اس رقم میں ایک اوسطاً خاندان جس کے پاس گھر کی نہ دیگر چیزیں کتنے دن گزارہ کریگا؟
جہاں تک منتخب نمائندوں کا تعلق ہے وہ اپنے حلقوں سے غائب ہیں سوائے اسکے جب انہیں اپنی جائیدادوں اور سرمایہ کاری کو بچانے کیلئے سیلابی پانیوں کا رخ موڑنے کی ضرورت پیش آئے۔ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین کا یہ کہتے ہوئے احتجاج کرنا کہ بلوچستان کو جان بوجھ کر ڈبویا گیا ہے، سیاسی اشرافیہ کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ سارا تنازعہ جیکب آباد ایئربیس اور امریکی حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی ضرورت کے گرد گھومتا ہے جس نے ہماری قیادت کے حوالے معاملات چلانے کی صورتحال کو مزید افسوسناک بنا دیا ہے۔ غالباً سب سے کمزور پہلو پاکستانی حکمرانوں کا شور شرابا ہے جو وہ امریکی گردان کی بازگشت کے طور پر کر رہے ہیں کہ سیلاب کے باعث عسکریت پسند کسی نہ کسی طرح اپنے راستے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کی ضروریات اور مصائب سے اس بے حسی کے نتیجے میں جماعۃ الدعوۃ جیسی موثر امدادی تنظیموں کو بند اور انکے ریلیف کاموں کو روک دیا گیا ہے۔ اسکے برعکس ہمارے حکمرانوں نے بھارت کی جانب سے پیش کی گئی 50 لاکھ ڈالر کی معمولی امداد قبول کر لی ہے۔ یہ رقم کشمیریوں کے خون سے لتھڑی ہوئی ہے اور اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دینا چاہئے تھا۔
درحقیقت پاکستانی ریاست نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر جو خاموشی اختیار کر رکھی ہے اس سے بھارت امریکہ فرمان کے سامنے ہماری قیادت کے سرنگوں ہونے کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں شورش کی جو نئی لہر اٹھی ہے اس کی قیادت کشمیری نوجوانوں کی نئی نسل کر رہی ہے جبکہ بھارتی فورسز بڑی بیدردی کے ساتھ انہیں قتل کر رہی ہے لیکن نوجوان قابضین کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے باہر نکل رہے ہیں اور کسی اور چیز سے نہیں بلکہ پتھروں سے انکا مقابلہ کر رہے ہیں اور اب کشمیری خواتین بھی باہر سڑکوں پر نکل آئی ہیں اور یہ تحریک اس نوعیت کی ہے جو بھارتی گولیوں سے کنٹرول نہیں ہو سکی تاہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود پاکستانی قیادت اپنی دائمی شرمندگی کیساتھ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ اس موقع پر اسے دنیا بھر میں زوردار آواز کیساتھ احتجاج کرنا چاہئے تھا۔ ایک بار پھر ہماری حکومت ان واقعات کے ذریعے مغلوب ہو رہی ہے جو ہمیں مکمل طور پر نکال باہر کرینگے‘ اسکی وجہ ہمارے حکمران ہیں جو اس قدر بزدل ہیں کہ بھارت کی مذمت میں ایک لفظ کہنے کیلئے تیار نہیں جبکہ یہ وقت کی ضرورت ہے لہٰذا بھارت سے سیلاب زدگان کیلئے خون آلود رقم وصول کر لینا طویل مدت سے مصیبت میں مبتلا اس قوم کیلئے حیران کن نہیں ہونا چاہئے جسے کہا جا رہا ہے کہ وہ عیسائی خیراتی اداروں سے امداد وصول کر سکتی ہے لیکن اسلامی تنظیموں کی جانب سے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔
دریں اثناء سیلاب نے قدرتی طور پر لوگوں کو انکے تمام مال و اسباب سے محروم کر دیا ہے اور ان علاقوں میں تشدد تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں متاثرین ریاستی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان لوگوں میں غصے اور تشدد کا لاواپک رہا ہے جو یقیناً دیر کی بجائے جلد پھٹ جائیگا اور پھر مایوس اور مصیبت زدہ ان لوگوں کے غیض و غضب کا سامنا حکمرانوں کو کرنا ہوگا۔ درحقیقت ہم تیزی کیساتھ ایک وحشی قوم بنتے جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں ایک عسکری ریاست کا سامنا ہے۔ یہ ریاست طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے جو معمولی سے اشتعال پر تشدد کا استعمال کرتی ہے۔ پولیس تشدد کے استعمال میں سب سے آگے ہے جو اس کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ یہ کس قدر شرمناک اور قابل مذمت بات ہے لیکن کوئی حیرت نہیں ہوتی کہ یہ بہاولپور میں میڈیکل کی طالبات پر حملہ آور ہوتی ہے۔ مزید برآں ریاست کی جانب سے کسی بھی ناپسندیدہ شخص کو قتل کرنے کیلئے پولیس مقابلوں کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پھر گذشتہ ہفتے سیالکوٹ میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی سخت دل پاکستانیوں کیلئے بھی ہلا دینے والا تھا۔ یہ خوفناک طالبان نہیں تھے جو خون کے پیاسے عوام کے سامنے اور چیخوں کے درمیان کوڑے مار کر اور سنگسار کر کے ناقابل قبول عوامی انصاف کا اہتمام کرتے ہیں یہ صنعتی شہر سیالکوٹ کا ایک علاقہ تھا اور دو نوجوانوں بلکہ لڑکوں کو دیکھنے کیلئے ایک ہجوم جمع تھا جنہیں عوام سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگ مار مار کر موت کے گھاٹ اتار رہے تھے جبکہ قانون نافذ کرنیوالے بھی کسی مداخلت کے بغیر اس واقعہ کو دیکھتے رہے۔ بدتر بات یہ کہ جب وزیراعظم نے ڈی سی او کو مطلع کیا دوسرا پولیس افسر ایس ایچ بڑے آرام سے غائب ہو گیا اور وہ لوگ کھلے عام پھر رہے ہیں جو اس بہیمانہ اقدام کے ایک خاموش فریق تھے اور انہیں انکے اس طرز عمل کی غلطی کا احساس تک نہیں دلایا گیا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ انہیں یہ گھنائونا واقعہ دیکھ کر اپنی حیوانی جبلتوں کو تسکین دینے کی ضرورت تھی۔ یہ کوشش بھی بڑی گھٹیا حرکت ہے کہ اس گھنائونے اقدام کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کے سلسلہ میں دونوں مقتولین کو کسی جرم یا تنازعہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ معاملہ ایسا ہی تھا تو پھر بھی اس اقدام کو کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم قوانین ضابطوں اور طریق کار کے بغیر کسی جنگل میں رہتے ہیں؟
بلاشبہ ایسے بہیمانہ اقدام کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور بدقسمتی یہ ہے کہ عوام سمیت مجرموں کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی۔ پھر یہ کہ اس طرح کے ہولناک واقعات ملک بھر میں رونما ہو رہے ہیں جن میں جاگیردار ملوث ہیں لیکن اپنے ان ظالمانہ اقدامات کے باوجود خصوصاً جن میں خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے یہ صاف بچ نکلتے ہیں۔ بلوچستان میں خواتین کو زندہ دفن کرنے یا سندھ میں عورتوں پر کتے چھوڑنے کے واقعات کو کوئی بھلا کیسے بھول سکتا ہے؟ لیکن ان واقعات پر کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی اور ہمارے بعض ایسے ارکان قومی اسمبلی بھی تھے جو سابق قومی اسمبلی میں نام نہاد عزت کے نام پر قتلوں کو جائز قرار دیتے تھے۔ جہاں تک اقلیتوں کا معاملہ ہے انہیں بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات تو پرتشدد اکثریت کے ہاتھوں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے اندر اس قدر تشدد غصہ اور نفرت کیوں ہے کہ ہم عوام میں ایسے وحشیانہ اقدامات کے موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں؟ یہ وہی عوام ہیں جو انسانی المیہ اور قدرتی آفت کے موقع پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اصولی مقاصد کے دفاع خصوصاً عالم اسلام کیلئے ڈٹ جاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو عدالتی تشدد اور بدسلوکی میں ملوث ہوتے ہوئے محض افواہوں اور الزامات پر ایک شخص کو پھانسی دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں او ر مخالف ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔
یقینی طور پر اس میں کچھ قصور ریاست اور قیادت کا بھی ہے جو نفرت، گروہ بندی، نسلی اور فرقہ وارانہ منافرتوں کی پرورش کر رہی ہے اور یہ سب کچھ محض اپنی بقا اور اپنے مفادات کو پھیلانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ ریاست کو اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ انصاف، فیئر پلے اور رواداری جیسی صفات کی کسی قوم میں نشوونما کیلئے ایک سازگار فضا پیدا کرے اور اس وحشیانہ پن کونکالے جو ہم میں سے ہر ایک کے اندر موجود ہے تاہم قوم کی انسانیت کو غالب کرنے کیلئے ریاست کو مطلوبہ فضا فراہم کرنا ہوگی۔ اب تک پاکستانی ریاست نے اس معاملے میں پاکستانی قوم کو ناکامی سے ہی دوچار کیا ہے!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں