حکمران صرف پانچ کروڑ ڈالر کیلئے ڈھیر ہو گئے

ـ 29 اگست ، 2010
مصطفی کمال پاشا
’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ یہ کوئی جذباتی بیان نہیں ہے بلکہ بابائے قوم کی فہم و فراست اور زمینی حقائق کا ثبوت ہے پاکستان زرعی ملک ہے اسکی صنعتوں کا انحصار بھی زرعی پیداوار پر ہے ٹیکسٹائل ہماری برآمدی آمدنی کے 60 فیصدپر مشتمل ہے شوگر انڈسٹری ، ملک اینڈ لائیو سٹاک ، لیدر اینڈ گرافٹ انڈسٹری کے علاوہ چھوٹی بڑی سینکڑوں صنعتوں کا انحصار زراعت پر ہے ہماری 57 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جسکی بودو باش اور معاش زراعت سے جڑی ہوئی ہے ہماری 70 فیصد تک برسرِ روزگار افرادی قوت زراعت اور اس سے متعلق صنعت و حرفت سے وابستہ ہے ان تمام سرگرمیوں کا براہ راست تعلق پانی سے ہے اور پاکستان کی طرف بہنے والے پانیوں کے منبے کشمیر کے پہاڑیوں سے نکلتے ہیں گویا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے جو ہندوستان کے قبضے میں ہے۔
کشمیر پر بھارتی قبضہ اور اس پر اصرار ہندوئوں کی پاکستان دشمن پالیسیوں کا حصہ ہے ہندو روز اول سے ہی پاکستان کے ختم ہونے اور بالآخر اکھنڈ بھارت کا حصہ بن جانے کی امید لگائے بیٹھا تھا لیکن اسکی یہ امید ختم ہو چکی ہے اب وہ پاکستان کو معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور کرنے اور بھارت کا دست نگر بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے‘ اس حوالے سے اسے امریکہ و برطانیہ کی مکمل سپورٹ بھی حاصل ہے۔ امریکہ نے بھارت کو اپنا قابلِ اعتماد دوست ہی نہیں بلکہ سٹریٹیجک پارٹنر بھی بنا لیا ہے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
امریکہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کیخلاف ہندوستان کو پروموٹ کر رہا ہے جبکہ امریکہ نے اپنی کتابوں میں پاکستان کو افغانستان کے برابر رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے کیلئے ایک ہی شخص رچرڈ ہالبروک کو ذمہ داری سونپی ہوئی ہے۔ امریکہ پاکستان کو ہر طرح سے مجبور کر رہا ہے کہ وہ بھارت کیساتھ معاملات ’’درست‘‘ کرے گویا ’’پاکستان کی کشمیر پالیسی غلط ہے اور پاکستان کی پالیسی علاقے میں نقصِ امن کا باعث ہے‘‘ پاکستان، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے ہماری مسلح افواج شجاعت و بہادری کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہیں لیکن ان کا حقیقی اعتراف کر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے امریکہ پاکستان کو بھارت کیساتھ تعلقات درست کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ہمارے حکمران کیونکہ نالائق ہیں اسلئے وہ امریکہ کے سامنے پاکستانی عوام کا موقف پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کیساتھ ہی بھارت سرکار نے پاکستان کو 50 ملین ڈالر کی شرمناک پیش کش کی جس سے انہوں نے عالمی براداری کو تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسے پاکستان سے ہمدردی ہے حالانکہ بھارت ایک عرصے سے پاکستان پر آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ ہمارا پانی غیر قانونی طور پر روک کر ہماری زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کی کاوشیں کر رہا ہے لیکن اسکی اس منافقانہ پیشکش کے ذریعے اس کا خبثِ باطن عالمی براداری سے چھپ گیا۔
ہمارے حکمران کیونکہ امریکہ کے آگے مکمل طور پر سر بسجود ہو چکے ہیں اس لئے انہوں نے اس شرمناک پیش کش کو قبول کرکے قوم کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کی سعی کی ہے 50 ملین ڈالر کی معمولی رقم ہمارے قد آور مسائل کے حل میں کوئی معمولی کردار بھی ادا نہیں کر سکے گی لیکن اس سے بھارتی سرکار کی پاکستان بارے پالیسیوں کو عالمی برداری کی مزید حمایت حاصل ہو گی۔ہم نے انکی امداد قبول کر کے کشمیر کے مسئلہ پر اپنے موقف کی نفی کر دی ہے ۔
پاکستانی حکمرانوں کی یتیم دلانہ پالیسیوں کے باعث خطے میں بھارتی بالادستی کا خواب حقیقت کے قریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے بھارتی امداد کو قبول کرنا کشمیریوں کی نصف صدی کی جدوجہد آزادی کو مٹی میں ملانے کے مترادف ہے۔
برصغیر پاک و ہند ، مسلمانوں کی دھرتی ہے یہاں کے چپے چپے پر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے نشان ہیں۔ مسلمانوں نے اس زمین میں بسنے والوں کو ذات پات کی تفریق غلیظ اور تنگ گلیوں سے نکال کر انصاف اور احترام انسانیت کی کھلی فضا میں سانس لینے کا سلیقہ سکھایا۔سینکڑوں نہیں ہزاروں دیویوں دیوتائوں کی پرستش کے چنگل سے نکال کر ایک خدا، ایک رسولﷺ اور ایک کتاب کی بنیاد پر قائم تہذیب و تمدن سے متعارف کرایاآج اگر اس خطے (بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش) میں 700 ملین سے زیادہ مسلمان بستے ہیں تو یہ سب عرب سے نہیں آئے اور نہ ہی عربوں کی اولاد ہیں بلکہ یہاں بسنے والوں کی اولادیں ہیںجنہوں نے اسلام قبول کیا۔ اس خطے کی ہزاروں سالہ تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں نے یہاں علم و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کر کے لوگوں کو ایک عظیم سلطنت اورمسلم عالمی برادری کا حصہ بنایا۔
مغلیہ سلطنت کے علاوہ یہاں غوریوں، غزنویوں، لودھیوں اور خلجیوں نے بھی امن و انصاف کوفروغ دیا۔ حتیٰ کہ برطانوی سامراج نے اس خطے کے لوگوں کو غلام بنایا اور 1857 میں مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ کر کے یہاں تاج برطانیہ کی بالادستی قائم کی۔ مسلمانوں کی تمدن اور سیاسی حکمرانی کیخلاف انگریزوں کی مسلح سازشوں کا آغاز 1757 میں جنگِ پلاسی کے وقت ہوا جو 1857 کی جنگ آزادی تک جاری رہا۔ انہوں نے ایک سو سال تک یہاں سازشیں کیں اور پھر مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کر سکے لیکن وہ صرف 90 سال تک ہی حکمرانی کر سکے۔
1947 کو تقسیم ہند کے ذریعے وہ یہاں سے رخصت ہو گئے بلکہ انہیں رخصت ہونا پڑالیکن وہ ترکے میں متعصب اور تنگ نظر ہندوبھارت اور مسئلہ کشمیر چھوڑ گئے۔جس نے 60 سال سے اس خطے میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اسکی پالیسیوں کے باعث علاقہ مسلسل جنگی صورتحال کا شکار ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی میں شکست کھانے کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں بیداری کی کئی تحریکیں اٹھیں۔ لیکن آل انڈیا مسلم لیگ، ہندی مسلمانوں کی سیاسی بیداری کی علمبردار تھی‘ جسے بنگال کے مسلمانوں نے 1906 میں قائم کیا۔ اسی پلیٹ فارم پر حکیم الامت محمد اقبال نے 1930 میں اپنے صدارتی خطبہ الہ آباد میں ہندی مسلمانوں کے مسائل کیلئے ایک مربوط اور بسوط حل پیش کیا جو تصور پاکستان کہلایا جس نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر 1940 میں قرار دادِ پاکستان کی شکل اختیار کی اور بالآخر 1947 میں پاکستان کی شکل میں اس دور کی سب سے بڑی مسلم ریاست عالمی منظر پر ابھری۔
1857 سے لیکر1947 میں قیام پاکستان تک برصغیر پاک و ھند کی علمی و سیاسی تاریخ بڑی بڑی علمی ، ادبی اور سیاسی شخصیات سے بھری پڑی ہے جوصرف مسلمانوں میںہی پزیرائی نہیں رکھتی تھیں بلکہ ہندو اور انگریز بھی انکے قائل تھے۔ علامہ عطاء اﷲشاہ بخاری جیسے شعلہ بیان جب قرآن سنانا شروع کرتے تو رات بھیگ جاتی بلکہ بیت جاتی لیکن مجمع مبہوت ہو کر شاہ صاحب کی قرآن بیانی کے سحر میں گرفتار رہتا حتیٰ کہ فجر کی اذانیں ہو جاتیں ابوکلام جیسے لوگ جب قرآن اور سیاست پر بات کرتے تو گاندھی اور پٹیل جیسے سرکردہ ہندو لیڈر بھی انکی باتیں مرعوب ہو کر سنتے۔ لیکن یہ بھی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے کہ قدرت نے ہندی مسلمانوں کی قیادت و سیادت کیلئے سوٹ بوٹ والے نستعلیق محمد علی جناح کو چنا۔ وہ عام لوگوں کی زبان بھی بولنا نہیں جانتا تھا لیکن اس کا ابلاغ اس قدر طاقتور تھا کہ اس نے برصغیر کے مسلمانوں کو حصار میں لے لیا اور پھر آل انڈیا مسلم لیگ جو مسلمانوں کے اشرافیہ اور زمینداروں کی نمائندہ پارٹی کے طور پر جانی جا تی تھی کے پلیٹ فارم سے ہندی مسلمانوں کو منظم کر کے ایک مملکت کے حصول کی منزل کی طرف رواں دواں کر دیا اور بالآخر 14اگست 1947 میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ کسے معلوم نہیں کہ نہرو نے لیڈی مائونٹ بیٹن کیساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے تقسیم ہند کے طے شدہ فارمولے میں گڑ بڑ کی اور اسطرح مسئلہ کشمیر کھڑا ہو گیا۔ اسکے علاوہ اثاثہ جات کی تقسیم کے حوالے سے بھی نوزائیدہ پاکستان کیساتھ ناانصافی برتی گئی۔کانگریسی ہندو قیادت تقسیم ہند پر سخت ناراض تھی کیونکہ وہ ہندوستان کو ’’دھرتی ماتا‘‘ کہتے تھے اور تقسیم کو ’’دھرتی ماتا کی تقسیم‘‘ سے تعبیر کرتے تھے انہیں ایمان کی حد تک یقین تھا کہ پاکستان ایسے معروضی حالات میں قائم نہیں رہ سکے گا اس لئے انہوں نے روز اول سے ہی پاکستان کیساتھ معاندانہ رویہ اختیار کیا اور یہ رویہ ھنوز جاری ہی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کا ایک حصہ بن چکا ہے جس کا اظہار ہندوسرکار کی پاکستان دشمن پالیسیوں میں ہوتا ہے۔
ہندو سرکار نصف صدی سے کشمیری مسلمانوں کو اپنے 7 لاکھوں ملٹری اور پیرا ملٹری ٹروپس کے ذریعے جانوروں کی طرح ھانک رہی ہے ’’حق خودارادیت‘‘ کشمیریوں کا قانونی حق ہے اس بارے میں تقسیم ہند کے ڈاکومنٹ میں بھی لکھا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی یہی کہتی ہیں۔ کشمیر میں بھارتی فوجی ایکشن کیخلاف ہتھیار بند کشمیریوںکی آواز بھی یہی ہے۔ پاکستان کے عوام کا موقف بھی یہی ہے کہ پاکستان میں ’’ک‘‘ کشمیر کیلئے ہے اس لئے کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں