مارشل لائی بیان اور جاگیرداری نظام
سرور منیر رائو ـ 29 اگست ، 2010
ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے ’’مارشل لائی‘‘ بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک ایسی سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے جس پر ہر صاحب فکر و دانش اپنے رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ اب تک اس بحث سے دو نکات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں ایک تو یہ کہ مارشل لاء یا اس کی طرز کا کوئی بھی اقدام کسی بھی طرح قومی مفاد میں نہ ہے البتہ ان کے بیان کا دوسرا نکتہ یہ کہ کرپشن اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔اس معاملے پر ہر محب وطن یک زبان ہے۔ کرپشن اور جاگیرداری نظام کے نا سور نے ہمارے وطن کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ کرپشن کہاں ہے؟کیسے ہے؟اور اسے کون تحفظ دے رہا ہے اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ آج ہم جاگیرداری نظام کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔جاگیری نظام کو زرعی اصلاحات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
زرعی اصلاحات یا لینڈ ریفارمز ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کے تحت حکو مت وقت زمین کی ملکیت یا اسکے استعمال پر کنٹرول حاصل کرتی ہے اور ایک مقررہ حد تک افراد کو زمین کی ملکیت رکھنے کا حق دیتی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد ملک سے بڑی بڑی جاگیروں کو ختم کر کے زرعی شعبے کو اس طرح ترقی دینا ہوتا ہے کہ زمین سے حاصل ہونے والے وسائل کو بہت حد تک انصاف سے تقسیم کیا جا سکے۔جاگیرداری نظام کے خاتمے سے علاقے پر چند افراد کی گرفت کمزور ہوتی ہے اور عام آدمی کے شہری حقوق کی پاسداری آسان ہوتی ہے۔ جاگیرداری کے چنگل سے نکلنے کے بعد عام آدمی آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے اور جمہوریت کو پائیداری حاصل ہوتی ہے۔ زرعی اصلاحات کے عمل کو کامیاب بنانے کیلئے اکثر اوقات حکومتوں کو ریاستی طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کئی انقلابی تحریکوں نے جب زرعی اصلاحات اور جاگیرداری نظام کو ختم کرنے کا علم اٹھایا تو حکمرانوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔زرعی اصلاحات کا عمومی مقصد زیادہ طاقت ور لوگوں سے زمینیں یا جاگیریں لیکر وہاں رہنے والے کم طاقت ور لوگوں یا حکومت کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ زرعی اصلاحات کے مقاصد میں خوراک کی فراہمی کے ذرائع کو منظم کرنے کیساتھ ساتھ دیہی علاقوں کے لوگوں کی غربت کو دور کرنا شامل ہوتا ہے۔ زرعی اصلاحات کی حمایت اور مخالفت میں دونوں طرف پرزور دلائل دئیے جاتے ہیںلیکن وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ جن ممالک میں بڑی بڑی جاگیریں بنانے پر پابندی ہے وہاں کے عوام مجموعی طور پر بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں زمین کی نجی ملکیت نہیں۔ 19ویں صدی میں روس نے نجی ملکیت مکمل طور پر ختم کر کے تمام زمین حکومت کی ملکیت قرار دی۔ زرعی اصلاحات کی تاریخ کا مطالعہ حیران کن حقائق لیے ہوئے ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 133سال پہلے رومن سینیٹ نے جب ایک حکم دیا تو رومن ایمپائرمیں سیاسی اور سماجی طلاطم آ گیا۔ اس حکم کے تحت حکمران طبقے کو زرعی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ رومن ایمپائر کے خاتمے کی ایک اہم وجہ یہی حکم تھی۔ قدیم مصر کے زمانے میں مذہبی رہنمائوں کو بڑی بڑی جاگیریں دی گئیں اور ان کا ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا۔ اس حکم کیخلاف بھی عوامی تحریک اٹھی جو حکومتوں کو بھی بھی بہا کر لے گئی۔ انقلاب فرانس کی وجوہات میں بھی ایک اہم وجہ بڑی بڑی جاگیریں رہیں۔ صنعتی انقلاب نے جاگیرداری نظام پر کاری ضرب لگائی۔
انقلاب روس اور انقلاب چین (مائوزے تنگ کا دور) نے جاگیرداری نظام کے خاتمے کا جو پیغام دیا اسکے اثرات بولیویا، زمبابوے اور نمبیا (NAMIBIA) تک پہنچے۔افریقن اور عرب شوشلزم نے بھی اس سے اثرات لیے۔ کیوبا نے بھی مکمل طور پر جاگیرداری کو ختم کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تیسری دنیا کے اکثر ممالک نے اقتصادی ترقی کیلئے زرعی اصلاحات کو بنیاد بنایا۔ ملائیشیا، تائیوان، جنوبی کوریا اسکی مثال ہیں۔ برازیل، چلی، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، میکسیکو، نکاراگوا، پیرو اور وینزویلا نے بھی زرعی اصلاحات اور جاگیرداری نظام کو ختم کرکے اپنی معیشت مضبوط کی۔ جدید مصر، شام نے بھی ان اصلاحات پر عمل کر کے ترقی کی راہیں اختیار کیں۔ ایران میں سفید انقلاب (1979)کے بعد جس میں شاہ ایران کو ملک بدرہونا پڑا) انقلابی زرعی اصلاحات کی گئیں۔یورپ میں البانیہ، بلغاریہ، چیکو سلووکیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، یونان، استھونیا، ہنگری، ائر لینڈ، لیتھونیا، مانٹی نیگرو، پولینڈ، سربیا، رومانیہ، سلونیا اور سویڈن نے بھی زرعی اصلاحات کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط کیا۔ افریقہ میں ایتھوپیا،سائوتھ افریقہ اور زمبابوے نے اصلاحات کیں۔ آسٹریلیا، جاپان، امریکہ اور کینیڈا کی ترقی کا راز انہی اصلاحات میں پنہاں ہے۔ تقسیم ہند کے وقت بھارت بھی جاگیرداری نظام کے شکنجے میں تھا لیکن زرعی اصلاحات نافذ ہونے کے بعد بتدریج وہاں جاگیرداری نظام دم توڑ گیا۔اسی وجہ سے بھارت میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہوا۔ آج بھارت کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی زرعی اصلاحات کے نام پر صدر ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کچھ اقدامات کیے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جاگیرداروں اور با اثر افراد نے ان اصلاحات کے اعلان سے پہلے ہی اپنی زمینیں اپنے عزیز و اقارب اوروفادار مزارعین کے نام ٹرانسفر کر وا لی۔ اس طرح بالواسطہ طور پر حق ملکیت اپنے ہی پاس رکھا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں