یوم سیاہ … کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کے تناظر میں

X.y.z ـ 28 اکتوبر ، 2009
کشمیری مسلمان ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں اور یوں وہ کشمیریوں پر بھارت کے ڈھائے جانیوالے مظالم کیخلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح وہ نئی نسل کے نوجوانوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ 1947ء میں اسی تاریخ کو بھارت نے کشمیر پر اپنا ناجائز قبضہ کر لیا تھا اور کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت (Right of Self-determination)دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرونے بڑے واضح الفاظ میں اہل کشمیر کو یقین دلایا تھا کہ جونہی وادی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی تو وہ بلا تاخیر وادی سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لیں گے اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کے سپرد کر دینگے جنہیں یہ کلی اختیار ہوگا کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرلیں۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ کشمیری عوام پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا جائیگا مگر بدقسمتی سے آگے چل کر ہوا کیا؟ اس وعدہ کی تکمیل کی بجائے بھارت نے فرار کی راہ اختیار کر لی اور مختلف حیلے بہانوں سے اسکے عمائدین استصواب رائے کے انعقاد سے منحرف ہونے لگے۔ چنانچہ اس وقت سے لیکر آج تک بھارت مختلف حیلے بہانوں سے کام لیکر جموں اور کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط جمائے بیٹھا ہے اور اپنے ناجائز تسلط کو دوام بخشنے کیلئے اس نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی افواج کمال بے رحمی کیساتھ کشمیری عوام پر مظالم ڈھائے جا رہی ہیں اور وہ انسانی حقوق کو اپنے پائوں تلے روند رہی ہیں۔ بھارت کے اس وحشیانہ کھیل کا مقصد یہ ہے کہ کسی طور کشمیر کی تحریک آزادی ظلم اور بربریت کے ’’حضور ‘‘سر نگوں ہو جائے۔
بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے موقع پر کشمیر کی آبادی جس کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی(اور اب بھی ہے) پاکستان کیساتھ الحاق کی متمنی تھی۔ اس حوالے سے مسلم کانفرنس کے اراکین مہاراجہ پر دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے پاکستان کیساتھ الحاق کا اعلان کردیں۔ اس حوالے سے انہوں نے 19 جولائی 1947ء کو ایک قرار داد بھی منظور کر لی تھی لیکن وائے حسرتا! ان کی یہ خواہش اس بنا پر پوری نہ ہو سکی کہ مہاراجہ نے حق و انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کیساتھ کشمیر کے الحاق کا اعلان کر دیا۔ مہاراجہ کے اس فیصلے کیخلاف کشمیری مسلمانوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ مہاراجہ نے جب دیکھا کہ اسکے گرد گھیرا تنگ ہو تا جا رہا ہے تو اس نے بھارت کو مدد کیلئے پکارا۔ بھارت پہلے ہی مداخلت کیلئے پرتول رہا تھا۔ اس نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے فوجی دستے بذریعہ جہاز سری نگر میں اتار نے شروع کر دیئے۔ ان فوجی دستوں کے ذمے یہ کام سونپا گیا کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کچل کر رکھ دیں۔
بھارت کے ’’سورمائوں‘‘ نے اپنی ’’بہادری‘‘ کے جوہر دکھانے شروع کر دیے مگر جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ جذبہ جہاد سے سرشار مسلمان جمیعت سے نمٹنا کوئی آسان کھیل نہیں۔ یہ سخت جان مخلوق موت کو گلے لگانے کیلئے بے قرار ہے۔
یہ حقیقت جاننے کے بعد بھارت نے یکم جنوری 1948ء کو رضاکارانہ طور پر اس مسئلے کو یو این او میں پیش کردیا اور یوں 12۔اپریل 1948ء کو سکیورٹی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی۔ اس قرار داد کا ماحصل یہ تھا کہ کشمیر میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کا اہتمام کیا جائیگا۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ کشمیر میں استصواب کا اہتمام بھی کیا جائیگا اور یوں کشمیری مسلمانوں کی ہر فیصلے کو تسلیم کیا جائیگا۔ پنڈت نہرو نے اپنے اس موقف کو بار بار دہرایا۔ تاہم وقت گذرنے کیساتھ انہوں نے اپنے موقف سے سرکنا شروع کردیا اور مختلف حیلے بہانوں سے استصواب کے مسئلہ کو سردخانے میں جھونکنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس ضمن میں بھارت نے اقوام متحدہ کی جانب سے منصفانہ انتخابات کی تمام کوششوں کو بھی ناکامی سے دوچار کر دیااور اب استصواب کے مطالبے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ بھارت کی یہ عیارانہ چال حق و انصاف کا منہ چڑانے کے مترادف ہے مگر اس کا کیا علاج؟ عالمی ضمیر جب کلی طور پر میٹھی نیند سوجائے تو سلسلہ روز و شب میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ بھارت نے استصواب کی تمام کوششوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے اور اب موجودہ صورت حال کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ساٹھ برسوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس مظلوم مخلوق کا عزم جواں ہے اور وہ زبان حال سے پکار رہی ہے کہ: ’’بس ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔‘‘
بھارتی فوجی دستے وادی کے مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور ان فوجی دستوں نے ظلم ڈھانے اور انسانی قدروں کا منہ نوچنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے لیکن ان سب چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیری مسلمانوں کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی ہے اور وہ کمال جرات و پامردی کیساتھ دشمن کے مظالم کو برداشت کئے جارہے ہیں۔ اس یقین کیساتھ کے فتح بالآخر حق کی ہوگی اور ذلت اوررسوائی ظالم کے کھاتے میں لکھی جائیگی۔ بھارت کے مظالم کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی سات لاکھ فوج وادی میں تعینات ہے جو نہتے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کر رہی ہے۔ بھارتی درندے اب تک نوے ہزار کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں اور 1990ء سے لیکر آج تک 3429نوجوان ایسے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی تعداد بالترتیب 25355اور 8612بتائی جاتی ہے اور زخمی ہونیوالے اپاہج نوجوانوں کی تعداد 48350بتائی جاتی ہے۔
لارڈ ایرک ایوبری(Lord Eric Evebury) جو برٹش پارلیمنٹری ہیومن رائٹس گروپ کے چیئرمین ہیں ’ کا کہنا ہے کہ 40000 خواتین ایسی ہیں جن کی آبرو ریزی اور عصمت دری کی گئی ہے۔ کثیر تعداد میں جو کشمیری جیلوں میں ٹھونسے ہوئے ہیں انکی حالت ابو غریب (عراق) کے عقوبت خانوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا قیدیوں سے کچھ کم نہیں۔ ان جیلوں میں تفتیش کے انداز بھی بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
بھارت کی معروف مصنفہ اور انسانی حقوق کی پرجوش علمبردار ارون دھتی رائے (Arundhati Roy)کا یہ کہنا ہے کہ ’’بھارت میں جمہوریت کا چرچا محض ایک ڈھونگ ہے اور حقیقت کیساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بھارت کی متعدد ریاستیں سول وار کے دہانے پر کھڑی ہیں اور صرف وادی میں فتنہ و فساد کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد اسی ہزار (80000) بتائی جاتی ہے۔
ستم یہ ہے کہ انٹر نیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس(International Federation of Human Rights) اور ایمنسٹی انٹر نیشنل(Amnesty International) جیسی عالمی شہرت یافتہ تنظیموں کو بھی متاثرہ مقامات تک جانے کی اجازت نہیں۔ پاکستان کی سماجی اور فلاحی تنظیموں کا داخلہ بند ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔
اور آخر میںموجودہ حالات کے تناظر میں یہ امر مسلم ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نہ صرف جغرافیائی طور پرنا مکمل ہے اور نہ نام کے اعتبار سے اسکی تکمیل ہوتی ہے۔ پاکستان کا معاشی استحکام بھی کشمیر سے وابستہ ہے۔ کشمیریوں نے تکمیل پاکستان کی جدوجہد میں بھی بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب بھی کشمیری نوجوان ’ بوڑھے ’ بچے اور خواتین اپنے خون سے الحاق پاکستان کی شمع کو روشن کئے ہوئے ہیں۔انہوں نے بے مثال قربانیاں دیکرمسئلہ کشمیر کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق کسی قسم کے آپشن کو قبول نہیں کرینگے۔ہمارے ہاں تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی اور گروہی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کشمیر کے مسئلہ پر ایک متفقہ حکمت عملی اختیار کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں