”بلوچستان“ ایک اہم صوبہ
ـ 28 جنوری ، 2012
ثریا ایچ خورشید
بلوچستان جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور جس نے آزادی کے طویل سفر میں قائداعظم کا بھی بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان کا حصہ بنا۔ آج بھی حالات اور مشکلات کا شکار ہے۔ اس پر محب وطن پاکستانی محسوس کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا! وہ کیسے حالات تھے۔ ان سے بلوچستان کے محب الوطن لوگ پاکستان اور قائداعظم کی محبت میں سرشار ان قدروں سے دور چلے گے۔ جو ان کی سوچ نہیں تھی!
طویل مغربی آمریت اور غیرجمہوری سوچ رکھنے والے حکمرانوں کی بدولت بلوچستان میں ایسے حالات پیدا ہوئے۔ جو ان سب باتوں کی نفی کرتے ہیں۔ جو حصول پاکستان اور پاکستان کی بقاءکےلئے مقدم تھے۔ آخر ایسا کیوںہوا؟ کہ جن لوگوں نے آزادی کی جنگ میں قائداعظم کی پُرعظیم قیادت میں مملکت پاکستان میں خوشی سے شمولیت اختیار کی۔ آج بابائے قوم کے وہی غیور لوگ کی خطے میں علیحدگی کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسی خبریں بھی آتی ہیں کہ کئی سرکاری اور نجی عمارتوں سے پاکستان کا جھنڈا اتار دیا گیا ہے اور پاکستان کا قومی ترانہ خاص موقعوں پر بھی نہیں پڑھا جاتا۔
یہ بہت ہی مایوس کن حالات ہیں۔ ہر محب الوطن پاکستانی اس پر آرزدہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ نااہل حکمرانوں کی آمد طویل مغربی حکومتوں کی وجہ سے ایسی بے اطمینانی کی فضا پیدا ہوئی۔ جو ہم سب کےلئے تشویشناک ہے۔ گذشتہ فوجی حکومت میں یہاں کے نیشنلسٹ لیڈر اکبر بگٹی کا وحشیانہ قتل بہت ہی افسوسناک واقعہ تھا۔ جسے کسی محب الوطن پاکستانی نے پسند نہیں کیا تھا اس لئے فوجی حکومتیں‘ ناقابل قبول ہوتی ہیں۔ قائداعظم نے زندگی بھر قوم کو جمہوریت کا سبق دیا۔ پاکستان حاصل کرنے کی طویل اور مشکل تگ و دو میں انہوں نے کبھی جمہوری اقتدار کو پامال نہیں کیا۔ افسوس پاکستان میں طویل فوجی حکومتوں کی وجہ سے ہی ساری اقدار فراموش کر دی گئیں۔ جو پاکستان حاصل کرنے کی بنیادی باتیں تھیں اور جسکا درس قائداعظم نے قوم کو دیا تھا اور خود بھی ان اقدار سے زندگی گزاری تھی۔قائداعظم نے 14 فروری 1948ءکو سبی میں بلوچستان اور اہل بلوچستان کےلئے جن خیالات کا اظہار فرمایا تھا۔ وہ تاریخ کا ایک انمٹ حوالہ ہے۔
آپ نے فرمایا: ”بلوچستان سے بڑے عرصے سے میرے ذاتی تعلقات چلے آرہے ہیں۔ جب مجھے وہ دن یاد آتے ہیں۔ جب اس صوبہ کے لوگوں نے میرے شانہ بشانہ ہماری آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ تو مجھے مسرت ہوتی ہے۔ ہمارے مقصد کے حاصل کرنے میں آپ نے جو حصہ لیا ہے۔ وہ کسی طرح سے پاکستان کے دوسرے صوبوں میں کام کرنےوالے آپکے بھائیوں کی کوششوں کے حصہ سے کم نہیں ہے“۔
پھر ایسی فضاءآخر کیوں پیدا ہوئی کہ وطن کے یہ محب الوطن لوگ جنکا صوبہ قدرتی معدنی ذخیروں سے بھرا ہوا ہے۔ بے اطمینانی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ احساس محرومی کا شکار ہیں۔ آہیں شکوہ ہے اور یہ شکوہ جائز ہے۔ سالوں سے دی یہ بے انصافی برداشت کر رہے ہیں۔ جس میں ایک عام پاکستانی ایک عام شہری کے لحاظ سے قصوروار نہیں۔ صرف حکومتوں کی غلط پالیسیاں، غلط رویے اور فوجی آمریت ہی ان حالات کی وجہ ہے۔ فوج پاکستان کا فخر ہے لیکن وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت اور فوجی امور کےلئے اہم ہے۔ حکومت کرنے اور قومی معاملات میں اسکی اہمیت ہی نہیں۔ جو سالوں سے پاکستان کا مقدر بن گئی۔ مجھے یاد ہے محترمہ فاطمہ جناح اکثر جب قوم اور ملت کی رہبری اور بہتری کی باتیں کرتی تھیں تو ایوب خان جو اس وقت ملک کے صدر تھے کے متعلق بہت غصے سے کہا کرتی تھیں:۔
"He should go to barracks". سول حکومت میں اسکا کیا کام ہے۔ اسی فوجی آمریت سے وہ جیتا ہوا الیکشن ہار گئی تھیں۔ اگر اس وقت ایسے نہ ہوتا تو طویل فوجی آمریت‘ ہمارا مقدر نہ بنتی اور ملک کے ایسے حالات نہ ہوتے۔ جن سے ہم دوچار ہوئے اور آدھا ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ زندہ قومیں اپنے رہنماﺅں سے درس حاصل کرتی ہیں۔ انکے بتائے ہوئے راستے پر چلتی ہیں۔ جس سے ملک بہتری کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ افسوس۔ ہمارے ملک میں ایسا نہ ہوا۔ قائداعظم کی زندگی اور اسکا درس تو ہماری ایک ”کھلی کتاب“ ہے۔ اگر ان بنیادی باتوں کو اپنایا جاتا تو آج ہم ان حالات کا شکار نہ ہوتے۔ جو ”مایوسی کے اندھیرے“ ہیں۔ آخر ایک عام پاکستانی کا کیا قصور ہے۔ وہ محب الوطن ہے۔ سکون اور آزادی سے جینا چاہتا ہے۔ لیکن حالات نے سب راہیں تنگ کر دی ہیں۔
رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں جو بے چینی اس وقت ہے۔ وہ پوری قوم کےلئے باعث تشویش ہے۔ جس میں انکا کوئی قصور نہیں۔ وہاں کی پسماندگی، احساسِ محرومی افسوسناک ہے: جسکا ازالہ ہونا چاہئے۔ قائداعظم نے زندگی کے آخری دن بلوچستان میں گزارے۔ اسکا احساس بھی قوم کو ہے۔ اسوقت ملک میں جیسے بھی حالات ہیں لیکن جمہوریت ہے اس لئے اُن اقدار سے بلوچستان کے لوگوں کو انکے حقوق عزت اور وقار سے دینا چاہیے۔ حکومت کے سرکردہ لوگوں کو بلوچستان کے لوگوں کے پاس جانا چاہئے۔ سیاسی لوگوں کےلئے بھی اُنکے دکھ درد بانٹنا اہم ہے تاکہ انہیں احساس ہو کہ قوم اُنکے ساتھ ہے۔ ملک اُنکے ساتھ ہے۔ ملک انکا بھی اتنا ہی ہے جتنا باقی صوبوں کا ہے۔ اگر ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں تو انکا ازالہ ہو سکتا ہے۔ آخر وہ ہمارے بھائی ہیں۔ انکے زخموں پر مرہم رکھا گیا تو وہ اسی محب الوطنی کے جذبے سے سرشار مملکتِ پاکستان کا عظیم حصہ بنے رہیں گے اور کوئی بیرونی طاقت انکے ارادوں میں حائل نہیں ہو سکے گی لیکن اس میں تاخیر نہیں ہونا چاہئے۔ اب پانی سر سے گزر گیا ہے۔ اب مزید تاخیر کی قطعاً گنجائش نہیں۔ خدا نہ کرے وہاں مشرقی پاکستان جیسے حالات طول پکڑیں۔ جن سے ماضی میں ہم نے آدھا ملک کھو دیا تھا۔ وہاں بھی ”آزاد بلوچستان“ کے نعرے لگ رہے ہیں۔ جو بہت تشویشناک ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی جو روس کی نظرِکرم سے افغانستان میں انکے قبضے کے دوران اُنکی امداد سے ہی بنی تھی اور جسے بھارت نے بھی ہمیشہ نوازا ہے۔ اِسکے سربراہ آزاد بلوچستان کا نعرہ کئی بار لگا چکے ہیں۔ یہ لوگ کابل میں رہے ہیں لیکن وہاں کی حکومت اِسکا اقرار نہیں کرتی! وہ ناقابل یقین اور افسوسناک حالات ہیں۔ جو مشرقی پاکستان میں 1971ءمیں ہوئے۔ اللہ نہ کرے وہی کہانی پھر قوم کا مقدر بنے اس لئے یہ وقت کی اہم ضرروت ہے کہ بلوچستان پر راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس بلائی جائے اور حالات کا جائزہ لے کر وہاں کے حالات بہتر کئے جائیں۔ بلوچ محب الوطن اور ہمارے اپنے ہیں۔ انکے حقوق انہیں دینے چاہئیں۔ امن امان کی صورت بحال کی جائے تاکہ یہ افراتفری اور قومی رنجش ختم ہو۔ آجکل ملک میں جمہوری حکومت ہے اس لئے ضروری ہے کہ جمہوری اندازِ فکر اپنایا جائے اور بلوچستان اور وہاں کے غیور لوگوں کو محبت اور ایثار کے جذبے کےساتھ ملایا جائے۔
بدقسمتی سے سرحد میں اِن دنوں حالات بہت خراب ہیں۔ وہ بھی قوم کا المیہ ہے۔ لیکن ان حالات میں اور بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کی اہمیت اور سیاسی بدامنی کا ازالہ کیا جائے۔ ہمارے لیڈر وہاں جائیں۔ عوام کے نمائندوں سے ملیں۔ اُنکے زخموں پر مرہم رکھیں اور آئیں پاکستان کے شہری ہونے کی اہمیت کا بتائیں اور احساس دلوائیں کہ قوم اُنکے ساتھ ہے۔ تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ورنہ اللہ نہ کرے وہ ہمارے لئے تباہ کن ہو گی۔ بلوچستان میں بے شمار قدرتی وسائل ہیں۔ جنکا حصہ انہیں نہیں ملتا‘ اسکا ازالہ ہونا چاہئے تاکہ مملکت خداداد پاکستان سے اُن کی نسبت قائم رہے اور وہ کبھی علیحدگی کا نہ سوچیں۔ یہ تو ایک المیہ ہوگا۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ اس وقت ہماری جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ بلوچستان اور اُسکے صوبے کے رہنے والے پسماندہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرے اور انہیں انکے حقوق دیں! اور یہ تلخی ختم ہو۔ انہیں پاکستان سے محبت ہے اور یہ محبت ایک مثبت رویے اور حکومت کی بہتر پالیسی سے قائم رہ سکتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں