موجودہ سال کے متوقع بین الاقوامی خدوخال اور پاکستان

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ـ 27 جنوری ، 2012
یورپ کے قرضوں کا بحران اب مزید گھمبیر ہو چکا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ یورپ میں اب مالیاتی بم پھٹنے شروع ہو گئے ہیں۔ 13جنوری کو جب امریکی فنانشل مارکیٹ بند ہوئی تو 9یورپی ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ دھڑام کر کے ایسی گری کہ پورے یورپ کی مالیاتی منڈیوں میں تہلکا مچ گیا۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان ممالک میں فرانس اور آسٹریا جیسے بہت اہم ممالک بھی شامل ہیں جن کی کریڈٹ ریٹنگ AAA سے نیچے جا گری جب کسی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ گرتی ہے تو دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان کو اول تو قرضہ دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں یا پھر قرضے پر سود کی شرح کو بڑھا دیتے ہیں۔ جب ان ممالک کو قرضے نہیں ملتے یا مہنگے قرضے ملتے ہیں تو ان ممالک کے ترقیاتی منصوبے بند ہو جاتے ہیں بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ اس طرح مالی اور معاشی معاملات اور دگرگوں ہو جاتے ہیں کہا یہ جا رہا ہے کہ دنیا اب ایک زبردست گلوبل Double Dip ریسیشن میں داخل ہونےوالی ہے کریڈٹ ریٹنگ ماضی میں بھی گرتی رہی ہیں لیکن 13جنوری کو جو کچھ ہوا اسکی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی مثلاً فرانس اور آسٹریا کے علاوہ اٹلی، سپین، پرتگال، سائپرس، مالٹا، سلواکیا اور سلوانیا سمیت بہت سارے ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ کا گر جانا بہت غیر معمولی ہے۔
کچھ مغربی معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی موجودہ معیشت ساحل پر بنے ہوئے ریت کے گھروندے سے کم نہیں۔ 2008ءکی معاشی بدحالی کی پہلی لہر نے کئی ملین امریکیوں کو نہ صرف بے روزگار کیا بلکہ کروڑوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے اب معاشی بدحالی کا دوسری سونامی اس ساحل سمندر سے ٹکرا رہا ہے جس پر امریکہ اور یورپ کے ریت کے خستہ حال محل موجود ہیں۔ ایک ماہر معاشیات نے کہاکہ یعنی معاشی دیوالیہ پن اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ آتا ہے امریکی معاشی مشین یقیناً زوال کا شکار ہے۔ اب معاشی بدحالی کی اگلی لہر دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے اسکے بعد اور بہت سی لہریں بھی آئینگی اور امریکی معاشی نظام ایسے تباہ ہو گا کہ امریکی باشندے پہچان بھی نہ سکیں گے کہ یہ وہ امریکہ ہے جہاں ہم نے پرورش پائی تھی۔
Simon Blackلکھتا ہے کہ اب امریکہ سمیت مغربی ممالک اتنے مقروض ہو چکے ہیں کہ وہ یہ قرضے بالکل نہیں اتار سکتے۔ ایسی صورتحال میں جب آپکی GDPکا بڑا حصہ سود ادا کرنے پر صرف ہو جائے تو معاشی ترقی ممکن نہیں رہتی۔ بیمار معیشت کو سیاسی اور کچھ مالی ٹیکے لگانے سے کام نہیں چلتا۔ ایک ایسا بین الاقوامی نظام جس کا سارا دارومدار بے معنی کاغذی کرنسی پر ہو وہ ضرور ایک طویل مدت معاشی ڈپریشن کو جنم دیگا۔ اسکے ساتھ جب کسی ملک میں معاشی بدحالی آ جائے وہاں Civil Unrestکی تحریکیں بھی جنم لیتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں ماضی میں یہ عروج و زوال آتے رہے مثلاً 27قبل مسیح میں عظیم رومن ایمپائر کا زوال اس وقت شروع ہوا جب Augustus بادشاہ بن گیا اسکے بعد Tiberius، Claudius اور Neroکے ادوار میں صدیوں رومن سلطنت معاشی اعتبار سے سکڑتی رہی اور پانچویں صدی عیسوی میں جب رومن زوال پذیر ہوئے تو اس وقت آخری حکومت پچاس سالوں میں دنیا کے تاریخی شہر روم سے تقریباً 75فیصدی آبادی نقل مکانی کر چکی تھی مغربی تجزیہ نگار کےمطابق جس طرح رومن ایمپائر، سوویت یونین اور سلطنت عثمانیہ زوال پذیر ہوئے بالکل اسی طرح اب مغربی تہذیب کا زوال شروع ہو چکا ہے۔
2012ءکا سال بہت اہم ہے اس میں امریکہ، فرانس اور روس کے صدارتی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپ کا زوال بھی جاری رہے گا اور جیو پولٹیکل، جیو سٹرٹیجک اور جیو اکنامک ماحول اپنا رنگ مزید بدلے گا۔ مالی اور انسانی سرمائے کی مغرب سے مشرق کی طرف ہجرت جاری رہے گی۔
قارئین کرام آیئے اب دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر سال 2012ءمیں اور کونسے سٹرٹیجک مسائل قوموں کی برادری پر اپنے اثرات چھوڑیں گے۔
(1) پہلی بات تو یہ ہے کہ سال 2012ءمیں بھی دنیا معاشی بدحالی اور مالی مشکلات کے چنگل میں رہے گی‘ اس سال بھی امریکہ، یورپ اور جاپان کا معاشی مشکلات سے باہر آنا مشکل نظر آتا ہے۔ چین، ہندوستان اور برازیل کےلئے بھی مغربی معاشی مفکر 2012ءکے سال کو کوئی اچھا سال تصور نہیں کر رہے۔ چین کا یوآن ساری کوششوں کے باوجود گلوبل کرنسی نہیں بن سکے گا۔ مغربی دنیا کا غیر تسلی بخش Debt-to-GDPریشو ایک سب سے بڑا مسئلہ رہے گی۔ (2)2012 ءمیں دنیا کا ایک اور سٹرٹیجکلی بہت اہم مسئلہ توانائی کےلئے زبردست بین الاقوامی رسہ کشی رہیگا یہ تناو نہ صرف جاری رہے گا بلکہ یہ بڑھ جائیگا امریکہ جو پوری دنیا کی آبادی کا صرف 5فیصد ہے وہ دنیا کی 25 فیصد انرجی استعمال کرتا ہے۔ امریکہ روزانہ 20 ملین بیرل تیل استعمال کرتا ہے جس میں سے صرف 8ملین بیرل وہ خود پیدا کرتا ہے اور 12ملین بیرل تیل ہر روز اس کو درآمد کرنا پڑتا ہے۔ بیرونی انرجی پر اس کا انحصار جو پہلے 44فیصد تھا اب 64فیصد ہو گیا ہے۔ یہ تیل زیادہ تر خلیج فارس کی ریاستوں اور سعودی عرب سے آتا ہے۔ جہاں دنیا کے کل تیل کے ذخائر کا تقریباً دو تہائی موجود ہے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنےوالا ملک ہے جو ہر روز دس بلین بیرل تیل فروخت کرتا ہے۔ مسئلہ اب یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کو خوش کرنے کےلئے ایران کو کہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار نہ بناو اور ایران پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ اگر یہ پابندیاں حد سے بڑھیں تو ایران سٹریٹ آف ہرمز کو بند کردیگا۔ امریکہ کہتا ہے اس کا مطلب اعلان جنگ تصور کیا جائیگا۔ امریکہ افغانستان میں بھی اسلئے مار کھا رہا ہے کہ اسکی نظریں وسطی ایشیائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے ذخائر پر ہیں۔ یہ دنگل 2012ءمیں بھی جاری رہیگا چونکہ گلوبل انرجی کی مانگ دن بدن بڑھ رہی ہے۔ شمالی افریقہ، خلیج فارس اور گلف آف Guineaسے اگر یورپ کو تیل میں رکاوٹ آئی تو یورپ کا روس پر دارومدار بڑھ جائیگا۔ (3) مغربی تجزیہ نگاروں کےمطابق 2012ءامریکہ کی گلوبل سٹرٹیجک کریڈیبلٹی بہتر ہونے کے کوئی امکانات نہیں۔ معاشی مشکلات اور امریکہ کی اپنی رعونت اور غلط پالیسیاں بھی امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر نہیں ہونے دیں گی۔ (4) یورپ کی بدحالی کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جرمنی اور فرانس معاشی اور مالیاتی معاملات کو یورپین کرنسی زون سے الگ کر کے نہیں دیکھنا چاہتے۔ جس سے یورپ کو نقصان ہو رہا ہے‘ یہ صورتحال 201 2ءمیں برقرار رہےگی۔ (5) عرب سپرینگ کے طوفان میں اگر مصر، تیونس‘ لیبیا، یمن، بحرین اور شام میں اسلامسٹ آ گئے جیسے مصر میں اخوان المسلمین 47فیصد نشستیں جیت چکے ہیں۔ تو یہ بھی امریکہ کےلئے باعث پریشانی ہے کیونکہ یہ امریکی زوال میں تیزی لائے گا۔
(6) 2012ءمیں نائجیریا کی صورتحال بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ نائجیریا میں انرجی کے ذخائر ہیں، امریکہ اور یورپ ان ذخائر میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن نائجیریا میں مداخلت نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں زبردست تناو ہے۔ نائجیریا میں اگر خانہ جنگی چھڑی تو یہ بھی امریکہ اور مغرب کےلئے کوئی اچھی خبر نہ ہو گی۔ سال 2012ءکے متوقع غیر یقینی بین الاقوامی ماحول میں پاکستان کی ترجیح تو صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہی ہونی چاہئے۔
اس سلسلے میں میری دیانتدارانہ رائے میں ہماری حکمت عملی کچھ یوں ہونی چاہئے۔
(1) عدلیہ انتظامیہ کبڈی میچ کا فوری خاتمہ اور سول ملٹری تعلقات کو قومی مفاد میں ہر حالت میں تسلی بخش سطح پر لانا۔ اس سلسلے میں اہم ترین کردار سپریم کورٹ کا ہے جس کو دن رات کام کر کے NROاور میمو مقدمات کو آئین اور قانون کی روشنی میں جلد نمٹا دینا چاہئے چونکہ عدالت عظمٰیکی نظر میں چیف ایگزیکٹو بادی النظر میں دیانت دار نہیں رہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد افواج پاکستان کی وساطت سے کروایا جائے۔ جو فوری طور پر عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں عبوری حکومت بنائے اور فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائے اور قومی مفادات کےخلاف کام کرنے والوں کو ایسی سزائیں دی جائیں کہ انکی آنےوالی نسلیں بھی آئندہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو سودا نہ کر سکیں۔
(2) عبوری حکومت اور بعد میں آنےوالی مستقل حکومت فوری طور پر ہر روز کے تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کے نقصانات کو روکے، اداروں کی فنانشل ری سٹرکچرینگ کی جائے، ٹیکس کے نظام کو موثر بنایا جائے۔ ہنگامی بنیادوں پر مزید لوگ بیرون ملک بھیجے جائیں تا کہ وہ پاکستان کےلئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمائیں۔ نوٹ چھاپنے بند ہوں۔ ایران اور ترکمانستان سے مل کر انرجی کا فوری حل نکالا جائے۔ VIPکے موٹرکیڈ میں سکیورٹی کی صرف دو یا تین گاڑیوں سے زیادہ نہ ہوں۔ انگلستان کے وزیر اعظم ٹونی بلیر اور ملائشیا کے لیڈر مہاتیر محمد کے موٹر کیڈ میں راقم نے خود صرف ایک کار اور دو موٹر سائیکل دیکھے جو باری باری اگلے چوک پر جا کر صرف چند منٹوں کےلئے ٹریفک روکتے تا کہ VVIPگزر جائیں۔ سویٹرز لینڈ کے بینکوں سے ڈیڑھ ارب ڈالرز واپس پاکستان لا کر اور لیٹروں کی جائیدادیں اور شوگر ملز بیچ کر حاصل شدہ رقم سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہزاروں پرائمری سکول کھولے جائیں اور تعلیم کے فروغ کےلئے قائم کئے گئے اس سکول سسٹم کا نام افتخار محمد چودھری سکول سسٹم رکھا جائے تاکہ آنےوالی نسلیں صدیوں یہ نہ بھولیں کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے ایک مرد مجاہد نے لیٹروں کے جبڑوں سے پاکستان کا نوچا ہوا گوشت کیسے واپس چھینا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں