بھارت میں کرکٹ کا قتل… کیا سیاسی دہشتگردی ہے؟
ـ 27 جنوری ، 2010
رانا عبدالباقی (اسلام آباد)
ابھی پاکستانی سرکار کو میڈیا کے ذریعے دی جانے والی جنرل دیپک کپور کی بھرپور ایٹمی دھمکیوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ انتہا پسند ہندو تنظیموں کی منظم دہشت گردی کے باعث بھارت میں جاری بین الاقوامی کرکٹ سرکس کی نام نہاد نیلامی میں پاکستان کرکٹ کو ہی جنوبی ایشیا کے اِس اہم ایونٹ سے نکال باہر کیا گیا ہے ۔ انڈین پریمیئرلیگ کے تیسرے مرحلے سے پاکستانی کرکٹرز کا باہر کیا جانا خطے میں انتہاپسند ہندو عناصر کی شدت پسندی کو فروغ دینے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا ۔
میڈیا ذرائع کیمطابق انڈین پریمیئر لیگ کی نیلامی میں حصہ لینے والے بزنس ٹائیکون جن میں بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی شامل ہیں ، نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں پر بولی لگا کر اپنے گھر بار اور فیملی کو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ نے کا رِسک نہیں لے سکتے ۔ بھارت کی منظم ہندو شدت پسند تنظیمیں جن میں بجرنگ دل ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ، وشوا ہندو پریشد ، ہندو یونٹی اور شیو سینا شامل ہیں ، اِس سے قبل بھی پاکستان کرکٹ کی بھارت یاترا کے دوران دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کرکٹ پیچوں کو نقصان پہنچانے کے مرتکب بھی ہو چکے ہیں ۔
حیرانی کی بات ہے کہ حال ہی میں پاکستانی اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھارت کے حالیہ دورے کے بعد اپنے ذاتی تاثرات قلم بند کراتے ہوئے بھارت کے مختلف ریاستی اداروں میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کی خواہشات کا خاص طور پر تذکرہ کیا تھا ۔ اِس اَمر کی تائید بھارت اور پاکستان کے دو اہم اخبارات کی جانب سے اُمید کی آشا کے نام پر دونوں ملکوں میں اچھائی کی آواز پر لبیک کہنے والے افراد کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کے حوالے سے بھی محسوس ہونے لگا تھا لیکن بھارت میں کرکٹ کے قتل نے اِن تمام کوششوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے کیونکہ پاکستانی کرکٹروں کیساتھ اِس تضحیک آمیز سلوک کے بعد نہ صرف یہ کہ جنوبی ایشیا کے روائتی کھیل کبڈی کی ٹیم کا بھارت کا دورہ منسوخ ہوا ہے بلکہ بھارت میں ہندو انتہا پسند عناصر جنہیں بھارتی ریاستی اداروں میں موجود انتہا پسند عناصر کی حمایت حاصل ہے کی شدت پسندی روکنے میں بھارتی ریاستی ادروں کی ناکامی کے باعث پاکستان کے پارلیمانی وفد اور چیف الیکشن کمشنر کا دورہء بھارت بھی مبینہ طور پر منسوخ ہوا ہے ۔
ایک مقتدر بھارتی کرکٹر کپیل دیو جو انڈین پریمیئر لیگ کے مخالف گروپ میں شامل ہیں کے اِس موقف کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ بھارتی ریاستی ادارے انڈین کرکٹ سرکس میں منعقد ہونیوالی نیلامی میں بے حکمتی سے پُر اِس رُخ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے کیونکہ شیو سینا کے بال ٹھاکرے اور دیگر ہندو شدت پسند تنظیموں کے موجودہ ایڈیشن کی جانب سے پاکستانی اور آسٹریلین کرکٹرز کو دی جانیوالی دھمکیوں سے بھارتی ریاستی ادارے بخوبی واقف تھے۔ اِن اداروں نے آسٹریلین کرکٹرز کی نیلامی کو ممکن بنانے کیلئے تو یقینا اپنا کردار ادا کیا لیکن پاکستانی کرکٹرز کی نیلامی میں حصہ لینے والی شخصیتوں کو کسی قسم کی یقین دھانی کرانے سے بظاہر انکار ہی کیاگیا تھاجس کا تاثر نیلامی میں حصہ لینے والے بھارتی فلم سٹارز جن میں پریٹی زینٹا اورشاہ رخ خان وغیرہ شامل ہیں ، کے بیانات میں بھی ملتا ہے ۔
دراصل نائین الیون کے بعد سے ہی بھارتی ریاستی انتہا پسند پاکستان کیخلاف ایک تسلسل سے محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ 2002 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے پاکستانی حکومت پر دبائو کا حربہ استعمال کرتے ہوئے بھارتی پارلیمنٹ پر مبینہ حملوں کی آڑ میں پاکستانی سرحدوں پر بھارتی فوج تعینات کی جو گیارہ ماہ کے بعد بے معنی سمجھتے ہوئے واپس بلائی گئی کیونکہ بھارت چاغی ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے یہ جانتا تھا کہ پاکستان ایک موثر ایٹمی طاقت ہے اور کسی بھی کنونشنل جنگ کی صورت میں خطے میں ایٹمی جنگ کی نوبت آ سکتی ہے ۔ یہی حربہ پاکستان کیساتھ جامع مذاکرات کو ختم کرنے کیلئے ممبئی دہشت گردی میں اجمل قصاب کے مبینہ رول کے حوالے سے کیا گیا لیکن بھارتی عدالت میں اجمل قصاب کے ماضی کے تمام بیانات سے منحرف ہو نے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کی بجائے جنرل دیپک کپور کے دھمکی آمیز بیانات اور اب بھارت میں کرکٹ کو قتل کرکے دونوں ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کے ایک نئے چپٹر کی ابتدا کی گئی ہے جس کا بین الا اقوامی اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔
اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں موجود غیر ریاستی مذہبی انتہا پسندی کیخلاف تو بھارتی اور بین الاقوامی ادارے عرصہء دراز سے متحرک ہیں لیکن بھارتی انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیموں کیخلاف تاحال انسداد دہشت گردی کے کسی مربوط پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ بھارتی حکومت قانون ہونے کی باوجود ہندو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پادریوں ، گرجاگھروں کو جلانے کے علاوہ ادنیٰ کاسٹ کے ہندوئوں ، اچھوتوں اور مسلم و عیسائی اقلیتوں کیخلاف گھیرائو ، جلائو اور اقلیت کُش فسادات میں ملوث ہونے کے باوجود موثر اقدامات لینے سے گریز ہی کیا ہے ۔
اِس حقیقت کے روز روشن کی طرح عیاں ہونے کے باوجود کہ پاکستان خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہے، بھارت اجمل قصاب کی گواہی سے منحرف ہوجانے کے باوجود ممبئی دہشت گردی کا الزام تو پاکستان پر لگاتا ہے لیکن سمجھوتہ ایکپریس میں انتہا پسند ہندوئوں اور ریاستی فوج کے اہلکاروں کے ملوث ہونے پر کرنل پروہت اور دیگر دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے سے گریز کرتا ہے ۔ اندریں حالات ، بھارتی ریاستی اداروں میں ہندو انتہا پسندوں کے موثر لنکس ہونے کے باعث ہندو دہشت گردوں کیخلاف ایسے کسی بھی تادیبی اقدام کی توقع نہیں کی جاتی ہے لہذا کرکٹروں کی نیلامی میں حصہ لینے والی شخصیتیں بھی کسی شکایت کے بغیر ہی پاکستانی کرکٹرز سے تضحیک آمیز سلوک اپنانے پر مجبور ہو ئیں کیونکہ یہ ہائی پروفائل شخصیتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ سمجھوتہ ایکپریس میں پاکستانی مہمانوں کے خلاف ہندو دہشت گردوں کیخلاف آزادانہ تفتیش کرنے کے باعث ہی بھارت کے دو باضمیر ہندو افسروں ہیمنت کراکرے اور سالسکر کو بھی بخشا نہیں گیا تھا اور تفتیش کو غلط رُخ پر ڈالنے کیلئے اِنکے قتل کا الزام اجمل قصاب پر ڈال دیا گیا تھا لیکن اجمل قصاب کے مبینہ طور پر اپنے اِن بیانات سے منحرف ہو نے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہی ہے ؟
بھارتی ریاستی اداروں کو یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ دہشت گردی کے وقوعات کو چاہے کسی بھی ترازو میں تولا جائے ، دنیا بھر میں دہشت گردی کی مستند تعریف یہی ہے کہ دہشت گردی سے مراد سیاسی اغراض کے حصول کیلئے جان بوجھ کر منظم انداز میں بے گناہ لوگوںکو حالات کے شکنجے میں جکڑ کر ، یرغمال بنا کر ، ڈرا دھمکا کر ، قتل یا معذوری کی مثال بنا کر ارادی طور پر خوف و ہراس پھیلا کر اپنے ناجائز مقاصد حاصل کئے جائیں اور یہ کردار بھارتی ہندو انتہا پسنددہشت گردوں نے کرکٹ سرکس کی نیلامی میں بخوبی ادا کیا ہے ۔ درحقیقت ہندو دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا ہے اور جنوبی ایشیا کے خطے کو امن کا گہوارہ بنانے میں ہمیشہ ہی رکاوٹ بنی رہی ہیں ۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ جسے عرف عام میں RSS کے نام سے یاد کیا جاتا ہے نے سکھ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہی تاریخ کشمیر کے مسلم اکژیتی علاقوں میں دھرائی گئی لیکن اِن انتہا پسند ہندو دہشت گردوں کیخلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور آج بھی یہی انتہا پسند ہندو دہشت گرد دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے سیاسی عمل کو بے معنی بنائے ہوئے ہیں ۔
حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی ہی نہیں بلکہ کچھ باضمیر مغربی ادارے بھی ہندو دہشت گرد تنظیموں کیخلاف آواز اٹھانے میں پیش پیش ہیں ۔ مستند مغربی اداروں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ انتہا پسند دہشت گرد تنظیمیں دونوں ملکوں کو بے مقصد محاذ آرائی کی جانب ہنکا کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی جنگ کرانا چاہتے ہیں جو ایٹمی جنگ کی صورت میں دونوں ملکوں کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے لیکن آج کا بھارت ماضی کے سوویت یونین کا حاشیہ بردار نہیں ہے، اُسے اب دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کا دفاعی ، سیکیورٹی اور ایٹمی اتحادی ہونے کا اعزاز حاصل ہے لہذا اگر بھارت موجودہ تشویش ناک صورتحال میں بہتری لانے سے محروم ہے تو خطے میں موجود امریکی ارباب اختیار کو بھارت کا دفاعی اتحادی ہونے کے ناطے اچھائی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بھارت پر زور دینا چاہئیے کہ خطے میں ایٹمی جنگ کی باتیں یا کرکٹ کا قتل سیاسی دہشتگردی کے زمرے میں ہی آتا ہے جو خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر مسائل کا حل نہیں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں