’’تسلی بھی دیئے جاتے ہو دل بھی توڑے جاتے ہو‘‘ … (۱)

ـ 26 نومبر ، 2009
سردار محمد اسلم سکھیرا
اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ امریکہ مسٹر رابرٹ بلیک نے بدھ کو فرمایا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات سے تشویش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بھی امریکہ اہمیت دیتا ہے۔ واشنگٹن میں رابرٹ بلیک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بھی جوائنٹ سٹیٹمٹ جو امریکہ اور چین نے بیجنگ میں دی، پر تشویش ہے جس میں امریکہ نے چین کو بھی باور کرایا کہ پاکستان بھارت تعلقات بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے اور پاکستان کو روکے کہ پاکستان یا افغانستان کو دہشت گردی کا اڈہ نہیں بننا چاہئے۔
امریکہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور پاکستان اپنے تنازعات "Bilaterly" حل کریں اور امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ چین بھی اپنی رائے اس معاملہ میں دے اور پاکستان افغانستان کو بھی مشورہ دے جس طرح امریکہ بھارت کو دیتا ہے۔ مسٹر رابرٹ نے کہا چین بھی کافی Equeties افغانستان میں رکھتا ہے اسلئے اسکے استحکام کیلئے رول ادا کرے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ منموہن سنگھ کی امریکہ میں آمد کو پاکستان کس طرح لے جبکہ بھارت اور امریکہ ایسے اقدامات پر رضا مند ہونگے جس سے بھارت کو دنیا کی بڑی طاقت تسلیم کرانے کا موقع ملے ۔ یعنی جب امریکہ بھارت کو ’’World Power‘‘ تسلیم کرنے کے اقدامات کا اعلان کریگا تو پاکستان اسکو کیا سمجھے۔
اس پر جواب یہ دیا گیا کہ پاکستان کو امریکہ بھارت تعلقات بڑھانے سے تشویش نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی کوئی خطرہ محسوس کرنا چاہئے۔ پاکستان نے ایسٹرن بارڈر (یعنی بھارت) سے کچھ فوج ہٹا کر مغربی سرحدوں پر لگا دی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے لیکن ابھی پاکستان کو مزید فوج ایسٹرن بارڈر سے ہٹا کر مغربی بارڈر پر لانی چاہئے۔
مسٹر رابرٹ بلیک نے پاکستان کی سوات اور وزیرستان میں دہشت گردی ختم کرنے کے اقدامات کو سراہا لیکن ساتھ ہی بھارت کی بولی بولتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بمبئی حملہ کے ملزمان کی تفتیش کی تکمیل جلد کرنی چاہئے اور بمبئی حملہ کے ملزمان کو سزا دلوانی چاہئے۔
مزید براں حافظ سعید لشکر طیبہ کے لیڈر کیخلاف ایکشن لینا چاہئے۔ پاکستان کو چاہئے کہ اس کی زمین بھارت اور افغانستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئے اور جو لوگ بھارت یا امریکہ کیخلاف کارروائی کر سکتے ہیں ان کیخلاف پاکستان کو ایکشن لینا چاہئے۔ سوات‘ وزیرستان کے علاوہ مزید علاقوں پر بھی پاکستان کو کارروائی کرنی چاہئے۔
جب ان سے کہا گیا کہ بھارت جو افغانستان میں پاکستان کیخلاف رول ادا کر رہا ہے۔ اس کا جواب دینے کی بجائے مسٹر رابرٹ نے کہا کہ امریکہ بھارت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو رول بھارت افغانستان کو مستحکم کرنے کیلئے کر رہا ہے ہلیری کلنٹن نے بھی فرمایا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کی پناہ گاہیں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
امریکہ بھارت کو دنیا کی بڑی طاقت بنانے کے درپے ہے اور ہر وہ چیز جس سے بھارت کو دنیا کی بڑی طاقت بنانے میں مدد ملے وہ کرنے کیلئے تیار ہے خواہ اس کا نقصان پاکستان کو ہو۔ بھارت نے روس سے 7 ارب کا اسلحہ خریدا ہے۔
حال ہی میں اسرائیل سے بھی 7 ارب کا ریڈار مکمل سسٹم خریدا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ کل ایٹمی تعاون کرنے کا معاہدہ کیا ہے تمام نیو کلیئر پاور سے نیوکلیئر سامان خرید سکتا ہے۔ بھارت کو جہاز اینٹی ٹینک اینٹی میزائل سسٹم دیا جا رہا ہے لیکن پاکستان کے ایٹمی آرسنل کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیو پر ایک پروگرام میں امریکن جرنلسٹ کو پیش کیا گیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ PIA پرواز کے ذریعہ 200 ٹرینڈ بلیک واٹر کے آدمی پاکستان کا نیوکلیئر آرسنل اٹھانے کیلئے دوبئی پہنچائے گئے اور بعد میں انکشاف کیا کہ وہ لوگ امریکن ایمبیسی اسلام آباد میں پہنچ چکے ہیں۔
وزیر داخلہ نے انکار کیا ہے لیکن امریکن جرنلسٹ کے جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ماسوائے منور حسن اور انکی پارٹی کے اشخاص کے کسی پاکستانی لیڈر خواہ گورنمنٹ میں ہو خواہ اپوزیشن میں ہو کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ ملک کی تباہی کے سامان کئے جا رہے ہیں اور نیرو بانسری بجا رہے ہیں، ہمارے لیڈروں کو ذاتی حفاظت سے ہی فرصت نہیں۔ کسی کو 17ویں ترمیم کو ختم کرنے کی فکر لاحق ہے کسی کو گورنمنٹ کو غیر مستحکم کرنے کی فکر لاحق ہے کوئی مائنس ون فارمولے کے چکر میں ہے، کوئی مائنس ٹو فارمولے کے چکر میں ہے۔
حال ہی میں ’’BHUMITRA CHAKMA‘‘ نے ’’PAKISTAN`S NUCLEAR WEAPONS‘‘ کے نام سے کتاب شائع کی ہے۔ اس میں پاکستان کے شروع سے لیکر نیوکلیئر پروگرام کی ہسٹری دی ہوئی ہے۔ جس کے مطابق پاکستان کے پاس 60 سے 120 تک نیوکلیئر بم ہیں۔ اس نے پاکستان کی نیوکلیئر پالیسی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان فسٹ نیوکلیئر آپشن پر کاربند ہے لیکن امریکہ اور دنیا کی طاقتوں کو چاہئے کہ پاکستان کو فسٹ نیوکلیئر آپشن سے محروم کر دے۔
یہ بہانا بنا کر اب امریکہ اسرائیل بھارت کے ایما پر پاکستان سے آرسنل چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے ناردرن ایریا میں زیر زمین بم چلا گیا جس سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، 300 سے 400 سنٹری فیوجز مشینیں خراب کی گئیں، حال میں بھونچال کے ایکسپرٹ نے بیان دیا کہ وہ بھونچال حقیقت میں اصلی نہ تھا کیونکہ ایک بھونچال کے بعد دوسرا بھونچال 24 گھنٹے میں نہیں آسکتا اسی دوران CENTCOM کے ٹرینڈ آرمی میڈیکل کور بنا کر بھیجے گئے اس امر کا انکشاف امریکن سیکرٹ وار میں جارج فریڈمین نے کیا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پاکستان میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔
ہر پولیٹیکل اہم شخص کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ صدر‘ وزیراعظم‘ اپوزیشن لیڈر‘ ق لیگ کے لیڈروں کیخلاف کردار کشی کی مہم اخبارات اور ٹی وی چینل پر پیش کی جا رہی ہیں تاکہ ان لیڈروں کو ملک بچانے کی بجائے ذات کے بچانے کی فکر لاحق ہو، کبھی مائنس ون فارمولا پیش کیا جا رہا ہے اور کبھی مائنس ٹو فارمولا کی تشہیر اخبارات اور ٹی وی چینل سے کرائی جا رہی ہے۔ جب یہ سب لوگ اپنے دفاع کی سکیموں میں لگے ہوئے ہیں بلیک واٹر تنظیم کے افراد کو پاکستان میں انتشار پھیلانے پاکستان میں لایا جا رہا ہے۔
پولیس ٹریننگ سہالہ میں ان لوگوں کو ٹرینڈ کرنے کی بھی اجازت دی ہوئی ہے اور کہوٹہ سے چند کلومیٹر ان کو رہائش کیلئے جگہ دی ہوئی ہے۔ اسلام آباد اور پشاور میں سینکڑوں گھر انکی رہائش گاہوں کیلئے کرایہ پر لئے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکن جرنلسٹ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کا ایٹمی اسلحہ اٹھانے کیلئے 200 بلیک واٹر تنظیم کے ٹرینڈ اشخاص پی آئی اے کے ذریعے پہلے دبئی میں پہنچائے گئے اور بعد میں اسلام آباد پہنچائے گئے جو امریکن ایمبیسی میں قیام پذیر ہیں۔ گو وزیر داخلہ نے اسکی تردید کی لیکن امریکن جرنلسٹ کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔
میرے خیال میں جو GHQ پر حملہ کیا گیا وہ ایک سازش تھی اور ان کا خیال تھا کہ اہم ملٹری جنرل کو پکڑ لیا جائیگا اور پاکستان میں طوفان آ جائیگا لیکن جب یہ ڈرامہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تو انہوں نے مشہور کر دیا کہ اطلاع غلط تھی۔ پہلی کہانی کیمطابق اٹامک آرسنل اٹھانے والے لوگ دوبئی رک گئے لیکن اس کہانی کے auther جب میرے مطابق پروگرام میں پہنچے تو انہوں نے بتایا یہ عملہ اسلام آباد پہنچ چکا ہے اس کے علاوہ رات کی تاریکی میں امریکن جہاز اسلحہ بارود لیکر اسلام آباد پہنچتے رہے لیکن ان کو چیک کرنے کی اجازت نہ تھی۔
حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بلیک واٹر تنظیم کے اشخاص ملوث ہیں آج بھی ایک ایم این اے ٹی وی چینل پر کہہ رہے تھے کہ کوئی مسلمان مسلمان کو اس طرح بے دردی سے نہیں مار سکتا دیگر مسجدوں کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔ یہ سب بلیک واٹر کی تنظیم کی کارروائی ہے۔
دوسرے ایم این اے نے جواب دیا کہ آخر حملہ آور تو بیرونی ملک کے ہی ہیں وہ تو یہاں کے لوگ نہیں ہیں البتہ بلیک واٹر تنظیم موجود ہے جو پاکستان کا ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کی غرض سے کارروائی کر رہے ہیں۔ قوم حیران ہے کہ آخر پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن ان معاملات کا نوٹس کیوں نہیں لیتی اور اس کو ایشو بنا کر پارلیمنٹ میں دو ٹوک الفاظ میں ان حکومتوں کو باز رکھنے کے اقدامات کیوں نہیں کرتے۔
آرمی نے سوات اور وزیرستان میں کامیاب آپریشن کئے ہیں لیکن ہمارے اتحادی کیا کردار ادا کر رہے ہیں، افغانستان بارڈر سے 6 چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان جو افغانستان میں ہیں‘ وہ پاکستان میں داخل ہو سکیں اور پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے القاعدہ طالبان کے جو پاکستان میں اڈے ہیں‘ ان کو ختم کیا جائے جب بیت اللہ محسود کے ٹھکانوں کو پاکستان فوج مسمار کر چکی ہے تو پیچھے سے افغانستان بارڈر سے پاکستان فوج پر بھارت کے ٹرینڈ شدہ لوگوں حملہ آور ہو کر کافی پاکستان کی فوج کا جانی نقصان کیا ہے۔
کیا ہمارے اہل اقتدار ہمارے اتحادی امریکہ سے نہیں پوچھ سکتے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان کو تو کہا جا رہا ہے پاکستان سے کوئی طالبان افغانستان میں داخل نہ ہوں لیکن افغانستان سے بھارتی تنخواہ دار ٹرینڈ درندے پاکستانی فوج پر پیچھے سے حملے کر رہے ہیں۔
مسٹر رابرٹ‘ ہالبروک‘ مولن اور ہلیری کلنٹن کو یہ بات واضح نہیں کی جا رہی کہ دوستی کے روپ میں یہ دشمنی کیوں ہو رہی ہے۔ ایک علاقہ مکمل طور پر کنٹرول میں نہیں آتا دوسرے علاقہ پر حملہ کرنے کی تجویز دے دی جاتی ہے۔
’’DO MORE‘‘ کا لفظ ایک وطیرہ بن گیا ہے۔ جب امریکن‘ القاعدہ اور طالبان سے افغانستان میں بات پر آمادہ ہیں اور خفیہ بات چیت ہو بھی رہی ہے تو پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی سوچنا چاہئے۔ (جاری ہے)
افغانستان میں جنگ امریکہ نے حملہ کر کے شروع کی تھی اب اس جنگ کو پاکستان میں دھکیلا جا رہا ہے تو اس اجتناب کا راستہ ہم کیوں اختیار نہیں کر سکتے۔ اصل جھگڑا یہ تھا کہ افغانستان میں غیر ملکیوں کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ پاکستان اگر پاکستان کے طالبان یا القاعدہ کے لوگوں کو افغانستان میں جنگ میں حصہ لینے سے نہ روکے تو پاکستان کے ساتھ تو ان کا کوئی جھگڑا نہیں۔ بات بڑی آسان سی ہے پاکستان کے پالیسی ساز یہ نقطہ سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔
بھارت نے بلوچستان، وزیرستان میں دخل اندازی کر رہے ہیں کل ہی شہباز شریف صاحب نے برملا کہا کہ بلوچستان میں تخریب کاری بھارت کروا رہا ہے اور ہر طرح مال‘ اسلحہ ٹرینڈ دہشت گردوں کو دے رہا ہے۔ ہمارا اتحادی امریکہ کیسے کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ بھارت نے 7 ارب کا اسلحہ روس سے خریدا ہے۔ امریکہ سے ہر قسم کا اسلحہ خرید رہا ہے۔ مکمل رڈار سسٹم 7 ارب کا بھارت نے اسرائیل سے خریدا ہے وہ اسلحہ کے انبار کس لئے لگا رہا ہے۔ اٹامک سب میرین روس سے بھارت نے خرید لی ہیں کیا بھارت چین سے لڑیگا، ہر گز نہیں یہ سب پاکستان کیخلاف استعمال کیا جائے گا۔ ان حالات میں امریکن رہنمائوں کا کہنا کہ بھارت سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، غیر معقول بات ہے۔ ہاں امریکہ کا یہ اقدام کے چین بھی اس مسئلے میں مداخلت کرے اچھا اقدام ہے جس پر بھارت امریکہ سے نالاں ہے۔ امریکہ کی جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنا کرین انصاف تھیں۔ پاکستان میں تخریب کاری بھارت‘ اسرائیل اور امریکہ کرا رہا ہے۔ ہمیں ملکی سالمیت کیلئے پالیسی بنانی چاہئے اور ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہم نے صرف بھارتی ایجنٹوں کرائے کے ٹٹووں کا مقابلہ کرنا ہے اس کے لئے ہمیں امریکہ کو بتا دینا چاہئے کہ اگر افغانستان سے بھارتی ٹرینڈ لوگ پاکستان میں داخل ہونے بند نہ کئے گئے تو ہم بھی پاکستان سے افغانستان جانے والوں کو نہیں روک سکتے۔ افغانستان میں کوئی اسلحہ پاکستان سے گزرنے کی اجازت پاکستان امریکہ کو نہیں دیگا۔
کیری لوگر بل اس لئے امریکن کانگرس میں لایا گیا کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے ہیں۔ اول تو 1.5 بلین ڈالر سے پاکستان کا جانی مالی نقصان کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ 75 ارب کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو خرچ ہو رہا ہے لیکن اگر جملہ خرچ شامل کئے جائیں تو اس سے بھی بڑھ کر خرچ ہوگا اور جانی نقصان کی تو قیمت ادا ہی نہیں کی جا سکتی۔ ہلیری کلنٹن کا یہ کہنا کہ اگر لینا ہے تو لو اگر نہیں لینا تو امریکہ مجبور نہیں کریگا۔ ان کی بات سے غالب کا یہ شعر دماغ میں آگیا ہے
وہ نہیں وفا پرست جائو وہ بے وفا سہی
جس کے ہو دین و دل عزیز گلی میں جائے کیوں
بات تو درست ہے لیکن جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کیلئے کیا جا رہا ہے تو پہلے تو پاکستان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم دہشت گرد ہیں وہ ہم تسلیم کیوں کریں۔ دوسرے یہ رقم ملنے کی شرط ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملک یعنی بھارت کیخلاف اپنی سرزمین میں کسی کو انکے خلاف اقدام کرنے کی اجازت دیگا، اگر امریکہ بھارت کے ساتھ جو معاہدہ اٹامک انرجی کا کر رہا ہے اس میں اگر یہ شرط ہوتی کہ بھارت پاکستان کے علاقے بلوچستان وزیرستان فاٹا، سوات اور مزید پاکستان میں تخریب کاری کیلئے ٹرینڈ لوگ کر کے پاستان میں تخریب کاری کیلئے نہیں بھیجے گا تو ہم سمجھتے ہیں کہ واقعی امریکہ ہمارا اتحادی ہے جب پاکستان میں جو بھارت کرا رہا ہے اور جو کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے اس کے روکنے کی بجائے خاموش رہے تو کیا اتحاد امریکہ سے ہو سکتا ہے۔ اس طرح فوج میں ترقیوں کا امریکہ کو کیا فکر ہے پہلے بھی آرمی چیف پروموشن کرتا ہے اور منظوری پرائم منسٹر اور صدر ہی دیتے ہیں یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس میں امریکہ کو ٹانگ اٹکانے کی کیا ضرورت ہے۔ کیری لوگر بل میں یہ بھی شرط ہے کہ امریکن پیسہ سے خریدا ہوا سامان بھارت کیخلاف استعمال نہیں ہوگا۔ کیا روس‘ اسرائیل‘ امریکہ نے بھارت کو بھی کہا کہ جو جنگی سامان بھارت خرید رہا ہے وہ پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگا۔ رہا یہ کہ کیری لوگر بل میں پریذیڈنٹ کے کہنے پر ہلیری کلنٹن سے سرٹیفکیٹ لیا جائیگا وہ امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان کا اس سے کیا تعلق۔ تو پرنسپلر ترمیم میں کیا ہوا تھا ہمارے سامنے ہے۔ جب افغانستان سے روس کی پسپائی ہوگئی تو امریکہ افغانستان سے نکل گیا۔ افغانی اور پاکستانیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر اور پاکستان بھی ایٹمی اسلحہ بنانے کی بنا پر Samction بھی لگا دی گئیں۔ جب پاکستان تو ایٹمی اسلحہ بنانے پر خرچ کرنے کی پابندی ہے تو کینیڈا نے بھارت سے اسی بارے میں معاہدہ کر لیا ہے اور امریکہ بھی بھارت کو ایٹمی اسلحہ دینے کا معاہدہ آخری مرحلہ میں ہے تو پھر پاکستان پر پابندی کیوں۔ کیری لوگر بل میں آرمی اور سیاسی قیادت کو لڑانے کی کوشش کی گئی ہے جو قابل نرحت ہے۔ ترین صاحب نے ایک بیان دیا تھا کہ 3 ارب ڈالر امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کو دیئے ہیں لیکن پاکستان کو تو صرف 97 کروڑ ڈالر ملے ہیں۔ اگر یہی ایشو ہے تو 1.5 بلین کی بجائے 30/40 کروڑ پاکستان کو ملیں گے کیا اتنی رقم کیلئے پاکستانی اپنی آزادی امریکہ کے حوالے کر دینی چاہئے۔ امریکہ جو بھی اقدام کرتا ہے اس میں بھارت کا نقطہ نظر سامنے رکھتے ہوئے انکے تحفظ کی بات کرتا ہے جب ہم سیٹو سینٹو کے ممبر تھے اور ہمارے ساتھ امریکہ کا معاہدہ تھا کہ پاکستان پر حملہ کی صورت میں امریکہ ہماری مدد کریگا تو 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ تو کمیونسٹ کے ساتھ جنگ کیلئے تھا اور ہماری امداد بھی بند کر دی۔ 1971ء میں جب بھارت نے ایسٹ پاکستان پر حملہ کیا تو نکسن ساتویں پڑے کی آمد کہتے رہے اور وہ نہ پہنچا اور بالآخر ایسٹ پاکستان کو بھارتی جارحیت سے پاکستان سے الگ کر دیا گیا۔ بعد میں ہنری کسچر نے ایک مضمون میں اعتراف کیا کہ ایسٹ پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے میں امریکہ اعانت حاصل تھی۔ جب افغانستان میں روس کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بحر ہند کی بندرگاہ کو بچانے کیلئے امریکہ کی مدد کی روس نے پسپائی اختیار کی تو امریکہ نے پاکستان کو بے یارومددگار چھوڑا ہی نہیں بلکہ ایٹمی اسلحہ بنانے کی بنا پر Samction بھی لگا دیں۔ میں حیران ہوں جب امریکہ کا یہ پاکستان کے متعلق ’’Track Recnt‘‘ ہے تو پاکستان امریکہ پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے۔ اہل اقتدار اور اپوزیشن کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنا چھوڑ دیں۔ حافظ سعید اور ان کی تنظیم باقی تنظیمیں جو کشمیر کی آزادی کیلئے کام کر رہی ہیں ان کو کام کرنے سے نہ روکا جائے۔ طالبان کیساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں۔ کوئی مسلمان مسلمان کی جان نہیں لے سکتا۔ مسجدوں کو مسمار کرنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں۔ چین‘ ایران‘ ترکی‘ افغانستان مل کر ایک بلاک بنا لیں اور ہندوئوں کی آقائوں کی چالوں میں نہ آئیں۔ بلیک واٹر تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہ دیں۔ امریکن ایمبیسی میں جو بھی شخص ہو پاکستان سے ویزا لیکر رہے اور ڈپلومیٹک اصولوں پر سختی سے پابندی کی جائے۔
امریکہ کو باور کرایا جائے کہ بھارت پاکستان کے علاقوں میں تخریب کاری کر رہا ہے جب تک بھارت کی گود میں امریکہ ہے پاکستان اس کا اتحادی نہیں ہو سکتا۔
رات کو مے پیئے ساتھ رقص کو لئے
آئے وہ یہاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں