انتخابی فہرستیں اور چیف الیکشن کمشنر
رانا عبدالباقی ـ 26 جنوری ، 2012
قارئین کرام ، دنیا بھر میں جمہوریتیں شفاف اور دیانتدارانہ جمہوری عمل کو ممکن بنانے کےلئے آئینی اور قانونی اختیارات کی حامل غیرجانبدارانہ انتخابی اتھارٹی قائم کرتی ہیں تاکہ ایسی غیر جانبدار انتخابی مشینری اپنے آئینی و قانونی فرائض کو حکومتی اثر و رسوخ ، روک ٹوک اور حکمرانوں کی صوابدید سے ماوراءہو کر آزادانہ انتخابی عمل کوعوامی رائے عامہ کی روشن قندیل بنا دیں ۔ لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں جمہوری رائے کو شفاف بنانے کے اِس اہم کام میں خود انتخابی اتھارٹی ہی اکثر و بیشتر رکاوٹ کا باعث بنتی رہی ہے ۔ اِسی بے معنی فکر کا ایک مظاہرہ گذشتہ دنوں بھی دیکھنے میں آیا جب عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو غلط انتخابی فہرستوں پر ضمنی انتخابات کرانے سے روک دیا ۔ حیرت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) حامد مرزا نے اِن انتخابی فہرستوں کی درستگی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کی جانب سے متعدد بار توجہ دلاﺅ نوٹس کے باوجود اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی پوری کرنے کے بجائے یہ تاثر دیتے ہوئے کہ عدالت عظمیٰ کا حکم غیر آئینی اور الیکشن کمیشن کے خود مختار آئینی ادارے میں مداخلت کے مترادف ہے ، ناقابل فہم موقف اختیار کیا ہے ۔
کیا عوام الناس چیف الیکشن کمشنر سے یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ جناب 2008 کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک آپ بوگس انتخابی فہرستوں کی درستگی نہ کرکے کونسا آئینی و قانونی سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جائے کہ2008 کی اِن انتخابی فہرستوں میں تین کروڑ سے زیادہ بوگس ووٹوں کے اندراج اور تقریباً ڈھائی کروڑ جائز ووٹوں کو اندراج سے محروم کرنے کا کیا اخلاقی اور قانونی جواز تھا ۔ جناب محترم چیف الیکشن کمشنر صاحب ، پاکستانی عوام یہی سوال کرتے ہیں کہ اگر آپ آج اِس اہم منصب پر فائز ہیں تو آپ کب تک اِن بوگس انتخابی فہرستوں پر ہی بوگس انتخاب کراتے رہے گے ؟
جناب عالی! کیا اِن انتخابی فہرستوں میں پائی جانےوالی اِس غیر معمولی بدعنوانی کے ذمہ داران کا تعین کرنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اِس آئینی ذمہ داری سے غفلت کا ذمہ دار کون ہے ؟ جناب عالی ، مقتدر میڈیا ذرائع کےمطابق کیا آپ کا کہنا ہے کہ ہم چیختے رہے کہ 23 فروری تک فہرستیں نہیں بن سکتی مگر ہماری ایک نہیں سنی گئی اور اگر سیاسی جماعتیں اکتوبر 2012 میں الیکشن پرمتفق ہیں تو عدالت عظمیٰ کو کیا جلدی ہے اور زیادہ اصرار ہوا تو ابتدائی فہرستوں کو ہی حتمی قرار دےدیا جائیگا بھی انتہائی ناقابل فہم ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کو آئینی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے کسی بھی وقت اور ہمیشہ ہی 90 دن کے نوٹس پر عام انتخابات کے تیار ہونا چاہیے چنانچہ سول سوسائیٹی اور عوامی حلقے اِس اَمر پر واقعی حیران پریشان ہیں کہ حساس عدالتی امور سے باخبر اور ایک آئینی منصب پر فائز اہم شخصیت کو اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے احکامات کو سیاسی رنگ دینے کی ضرورت کیوں درپیش آئی ہے؟ کیا آئین کے آرٹیکل 219 (a) میں یہ نہیں کہا گیا :
"The (Commission) shall be charged with the duty of- (a) preparing electoral rolls for election to the National Assembly and the Provincial Assemblies, and revising such rolls annually;"
اور کیا آئین کے آرٹیکل 222 (c) کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے اور یقینا اِس کام کو سرانجام دینے کےلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک ناتواں ادارہ نہیں ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 220 میں وضاحت سے کہا گیا ہے :
"It shall be the duty of all executive authorities in the Federation and in the Provinces to assist the Commissioner and the Election Commisson in the discharge of his or their functions."
قارئین کرام ، مندرجہ بالا آئینی اور قانونی تناظر میں درست انتخابی فہرستوں کی تیاری ، انتخابی حلقوں کا تعین اور سالانہ بنیاد پر اِن انتخابی فہرستوں کے revise کئے جانے سے چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کا تعین بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ ، اگر کوئی آئینی ادارہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے تو یہ عدالت عظمیٰ کی بھی آئینی ذمہ داری ہے کہ ایسے اداروں کو خوابِ غفلت سے جگایا جائے تاکہ بوگس الیکشن کے ذریعے عوام کے جائز حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالا جا سکے ۔ اندریں حالات ، اہم سوال یہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے ماضی کی بوگس انتخابی فہرستوں کو درست کرنے کےلئے اتنے برس گزرنے کے باوجود ابھی تک کیا کیا ہے ؟ کیا چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بوگس انتخابی فہرستوں کی موجودگی میں بدعنوانی سے پاک شفاف انتخابات کرانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیا وہ اِس طرز عمل سے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں ؟
چنانچہ چیف الیکشن کمشنر کو کسی متنازعہ بحث میں اُلجھنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کےلئے استعمال کرنا چاہیے جسے آئین کے آرٹیکل 218(3) میں یوں بیان کیا گیا ہے :
"It shall be the duty of the Election Commission constituted in relation to an election to organize and conduct the election and to make such arrangements as are necessary to ensure that the election is conducted honestly, justly, fairly and in accordance with law, and that corrupt practices are guarded against."
صد افسوس کہ عوام کے رائے کو فوقیت دینے کے بجائے ملک میں ہونےوالے بیشتر انتخابات ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کے علم برداروں ، جاگیرداروں و سرمایہ داروںکی سیاسی چالاکیوں اور corrupt practices کی نذر ہی ہوتے رہے ہیں ۔ چنانچہ حکمرانوں اور اُنکے چہیتوں کی خواہشات پر گذشتہ انتخابات میں نادرا اور الیکشن کمیشن کی ساحری نے بوگس انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر جس نام نہاد انتخابی کارگزاری کا مظاہرہ کیا تھا ، اُس کی ایک جھلک عوامی حلقے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ تعجب کی بات ہے کہ آمریت کے خاتمے پر بھی نہ ہی موجودہ حکومت اور نہ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان عوامی رِٹ کی بحالی کےلئے ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کو ممکن بنا سکا ہے جس کا قومی احساس کرتے ہوئے اگر چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیا ہے تو اِس پر بھی حکمرانوں اور اُنکے ایجنٹوں کی اَبرو پر شکنیں نظر آنے لگی ہیں ۔
قارئین کرام! یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ مبینہ طور پر حکمرانوں کی جنبش اَبرو پر ہی بیوروکریسی کے خفیہ ہاتھ الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ اِن انتخابی حربوں میں بالخصوص الیکشن کے آخری دنوں میں delimitation of constituencies میں کی جانےوالی تبدیلیاں ہی مبینہ طور پر انتخابی ہیر پھیر کو جنم دینے میں پیش پیش رہی ہیں ‘چنانچہ بوگس انتخابی فہرستوں اور گھوسٹ پولنگ اسٹیشن کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونا ایک ایسا طریقہ واردات بن چکا ہے جس کا قلع قمع کئے بغیر ملک میں شفاف انتخاات کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا ۔ چنانچہ ، انتخابی ہیر پھیر کو ختم کرنے کےلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمہوری ملکوں میں ہونےوالے انتخابا ت سے ہی سبق حاصل کرنا چاہئے جہاں انتخابی عمل کو ہمہ وقت تیار رکھنے کےلئے انتخابی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کو تسلسل کےساتھ اَپ ڈیٹ رکھا جاتا ہے اور انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد انتخابی حلقہ بندیوں میں کسی عذرداری کو تسلیم نہیں کیا جاتااور نہ ہی آخری وقت پر نئے پولنگ اسٹیشنز کا اجراءکیا جاتا ہے چنانچہ اِس طریقہءکار کے سبب کسی بھی حلقہءانتخاب میں گھوسٹ پولنگ اسٹیشن کی گنجائش نہیں رہتی ۔ الیکشن کمشنر کو محسوس کرنا چاہیے کہ دنیا بھر میں جمہوریتوں میں مڈ ٹرم الیکشن کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں، پاکستانی آئین میں بھی وزیراعظم پاکستان یا صوبائی وزراءاعلیٰ کسی وقت بھی اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کرانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ چنانچہ چیف الیکشن کمشنر کا یہ انتہائی متنازعہ بیان کہ سیاس جماعتیں اکتوبر میں نئے انتخابات کی بات کر رہی ہیں تو سپریم کورٹ کو انتخابی فہرستوں کی تیاری کی کیا جلدی ہے ، الیکشن کمیشن کو آئین میں تفویض کی گئی آئینی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کے مترادف ہے۔ چنانچہ چیف الیکشن کمشنر کے اِس متنازعہ بیان کے باعث عوامی حلقوں میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بہت سے خدشات کا اظہار کیا جا رہاہے جس کی بروقت وضاحت کی جانی ضروری ہے بصورت دیگر عدالت عظمیٰ کو الیکشن کمیشن کی اِس آئینی غفلت کا نوٹس بھی لینا چاہیے ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں