کیا صدر زرداری کامیاب سیاستدان ہیں ؟

رانا عبدالباقی ـ 25 نومبر ، 2009
جنوبی ایشیا میں مملکت پاکستان ایک تحفہء خداوندی ہے جس کیلئے برّصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میںقومی یکجہتی کو ممکن بناتے ہوئے تاریخی جدوجہد کی اور مملکت خداداد پاکستان دنیا کے نقشے پر ظہور پزیر ہوئی لیکن طالع آزما حکمرانوں نے قومی یکجہتی کے حوالے سے قائد کے افکار پر قرار واقعی توجہ مرکوز نہیں کی اور باہمی خلفشار کی سز ا سقوط ڈھاکہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جس سے ہم آج بھی سبق لینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے قومی جمود کو توڑنے اور قوم میں اعتماد کی فضا بحال کرنے اور بھارت کے مقابلے میں ایک مضبوط پاکستان کی تشکیل میں نمایاں حصہ لیا ۔ اِس اَمر سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو صاحب کی سیاسی جدوجہد نے ملکی سطح پر پیپلز پارٹی کی شکل میں گہرے اثرات مرتب کئے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اِسی ہمہ گیر عوامی شخصیت کی وارث ہونے کے ناطے عوامی حمایت سے دو مرتبہ وزیراعظم پاکستان کے مرتبے پر فائز رہیں۔ عوامی سطح پر اُنہیں ملک میں آمریت کیخلاف جدوجہد کی نشانی کے طور پر ہی یاد رکھا جائیگا کیونکہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی آمریت سے چھٹکارہ حاصل کرنے اور پاکستان میں جمہوریت کے احیاء کیلئے بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کیساتھ ساتھ نہ صرف جنرل پرویز مشرف سے سیاسی ڈائیلاگ کی ابتدا کی بلکہ ماضی میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے درمیان سیاسی کشیدگی کو اعتدال کے دائرے میں لانے اور سیاسی اختلافات کو جمہوری اصولوں کی روشنی میں طے کرنے کیلئے میثاق جمہوریت کے وسیع تر معاہدے پر بھی دستخط کئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نوازشریف کی وطن واپسی الیکشن 2007-08ء کے حوالے سے ممکن ہوئی لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے فوراً بعد کراچی میں پیش آنے والے دلخراش واقعات اور پارٹی کارکنوں و عوامی رابطے سے اُنہیں حاصل ہونیوالی input کے بعد نہ صرف محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی حکمت عملی کو عوامی آواز سے ہم آہنگ کیا بلکہ اس وقت غیرفعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہی پاکستان کا اصلی چیف جسٹس قرار دیا اور مشرف کے 3 نومبر کے اقدامات کو پاکستان ہی نہیںبلکہ تمام مسلم دنیا کی امنگوں کیلئے سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے مشرف کیساتھ مفاہمت کے عمل کو بے معنی بنا دیا تھا ۔
بہرحال سیاسی دہشت گردی کے ایک المناک واقعہ میں لیاقت باغ کے جلسہ عام میں محترمہ کی شہادت کے بعد اُن کے شوہر ہونے کے ناطے نہ صرف آصف علی زرداری کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ابھرنے کا موقع ملا بلکہ وہ صدر مملکت کے منصب پر بھی فائز ہوگئے لیکن کیا پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ذوالفقار علی بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹو کے چھوڑے ہوئے سیاسی ورثہ کو زرداری صاحب ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر سمجھ پائے ہیں یہی ایک ایسا سوال ہے جس پر اقتدار کے ایوانوں ، قومی سیاسی حلقوں اور عوامی رائے عامہ کی محفلوں میں آج بھی سیر حاصل بحث جاری ہے۔ فی الحقیقت ملک کے سیاسی افق پر کیری لوگر بل KLB اور قومی مفاہمتی آرڈیننس NRO نے جو قیامت ڈھائی ہے، اسے دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ زرداری صاحب اور ان کے مشیروں نے نہ تو پاکستانی عوام کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی پاکستانی تاریخ کے جمہوری عمل کو مدنظر رکھا ہے اور اسی حوالے سے عوامی اُمنگوں اور رائے عامہ کا احترام کرنے اور بھٹو تحریک کے ملکی جمہوری اور اقتدار اعلیٰ کے تصور کی پاسداری کرنے کی بجائے عوام الناس محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت قومی امور پر مصلحت آمیز ی کا شکار ہوتے ہوئے آمرانہ اندازِ حکمرانی کو فوقیت دیتی رہی ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے تو بلند ہوتے رہے لیکن عوام الناس کے قومی وقار اور عزت نفس کو اہمیت دیتے ہوئے انہیں معاشرے میں باوقار زندگی گذارنے کے عمل میں ایک اہم معاشرتی اکائی سمجھتے ہوئے آبرومندانہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ریاست کو welfare state بنانے کی بجائے ملکی اشرافیہ haves) ( کو مضبوط تر اور غربت کے مارے عوام الناس (havenots) کو غربت کی چکی میں پسنے کیلئے چھوڑدیا گیا ہے ۔ اس امر کو مد نظر نہیں رکھا کہ جدید تعلیمی قدورں سے محروم اور غربت کے مارے ہوئے اِنہی لوگوں نے اپنے ووٹ کی قوت سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جنوبی ایشیا میں مملکتِ پاکستان کی بنیاد رکھی تھی جنہیں اب قومی معاملات میں تقریباً نظرانداز کر دیا گیا ہے ۔
دریں اثنا پارٹی اور حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ہوتے وقت آصف علی زرداری کو ملکی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی مانند ایک ہمہ گیر سیاسی رول ادا کرنے پر ضرور غوروفکر کرنا چاہئے تھا کیونکہ ان کے محض ایوان صدر تک محدود ہو جانے کے باعث سول سوسائیٹی میں یہ بات اب کھل کر کہی جا رہی ہے کہ آئینی تحفظات کا خیال کئے بغیر صدر زرداری نے اپنے آپ کو تمام قوم کا منتخب صدر ثابت کرنے کی بجائے ایوانِ صدر کو پیپلز پارٹی کی صدارت سے منسلک کردیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے پرانے کارکنوں سے ملاقاتیں کرنے یا رابطہء عوام مہم کے ذریعے عوام کو مہنگائی، بیروزگاری اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی موجودہ ہیجانی کیفیت میں دلاسہ دینے کی بجائے ان کا ایوان صدر کی فصیلوں اندر مقیّد رہنا یا بیرون ملک دوروں میں مصروف رہنے کا فیصلہ انہیں عوام الناس کے علاوہ پارٹی کارکنوں سے بھی دور لے گیا ہے۔ پارٹی کارکنوں کا یہی شکوہ ہے کہ وہ عوامی سطح پر حقیقت حال کو جاننے کیلئے پارٹی امور کو پارٹی کے مرکزی دفتر یا بلاول ہائوں میں نمٹانے کے بجائے تمام تر معاملات کو ایوان صدر کے توسط سے ہی سمجھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کے باعث ان کا عوامی تشخص بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی حکمت عملی کے برعکس وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری کے باعث نہ صرف ملک میں سیاسی مفاہمت اور میثاق جمہوریت کے عنوان سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے وسیع تر سیاسی ایجنڈے سے انحراف کیا گیا ہے بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے جان و مال کی قربانیاں دینے والے پرعزم کارکنوں کی بجائے قومی اہمیت کی اہم پوزیشنوں پر مخصوص مفادات اور اچھی شہرت نہ رکھنے والے افراد کی تعیناتی کے باعث زرداری صاحب کے پارٹی امیج کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اندرون اور بیرون ملک پاکستانی اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کی داستانوں کی اشاعت پر موثر اور بروقت ایکشن لینے کی بجائے ان کی جانب سے این آر او کو قانونی جواز فراہم کرنے کیلئے اِسے پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ناکام کوشش ان کی سیاسی قیادت کیلئے دھچکا ثابت ہوئی ہے جبکہ رہی سہی کسر ملکی اقتدار اعلیٰ اور قومی سلامتی کے حوالے سے کیری لوگر بل میں موجود شرائط نے پوری کردی ہیں جس پر سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے تحفظات کا برملا اظہار کیا ہے ؟
حیرت ہے کہ صدر زرداری ستمبر 2008ء میں منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے لیکن چند ماہ کے اندر ہی ریاستی امور پر انکی گرفت کا کمزور ہوجانا اور تازہ ترین اندرون و بیرون ملک سیاسی اندازوں کے مطابق انکی شہرت کا جنرل پرویز مشرف سے بھی نیچے چلے جانا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ صدر زرداری کے دوستوں پر مالی بے قاعدگیوں اور کرپشن کے حوالے سے NRO کے فائدہ مند گروپ سے تعلق رکھنے، محترمہ بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی سے لاپرواہی رکھنے والے افراد کا اہم پوزیشنوں پر فائز ہونا اور محترمہ کے قاتلوں کوقانون کے شکنجے میں لانے کی بجائے محض اقوام متحدہ کی صوابدید ی رائے پر چھوڑنے کے پس منظر میں پارٹی کارکنوں اور عوام الناس بے چینی کا شکار ہوئے ہیں جبکہ آئین کی سترہویں ترمیم اور 58-2/B کے خاتمے پر ہچکچاہٹ کے مظاہرے کے بعد اب وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کا یہ بیان کہ صدر زرداری 58-2/B کے اختیارات انہیں دینا چاہتے ہیں جس کی انہیں ضرورت نہیں ہے کو بھی ایک ناقابل فہم حکمت عملی سے ہی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زرداری صاحب ستمبر 2008ء میں منصب صدارت کا حلف اُٹھانے کے باوجود ملک میں سیاسی استحکام لانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ اُن کی اتحادی جماعتیں بھی ان کی کج رو سیاسی حکمت عملی پرنہ صرف گو مگو کا شکار ہیں بلکہ کھلم کھلا اختلاف رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کے مخالف تواتر سے کہتے رہے ہیں کہ زرداری صاحب کا نام ملک کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے جبکہ مبینہ طور پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے ان پر اور اُن کے قریبی ساتھیوں پر این آر او کے تحت "main beneficary" ہونے کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جنہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک کا حقیقی چیف جسٹس قرار دیا تھا، کی بحالی پر توجہ دینے کی بجائے میثاق جمہویت کے حوالے سے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرکے اپنے عوامی امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جبکہ امریکی گورنر سارہ پارلین سے ایک سرکاری ملاقات کے دوران انہوں نے امریکی خاتون گورنر کی تعریف میں سفارتی حوالے سے متنازعہ ریمارکس "unbecoming remarks" دئیے جنہیں مغربی سفارتی روایات کے حوالے سے بھی اچھا نہیں سمجھا گیا۔ منصب صدارت پر فائز ہونے کی ایک مختصر مدت کے بعد ہی ملک کے طول و ارض میں منفی سیاسی آوازوں کا بلند ہونا کسی حوالے سے بھی ایک احسن امر نہیں ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں صدر زرداری کو ایک کامیاب سیاستدان کہا جا سکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر انہیں اپنے آپ کو ایک قومی سیاستدان کہلوانے کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ اصلاح کیلئے ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں