آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم اور درپیش چیلنجز…(۱)

پروفیسر یعقوب شاہق ـ 25 نومبر ، 2009
پروفیسر محمد یعقوب شاہق۔۔۔
گزشتہ دو برسوں سے آزاد کشمیر سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سالِ رواں کے اوائل میں 6جنوری 2009ء کو آزاد حکومت کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کردی گئی اور یہ الزامات عائد کئے کہ ’’عتیق حکومت‘‘ زلزلہ زدگان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ میرٹ اور قانون کے مطابق نظامِ حکومت نہیں چلا رہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد اقتدار کا ھُما سردار محمد یعقوب خان کے سر پر بیٹھا جنہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ بلاتخصیص سب لوگوں کو انصاف فراہم کریں گے اور سفارش۔ کرپشن اور میرٹ کی پامالی کا کلچر ختم کردیں گے…لیکن وہ اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کروانے میں بُری طرح ناکام ہوگئے اُن کے پیپلز پارٹی کی طرف غیر متوازن جھکاؤ نے مسلم کانفرنس کے دونوں بڑے قائدین سردار محمد عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات کو اندرونی اختلافات کو ختم کرنے پر مجبور کردیا چنانچہ متحدہ مسلم کانفرنس جسکی قیادت عتیق احمد خان کررہے ہیں، کی طرف سے راجہ فاروق حیدر خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے نامزد کردیا گیا۔
چنانچہ 22 اکتوبر 2009ء کو ’’ان ہاؤس تبدیلی ‘‘ کے نتیجہ میں راجہ فاروق حیدر خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا۔اب کابینہ کا انتخاب بھی کرلیا ہے۔ کابینہ کی حلف برداری کے بعد اب وہ میدان عمل میں ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے میڈیا سے جو پہلی گفتگو کی اس میں انہوں نے ’’گڈگورننس‘‘ ’’قانون اور میرٹ کی بالادستی کے دو نکاتی ایجنڈے کو اپنی حکومت کا کلیدی منشور قرار دیا اور عوام کے دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے بھی اپنے عزم کا اظہار کیا۔راجہ فاروق حیدر کے والد راجہ حیدر خان مرحوم کا شمار ’’آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے بانیوں میں ہوتا ہے اُن کے سیاسی جانشین راجہ فاروق حیدر خان نے اس منصب تک پہنچنے کیلئے بہت طویل سفر طے کیا ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی سے لے کر عملی سیاست تک مختلف نشیب وفراز میں اپنی جماعت کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ مختلف حکومتی مناصب پر فائز رہے اور کچھ عرصہ تک وزیر تعلیم بھی رہے۔
راقم الحروف نے کم وبیش چالیس برس تک محکمہ تعلیم میں لیکچرار اسسٹنٹ پروفیسر، پروفیسر اور پرنسپل کی حیثیت سے کام کیا اور اس عرصہ میں کبھی راجہ فاروق حیدر کے حوالے سے اخبار میں یا کسی اپوزیشن رہنما کی طرف سے اُن پر بددیانتی کا الزام سننے یا پڑھنے میں نہیں آسکا اس لحاظ سے وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اقربا پروری، مالی بے ضابطگی اور کرپشن سے پاک اور بے داغ کردار کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں اور اُن کا وزارت عظمیٰ پر فائز ہونا بہت اچھی علامت ہے۔
راجہ صاحب ایک ایسے دور میں برسراقتدار آئے ہیں جب مرکز میں ’’پیپلز پارٹی‘‘ برسراقتدار ہے۔ اس پارٹی کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی درپردہ جوڑ توڑ اور سازش کرتی رہتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 16اپریل 1974 کو فیڈرل سیکورٹی فورس، ایف ایس ایف کے ذریعہ ایوانِ صدر کا گھیراؤ کیا تھا اور سردار محمد عبدالقیوم خان کی مقبول حکومت کو ختم کردیا تھا۔ راقم الحروف اُس دور کے سیاسی مدوجذر کا عینی شاید ہے لیکن یہ سطور اس داستان سرائی کی متحمل نہیں۔ اس وقت صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ راجہ صاحب ایک ایسے وقت برسراقتدار آئے ہیں جب مرکز میں حکومت مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے ملک لا اینڈ آرڈر کی بدترین صورت حال سے دوچار ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی جگہ دھماکے ہورہے ہیں اور شہید ہونے والے شہریوں اور فوجی جوانوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پہلے فوجی تنصیبات ہدف تھیں لیکن ’’بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور پشاور میں دھماکوں کا تسلسل مختلف رجحان کی عکاسی کررہا ہے۔
یہ حقیقت بالکل واضح ہو چکی ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت قوم کو موجودہ بحران سے نکالنے کی مطلق اہلیت نہیں رکھتی ان حالات میں راجہ فاروق حیدر خان کو مرکز سے معاملات طے کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں اُنہوں نے اپنی پہلی گفتگو میں میرٹ اور قانون کی بالادستی کا تذکرہ کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کروانا بھی اتنا آسان نہیں۔ گزشتہ دنوں ضلع باغ اور سُدھنوتی میں اساتذہ کی تقرریوں کے حوالے سے جس بے دردی سے میرٹ کو پامال کیا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے اس میں ’’ایم اے’’بی ایڈ‘‘ خواتین اور مرد اُمیدواروں کو چھوڑ کر میٹرک اور ایف اے کی تعلیمی قابلیت رکھنے والوں کی تقرری کی گئی ہے سندھنوتی میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی جس کے نتیجہ میں ہونے والی تقرریوں کی منسوخی کا اعلان سامنے آیا ہے جبکہ ضلع باغ میں اس طرح کے اعلان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی … کہا جا رہا ہے کہ خصوصی کارکن حضرات نے تقرری پانے والے حضرات سے پانچ ہزار سے پچاس ہزار روپے تک ’’زرتعاون ‘‘ بھی وصول کیا ہے۔
آزاد کشمیر میں 1973ء میں سردار محمد عبدالقیوم خان صدر حکومت تھے۔ اس زمانہ میں ’’گزٹیڈ افسران‘‘ کی تقرری پبلک سروس کمشن کے ذریعہ ہوا کرتی تھی جو مکمل طور پر خود مختار ادارہ تھا۔ نان گزٹیڈ ملازمین کیلئے ’’سلیکشن بورڈ‘‘ کی تشکیل ہوا کرتی۔ کوششیں یہ ہوتی تھی کہ ’’پبلک سروس کمیشن‘‘ اور ’’سلیکشن بورڈز‘‘ میں مضبوط کردار رکھنے والے دیانت دار لوگوں کو لایا جائے پبلک سروس کمیشن میں چیف سیکرٹری بلحاظ عہدہ اس کا ممبر ہوتا تھا اور اس کی موجودگی میں کسی شخص کو ڈنڈی مارنے کا حوصلہ نہیں ہوتا تھا اور ویسے بھی کمیشن کے ممبران کی دیانت داری پر سب کا اعتماد تھا لیکن 1991 ء کے بعد سردار صاحب کے دوسرے دورِ حکومت میں وزارت عظمی کے اختیارات سردار عتیق احمد خان کے ہاتھ میں تھے۔ اور وہ ڈی فیکٹو وزیراعظم کہلاتے تھے انہوں نے پبلک سروس کمیشن اور سلیکشن بورڈ کو نظرانداز کرکے 487 افراد کو گزٹیڈ اور نان گزٹیڈ آسامیوں پر تقرری کے احکامات جاری کئے۔ اس غیرقانونی اقدام کو قانونی جواز کی خلعت پہنانے کیلئے اسمبلی سے سول سرونٹس ایکٹ منظور کروا لیا لیکن جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی کے حکومت کے اس اقدام کو آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جس کے نتیجہ میں یہ تقرریاں کالعدم قرار دی گئیں۔ (جاری ہے)
سردار محمد عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات خان کے ادوار حکومت میں عموماً بیوروکریسی اور وزراء کو کسی بدعنوانی کی اجازت نہیں تھی لیکن بعد کے ادوار میں کسی علاقہ کا وزیر یا نمائندہ افسران حجاز کو ایک فہرست دے کر یہ حکم صادر کرتا کہ تقرریاں اس فہرست کے مطابق ہوگی گزشتہ دنوں ضلع باغ کی تقرریاں اسی طرح کی گئی ہیں اور ضلع کے مجاز افسران نے بھی بہتی گنگا میں اشتیاق کرنے کیلئے اپنے خاص افراد کی تقرریوں کی منظوری حاصل کرلی۔راجہ فاروق حیدر کے سامنے یہ پہلا چیلنج درپیش ہوگا کہ ایسے افراد کی غیرقانونی اور میرٹ سے ہٹ کر تقرریوں کو کالعدم قرار دیں اور انصاف کی فراہمی کے معاملہ میں کسی صورت میں بھی کمپرومائز نہ کریں اگر وہ اس چیلنج کے عہدہ برآ ہوتے ہیں اور میرٹ کی بالادستی کو قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بلاشبہ وہ ایک جاندار قائد کی حیثیت سے اپنا امیج قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اُن کے مستقبل کی سیاسی زندگی کی حیثیت سے اپنا امیج قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کے مستقبل کی سیاسی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اسکے علاوہ راجہ صاحب کے سامنے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک مربوط حکمت عملی کی تشکیل کا عظیم الشان چیلنج بھی درپیش ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی مرکزی حکومت کے ’’عملی چیف ایگزیکٹو‘‘ جناب زرداری بھارت کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور اسکی طرف سے کسی خطرہ کو خارج از امکان سمجھتے ہیں جبکہ اہل کشمیر اور پاکستانی قوم بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہے۔ اس کی نظر میں یہ بھارت ہی ہے جو اس وقت امریکہ سے مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں مصروف ہے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان ان تضادات کے پیش منظر میں شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو فراموش نہ ہونے دینا اور اپنے منی برحق موقف پر استقامت سے کھڑا رہنا اہل کشمیر کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ پاکستانی قوم تو قلب و جان سے کشمیریوں کی جدوجہد کی حامی ہے لیکن موجودہ برسرِ اقتدار طبقہ جو ضرورت سے کہیں زیادہ امریکہ کی زلفِ گِرہ گیر کا اسیر بن چکا ہے اور کشمیر کے حوالے سے اپنے قومی موقف سے مسلسل پسپائی اختیار کرتا جا رہا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ کشمیر سے بہنے والا پانی پاک سرزمین کے کھیتوں کو سیراب کر رہا ہے اور اسی وجہ سے بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا۔ اس شہ رگ پر بھارت نے قبضہ کر کے پاکستان کی طرف آنے والے تمام دریاؤں پر مجموعی طور پر 62 ڈیموں کی تعمیر شروع کر رکھی ہے تاکہ پاکستان کو بنجر اور ریگستان میں تبدیل کیا جا سکے۔
مزید برآں زلزلہ زدگان کے مسائل عوامی ضروریات کی فراہمی اور کئی دوسرے اہداف کا حصول بھی توجہ طلب ہے جس کے بغیر کوئی سیاسی شخصیت دیر تک سیاسی میدان میں زندہ نہیں رہ سکی۔ راجہ فاروق حیدر خاں کی اب تک شہرت یہی ہے کہ وہ قومی مفدات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے دامن پر بددیانتی کا کوئی داغ نہیں اور یقینی طور پر وہ ’’گڈگورننس‘‘ کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ وہ منسکرالمزاج آدمی ہیں اور اپنے آپ کو ’’عقل کل‘‘ بھی نہیں سمجھتے جیسا کہ بعض حکمرانوں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ اس نے انہیں اہل الرائے افراد سے مشاورت میں کوئی عار نہ ہو گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں