حکمران عیار امریکہ سے خلاصی پائیں

ـ 24 نومبر ، 2009
ملک حبیب اللہ بھٹہ.............
یہ بات تو اب عقل کے اندھوں کو بھی نظر آ رہی ہے کہ امریکہ جیسا سفاک اور عیار ملک روئے زمین پر دوسر ا نہیں ہے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسرائیل اور بھارت کے سٹرٹیجک پارٹنر بننے پر سفاکی اور عیاری میں سہ آتشہ بن چکا ہے جبکہ دو نمبر امریکی عہدیدار کی صرف ایک ٹیلیفونک کال پر (ر) جنرل پرویز مشرف ریت کا ڈھیر ثابت ہونے کے بعد برادر مسلم ملک افغانستا ن کے خلاف جنگ میں امریکہ کو لاجسٹک امداد اور دوسری اہم معلومات کی فراہمی پر آمادہ ہو گئے اسی امریکی عہدیدار نے انہیں مزید بے وقوف بناتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ امریکہ جدوجہد آزادیِ کشمیر اور در اندازی میں فرق قائم رکھے گا۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکہ پاکستان کی مدد کریگا۔ امریکہ پاکستان کے حساس ایٹمی آلات کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے پاکستانی معیشت کے استحکام کے لئے امریکہ مدد کریگا۔ 9/11کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے افغانیوں کو یہ باور کرایا کہ امریکہ افغانستان سے ملا عمر کی ظالمانہ حکمرانی سے افغانیوں کو نجات دلائے گا۔ اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنا ہے افغانی عوام سے امریکہ نے اپیل کی کہ وہ ملا عمر کا ساتھ نہ دیں۔ امریکہ کے ان خوبصورت وعدوں کے برعکس اسلامی ممالک کے ساتھ کیا بیتی یہ تاریخ انسانی کی بد ترین ، بھیانک ، المناک اور خوفناک داستان ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔ افغانستان کا تورا بورا بنا کر دس لاکھ نہتے افغانیوں کو بارود کی نذر کرنے کے باوجود ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو آج تک زندہ بتایا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انکی جعلی ویڈیو ٹیپ چلا دی جاتی ہیں تاکہ افغانستان پر قبضہ رکھنے کا جواز باقی رہے۔ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے عراقی عوام کو بھی یہ باور کرانے کی کوششیںکی گئیں کہ امریکہ عراق کے تیل پر قبضہ نہیںکرنا چاہتا بلکہ عراقی عوام کو صدام حسین کی جابرانہ حکمرانی سے نجات دلانا چاہتا ہے عراقی عوام صدام حسین کا ساتھ نہ دیں جب عالمی ایٹمی تنظیم کے انسپکٹروںنے پوری دنیا کو باور کرا دیا تھاکہ عراق کے پاس ایٹمی مہلک ہتھیارنہیں ہیں اسکے باوجود عراق پر حملہ کر دیا گیا نہ صرف دس لاکھ عراقیوں کا قتل عام کیا گیا بلکہ جدید عراق کو پتھرکے زمانے میںلا کھڑا کیا۔ یہ حشر اس ملک کا کیا گیا جس نے امریکی ایجنڈے پر ایران کے خلاف جنگ لڑ کر عربوں اور ایرانیوں کی تیل کی آمدنی کو اس جنگ کی نذر کرا کر دونوں کو کنگال کر کے رکھ دیا تھا ایرانیوں کی تقریباً نوجوان نسل اس جنگ کی نذر ہو گئی انکے عوض صدام حسین کو امریکہ نے وہ سزا دلوائی جو کسی غدار وطن کو دی جا سکتی ہے جب صدام حسین ہی ختم ہو گیا اب عراق پر قبضہ قائم رکھنے کا کیا جواز باقی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ اسے دنیا کی واحد سپر پاور بنانے کےلئے کلیدی کردار کس نے ادا کیا ہے کل جب روس افغانستان پر قبضہ کرنے کی نیت سے افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا تو اسے افغانستان سے نکالنے کےلئے سب سے اہم کردار پاکستان کے آزاد قبائل نے ادا کیا تھا یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کےلئے بھی یہی قبائل بر سر پیکار ہیں۔ سازش کے تحت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ ان غیر ممالک سے آئے ہوئے مجاہدین کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ یہی مجاہدین امریکیوں اور نیٹو افواج پر حملہ آور ہوتے ہیں۔پاکستان نے با امر مجبوری انکے خلاف ایکشن لینا شروع کیا جس سے پاکستان کے خلاف قبائلےوں کا ردعمل ظاہر ہوناقدرتی امر تھا امریکہ مسلسل Do Moreکی رٹ لگاتا رہا ہے پاکستان کی جتنی سرگرمیاں اس علاقے میں بڑھتی گئیں پاکستان کے خلاف آزاد قبائلےوں کی ناراضگیاں بھی اتنی شدت سے بڑھتی گئیں کیونکہ یہ مجاہدین اب اس علاقے میں کوئی غیر نہیں رہے بلکہ رشتے ناتوں کی وجہ سے ےہ انکے اپنے بن چکے ہیں۔ دوسری طرف افغان بارڈر کے ساتھ متعدد بھارتی قونصل خانے کھولے گئے جو ناراض قبائل کےلئے اسلحہ کے ڈپو اور سرمایہ کی فراہمی کےلئے بینک ثابت ہونے لگے۔ اس اثناءمیں امریکہ نے ڈرون حملے شروع کر دیئے پاکستان کےخلاف مزید نفرت پھیلانے کےلئے یہ بیانات نشر ہوتے ہیں کہ یہ حملے پاکستان کو بتا کر کئے جاتے ہیں اس طرح افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کا رخ امریکہ نے پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی ، بم بلاسٹ اورخودکش حملوںمیں تیزی آنے لگی ہے کمال عیاری سے امریکہ نے پہلے سوات اور مالاکنڈ میںاپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی پھیلا کر فوجی آپریشن ناگزیر کرا دیا اسکے بعد آج وزیرستان میں بھی فوجی ایکشن ہو رہا ہے۔ حالات ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ پاکستانی پاکستانیوں سے لڑ رہے ہیں بلوچستان میںبھی دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ اور خود کش حملوں میں میںبھارتی قونصل خانے ملوث ہیں۔ بلوچستان میں آزاد بلوچستان کے پیچھے بھی امریکہ ، اسرائیل اور بھارت براہ راست ملوث ہیں کوئی دن ایسا نہیں جب پاکستان کے کسی حصے میں بم بلاسٹ یا خود کش حملہ نہ ہوتا ہو۔ عسکری چیک پوسٹوں پر حملے کرانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی فوج پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے ، سی آئی اے ، را، موساد اور افغان ایجنسیوںکے پھیلائے ہوئے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور دشمنوں کی پھیلائی ہوئی نفرتوں کو ختم کرنے کےلئے ضروری ہے کہ جنگ کی بجائے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے جب امریکہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کا خواہاں ہے تو ہمیں اپنوں سے افہام و تفہیم سے کام لینے میں کیا نقصان ہوگا؟ دوسری طرف سیاسی سطح پر کیر ی لوگر بل کے ساتھ ہی این آر او پر ملک میں بحث شروع کرا کر کیری لوگر بل کی شرمناک شرائط سے قوم کی توجہ ہٹانے اور سیاسی ڈھانچے کو شکست و ریخت کا شکار کرنے کی سازش پر عمل درآمد شروع کیا جا چکا ہے۔ کیر ی لوگر بل کی شرمناک شرائط تسلیم کرنے کی بجائے ارباب اقتدارکو چاہیے کہ وہ اپنوں کو بھی مجبور کریں اور اپوزیشن کو بھی مجبور کریں کہ جن سیاستدانوںنے ملک سے باہر سرمایہ منتقل کیا ہے‘ اس کو واپس لا کر کیری لوگر بل کی شرمناک شرائط کو منظورکرنے کی بجائے مسترد کردیں۔ اگر سیاستدان رقوم واپس لے آئیں تو سول اور فوجی بیوروکریسی ہو یا تاجر اور صنعتکار طبقے کی مجال نہیں کہ وہ اپنا سرمایہ ملک میں واپس نہ لائیں سیاستدانوںکو سوچنا چا ہیے کہ قوم نے انہیں ایوانوں تک پہنچانے میں جتنی جدوجہد کی ہے وہ آئین پاکستان کے تحت ملکی مفادات کے تحفظ کی ضمانت کے عوض کی ہے نہ کہ امریکی مفادات کےلئے۔ امریکہ کے ساتھ ساٹھ سالہ دوستی نے پاکستان کوماسوائے ہزیمت اور نقصان اٹھانے کے کچھ نہیں دیا کشمیر بارڈر پر باڑ لگواکر جدجہد آزادی کشمیردر اندازی قرار دیا گیا پاکستانی دریاﺅںکا پانی روکنے کی سازش پر پاکستان کی حمایت میں ایک لفظ تک نہیں کہا جہاں تک مالی امداد کا تعلق ہے ابتدا میں پانچ ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کرنے سے پہلے لاٹری ویزہ کے ذریعے پاکستانیوں کے ذریعے اربوں ڈالر ز پہلے ہی منتقل کروا لئے گئے۔ کرپٹ حکمرانوں ، سیاستدانوں ، سول اور ملٹری بیورو کریسی ، تاجروں اور صنعتکاروں کے ذریعے بے حساب اربوں ڈالرز امریکہ منتقل ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں اب تک پاکستان کا 35ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے حقیقت یہ ہے کہ امریکی دوستی پاکستانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے شرمناک بات یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد میں کیری لوگر بل کی شرائط شامل کر کے پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا ہے۔ امریکہ کی بلیک واٹر تنظیم کا قیام بڑھتے ہوئے سازشی کردار پر معمور امریکی سفارت خانہ سے پاکستان کے ایٹمی حساس تنصیبات کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ ملکی پالیسیوں کو امریکی مفادات کے تحفظ کی بجائے پاکستان کی سالمیت اور اسکے وقار کی سر بلندی کےلئے تشکیل دیں امریکہ کی بجائے دوستی کا ہاتھ روس کی طرف بڑھائیں چین سے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پائندہ باد!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں