گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک مایہ ناز سپوت اور ماضی کی دو بڑی عوامی تحریکوں میں ایک مرکزی کردار ادا کرنیوالے رہنما محترم ایئر مارشل اصغر خان نے اپنی 91ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر نوائے وقت کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔
’’1969ء کے آغاز میں بھٹو مرحوم نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر ہم مل جائیں تو عوام کو بے وقوف بنا کر بیس برس تک ملک پر حکومت کرسکتے ہیں۔‘‘
یہ بات ایئر مارشل صاحب نے پہلی بار نہیں کہی۔ چند ماہ قبل جناب مجیدنظامی کے اعزاز میں منعقد ہونیوالی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے یہی بات کی تھی۔ میںیہ بات ایئر مارشل صاحب کے منہ سے تقریباً چار دہائیوں سے سنتا چلا آرہا ہوں۔ میرا ذاتی تعلق ایئر مارشل صاحب سے اتنا ہی پرانا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط یا نامناسب نہیں ہوگا کہ اس تعلق کے قائم ہونے کی بنیادی وجہ ہی یہ تھی کہ وہ بھٹو مرحوم کے ’’ جھوٹ ‘ ‘ کو بے نقاب کرنے اور سقوط ڈھاکہ میں پی پی پی کے بانی کے کردار پر سے پردہ ہٹانے کیلئے تحریک استقلال قائم کرچکے تھے اور میں تقریباً چھ سات برس تک بھٹو مرحوم کی طلسماتی شخصیت کے سحر میں رہنے کے بعد ’’مایوسی اور دل برداشتگی‘‘ کے ایک طویل دور میں داخل ہورہا تھا ۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ دسمبر1971ء کے دو وسطی ہفتوں کے دوران ہماری تاریخ نے جو کروٹ لی اور علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے خوابوں کا پاکستان جس شکست و ریخت سے دو چار ہوا‘ اس نے میرے اندر کے رجائیت پسند اور خواب پرست کو توڑ کر رکھ دیا۔ بھٹو مرحوم یکم ستمبر1965ء سے 20دسمبر1971ء تک میرے ہیرو رہے تھے‘ مگر سقوط مشرقی پاکستان کے المیے نے اپنے تمام ہم وطنوں کی طرح میرے وجود کو بھی جس جذباتی توڑ پھوڑ سے ہمکنار کیا وہ مجھے بھٹو مرحوم سے دور لے جانے لگی۔
ایئر مارشل اصغر خان سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی تو میں لاہور سے ہفت روزہ اشتراک نکال رہا تھا اور اس جریدے کے صفحات پر بھٹو مرحوم سے میری مایوسی اور دل برداشتگی‘ غم و غصے کے ایک ایسے طوفان میں ڈھل رہی تھی جو 1977ء میں ’’ جھوٹ کا پیغمبر‘‘ نامی تصنیف کا باعث بنا۔
بھٹو مرحوم کو دور جدید کا صلاح الدین ایوبی سمجھنے والے غلام اکبر کو ’’ جھوٹ کا پیغمبر ‘‘ کا مصنف بنانے میں بنیادی کردار میں سمجھتا ہوں کہ ایئر مارشل صاحب کے ساتھ میرے تعلق نے ہی ادا کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں ایئر مارشل اصغر خان نے مجھ سے کہا تھا۔
’’اس حقیقت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اقتدار کا حصول بھٹو کا پہلا دوسرا تیسرا اور آخری نصب العین تھا‘ ہے اور رہے گا۔ عوام کو بے وقوف بنا کر اس نے ووٹ حاصل کئے۔جنرلز کو بے وقوف بناکر اس نے حمایت حاصل کی۔ شیخ مجیب الرحمان سے جان چھڑانے کیلئے اس نے پاکستان کو دو لخت کرادیا۔ فوج کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے پڑے تو اقتدار کے راستے میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔‘‘
ایسی بے رحم ’’ فرد جرم‘‘ کو فکری اور جذباتی طور پر ہضم کرنا میرے لئے اس لئے آسان نہیں تھا کہ اپنی زندگی کے کئی قیمتی برسوں کے دوران میں نے اپنی سوچ کے بت کدے میں بھٹو کو بڑی عقیدت اور احترام کے ساتھ سجائے رکھا تھالیکن میں ایک ایسے شخص کی ’’راست گوئی‘‘ پر شک کیسے کرتا جس کی پہچان ہی حق گوئی اور بے باکی تھی؟
میں اپنے آپ سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ ’’اگر ایئر مارشل اصغر خان اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کیلئے دروغ گوئی سے کام لے سکتا ہے تو پھر روئے زمین پرکوئی بھی سچا شخص کہاں پایا جاتا ہوگا ؟‘‘ اور میرے اندر کا جواب تھا۔
’’ اگر اصغر خان یہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے وہ کہا جو وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا تو پھر بھٹو نے یہ ضرور کہا ہوگا۔‘‘
میں یہ بات آج یہاں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میرے نزدیک ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ ہم لوگوں کے بارے میں فیصلے کرتے یا حق و باطل کی خطہ تقسیم میں ان کا مقام متعین کرتے وقت دو انتہائوں کے پیمانے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتے ہیں۔ کوئی شخص ہمارے نزدیک یا تو صلاح الدین ایوبی ؒ ہوتا ہے یا پھر میر جعفر۔
یقینا دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہوں گے جن سے کوئی خطا ہوتی ہی نہیں ہوگی اور جن کا دامن ہر تقصیر سے پاک ہوگا۔ اور ایسے بھی ہوتے ہوں گے جن سے کبھی کوئی اچھائی ’’سرزد‘‘ نہیںہوئی ہوگی یا جو ضمیر نامی کسی چیز سے آشنائی رکھتے ہی نہیںہوں گے۔مگر بھٹو مرحوم نہ تو صلاح الدین ایوبی ؒ تھے اور نہ ہی جھوٹ کے پیغمبر۔ میں تب بھی غلط تھا جب میں انہیں صلاح الدین ایوبیؒ سمجھتا تھا اور تب بھی غلط تھا جب وہ میری نظروں میں جھوٹ کے پیغمبر بن گئے۔ انتہائوں میں بسنا آدمی کو ہمیشہ زمینی حقائق سے دور کردیتا ہے۔۔
اگر ذوالفقار علی بھٹو ایئر مارشل اصغر خان کے کردار کے حامل ہوتے تو ممکن ہے کہ ہمیںعہد حاضر کا ’’ ایوبی‘‘ مل جاتا یا اگر ایئر مارشل اصغر خان کو قدرت نے بھٹو جیسی قوت متخیّلہ اور بصیرت دی ہوتی تو جس نجات دہندہ کا انتظارہم آج بھی کررہے ہیں وہ ہمیں 1970ء کی دہائی میں ہی مل چکا ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں بھٹو مرحوم کے کردار کے سامنے سوالیہ نشان لگا رہا ہوں۔ یا یہ کہ ایئر مارشل اصغر خان کوقوت متخیّلہ اور بصیرت سے محروم سمجھتا ہوں۔ قدرت بہت ساری خوبیاں بہت زیادہ بہتات کے ساتھ بہت کم شخصیات میں جمع کیا کرتی ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔
بھٹو بہرحال ایک عظیم آدمی تھے۔ انہوں نے ایک عہد کو جنم دیا۔ اپنی نسل کے بہت سارے لوگوں کو ایک بڑا خواب بھی عطا کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ عظمت ایئر مارشل اصغر خان کی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔ انہوں نے دو نسلوں پر محیط ایک طویل عمر بڑے استقلال کے ساتھ اس خواب کا تعاقب کرنے میں گزاری ہے کہ پاکستان کی تقدیر حق گو اور بے باک قیادت کے ہاتھوں میں چلی جائے۔
مجھے 1981ء کا وہ زمانہ یاد ہے جب جنرل ضیاء الحق نے ایئر مارشل اصغر خان کو ایبٹ آباد میں نظر بند کررکھا تھا۔ میں ان سے ملنے گیا تو ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں بہت ساری باتیں ہوئیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بڑے حسرت آمیز مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
’’ کچھ لوگ شاید اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تاحیات جدوجہد کرتے رہیں۔ اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ جدوجہد کا ثمر انہیں ملتا ہے یا نہیں۔‘‘
آج تیس برس بعد پاک فضائیہ کا یہ معمار اور سچائی پر مبنی سیاست کو مشعل راہ بنانے والا یہ بطل جلیل 91برس کی عمر میں بھی اپنی جدوجہد کی منزل اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا متمنی ہے۔میں ایئر مارشل اصغر خان کی رگوں میں کئی دہائیوں سے خون بن کر دوڑنے والی آرزوئوں کو سلام کرتا ہوں۔
مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ جس روز ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھے تھے اس روز انہوں نے وہ سارے داغ دھو دیئے جو انکی شخصیت کو متنازعہ بنانے کا سبب بنے۔ انہوں نے ایئر مارشل اصغر خان سے وہ کچھ ضرور کہا ہوگا جو ایئر مارشل صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔
مگر کیا یہ ایک ناقابل تردید حقیقت نہیں کہ جس نظام کو ہم نے جمہوریت کا نام دے رکھا ہے اس میں عوام کا زیادہ اعتماد و ہی حاصل کرتا ہے جو عوام کو زیادہ بے وقوف بناتا ہو ؟ یہ ایک المیہ ہے کہ عوام بے وقوف بننا چاہتے رہے ہیں اور بے وقوف بنتے رہے ہیں۔
اور ہمیں سچی کھری تاریخ ساز اور مقدر آفریں قیادت اس لئے نہیں مل سکی کہ عوام سچے کھرے اور تلخ حقائق کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں۔
یہ المیہ صرف ہمارا ہی نہیں‘ دنیا کی تمام جمہوریتوں کا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جارج بش نے اپنے عوام کو کئی برس تک بے وقوف بنائے رکھا ؟ اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ جب عوام کی آنکھیں کھلیں تو سچ کا سامنا کرنے کیلئے نہیں ٗ ایک بار پھر بے وقوف بننے کیلئے کھلیں؟