Gordon Duff امریکہ کا ایک ایسا صحافی ہے جس نے ویت نام کی جنگ میں ایک فوجی کی حیثیت سے حصہ بھی لیا تھا۔ گورڈن ڈف نے پچھلے تقریباً چھ ماہ میں مختلف موضوعات پر کوئی سیکڑوں رپورٹس لکھی ہیں اس کے ایک حالیہ مضمون کا عنوان تھا
’’کیا نیٹو آخر کار پاکستان کو شکست دے سکے گا‘‘
اسکے نیچے لکھا تھا کہ ’’ہم دہشت گردی کو کیسے زندہ رکھ سکتے ہیں‘‘
ڈف لکھتا ہے کہ ہمارے ڈرون حملے پشتونوں کے اندر مزید دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں۔ ہمارے حملوں کی یہ رفتار جاری رہی تو دہشت گردی پاکستان کے شہر شہر تک پھیل جائیگی۔ ہماری بلیک واٹر کی تنظیم کی "Hit Teams" بھی ان لوگوں کو قتل کرنے کیلئے پھر رہی ہیں جن کے ساتھ ہم مذاکرات بھی کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی اسلحہ بھی اندر آ رہا ہے جس سے پاکستانی اور امریکن مارے جاتے ہیں۔
ہم نے پاکستان کے اندر Death Squads غیر قانونی طور پر بھیجے ہوئے ہیں اور ان کو کھلی چھٹی ہے وہ پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں یہ قاتل چونکہ کرپٹ اور نااہل ہیں یہ ہندوستان اور اسرائیل سے رہنمائی حاصل کر کے حالات کو اور مخدوش بنا رہے ہیں۔ ہماری پسندیدہ کرائے کی کمپنی (بلیک واٹر) بہت بدنام زمانہ ہے اور اسکے ناطے امریکہ میں ان فوجیوں اور انتہاپسندوں سے ملتے ہیںجو امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے ہمدرد ہیں۔
ہمارے تصوراتی دہشت گرد ملا عمر جیسے لیڈر اب ہماری جنگ کے ہدف ہیں۔ جن کے پیچھے کئی ملین زرہ بکتر میں ملبوس مسلمان ہیں ان میں گلبدین حکمت یار جیسے لوگ بھی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اس علاقے میں لڑی گئی (سوویٹ یونین کیخلاف) جنگ میں سی آئی اے کے زبردست معاون تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ افغانی یا پاکستانی طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔
گورڈن ڈف کیمطابق گلبدین حکمت یار کی افغانستان اور پاکستان میں عزت کی جاتی ہے اور وہ افغان جنگ کو ختم کروانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ہم اس کو ڈھونڈ کر قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ ویت نام میں 58000 فوجیوں کی قربانی دینے کے بعد نکسن نے چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا وہ چین جس کے متعلق ہم کہتے تھے کہ یہ ایک ایسی قوم ہے جو ہم امریکیوں کو بستروں کے اندر بھی قتل کرنا چاہتی ہے۔ اسکے بعد نکسن نے شمالی ویت نام کے ساتھ معاہدہ کیا جس پر ہنری کسنجر کو نوبل پیس پرائز بھی ملا۔ گورڈن ڈف کہتا ہے کہ اس بات نے ثابت کر دیا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ کیمونسٹوں سے بات چیت کر کے ان سے کاروبار کرنا ان کو قتل کرنے کی مہم پر نکلنے سے بہتر تھا۔ تاریخ نے اس بات کو سچا ثابت بھی کر دیا ہے ۔ آج اگر امریکہ کو قرضہ دینے والا چین جیسا ملک نہ ہوتا تو امریکہ معاشی لحاظ سے ختم ہو جاتا۔ لگتا ہے نکسن genius تھاجس کو اس بات کا اندازہ تھا ۔
گورڈن ڈف لکھتا ہے کہ ہم نے افغانستان میں 20% ووٹ ڈلوا کر ایک ایسی rogue حکومت قائم کروا دی جس کا ملک کے صرف 3% علاقے پر کنٹرول ہے اور اس حکومت کو ہندوستان سپورٹ کرتا ہے جو افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیج رہا ہے اس حکومت میں زیادہ تر ڈرگ ڈیلرز، نا اہل اور کرپٹ لوگ ہیں۔
افغان جنگ کو کامیاب بنانے کیلئے ہمارا سارا دارومدار پاکستان پر ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ پہلے ہم افغانستان کی سرحد کی طرف سے جنگجو پاکستان جانے دے رہے ہیں پھر جب ان دہشت گردوں پر ہم ڈرون حملے کرتے ہیں تو بہت سارے بے گناہ لوگوں کو مارتے ہیں جس سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے اس طرح امریکہ دشمن گروہوں میں اور لوگ بھرتی ہو جاتے ہیں اس طرح پاکستانی فوج کا کام بھی ہم اور مشکل بنا رہے ہیںبلکہ کئی دفعہ تو افغانیوں نے امریکی افواج کو جان بوجھ کر غلط اطلاعات دے کر پاکستانی فوج پر حملہ بھی کروا دیا تھا۔ اب پاکستان کہہ رہا ہے کہ افغانستان کے اندر بھارت دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ چلا رہا ہے اور بہت سے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیج رہا ہے جن کے ہاتھوں میں ہندوستان کا اسلحہ بھی ہوتا ہے۔
گورڈن ڈف نے لکھا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلیک واٹر جیسی بدنام زمانہ کمپنی جس نے عراق میں جرائم کیے اور اس لیے اس کو نام تبدیل کرنا پڑا، کو پاکستان بھیجنا کیوں ضروری تھا۔ کیا افغانستان کی جنگ تیل، گیس ، ڈرگ، عسکری ترقیوں اور میڈلز کے لیے لڑی جا رہی ہے ؟ امریکی قوم اس جنگ کی وجہ سے اور مقروض ہو جائے گی اور شاید امریکہ کے اندر سستی ہیروین یا نشہ آور دوائیں بھی کثرت سے بکنا شروع ہو جائیں۔ ہماری موجودہ پالیسی دنیا میں دہشت گردی کو بڑھائے گی، ایٹمی جنگ کے خطرات پیدا کرے گی اور کئی ملین بھوکے لوگوں کو قتل کرنے کا باعث بنے گی۔ گورڈن ڈف نے کہا:۔
"No same person would want that"
قارئین! ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ یہ باتیں جو مغربی دانشور بھی اپنی حکومت کو بتا رہے ہیںہماری حکومت کے لوگ زور دار طریقے سے امریکی نمائندوں کو بتانے سے کیوں شرماتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری صفوں میں مٹھی بھر لوگ تو ایسے بھی ہیں جو ہندوستان کا نام تک نہیں لینا چاہتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہر وقت رابطہ پاکستان میں بھارتی سفارت خانے سے رہتا ہے ان میں سے کچھ روشن خیال تو حال ہی میں ہندوستان کی دعوت پر دہلی ایک سمینار میں شرکت کرنے کیلئے بھی گئے تھے جہاں ان کو پاکستانی بلوچستان کی آزادی کے موضوع پر بھی کچھ کہنا تھا ان لوگوں کو دہلی جانے کی اتنی خوشی تھی کہ ان کو موضوع زیر بحث پرکوئی اعتراض کرنے کا وقت بھی نہ ملا ۔ ایک اور طبقہ وہ ہے جو افواج پاکستان اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر کیچڑ اچھالنے کیلئے امریکی سفارت خانے کے چکر لگاتا ہے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کیری لوگر بل میں افواج پاکستان اور ملکی سراغ رساں ایجنسیوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کیلئے مذموم شقیں ڈلوائیں ۔ بش کی حکومت ہو یا اوباما کی ہمارے ان complexed بھائیوں کو اگر امریکی سفارت خانے سے کوئی دعوت نامہ مل جائے تو یہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے بلکہ سب کو بناتے ہیں کہ ہم نے رات کو وہاں کھانا کھایا تھا ۔ گورڈن ڈف جیسے امریکی دانشور خواہ اپنی حکومت کی پاک افغان پالیسی پر جتنی بھی تنقید کر لیں ہمارے پاکستانی شکلوں والے امریکن قصوروار پھر بھی پاکستان اور خصوصاً افواج پاکستان کو ہی ٹھہرائیں گے ۔
رچرڈ ہالبروک امریکی حکومت کی نگاہ میں بھی فعال نہیں رہا، افغانی صدر حامد کرزئی بھی اس سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہندوستان کا ایک صحافی کہہ رہا تھا کہ رچرڈ ہالبروک کی دہلی آمد یا روانگی کو حکومتی سطح پر بالکل کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن پاکستان میں رچرڈ ہالبروک جیسے ایک سفیر کو اسلام آباد سے باہر لے جا کر لاہور میں بھی صدر مملکت سے ملانا پڑے تو ملایا جاتا ہے تا کہ وہ ناراض نہ ہو ۔ یہ قصور رچرڈ ہالبروک کا نہیں بلکہ یہ کمزوری ہمارے ارباب اختیار کی ہے جنہوں نے ساری قوم کا سر شرم سے جھکایا ہوا ہے۔ گورڈن ڈف کے مضمون کا مکمل عنوان یہ ہے
"Why Americans will be dying next Christmas and will NATO eventually defeat Pakistan? How can we keep Terrorism Alive?"
قارئین! اس میں شک نہیں کہ پچھلے آٹھ سالوں سے امریکہ کی افغان پالیسی کو من و عن تسلیم کر کے پاکستانی قیادت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری جمہوری حکومت آمریت سے بھی بڑھ کر بادشاہ سے زیادہ بادشاہت کی وفادار نظر آتی ہے۔ کالموں میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ ہم اپنے تڑپتے دلوں کی ساری آہ و پکار اپنے قلم کی نوک سے کاغذ پر اتار سکیںلیکن اللہ گواہ ہے کہ ہمارے عسکری اور سول ڈکٹیٹروں کی اقتدار پسندی، نا اہلی، نالائقی اور بے بسی کی طویل داستانیں اتنی دردناک ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ملکی سیکورٹی کے حالات بہت دگر گوں ہو چکے ہیں اب اس بھنور سے ملک کو پست کردار اور قابل فروخت لوگ نہیں بلکہ باکردار، ناقابل فروخت اور نڈر قائدین ہی نکا ل سکتے ہیں ۔ اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلے کی روشنی میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاسی قیادت کی طہارت ضروری ہو گئی ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ مشرق سے جنرل دیپک کپور کی دھمکیاں اور لائن آف کنٹرول پر دھماکے اور فائرنگ اور مغرب سے افغانستان میں موجود بھارتی فوج کے جاسوسوں کا جال اور ملک کے اندر سی آئی اے اور بلیک واٹرکی موجودگی سے پاکستان کیخلاف گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ 28 جنوری کو لندن میں ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کھل کر افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کی بات کرے۔