کمزور حکومت اور ملکی مفادات
لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ـ 21 جنوری ، 2011
امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن جب اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ ہماری پاکستان اور اسلام سے کوئی دشمنی نہیں اور یہ کہ پاکستان کے اندر فوجی کارروائی کا فیصلہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔امریکہ اس پر بالکل زور نہیں دیگا، عین اسی وقت امریکی فوج کے سینئر کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن واشنگٹن میں پریس کو خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ پاکستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے اور جب تک دہشت گردوں کے پاکستان میں موجود اڈے ختم نہیں کئے جاتے اتحادی افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یعنی افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی سیاسی،اخلاقی اور عسکری ہزیمت کا ذمہ دار پاکستان ہی ہے چونکہ پاکستان کی عسکری قیادت شمالی وزیرستان پر فوج کشی سے گریزاں ہے۔ اندرونِ خانہ بھی امریکی نائب صدر کوئی ایسی جامع دلیل نہ دے سکے جو یہ ثابت کرتی کہ اگر واقعی پاکستانی فوج شمالی وزیرستان پر یلغار کرکے چند شدت پسندوں سمیت ہزاروں بے گناہ سویلین کو ہلاک کر ڈالنے کے علاوہ لاکھوں کو بے گھر کردے تو جنوبی ایشیا کے دہشت گردوں کے سارے مسائل حل ہو جائینگے، امریکہ اپنی فتح کا جھنڈا کابل پر لہرا سکے گا اور پاکستان کی قبائلی پٹی امن کا گہوارہ بن جائیگی اور وہاں رہنے والے 40لاکھ قبائلی مزید خوشحال ہوجائینگے اور افغانستان کے تقریباً باقی ماندہ % 80 علاقے بھی جہاں اب اتحادیوں کا کنٹرول نہیں، اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دینگے اور ساڑھے تین کروڑ آبادی والے افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو اپنے فوجی اڈے قائم رکھنے کی اجازت مل جائیگی اور امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے ذخائر کو بغیر کسی رکاوٹ کے چومنا شروع کردیگا اور شمالی افغانستان میں تقریباً35 ہزار امریکی فوجی چھوڑ کر روس، چین، ایران اور ایٹمی پاکستان پر بھی کڑی نظر رکھے گا کاش کہ یہ سلسلہ اتنا آسان ہوتا کوئی مشرقی یا مغربی دانشور امریکہ کی مذکورہ بالا خام خیالی کو اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں کہ وزیرستان پر حملے سے یہ سب مسائل حل ہوجائینگے تاریخ کے طالب علم اور قبائلی پٹی اور پشتونوں کے کلچر سے آشنا لوگ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ڈیورنڈ لائن سے اُس طرف افغانستان میں مسائل توپ کے گولے اور جہاز کے راکٹ سے کبھی حل نہ ہوسکیں گے بلکہ صورتِ حال مزید گھمبیر ہوجائیگی اس لئے امریکہ شمالی وزیرستان پر فوج کشی پر زور دینے کی بجائے پاکستان سے اپنا سیاسی مذہبی اور معاشرتی اثررسوخ استعمال کرکے افغان مسئلے کو حل کروانے میں ایک مخلصانہ کلیدی کردارادا کرنے کی درخواست کرے۔
قارئین پچھلے آٹھ دس سال کی اس خطے میں تباہی کا ذمہ دار ایک تو امریکہ ہے جس نے 9/11کے بعد ایک بپھرے ہوئے بیل کی طرح ایک سینگ عراق اور دوسرا افغانیوں کے پیٹ میں دے مارا اور بعد میں ڈرون حملے کرکے اپنا سر پاکستان سے بھی ٹکرادیا دوسرا موجودہ زبوں حالی کی ذمہ داری ہماری پچھلے دس سالوں سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے۔چونکہ ایک پورا عشرہ گذر جانے کے بعد بھی ہم امریکہ کو یہ باور کروانے میں ناکام رہے کہ اگر پاکستان نے اس خطے میں بحیثیت ایک آزاد ملک زندہ رہنا ہے تو اسکے کچھ قومی مفادات ہیں جن پر سودا ممکن نہیں۔دوسرا یہ کہ افغان مسئلے کا حل سیاسی ہے فوجی نہیں۔تیسرا یہ کہ امریکہ کی منافقت پر مبنی دورُخی پالیسی نے ہی امریکہ مخالفت حقارت کو جنم دیا اور چوتھا یہ کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی سرکس اور معاشی بد حالی کا خالق بھی خود امریکہ ہے جس نے ہمارے ملک میں پہلے فوجی آمریت پھر بدنامِ زمانہ این آر او کروا کر کرپشن میں بین الاقوامی انعام یافتہ قیادت کو ہم پر مسلط کروا دیا اور ساتھ ہی دہشت گردی کیخلاف جنگ کے میدان کو پاکستان میں منتقل کر کے ہمیں 53ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی کو زندہ رکھنے کیلئے افغانستان میں ہندوستان کی موجودگی کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ پاکستانی سرحد کے ساتھ اُن کو جاسوس خانے کھولنے کی اجازت بھی دی۔
قارئین پتہ نہیں ہماری حکومت ان اہم قومی امور کو امریکہ کے آگے سنجیدگی سے کیوں نہیں رکھنا چاہتی۔ اس لئے لگتا یوں ہے کہ کچھ باغبان بھی برق و شرر سے ملے ہوئے ہیں۔ تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر بھی امریکہ کے صدر سے ملاقات پاکستان کا چیف ایگزیکٹو نہیں بلکہ صدر کر رہے ہیں جن کا آئین کے مطابق حکومتی معاملات سے کوئی واسطہ نہیں۔آصف علی زرداری اپنی ساری خوبیوں کے باوجود ملک کے ایک ایسے علامتی صدر ہیں جن کا State Craft میں بالکل کوئی تجربہ نہیں پھر اُن کی مدد کیلئے اُنکے ساتھ نہ وزیر خارجہ تھا نہ سیکرٹری خارجہ اور حد تو یہ ہے کہ اُنکے ساتھ جانیوالا سفیر بھی کوئی پیشہ ور سفارت کار نہیں بلکہ سیاسی سفیر تھا جو سفیر بننے سے پہلے ملک سے باہر تھا اور سفارت کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی باہر ہی رہیگا۔ مقابلے میں امریکی صدر کی مدد کرنے کیلئے اُنکی وزیر خارجہ اور سیکورٹی ایڈوائزر سمیت پوری ٹیم تھی۔ صدر کا یہ دورہ بھی غیر سرکاری تھا اسکے علاوہ امریکی نائب صدر جو پاکستان آئے انہوں نے بھی بامعنی مذاکرات چیف ایگزیکٹو سے کرنے کی بجائے وہاں ہی کئے ہیں جہاں انہوں نے ضروری سمجھا۔یہ صورت حال ٹھیک نہیں۔
پاکستان صرف اور صرف اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا جب منتخب ایوانوں میں اہل با کردار اور زندہ ضمیر عوامی نمائندے بیٹھیں گے چیف ایگزیکٹو ذہین، با صلاحیت قائد اور با اختیار حکمران ہوگا پاکستان کی موجودہ حالتِ جنگ میں کبھی ہم تصور بھی کرسکتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا قائد اپنے صدر فضل الٰہی چوہدری کی امریکی صدر سے ملاقات کا خطرہ مول لے لیتا یا میاں نواز شریف ایٹمی دھماکوں والے معاملے پر اپنے صدر رفیق تارڑ کو بل کلنٹن سے ملانے کا رسک لے لیتے یا پھر بے نظیر بھٹو اپنے قابل اعتماد پارٹی لیڈر فاروق لغاری کو اس بات کی اجازت دیتیں کہ نازک ترین حکومتی معاملات پر امریکی صدر کی ٹیم کے ساتھ وہ ایک نان پروفیشنل سفیر کے ہمراہ ڈائیلاگ کریں۔
آصف زرداری صاحب حکمران سیاسی جماعت کے قائد ہونے اور اپنی ساری حب الوطنی کے باوجود آئین اور قانون کے تحت کسی بھی حکومتی معاملے میں مداخلت کرنے کے مجاز نہیں یہ کڑوے حقائق ہیں جن کو ہمیں مانناچاہئے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری منتخب اسمبلیاں اس پر معترض بھی نہیں۔ لیکن ایسی کمزور اور کرپٹ حکومتیں جو ملک چلانے کی صلاحیت سے عاری ہوں اُن کی ملک کے اندر یا باہر کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔31دسمبر کے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا:
"While USA voices support for pakistan's weak civilian Govt at every opportunity the reality is that the Army Chief can only produce result.
امریکہ پاکستان میں کمزور سویلین حکومت کی مدد تو کرتا رہتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ہمیں نتائج عسکری سالار سے ہی ملتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں