مہنگائی… حکمران طبقہ کا کردار …(آخری قسط)

ـ 20 جنوری ، 2011
محمود مرزا mmirza32@hotmail.com
پیپلزپارٹی کی حکومت کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بدانتظامی دور کرنے کیلئے ایک منصوبے کا اعلان کیا مگر انہیں عملدرآمد کا موقع نہ ملا چنانچہ خسارا جاری رہا۔ خسارے کی وجہ سے معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا۔ قرضے کی واپسی اور سود سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ مصارف قرضہ بجٹ اخراجات کا حصہ ہوتے ہیں۔ یوں کہئے کہ یہ مصارف اس رقم میں سے ادا ہوتے ہیں جو شہری بطور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مصارف قرضہ بجٹ خسارہ بڑھاتے ہیں۔ خسارہ حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ کرنسی نوٹ چھاپے، نتیجتاً افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات سطحی اور عارضی ہے کہ حکومت نے آر جی ایس ٹی کا نفاذ اور پٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ موخر کر دیا۔ حکومت اپنی مالی ضرورت کرنسی نوٹ چھاپ کرپورے کریگی۔ افراط زر پوشیدہ ٹیکس ہوتا ہے اور مہنگائی بڑھانے کا کردار ادا کرتا ہے۔
ہمارے یہاں دو تین فیصد افراد کے پاس بے شمار دولت ہے۔ بیشتر دولت ایسے ذرائع سے حاصل ہوئی جنہیں ٹیکس کی مراعات حاصل تھیں مثلاً کیپیٹل گین ٹیکس معاف تھا۔ مالدار طبقے نے چند سال قبل رہائشی پلاٹوں اور سٹاک ایکسچینج کے ذریعے کروڑوں اور اربوں روپے کا منافع حاصل کیا جس پر ٹیکس کا قانون موجود نہ تھا۔ منشیات اور سمگلنگ کے دھندوں سے بھی بے شمار دولت اکٹھی ہوئی۔ دولت کیسی بھی ہو، سماجی اور سیاسی طاقت کی مالک ہوتی ہے۔ کالا دھن سماج اور سیاست کو بھی سیاہ بنا دیتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ معاشی مسائل اور مصائب عوام کو سماجی تبدیلی کیلئے جدوجہد کی طرف دھکیل دیں گے۔ سماجی تبدیلی کے موضوع پر راقم نے ایک مفصل مضمون لکھا ہے۔ یہاں سماجی تبدیلی کی اصطلاح محدود معانی میں ہے۔ یہاں مراد خائنوں اور ٹیکس چوروں سے نجات ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کے عمل کا نکتۂ آغاز ٹیکسوں کا مسئلہ بنے گا۔ تاجروں کی بھاری اکثریت صحیح اور پورا حساب کتاب رکھنے سے بدستور انکار کرے گی۔ قومی دولت کی چوری میں بڑی کمی نہ آئیگی۔
تاجر بڑے لیڈروں کی خیانت کو بہانہ بنا کر ٹیکس دینے سے گریز کرینگے۔ بڑے زمیندار جن کا سیاست پر موثر کنٹرول ہے اس شرح سے ٹیکس ادا نہ کریں گے۔ جو صنعتکاروں اور تاجروں پر نافذ ہے۔ کرنسی نوٹوں کا اجرا اور مصارف قرضہ مہنگائی بڑھاتے رہیں گے۔ یوں معاشرے میں معاشی تضادات نمایاں ہوں گے۔ ایک طبقے کا مفاد دوسرے طبقے سے متصادم ہو گا۔ عوام کا تضاد حکمران اور بالادست طبقے سے بڑھے گا۔
ہم مالی بحران کے سنگین دور سے گزر رہے ہیں۔ حالات جوں کے توں برقرار رکھ کر یہ تضادات حل ہونیوالے نہیں۔ فوری ضرورت مالی ڈسپلن قائم کرنے کی ہے مگر ہمارے معاشرے کے ایک موثر اور اسلحہ بردار حلقے کی اولین توجہ معیشت پر مرکوز نہیں۔ اس کا بڑا مسئلہ عدم رواداری اور فرقہ پرستی وغیرہ ہے۔ یہ بات عدم استحکام کا باعث ہے۔ شفاف نظم و نسق اور مستحکم حکمت عملی کی غیر موجودگی میں معاشی استحکام قائم نہ ہو گا چنانچہ افراط زر اور مہنگائی بے قابو ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال عوام کی مشکلات کو ناقابل برداشت بنا دیگی۔
ہو سکتا ہے کہ غیر ملکی قرض خواہ پاکستان کے حالات کو اپنے لئے خطرناک سمجھ کر ہمیں مصارف قرضہ کی ادائیگی میں ڈھیل دیدیں۔ شاید امریکہ مزید مالی امداد کی مشروط پیشکش کریگا۔ یوں بجٹ خسارے اور مہنگائی کا ایک بڑا سبب عارضی طور پر دور ہو جائیگا۔
حقیقی حل سماجی حالات اور رویوں کی تبدیلی طلب کرتا ہے۔ یعنی ٹیکسوں کی آمدن بڑھے۔ حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات اور کرپشن کم سے کم ہوں‘ امن و امان بحال ہو‘ سرمایہ کاری بڑھے۔ جدید علوم و فنون کو فروغ حاصل ہو۔ مستقبل قریب میں یہ ممکن نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ حالات کے جبر سے عوام اور متوسط طبقہ سماج میں تبدیلی کیلئے سیاسی جدوجہد شروع کر دینگے۔ اگر چھوٹے تاجر اس اتحاد میں شامل ہو جائیں تو بالادست اور کرپٹ طبقات کے سماجی اور سیاسی کنٹرول پر کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔ یہ صورت سماجی صحت مند تبدیلی کا نکتۂ آغاز بن سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ بحرانی حالات میں مذہبی جنونیت اور لسانی انتہاپسندی کے حامل گروہ اسلحہ بند کارروائیاں بڑھا کر ریاستی طاقت پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بات معیشت ہی نہیں ملکی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہو گی۔ ضرورت پرامن تبدیلی کی ہے۔ بشرطیکہ عوام کو تبدیلی پسند قیادت میسر آئے جسے آج کے علمی اور عالمی دور کا شعور ہو اور جو نسبتاً بہتر کردار کی حامل ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں