جی ایچ کیو پر حملہ

بریگیڈیئر (ر) شمس الحق قاضی ـ 19 اکتوبر ، 2009
بریگیڈئر(ر) شمس الحق قاضی.................
آجکل ملک بھر میں حالیہ GHQ پر حملہ زیر بحث ہے بعض لوگ افسوس کرتے ہیں کہ اب پاکستان میں فوج کا قلعہ بھی دہشتگردوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہا۔ زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں کہ نقصان کم ہوا ہے۔ یعنی دہشتگردMO اور MI دفاتر بلکہ چیف صاحب کے آفس کے نزدیک بھی پہنچ چکے تھے لیکن ہمارے بہادر فوجیوں نے انکو آگے جانے سے روک دیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل جنرل ظہیرالاسلام عباسی خود بھی GHQمیں متعین تھے چنانچہ اس وقت کے انٹیلی جنس اداروں نے سازش کا سراغ لگا کر قبائلی علاقہ سے ہتھیار حاصل کرنے سے لیکر کباڑی بازار سے فوجی وردیاں خریدنے تک گروپ کا لگاتار پیچھا کیا اور اس وقت کے خادم پنجاب نے حملہ کرنے سے قبل ہی ظہیرالاسلام اور اس کے ساتھیوں کو دبوچ لیاتھا۔ چنانچہ ان لوگوں کا ٹرائل شروع ہوا تو راقم نے اپنے مضمون میں مذاق کے طور پر لکھا تھا کہ ان لوگوں پر بغاوت کے الزام کی بجائے پیشہ ورانہ نالائقی کے الزام میں مقدمہ چلانا چاہئے کہ جنرل رینک تک پہنچ جانے کے باوجود بھی نقلی فوجیوں کو کباڑ کی وردیاں پہنا کر GHQ کے قلعہ کو مسمار کرنے چلے تھے۔
لیکن اب جبکہ ہم موجودہ دہشتگردوں کے حملہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ ظہیر السلام پلان کی کاربن کاپی معلوم ہوتی ہے۔ لہٰذا یہاں پر خادم پنجاب کا نام اس لئے آجاتا ہے کہ GHQ پر حملہ اس وقت بھی پنجاب سے ہی ہونا تھا اور اب بھی پنجاب میں سے ہی کیا گیا۔ اس لئے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس وقت موجودہ پنجاب حکومت کا کیا کردار رہا ہے جبکہ پنجاب پولیس نے آج سے چار پانچ ماہ قبل مئی کے مہینہ میں اپنی رپورٹ میں GHQپر حملہ پر جو تفصیلی بیاں دیا ہے حملہ پنجاب پولیس کی اس رپورٹ کے عین مطابق تھا۔ اور انکی دیدہ دلیری دیکھیں کہ پلان کی نوک پلک سنوارنے کیلئے اپنا مرکز بھی پولیس ٹریننگ سکوئی سہالہ کی ہمسائیگی میں قائم کیا۔ کسی بھی بڑے حادثہ کے بعد ہماری حکومت بڑے فخر سے بیان کردیتی ہے کہ ہمیں یہ سب کچھ پہلے سے معلوم تھا اور اس میں امریکہ کا نشان کردہ ہاتھ بھی ہے۔ آجکل ہر کام میں امریکہ کا بنایا ہوا نشان وزیرستان کی طرف ہوتا ہے، کیونکہ گزشتہ مئی کے مہینہ میں بعض معروف امریکی کالم نگاروں نے لکھا تھا کہ وسط جون سے امریکی حکومت پاکستان کیلئے بہت بڑی تباہی کا پروگرام لانچ کر رہی ہے اور پاکستان پر زور دیکر پاکستان آرمی کو وزیرستان میں خودکشی کے راستہ پر لگا دے گی۔ امریکن کالم نگاروں کے اس مضمون کی نقول تمام اہم اداروں کو بھیج دی گئی تھیں لیکن آجکل کی پنجاب حکومت کی طرف غالباً ان اداروں نے بھی یہ امریکن رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی ہوگی اس لئے معلوم نہیں کہ GHQ پر مجوزہ حملہ کی پولیس رپورٹ بھی خادم پنجاب تک پہنچی ہے یاکہ یہ پولیس کی غلام گردشوں میں ہی گھومتی رہی ہے۔ جیسا کہ جنگ ستمبر کے بارے میں 4 ستمبر 1965ء کو پاکستان ہائی کمشن دہلی نے فلیش میسیج(پیغام) بھیجا کہ انڈیا 6 ستمبر کو لاہور پر حملہ کر رہا ہے لیکن یہ پیغام وزیرخارجہ بھٹو صاحب کے کلرک کی ٹرے میں ہی پڑا رہ گیا اورجب لاہور پر حملہ ہوگیا تو GOC لاہور جنرل سرفراز کے فرنٹ لائن COs صبح کی PTکرا رہے تھے۔
ایسے معلوم ہوتا ہے کہ خادم پنجاب نے اپنے گرد حصار باندھ رکھا ہے تاکہ انکو اپنے عوام کی کوئی خبر نہ ملے۔ مثال کے طور پر ہم نے چھوٹا سا مسئلہ انکی خدمت میں رجسٹرڈ لیٹر کے ذریعے بھیجا تھا جو اس وقت تو چھوٹا سا مسئلہ ہے لیکن اگر بعد میں اس سے کوئی بڑا گھمبیر مسئلہ پیدا ہوا تو حکومت یہی کہے گی کہ یہ تو ہمیں پہلے سے ہی معلوم تھا ہم نے یہ مسئلہ پنجاب حکومت اور انتظامیہ کے ارکان کو علیحدہ علیحدہ بھیجا لیکن محلہ ناظم سے لیکر ڈی سی او اور کمشنر تک کسی نے بھی جواب دینے کی تکلیف گوارہ نہیں کی پھر ہم نے اپنی چھٹی چیف ایڈیٹر نوائے وقت کے توسط سے بھیجی تو معلوم ہوا کہ معاملہ خادم پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس جا کر رک گیا ہے حالانکہ سیکرٹری صاحب خادم پنجاب کو تکلیف دینے کی بجائے یہ مسئلہ خود ہی حل کرسکتے ہیں کیونکہ اس پر تمام پیش رو حکومتوں کے واضح احکام موجود ہیں لیکن چونکہ اس میں مقامی اور حکومتی جگا ٹیکس والوں کا مفاد وابستہ ہے اس لئے ماتحت عملہ واضح حکومتی احکام پر عمل درآمد میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
جہاں تک GHQپر حملہ کے مسئلہ کا تعلق ہے تو پنجاب حکومت کہہ سکتی ہے کہ یہ تو GHQکا کنسرن ہے لیکن حملہ تو ظہیرالاسلام کے وقت بھی پنجاب سے ہی ہونا تھا اب اگر موجودہ پنجاب حکومت کی انتظامیہ الرٹ ہوتی تو ظہیرالاسلام کے گروپ کی طرح موجودہ حملہ آوروں کو بھی حملہ سے قبل ہی دبوچا جاسکتا تھا۔ لیکن جیسا کہ محترم اجمل نیازی نے لکھا ہے کہ یہ اصل وزیرستان قبائلی علاقہ میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہے۔ جہاں مبینہ طور پر مرکز کے بعض وزیر کھاتے پاکستان کا ہیں اور نوکری امریکہ کی کرتے ہیں۔چنانچہ اب جبکہ امریکہ پاکستان کو اور پاکستانی افواج کو قبائلی وزیرستان میں الجھانا چاہتا ہے تو ہمارے مرکز کے وزیروں کو خطرہ کی گھنٹی قبائلی وزیرستان سے ہی سنائی دیتی ہے اوراب بھی اسلام آباد کے وزیرستان کے بعض لوگ یہی کہتے ہیں کہ GHQپرحملہ کی وجہ سے وزیرستان پر آپریشن ناگزیر ہو گیا ہے۔ البتہ ہمارے اکثر عوام اس حکومتی پالیسی کو سمجھنے سے قاضر ہیں کہ اگر مثال کے طور پر لاہور مال روڈ پر چوری، ڈکیتی یا دہشتگردی کا سانحہ ہوتو دہشت گردوں سے نمٹنے کی بجائے مال روڈ خالی کرا کے سارے مال روڈ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے اور پھر کشکول پکڑ کر ساری بین الاقوامی برادری سے متاثرین کو دوبارہ بسانے کیلئے بھیک مانگی جائے یہ حکومتی پالیسی سوات کے بعد اب وزیرستان میں دہرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ سوات میں یا وزیرستان میں ہم پاکستانیوں کو کیا تکلیف تھی۔ جو فل سکیل فوجی کارروائیوں کی ضرورت پڑ گئی۔ قیام پاکستان پر قائداعظم کے حکم پر وزیرستان سے فوج کو نکال لیا گیا تھا۔ اس وقت کرنل ایوب خان وزیرستان کے کمانڈر تھے۔ جو بعد میں ملک کے خودساختہ صدر بن گئے تو اب جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کو وزیرستان نے ہمیں کوئی تکلیف نہیںدی اس لئے ضروری ہے کہ قائداعظم کے واضح احکام کی خلاف ورزری کرتے ہوئے وزیرستان میں بڑے فوجی آپریشن شروع کرنے سے قبل عوام اور پارلیمنٹ کو اسکی وجوہات سمجھائی جائیںورنہ عوام تو یہی سمجھتے ہیں کہ وزیرستان میں آپریشن امریکن ایجنڈا مکمل کرنے کیلئے برپا کیا جا رہا ہے۔
اب ہم GHQ ڈیفنس کے مسئلہ کی طرف آتے ہیں آرمی کے اکثر سینئر افسروں کی طرح راقم نے بھی سروس کے کئی ادوار GHQ میں گزرے ہیں۔ اس میں S.G.F کے پرسنل سٹاف آفیسر کی حیثیت سے تقرری انتہائی سبق آموز تھی چنانچہ اپنے تجربہ کی بناء پر راقم کی اس معاملہ میں رائے یہ ہے کہ اب GHQ بہت پھیل چکا ہے اور امریکہ کی ہٹ لسٹ پر بھی آچکا ہے تو GHQ کے ڈیفنس کیلئے صرف سویلین طریقۂ کارپر انحصار کرنے کی بجائے GHQڈیفنس ایک ریگولر بریگیڈ کے حوالہ کیا جائے جس میں بریگیڈ کمانڈر کا اپنا کنٹرول روم ہو اور ہر گیٹ بلکہ GHQ کے سارے پیرامیٹر سے پل پل کی خبر کمانڈر کی نگاہ میں ہو۔ GHQ ڈائریکشن کے مطابق ڈیفنس بریگیڈ کمانڈر اپنا ڈیفنس پلان بنائے اور اس پر سختی سے عمل کرائے واضح رہے کہ ماضی میں ایک اکیلی توپ کاڈیفنس بھی اہمیت کے لحاظ سے ایک بریگیڈ کے حوالہ کیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً ترکی کے فاتح محمد کی مشہور توپ کی پروٹیکشن کیلئے ایک کیولری بریگیڈ مقرر تھا۔یہاں پاکستان میں 1953ء کی آرمی مشقوں میں اکیلی اٹامک گن راقم کے زیر کمان تھی جبکہ راقم میجر رینک میں نوشہرہ میں انسٹرکٹر تھا اس کی حفاظت کیلئے ایک ریگولر بریگیڈئر مقرر تھا اور ان مشقوں کی اہمیت کے پیش نظر یہ مشقیں دیکھنے کیلئے چین کے وزیراعظم کو بھی مدعو کیا گیاتھا اب راقم کا حتمی مشورہ یہ ہے کہ GHQ کے ڈیفنس کو ایک ریگولر بریگیڈ کے حوالے کیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں