مہنگائی.... حکمران طبقہ کا کردار....(۱)
ـ 19 جنوری ، 2011
محمود مرزا۔۔mmirza32@hotmail.com
مہنگائی کے کچھ اسباب مقامی ہوتے ہیں اور حکمران طبقے کے اختیارات میں ہوتے ہیں اور کچھ عوامل بیرونی ہوتے ہیں۔ یہاں مہنگائی کے ان اسباب پر غورکیا گیا ہے جو حکمران طبقے کے اختیار میں ہیں۔ مناسب ہے کہ پہلے بیرونی عوامل کا مختصر تعارف ہو جائے مثلاً اگر عالمی مارکیٹ میں کسی شے کی قیمت بڑھ جائے جو ہم درآمد کرتے ہیں تو وہ مہنگائی کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ جب پٹرولیم اور اشیائے خوراک کی عالمی قیمتیں بڑھیں اندرون ملک ان کی قیمتوں کی سطح بلند ہو گئی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا جب عالمی سطح پر زرمبادلہ یا مالیات کا بحران پیدا ہو تو اس نے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ملک میں قیمتوں کی عمومی سطح بلند ہو گئی۔
اب ہم ان اسباب کا ذکر کریں گے جن کے ذمہ دار ہمارے حکمران اور بالادست طبقات ہیں۔ بڑا مسئلہ بجٹ کا ہے۔ وفاق کے بجٹ اخراجات اس کے ریونیو سے بہت زیادہ ہیں۔ 30 جون 2010ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ (2017 بلین روپے) مجموعی ریونیو (1397 بلین روپے) سے 620 بلین روپے زیادہ تھے، ترقیاتی اخراجات(568 بلین روپے) اس کے علاوہ تھے جن کا انحصار تمام تر قر ضوں پر تھا۔ ترقیاتی اخراجات شامل کر کے مجموعی بجٹ خسارہ1188 بلین روپے ہو گیا۔ خسارہ پورا کرنے کےلئے حکومت نے ملکی اور غیر ملکی قرضے حاصل کئے اور کرنسی نوٹ چھاپے۔ جب کرنسی نوٹ جاری ہونگے مگر قومی پیداوار اور ٹیکس ریونیو میں بڑا اضافہ نہ ہو تو وہ افراط زر کا سبب ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ ایک عرصہ سے ترقیاتی بجٹ ہماری ضروریات کے حوالے سے بہت کم رہا ہے۔ ایسا دانستہ کیا گیا تاکہ بجٹ خسارہ کم سے کم رہے۔
ماہرین کی رائے کے مطابق پاکستان کے بجٹ خسارے کی قومی پیداوار سے نسبت چار فیصد سے کم ہونی چاہئے۔ اگر یہ شرح بڑھ جائے تو افراط زر اور مہنگائی کا موجب بنتی ہے۔ سیکرٹری خزانہ کے مطابق جاری سال میں خسارا چھ فیصد تک محدود کرنے کی کوشش ہو گی۔ بعض ماہرین کا خدشہ ہے کہ خسارے کی شرح7.5 فیصد کی حد چھو جائے گی۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے لازمی ہو گا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کم سے کم کئے جائیں، قومی دولت کا ضیاع روکا جائے اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو۔ آئی ایم ایف کے مطالبات میں یہ نکات شامل ہیں۔ اس کا اولین مطالبہ یہ ہے کہ ٹیکس ریونیو بڑھانے کی خاطر آر جی ایس ٹی (اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس) کا قانون بنا کر اس پر عملدرآمد کیا جائے۔ اس کے برعکس حزب مخالف کی جماعتیں یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ آر جی ایس ٹی کے نفاذ سے پہلے بڑے زمینداروں کی آمدن پر زرعی انکم ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے، ٹیکس چوری روکی جائے اور قومی دولت کا ضیاع ختم کیا جائے۔ تاجر بھی آر جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف ہیں۔ فی الحال حکومت اس حیثیت میں نہیں کہ آر جی ایس ٹی کا قانون نافذ کر سکے۔ اس نے آئی ایم ایف سے استدعا کی کہ اس کے نفاذ میں نو ماہ کی توسیع کی جائے۔ اس نے یہ درخواست منظور کر لی البتہ قرض کی مزید رقم جو پاکستان کو دینا طے تھی روک لی۔ اس وجہ سے بجٹ کی ضرورت پوری کرنے کےلئے حکومت بے بہا کرنسی نوٹ چھاپ رہی ہے۔ غالباً مستقبل قریب میں حکومتٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے رائج جنرل سیلز ٹیکس میں ترمیم کرےگی۔
جون2010ءمیں ختم ہونے والے سال کے دوران حکومت نے کل1,483 بلین روپے کے ٹیکس وصول کئے۔ 942 بلین روپے کے ٹیکس اشیا پر نفاذ سے حاصل کئے گئے۔ ڈائریکٹ ٹیکس جو اصولاً آمدن یا دولت کے حوالے سے وصول کیاجانا چاہئے اس کا بیشتر حصہ بھی اشیا پر نفاذ سے وصول کیا جاتا ہے۔ یوں ایک حد تک انکم ٹیکس کا قانون ا شیا پر نفاذ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ وہ تاجر جن کی اشیا پر انکم ٹیکس کے قانون کے بچت ٹیکس و صول کیا جاتا ہے، ان کی آمدن پر انکم ٹیکسنافذ نہیں، علاوہ ازیں اشیا پر متعدد دوسرے ٹیکس بھی عائد ہیں۔ سب سے اہم جنرل سیلز ٹیکس ہے پھر کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی، سپیشل ایکسائز ڈیوٹی، گیس اورپٹرولیم سرچارج اور پٹرولیم لیوی ہیں۔ یہ سب ٹیکس اشیاءکی لاگت بڑھاتے ہیں، ان کا بوجھ عام صارف پر پڑتا ہے۔ المختصر ٹیکس کا بیشتر حصہ عام صافین سے حاصل کیا جاتا ہے۔
ترقیاتی اخراجات ملک کے پیداواری ڈھانچے کو مستحکم کرتے ہیں نتیجتاً قومی پیداوار بڑھتی ہے۔ قومی دولت میں اضافہ ہوتا ہے اور ٹیکس وصولی زیادہ ہوتی ہے مگر ترقیاتی منصوبوں کےلئے ہمارے بجٹ میں گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں بیرونی وسائل اور بنک کریڈٹ کی فراوانی سے خوشحالی بڑھی مگر وہ دیرپا نہ تھی کہ اس دور میں اہم ترقیاتی منصوبے قائم نہ ہوئے۔ اس دور میں پانی کے قابل ذکر ذخائر اور نئے بجلی گھر نصب نہ ہوئے۔ پانی اور بجلی کی کمی جو آج درپیش ہے وہ جنرل مشرف کے دور کا تحفہ ہے۔ بجلی کی کمی بالآخر بجلی کی مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور چوری بڑھانے کا سبب بنی۔ اس سے صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔ جس کے نتیجے میں بے روز گاری بڑھی۔ علاوہ ازیں اس دور میں کاروں اور ایئرکنڈیشنوں وغیرہ کی اسمبلنگ بڑھی۔ ان اشیا کی مانگ بڑھانے کے لئے حکومت نے فراخدلانہ بنک کریڈٹ کی پالسی اختیار کی۔ اس سے بظاہر ویلیو ایڈیشن ہوئی مگر ان اشیاءکی وجہ سے پٹرول اور بجلی کا استعمال بڑھا۔ حقیقی فائدہ جاپان اور چین کو حاصل ہوا، جن سے پاکستان نے کاروں اور ایئر کنڈیشنوں کے پارٹس درآمد کئے۔ پاکستان کا سچا خادم وہ ہو گا کہ ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سستا نظام رائج کرے گا مثلاً ریلوے اور بسوں کا بہتر بندوبست تاکہ کاروں اور پٹرول کی درآمد کم ہو۔ مگر حقیقی معاشی ترقی جدید علوم کے فروغ سے ہو گی۔ جب تک معاشی عمل کا انحصار جدید علوم و فنون پر قائم نہ ہو گا۔ ملک کی پیداوار اور دولت میں بڑا اضافہ نہ ہو گا۔ آج کے دور میں معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا موثر ذریعہ جدید علوم و فنون ہیں۔ اس شعبے میں پسماندگی دور کرنے کی جانب حکومت اور قوم کی درکار توجہ موجود نہیں۔
ہمارے حکمران اور خوشحال طبقے اپنی آمدن پر ٹیکس دینے کےلئے تیار نہیں چنانچہ حکومت نے پٹرولیم اور گیس پر ٹیکس بڑھایا۔ یوں مہنگائی میں اضافہ کیا۔ جو طبقات برسراقتدار ہیں ان کے دور میں نمود و نمائش اور غیر ترقیاتی اخراجات کم ہونا مشکل ہیں۔ ان طبقوں کا دعویٰ ہے کہ اس قدم سے بڑی بچت حاصل نہ ہو گی۔ اس کے ثبوت میں وہ اعداد و شمار (چار پانچ بلین روپے) پیش کرتے ہیں۔ ان کے بقول اس بچت کی کوئی اہمیت نہیں کہ مجموعی بجٹ خسارہ1200 بلین کے لگ بھگ ہے مگر جس شے کو وہ نظر اندازکرتے ہیں وہ غیر صحت مند اثر ہے جو قومی کلچرپر مرتب ہوتا ہے۔ ہمارے حکمران فضول خرچ ہیں، ان کا یہ عمومی رویہ حکومت کی حکمت عملی متعین کرتا ہے۔ خوشحال اور متوسط طبقہ جو سیاست سے باہر ہے وہ بھی حکمران طبقے کی پیروی کرتا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ہماری قومی بچت کم ہے۔ بچت جتنی کم ہو گی، قرضوں پر انحصار اتنا بڑھے گا۔
قومی وسائل کا ضیاع، غبن اور چوری کے قصے زبان زدعام ہیں۔ یہ برائیاں معیشت اور قوم پر کئی انداز سے برا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ عام ٹیکس گزار پورا ٹیکس دینے سے گریز کرتا ہے۔ ٹیکس گریزی لوٹ کھسوٹ کے کلچر کا ہی پرتو ہے۔ لوٹ کھسوٹ اور بدانتظامی کی دوسری مثال سرکاری ملکیت میں تجارتی اور صنعتی ادارے ہیں جہاں سالانہ خسارا تین سو بلین روپے کے لگ بھگ ہے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں