اسلامی ریاست کی تشکیل … (۱)

پروفیسر نعیم قاسم ـ 16 جنوری ، 2011
ریاست کسی بھی خودمختار علاقے کی سب سے زیادہ مقتدر سیاسی تنظیم ہوتی ہے جو اپنے علاقے میں رہنے والے عوام کو مختلف طرز کے قاہرانہ اور نظریاتی ذرائع سے اپنے احکام کا پابند بناتی ہے۔ ریاست انسانوں کی پہلی بااختیار معاشرتی تنظیم بھی نہیں ہے۔ یہ انسانوں کا بنایا ہوا سماجی ادارہ ہے جسکی تشکیل چھ ہزار برس میں ارتقاء کی کئی منزلیں طے کرنے کے بعد وجود میں آئی۔ خاندان، برادریاں، گھرانے اور قبیلے ریاست سے لاکھوں برس بیشتر موجود تھے اور اُنکی معاشرتی ضرورتوں کیمطابق اصول و ضوابط بھی قائم تھے۔ قبیلے کا سردار سب سے زیادہ مقتدر شخص ہوتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر مکے اور مدینے میں قبیلہ داری نظام رائج تھا۔ ریاست معاشرتی ارتقاء کی ایک خاص منزل پر نمودار ہوتی ہے جب کسی معاشرے کے مختلف گروہ مختلف تضادات کا شکار ہو کر اپنے اپنے سیاسی، معاشی، سماجی مفادات کے تحفظ اور اپنے وجود کی بقاء کیلئے آپس میں کشمکش کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں اور اُنکے درمیان ایسی مخاصمتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ اُنکے درمیان کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں رہتی ہے تو پھر معاشرے میں انارکی روکنے کیلئے اور مختلف طبقوں کے باہمی ٹکرائو کو ایک حد میں رکھنے کیلئے ایک بالادست ادارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جسے ریاست کہا جاتا ہے اور ریاست کے حکام مختلف قوانین اور اصول و ضوابط کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقوں کے مابین افہام و تفہیم برقرار رکھتے ہیں ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے قبائلی نظام تھا جس میں انسانوں کی وحدت کی بنیاد خونی رشتے، مذہبی اور سماجی عقائد اور رسوم و رواج اور زبان کی یکسانیت پر تھی اور اس کیلئے کسی مخصوص علاقے سے وابستگی کی شرط نہ تھی جبکہ موجودہ حالات میں ریاست ایک علاقائی اور جغرافیائی سیاسی وحدت ہے جو محض خونی رشتوں سے متعین نہیں ہوتی ہے بلکہ اِسکی حدود میں ایک سے زیادہ قبیلوں، قوموں، زبانوں اور مذہبوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں حالات حاضرہ کے پیش نظر انسانوں نے اپنی معاشرتی، سیاسی اور معاشی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جس طرح کی بھی ریاست تشکیل دی وہ نقائص سے مبرا نہ تھی اور انسانوں کے درمیان جنگ و جدل کو نہ روک سکی۔ غرضیکہ ریاست خواہ وہ تھیوکریسی تھی، بادشاہت یا جمہوری اور اشتراکی تھی بنیادی طور پر طبقاتی کشمکش کا شاخسانہ رہی۔ تھیو کریسی مذہبی پیشوائوں کے اقتدار اور مفاد کا تحفظ کرتی رہی، ملوکیت کا فریضہ بادشاہ اور شاہی خاندان کے اقتدار کو قائم رکھنا تھا۔ بورژوا جمہوریتیں سرمایہ دار طبقوں کے مفادات کا تحفظ کرتی رہیں جبکہ سوشلسٹ ریاستیں محنت کش طبقوں کے مفادات کے تحفظ کی آڑ میں بیورو کریسی کو مضبوط اور توانا کرتی رہیں۔
قارئین ابتدائی ریاستیں تھیوکریٹک طرز پر وجود میں آئیں۔ تھیوکریسی ریاست کی وہ قسم ہوتی ہے جس میں حکومت کے قوانین ’’احکام خداوندی‘‘ سے منسوب کئے جاتے ہیں اور حاکم اعلیٰ خدا کا اوتار یا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسی ریاست میں عوام اقتدار میں شریک کار نہیں ہوتے ہیں بلکہ کوئی بھی طاقتور فرد کسی بھی طریقے سے سربراہ مملکت بن کر احکام خداوندی کی ترجمانی کا مدعی بن جاتا ہے۔ جب ازمنۂ قدیم میں شہر وجود میں آئے تو منڈیوں اور بازاروں کا بھی قیام عمل میں آیا اور اِن شہروں کا مرکز کوئی نہ کوئی عبادت گاہ ہوتی تھی اور یہ عبادت گاہیں اور اِنکے پروھت بڑے بااثر اور دولت مند ہوتے تھے۔ اِن مندروں میں جس دیوی اور دیوتا کی پوجا ہوتی تھی اُسکے نام پر بستی کا نام رکھ دیا جاتا تھا۔ اِن عبادت گاہوں نے ابتدائی ریاستوں کی تشکیل میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اِن ابتدائی ریاستوں میں پروھت راج ہوتا تھا اور ریاست کا سربراہ مذہبی پیشوا کو بنایا جاتا تھا۔ اور وہ زمین پر دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا۔ اِسکے بعد ملوکیت طرز حکومت کی ریاست میں بادشاہ کو اقتدار اعلیٰ کا ملاک سمجھا جانے لگا تاہم مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات بدستور پروھت ہی کے پاس ہی رہے۔ یہ پروھت مذہبی احکام کیمطابق قوانین بناتے تھے اور یہ مکمل اجارہ داری رکھتے تھے کہ فیصلہ کریں مذہب کی روح سے کونسا فعل درست ہے اور کون سا غلط۔ منصب نے کس جرم کی کیا سزا مقرر کی ہے‘ لہٰذا کسی بھی ریاست کی تشکیل کے ابتدائی ادوار میں مذہب کی چھاپ نمایاں رہی۔ ملوکیت کے اِن ادوار میں بادشاہوں کی شخصیت کے اردگرد مذہبی پروھتوں نے تقدس کے ہالے قائم کر دئیے تھے جو اموی اور عباسی خلفاء کے دور میں بھی بدستور قائم رہے جہاں بادشاہوں کو درباری علماء نے ظل اللہ کے خطاب سے نوازا۔ اِن درباری علماء اور مفسروں نے بھی غیر مسلم مذہبی پیشوائوں کی طرح حاکم وقت کی اطاعت کو اللہ اور رسول کی اطاعت کی طرح واجب قرار دیا۔ عہد قدیم کی سلطنتوں میں چاہے حاکم مسلمان تھے یا غیر مسلمان اُنکو خدا کے نائب کے طور پر الوہی استحقاق حاصل تھا جس کی وجہ سے ہندوستان میں اکبر بادشاہ نے دین اکبری کی بنیاد رکھ دی اور علماء کرام کی اکثریت نے اُسکے کفر کے نظام کو سند فضیلت عطا کی۔
بادشاہت کے دور ہی میں فیوڈل ازم نے طاقت پکڑی تو جاگیرداروں اور مذہبی پیشوائوں کے مشترکہ مفادات کی وجہ سے تھیوکریسی مکمل نظام حیات بن گئی۔ پیدائش سے موت تک زندگی کے تمام مراحل میں پروھت، پادری، ملاں، پنڈت کی ضرورت اور حیثیت مسلمہ ہو گئی۔ مذہبی پیشوائوں نے اپنے معاشی مفادات کیلئے انسانوں کی ولادت، منگنی، شادی، بیاہ، مردے جلانے یا دفن کرنے اور تجہیز و تکفین کی تمام رسومات پر اجارہ داری قائم کر لی اور اُنکی اجارہ داری آج بھی قائم ہے۔ کوئی بھی پنڈت، پادری یا ملاں جب چاہے کسی شخص کی مذہبی رسومات ادا کرنے سے انکار کر دے یا اُسکو جنت یا دوزخ کی بشارت سنا دے اِس پر کون قدغن لگا سکتا ہے۔
قارئین جب تک ریاست اور رعایا کا مذہب ایک رہا تو مذہبی پیشوائوں کو شرعی قوانین کے نفاذ میں کوئی دشواری نہیں آئی مگر جب ریاستیں سلطنتوں میں بدل گئیں اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی رعایا بن گئے تو مختلف اقوام کی رعیت اور سیاست میں تصادم کی نئی شکل ابھرنے لگی۔ اسرائیلی علاقوں پر جب رومیوں نے قبضہ کر کے اپنے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی تو اسرائیلیوں نے اِن قوانین کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آخر میں یہ طے پایا کہ یہودیوں کے آپس میں مقدموں کا فیصلہ بدستور یہودی عدالتیں کرینگی اور سلطنت کے شہری ہونے کی حیثیت سے یہودیوں کو رومی قوانین کی پابندی کرنی ہو گی۔ برصغیر میں برطانوی عہد میں مسلمان اقلیت میں تھے چنانچہ اُنہوں نے بھی دوسروں کی طرح انگریزی قوانین کی پیروی کی۔ انگریزوں نے بھی فوجداری کے ضابطے اور قوانین بلحاظ مذہب اور ملت تو پورے مُلک میں نافذ کئے۔ البتہ سول قوانین جنکا تعلق خالص مذہبی عقائد سے تھا اُنکے بارے میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے الگ الگ قوانین بنائے۔ قارئین! ملوکیت میں بادشاہ کا مذہب ریاست کا سرکاری مذہب ہوتا تھا۔ اور قوانین بھی مذہبی احکام کی روشنی میں وضع کئے جاتے تھے مگر مطلق العنان بادشاہوں کے عہد میں مذہب ریاست کے تابع ہو گیا۔ اور ریاست کی سیاسی مصلحتوں کو شرعی احکام پر ترجیح دی جانے لگی اگر کسی مذہبی پیشوا نے ریاست کے طرزعمل سے اختلاف کیا تو اُسکو یا قتل کر دیا جاتا یا قید میں پھینک دیا جاتا۔
امام ابوحنیفہ نے بارہ سال قید میں گزارے۔ امام احمد بن حنبل کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے۔ امام مالک کو سخت اذیتیں دی گئیں۔ سلطان صلاح الدین کے حکم پر شیخ شہاب الدین سہروردی کو قتل کر دیا گیا۔ منصور اناالحق کہنے کی پاداش میں سولی چڑھ گیا اور سرمد سرمست کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کیونکہ بادشاہوں کیلئے گوارا نہیں تھا کہ کوئی اُنکو اللہ کا نائب نہ تسلیم کرے۔ مغربی دنیا میں صورتحال اِس سے بھی زیادہ گھمبیر تھی۔ کلیساء بڑی طاقتور سیاسی قوت تھی۔ پوپ اپنے آپکو زمین پر یسوع مسیح کا نمائندہ کہتا تھا۔ عیسائیت سلطنت کا سرکاری مذہب تھا۔ پوپ لاکھوں کی تعداد میں شہریوں اور دیہاتوں میں کارڈینل آرچ، بشپ اور پادری مقرر کرتا تھا اور وہ پوپ کے علاوہ کسی دوسری اتھارٹی کا حکم تسلیم نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اُن پر کسی جرم کی صورت میں ریاستی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا تھا جبکہ مذہبی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل کرنا ہر حکومت کا فرض تھا۔ عیسائی پیشوا اگر کسی نومولود کی بیتسمہ نہ دیتے تو وہ ذات سے باہر ہو جاتا۔ وہ اگر کسی کا نکاح نہ پڑھاتے تو اُسکی اولاد حق وراثت سے محروم کر دی جاتی۔ وہ اگر کسی کی آخری رسم ادا نہ کرتے یا نماز جنازہ نہ پڑھاتے تو اُسکا مقام جہنم قرار دیا جاتا۔ پادریوں کے سوا کوئی بھی بچوں کو نہیں پڑھا سکتا تھا اور نہ ہی تعلیمی ادارہ قائم کر سکتا تھا۔ کلیسا انسانوں کی پوری زندگی پر حاوی تھا جو شخص بھی کوئی روشن خیالی کی بات کرتا تھا اُسکو ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے مارے جاتے اور پھر اُنکی ہڈیاں توڑ دی جاتی تھیں اور اُنکی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا تھا ۔ برونو بائر کو آگ میں زندہ جلا دیا گیا۔ ہزاروں سائنس دانوں کو جادوگر جادوگرنیاں قرار دیکر ہلاک کر دیا گیا۔ گلیلو نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اُس نے مذہبی عدالت میں اپنا بیان یہ کہہ کر واپس لے لیا ’’میرے کہنے نہ کہنے سے کیا ہو گا زمین نے تو گھومتے ہی رہنا ہے‘‘۔ درس گاہوں میں وہی علوم پڑھائے جاتے تھے جن سے کلیسائی عقائد کو تقویت ملتی تھی جبکہ سماجی اور سائنسی علوم پڑھانے پر پابندی تھی۔ آخر کار مارٹن لوتھر، تھامس مونزر، زونگلی جیسے باغیوں کی جدوجہد سے پروٹسٹنٹ فرقہ وجود میں آ گیا جس نے کلیساء سے مکمل قطع تعلق کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ خدا اور انسان کے درمیان رابطے کیلئے پادری ناگزیر نہیں ہے۔ بلکہ ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ انجیل اپنی زبان میں پڑھے، اپنی زبان میں عبادت کرے اور اپنی سمجھ کیمطابق عمل کرے۔
رومن کلیساء کو نیچا دکھانے میں پہل برطانیہ نے کی۔ ہنری ہشتم نے روم سے ناطہ توڑ دیا اور کلیساء کی جائیدادیں ضبط کر لیں اور پادریوں کو درسگائوں سے نکال دیا گیا مگر بادشاہ کا ’’الوہی استحقاق ملکیت‘‘ بدستور رائج رہا‘ مگر چارلس اول کے عہد میں الوہی استحقاق کا نظریہ بھی بادشاہ کے سر قلم ہونے پر خاک میں مل گیا‘ اگرچہ برطانیہ نے تھیوکریسی کو ختم کرنے میں سبقت لی لیکن بقیہ یورپ کو اِس عمل کی تکمیل میں سو سال لگے اور آخر کار انقلاب فرانس نے پاپائیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور کلیساء کی خودمختار مملکت جو تھیوکریسی کا سب سے مضبوط قلعہ تھی ویٹی کن کے 1109 ایکڑ رقبے تک محیط ہو گئی۔ جو روم کا ایک محلہ ہے اور آبادی محض چند ہزار ہے۔ سترھویں اور اٹھارویں صدی کو یورپ میں خردمندی کا عہد کہا جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے مغربی معاشرے کی کایا پلٹ دی۔ جب عقل آزاد ہوئی تو سماجی ماہرین کی ایک ایسی کھیپ پیدا ہوئی جس نے قرون وسطیٰ کے عقائد اور نظریات کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دئیے۔ بیکن، ہالبس، روسو، والٹیر ژاں پال سارتر نے جدیدیت کی بنیاد رکھی۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں