خود کش حملوں کے پیچھے کون ہے؟

Different ـ 15 جون ، 2009
لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل
مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت ایک عالم کی شہادت ہے۔ کہا جاتا ہے موت العالم موت العالم… یعنی ایک عالم کی موت ایک دنیا کی موت ہے۔ دشمن ایک عرصے سے ہمیں کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ وہ ہمیں اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے اور ہم ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم کمزور نہیں بس جرات اظہار کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ اگر ہم پورے قد کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور امریکہ سے کہہ دیں کہ تم دس سال سے ایک لایعنی جنگ لڑ رہے ہو اور تم نے اب نئے دشمن پیدا کر لئے ہیں تو یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ ہم تمہاری اس بے مقصد جنگ میں شریک ہو کر اب اپنا نظریاتی‘ جانی اور اقتصادی نقصان نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت ایک بڑے امریکہ مخالف عالم کی شہادت ہے‘ یہ شہادت ایک سازش کے تحت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید جہاد کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ ایک بڑا عاشق رسولؐ کس طرح جہاد کا مخالف ہو سکتا ہے کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود جہاد میں حصہ لیا تو وہ نبیؐ کی سنت کے خلاف کیسے جا سکتے تھے۔ جب 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس حملے کے خلاف سرفراز نعیمی شہید نے جامعہ نعیمیہ میں ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد کیا تھا۔ مجھے بھی انہوں نے شرکت کی دعوت دی میں بھی شریک ہوا۔ میرے ان کے ساتھ بہت اچھے مراسم تھے۔ بلاشبہ خودکش حملے حرام ہیں اور اس بارے میں ان کا موقف واضح تھا لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہادکے مخالف تھے تو یہ اس شخص کی غلط فہمی ہے۔
وہ اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔ متحدہ علماء کونسل کے صدر رہے۔ آج علماء پر ان کی شہادت کے بعد بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت ایک گھنائونی اور خطرناک سازش ہے کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی طرف دھکیل دیا جائے۔ صرف اس لئے کہ امریکہ افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اپنا کنٹرول کابل سے آگے نہیں بڑھا سکا ہے اور اس ناکامی کے بعد امریکہ افغانستان کی جنگ کو بڑی حد تک پاکستان کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی نظر آتا ہے۔ لیکن انشااللہ وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اب نیا طریقہ کار اور نئی سازش اس نے اختیار کی ہے۔ اس کا منصوبہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے مدرسوں کو آپس میں لڑوا دیا جائے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ بیت اللہ محسود نے اور ان کی تحریک طالبان نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جو گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ طالبان ہیں تو وہ یہ جنگ پاکستان کیوں لے آئے اور انہیں اس بات کا احساس کیوں نہیں کہ ان کا اصل دشمن کون ہے؟ جبکہ انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے۔ اور وہ اس امریکی ایجنڈے کو پورا کرنے پر کاربند ہو گئے جسے امریکہ کی رینڈ کارپوریشن نے تشکیل دیا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کی مشہور اسکالر شیرل برنارڈ Chyrl Bernard کا تعلق ایک مشہور یہودی خانوادے سے ہے۔ ان کے قریبی عزیزوں میں سوئیس برنارڈ اور اسٹیفن کوہان شامل ہیں اور اب سب سے اہم بات کہ افغانستان اور عراق میں امریکی سفیر رہنے والے افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد کی بیوی ہیں۔ زلمے خلیل زاد امریکی دفتر خارجہ کے اہم عہدے دار ہیں۔ شیرل نے رینڈ کارپوریشن کے حکم پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا جواب بھی رینڈ کارپوریشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس مقالے کو اگر پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں پڑھا جائے۔ تو سمجھ میں آتا ہے کہ امریکہ کی تمام خفیہ کارروائیاں اس مقالے کی روشنی میں ہو رہی ہیں۔ شیرل نے تجویز کیا تھا کہ مسلمانوں کو ماڈریٹ بنانے اور ان کے اندر سے جذبہ جہاد ختم کرنے کیلئے کون کون سے طریقے اختیار کئے جائیں۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بے اثر بنا دیا جائے اور مسلمانوں کی فرقہ وارانہ تقسیم کا نہایت گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے تاکہ مسلم معاشرے کی تحلیل کیلئے اس تقسیم کو (نعوذباللہ) استعمال کیا جا سکے۔ شیرل نے مسلمانوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے طبقے کو صوفی مسلمانوں کا طبقہ قرار دیا گیا ہے۔ (جس میں پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کے مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے اور تجویز کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان میں بڑی تعداد میں ہیں اس لئے ان کو دیگر مسلمانوں کے خلاف کر دیا جائے اور ان سے الگ کر دیا جائے اور پھر وہ ان کے معاملات میں دلچسپی نہ لیں۔ دوسرا طبقہ وہابی اسلام کا طبقہ قرار دیا گیا ہے جس میں دیوبندی مکتبہ فکر اور اہلحدیث مکتبہ فکر کو شامل کیا گیا ہے۔
تیسرا شیعہ طبقہ جس میں شیعہ مکتبہ فکر کے تمام مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے اور چوتھا طبقہ سیکولر مسلمان جو کسی بھی مسلک پر عمل نہیں کرتا بلکہ اسلام کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا نہیں ہوتا۔ شیرل نے اس کے باوجود مسلمانوں کو دو بڑے طبقات میں تقسیم کیا… آرتھوڈوکس اور سیکولر۔ آرتھوڈوکس میں قدامت پرست اور مولوی حضرات جو پرانی روایات پر عمل پیرا ہیں اور سیکولر جن کی تعداد بہت کم ہے۔ شیرل کے مطابق یہ کچھ نہیں کر سکتے۔ البتہ باقی تین مسلمان طبقات کو آپس میں لڑانے کے اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔
یعنی مسلمان کے آپس میں تصادم کے نتائج امریکیوں کے بھی اچھے ہوں گے۔ اس وقت پاکستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ کئی جہتوں میں ہے۔ اور مختلف علاقوں میں ہے۔ اس کھیل میں ضروری نہیں کہ وہی عناصر شامل ہوں جو فرقہ وارانہ عصبیت رکھتے ہوں بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اگر تحقیقات کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ ہوں تو اس کھیل کے اصل کھلاڑی سامنے آئیں گے۔
فرقہ واریت کو ہوا دینے کا آغاز تو پہلے سے شروع ہے لیکن بریلوی مکتبہ فکر کو چھیڑنے کا سلسلہ مولانا نعیمی کی شہادت سے نہیں شروع ہوا بلکہ اس پر امریکہ نے اوپننگ رائونڈ نشتر پارک میں امریکہ نے 2006ء میں سنی تحریک کی پوری قیادت کو ختم کو ختم کرکے کیا تھا۔ 51افراد کو شہید کیا گیا۔ اور اس کے لئے انہوں نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے چوتھے طبقے سیکولر مسلمان کو استعمال کیا تھا جس کی قیادت پرویز مشرف کر رہے تھے۔ عاشقان رسولؐ کی شہادت کے لئے 12ربیع الاول کے مقدس دن کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ایک مقدس اجتماع کو نشانہ بنایا گیا۔
اس وقت جب یہ لوگ نماز مغرب کی ادائیگی میں مصروف تھے اس وقت معلوم ہو گیا تھا کہ یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے لیکن اس معاملے پر تحقیقات کو پچھلی حکومت نے بند کر دیا اور موجودہ حکومت نے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ اگر اس واقعے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو پھر کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ ایسے کام کرتا۔ اور شاید مولانا سرفراز نعیمی کی شہادت کا المناک واقعہ بھی پیش نہ آتا۔ پرویز مشرف نے ملک بھر میں سیکولر قاتلوں کو، چاہے وہ ربیع الاول کے واقعہ میں ملوث ہوں یا 12مئی کے، ملک بھر میں پھرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا۔ شیرل نے اپنے مقالے میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلیوں کو فوج کے ساتھ لڑوا دیا جائے اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروا دیے جائیں۔ میں اس وقت اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ کون غلط ہے کون صحیح۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی عناصر قبائلیوں کے اندر سرایت کر گئے ہیں اور امریکی شیطانی منصوبے نے ان کے اندر اپنے پورے قدم جما لئے ہیں اور اب ظاہر ہو چکا ہے کہ بلیک واٹر نامی امریکی تنظیم نے پاکستان میں اپنے قدم جما لئے ہیں۔ اور انہوں نے یہاں پر اپنے اسپائیڈر گروپ بھی قائم کئے ہیں اور یہ سب انہوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی موجودگی میں کیا۔ بلیک واٹر سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کی سکیورٹی ایجنسی ہے جسے آپ اس کا گینگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی ایجنسی پاکستانی فوجیوں کو دہشت گردی کے حلاف تربیت دینے کا منصوبہ رکھتی تھی جسے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے مسترد کر دیا لیکن اسکے کچھ لوگ پرویز مشرف کے دور میں آ چکے تھے اور انہیں پرویز مشرف نے اپنا کام پھیلانے کی پوری آزادی دی۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے اپنی اسپیشل فورسز کے یونٹ بھی پاکستان میں داخل کئے۔ اس کے علاوہ را‘ موساد اور افغانستان کی سابق کمیونسٹ انٹیلی جنس ایجنسی جس میں ابھی تک پاکستان دشمن پرانے کمیونسٹ موجود ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا کھیل کھیلنا شروع کیا ہے۔ ان ایجنسیوں نے اپنا پہلا مضبوط نیٹ ورک کراچی میں قائم کیا اور سابقہ دور میں لاہور میں بھی یہ نیٹ ورک قائم ہوا اور مجھے نعیمی صاحب کی شہادت اسی نیٹ ورک کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ میں امریکہ کا آلہ کار بننے کا جو فیصلہ پرویز مشرف نے کیا یہ اسی کرنی کا پھل ہے کہ آج 30لاکھ افراد بے گھر ہیں اور ملک میں جگہ جگہ خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے ہوتے ہیں اور فوج اپنے علاقوں میں انجانے دشمنوں سے نبرد آزما ہے۔ سول حکومت عملاً ختم ہو چکی ہے۔ پولیس کا کہیں بھی کنٹرول نہیں ہے۔ راستے بند رکاوٹیں دہشت گرد حملوں کو نہیں روک پا رہی ہیںتو صرف اس لئے کہ پرویز مشرف نے سی آئی اے کو قبائلی علاقوں میں اپنے ایجنٹ بھرتی کرنے کی کھلی اجازت دی تھی۔ اب علماء پر ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ واریت کے خلاف متحد ہوں اور عوام کو منتشر نہ ہونے دیں بلکہ یک زبان ہو کر امریکہ یہاں سے نکل جانے کا پیغام دیں۔ یہی اس وقت کی ضرورت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں