مسئلہ کشمیر اور زرداری گیلانی حکومت .... (آخری قسط)

رانا عبدالباقی ـ 12 فروری ، 2012
نوے کی دہائی میں امریکی پروفیسر جوزف شوازبرگ جو نئی دہلی میں جواہر لال یونیورسٹی میں وزیٹنگ فل برائٹ پروفیسر کے طور پر کام کر چکے ہیں نے " مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی تجویز " کے حوالے سے اِس چار نکاتی پروگرام پر ابتدائی کام اپنے تحقیقی مقالے میں کیا ۔ چنانچہ ، خطے میں امریکہ کی بدلتی ہوئی پالیسی کے پیش نظر جوزف شوازبرگ کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے جموں و کشمیر میں بھارتی بالادستی کو مستحکم بنانے کےلئے 2005 میں ایک اہم امریکی ادارے " ورلڈ سیکیورٹی نیٹ ورک " نے راڈ لیتھم کی قیادت میں مزید کام کیا ۔ راڈ لیتھم اِس چار نکاتی پلان میں بھارتی مفادات کے تحفظ کےلئے یہ بات بڑی وضاحت سے کہتے ہیں کہ " پاکستان کو جان لینا چاہئیے کہ بھارت وادی کشمیر کا پورا کنٹرول کبھی نہیں چھوڑے گا، اِس لئے وادی میں اختیارات کی شراکت داری کےلئے بین الاقوامی تعاون سے مشترکہ میکنیزم کا ایک ایسا دقیق نظام وضع کیا جا سکتا ہے جس میں بھارت کو بالا دستی حاصل ہو ۔سرحدوں کو نرم کرنے اور کشمیریوں کو جمہوری سیلف گورننس دینے سے اِس طرح کے حل کی حوصلہ افزائی ہوگی۔کشمیریوں کو بھی یہ جان لینا چاہئیے کہ دونوں میں کوئی ملک بھی اُن کی آزادی کو کبھی تسلیم نہیں کریگا لیکن کشمیر میں سول آزادیوں کو بحال کیا جائے گا اور بھارتی فوج کو بتدریج کم کیا جائےگا۔کشمیری عوام کی قومی امنگوں کو مہمیز دینے کےلئے اِن علاقوں میں سیلف گورننس اور قانون سازی کےلئے ایسی قانون ساز اسمبلی تشکیل دی جائے گی جو بھارت اور پاکستان کے قومی قوانین سے نہ ٹکراتی ہوں "۔جوزف شوازبرگ اور راڈ لیتھم کے پلان میں وہ تمام نکات شامل ہیں جن کا تذکرہ سابق صدر مشرف نے اپنے چار نکاتی پروگرام میں کیا اور اب صدر زرداریا ور وزیراعظم گیلانی بظاہر اِس پلان کا تذکرہ من موہن سنگھ کے گریٹر کشمیر خودمختاری کے حوالے سے کر رہے ہیں ۔
یاد رہے کہ بھارت کشمیر کے اٹوٹ انگ کا دعویٰ کرتا ہے لیکن 1972 کے دوطرفہ شملہ معاہدے کی شق 1(ii), 4(ii), and 6 کے تحت بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا پابند تھا ۔ چنانچہ جب بھارت نے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فروری 1975 میں کشمیری عوام کی مرضی کےخلاف یکطرفہ طور پر ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں کشمیر معاہدے کے نام پر شامل کیا اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا گیا تو ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر پاکستان ، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کا نوٹس دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے بھی لیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیریوں کے حق خوداختیاری کے حوالے سے اپنی کتاب میں بھی لکھا تھا:
" There is nothing in the Simla Agreement to prevent Pakistan from taking the dispute to the United Nations. The Kashmir dispute has been before the United Nations for the past thirty years. Still the problem has remained unsolved. The PPP Government therefore wanted to exhaust the bilateral avenues fully before returning to the United Nations.
۔ اِس اَمر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں خاموش سفارت کاری اور بین الاقوامی کمیونٹی کے تعاون سے بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیریوں کے حق خوداختیاری کے حوالے سےcomposite dialogue کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کا تذکرہ تو کیا ہے لیکن اُنہوں نے کہیں بھی گریٹر کشمیر خودمختاری کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم یا کسی اور بین الاقوامی فورم کی جانب سے کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کی جس کا تذکرہ اب زرداری گیلانی حکومت کر رہی ہے۔ درحقیقت کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کےلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں، چنانچہ کشمیریوں کےساتھ یکجہتی کو مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں کشمیریوں کے حق خوداختیاری کے منافی کسی بھی قسم کے موقف کو اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئیے کیونکہ ایسی کسی بھی کوشش کو کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہی قرار دیا جائیگا ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں