امن کی آشا اور منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل …(آخری قسط)
ـ 11 مارچ ، 2010
سردار محمد اسلم سکھیرا
کشمیر کا مسئلہ تو خود جواہر لعل نہرو یونائیٹڈ نیشن میں لیکر گئے تھے اور استصواب کا فیصلہ یونائیٹڈ نیشن نے سیکورٹی کونسل کے ریزویشن نے وزیراعظم بھارت جواہر لعل نہرو کی ایماء پر کیا لیکن بعد میں وقت حاصل کرنے کیلئے فیصلہ تو کروا لیا جنگ بندی بھی کروا لی لیکن استصواب کا جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ کا وعدہ ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔
امن آشا کے خواہش مند بھارتی حکومت پر زور کیوں نہیں دیتے اقوام متحدہ کی قرارداد اور بھارتی وزیراعظم کے بین الاقوامی فورم پر جو وعدہ کیا تھا اس کی پاسداری کرتے ہوئے کشمیر میں استصواب کرا دیا جائے تاکہ پاکستان بھارت کی تقسیم مکمل ہو جس سے اقوام متحدہ کی بھی سرخروئی ہو اور بھارت اور پاکستان میں امن آشا کی بھی تکمیل ہو۔ یوسف شیرازی صاحب جو پاکستان میں امن آشا کی تکمیل کے لیڈر ہیں ان سے بھی درخواست کروں گا کہ اپنا ہم منصب ہندو ٹائم کے مدیر پر بھی زور دیں کہ بھارتی حکومت کو قائل کریں کہ امن آشا کی خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکتی جب تک مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جائیگا یہ مشکل اور کھٹن کام ہے لیکن اگر نیت صاف ہو تو سب کام پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں لیکن نیت ٹھیک ہونا اہم شرط ہے۔ کشمیر ایشو کو ہی لیجئے بھارت جب بزور بازو کشمیر سے دستبردار ہونیوالا تھا کشمیری مجاہدین نے سرینگر پر بھی قبضہ کر لیا تھا جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ میں پہنچ کر استصواب کشمیر میں کرانے کا ریزولیوشن کروا لئے جس سے سیز فائر ہو گیا اور آہستہ آہستہ بھارت کی فوجیں کشمیر میں داخل ہوتی گئیں اور اپنی بھارتی گرفت مضبوط بھارت کرتا رہا۔ ریفرنڈم کیلئے Mediater بھی مقرر ہوا لیکن ہٹ دھرمی سے اسے بھی ناکام کیا۔
1965ء میں بھی کشمیر ہاتھ سے نکلنے والا تھا کہ تاشقند جا پہنچے اور پھر سیز فائر ہو گیا۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر جب عروج پر تھی تو جنرل مشرف کو قائل کیا کہ میز پر فیصلہ کرتے ہیں جب آگرہ میں واجپائی مشرف کے درمیان چناب کو Dividing Lineکے فارمولا پر فیصلہ ہونے لگا اور تقریباً ہو چکا تھا جس کے تحت کچھ جموں کے اضلاع کے علاوہ باقی کشمیر پاکستان میں شامل کیا جانا تھا تو اس وقت کے بھارتی کمانڈر انچیف نے ڈنڈی ماری اور فیصلہ نہ ہونے دیا اسکی تصدیق ٹی وی پر خود اس وقت کے بھارتی کمانڈر انچیف نے کی جو پاکستان بھارت میں خاصے لوگوں نے ٹی وی پر سنی اور دیکھی۔ اس سے قبل جب نوازشریف کی حکومت تھی اور میاں نوازشریف چین جانیوالے تھے تو خود چناب فارمولا پر عمل کرنے کیلئے مسٹر واجپائی بھارتی وزیراعظم نے میاں نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے بتایالیکن جب نواز شریف صاحب چین کا دورہ کرنے کے بعد واپس آئے تو وہ واجپائی صاحب کے ٹیلی فون کا انتظار کرتے رہے لیکن دوبارہ اس بارے میں کال نہ آئی۔ واجپائی جب پاکستان آئے انہوں نے مینار پاکستان پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پاکستان کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں ہر ملک دوستی کے ساتھ زندہ رہے ۔ 1947ء میں کانگریس کا ریزولیوشن تھا کہ پاکستان فی الحال بننے دیا جائے لیکن اسکے راستے میں اس طرح رکاوٹیں ڈالی جائیں کہ چند سال کے بعد گھٹنے ٹیک کرکہے کہ وہ دوبارہ بھارت میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے۔ بھارت نے اس کانگریس کے ریزولیوشن کی پاسداری کرتے ہوئے جونا گڑھ، حیدر آباد پر غاصبانہ قبضہ کیا جبکہ وہاں کے حکمران پاکستان سے الحاق کی دستاویزات مکمل کر چکے تھے ۔ پاکستان کے فنانسز کا حصہ پاکستان کو نہیں دیا گیا، فوجی اسلحہ اور سامان دینے سے بھی انکار کیا۔ مسلمانوں کو بزور شمشیر بھارت میں قتل کیا گیا پورے ایسٹ پنجاب کے مسلمانوں نے پاکستان میں ہجرت کی اور CPUP سے بھی کچھ لوگ پاکستان میں ہجرت کر کے آ گئے۔ بھارتیوں کا خیال تھا مہاجروں کا بوجھ پاکستان نہیں اٹھا سکے گا لیکن قائداعظمؒ کی قیادت میں وہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔ کشمیر کے راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق پر دستخط بھی نہیں کئے لیکن ان کے جعلی دستخطوں سے بھارتی الحاق کے کاغذات تیار کئے گئے جو ابھی تک تصدیق طلب ہیں۔ بھارت صلح و آشتی کے نام پر جب پھنسا ہوا ہوتا ہے وقت لینے کیلئے کبھی بین الاقوامی فورم اقوام متحدہ میں پہنچ جاتا ہے اور کبھی پاکستانی حکمرانوں کو حکم دیکر وقت حاصل کر لیتا ہے۔بھارت کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے کہ 1946ء کے کانگریس کے ریزولیوشن کی تکمیل کیلئے کوشاں رہتا ہے کہہ مکرنیاں ان کا بنیادی اصول ہے جب روس کی ہمنوائی کر رہا تھا اس وقت بھی امریکہ کے ساتھ پیکٹ تھا لیکن اسکی تشہیر نہیں کی گئی تھی جب بھارت نے چین کا علاقہ چھیننے کی کوشش کی تو 1962ء کی بھارت چین جنگ میں امریکہ نے کھل کر بھارت کی امداد کی اور پاکستان کے حکمران ایوب خان کو بھی منع کیا کہ کشمیر میں کوئی کارروائی پاکستان نہ کرے جنگ ختم ہونے کے بعد کشمیر کا فیصلہ امریکہ کرا دیگا بھارت نے بھی ایسے ہی عندیہ دیئے جس پر ایوب خان جانٹ ڈیفنس کرنے تک کی رضا مندی کر دی لیکن جب چین سے شکست کھائی اور اسکی فوجیں پسپا ہوئیں تو چین نے بڑا ملک ہونے کا ثبوت دیئے ہوئے بھارت کا علاقہ واپس کر دیا۔بھارت نے امریکہ سے بھی اسلحہ اس دوران حاصل کیا لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پھر کشمیر کا معاملہ حل کرنے کی بجائے اسے کولڈ سٹور میں پھینک دیا۔ بھارت جب پھنسا ہوتا ہے حلیمی سے وعدہ وعید کرتا ہے اور وقت حاصل کرتا ہے جب پوزیشن ٹھیک ہوتی ہے تو مُکر جاتا ہے۔ کشمیر کے مسئلہ سے ملحق پانی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان بنتے ہی مادھو پور سے جو نہر نکلتی تھی اور لاہور سے گزر کر سنٹرل پنجاب کو سیراب کرتی تھی اس کا پانی بند کر دیا۔ دولتانہ کی پنجاب میں حکومت تھی اس کو جاری کروانے کیلئے سردار شوکت سے کچھ دستخط کروا لئے۔ ایوب خان کے زمانہ میں دریاؤں کے پانی کا مسئلہ بالآخر اقوام متحدہ میں پہنچا ورلڈ بینک کی معرفت سندھ طاس معاہدہ کیا گیا جس میں راوی‘ ستلج، بیاس بھارت کے حصہ میں دریا دیئے گئے اور چناب، جہلم، سندھ دریا پاکستان کے حصہ میں آئے۔ بھارت نے پہلا قدم جو اٹھایا وہ رنجیت ڈیم بنایا جس سے راوی کا Spil over جو پاکستان میں آتا تھا اس کو مکمل بند کیا گیا اس طرح ستلج دریا کا spil over کے ذریعہ پاکستان آتا تھا اس کو بیاس دریا میں ڈال دیا گیا جس کے نتیجہ میں راوی اور ستلج دریاؤں کا پانی جو پاکستان آتا تھا اس کو مکمل بند کر دیا جس سے سنٹرل پنجاب اور بہاولپور کا علاقہ متاثر ہوا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس وقت پاکستان شور مچاتا یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ دریاؤں کا رخ نہیں بدلا جا سکتا لیکن پہلے تو دریاؤں کی تقسیم ہی غلط تھی بین الاقوامی قانون کیمطابق اوپر کے علاقہ میں نیچے دریا کے بہائو کو نہیں بدلا جا سکتا لیکن پاکستان نے بھارت کی خوشنودی کیلئے ستلج، راوی اور بیاس کے دریاؤں کے پانی کو فراخدلی سے بھارت کو دیدیا۔ بھارت نے خوش ہونے کی بجائے پاکستانی دریا جو کشمیر سے پاکستان داخل ہوتے ہیں ان کا پانی بھی روکنے کی کوشش کی سب سے پہلے وولر بیراج بنانے کی کوشش کی جو مجاہدین کشمیر نے ناکام بنا دی لیکن جب جنرل مشرف نے جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی تو بھارت کو مزید موقع ملا جس سے بھارت نے وولر بیراج مکمل کر کے جہلم دریا کا پانی روک لیا اسکے بعد کرشن گنگا اور بگلیہار ڈیم بنا کر مزید چناب جہلم کا پانی روک لیا۔ پاکستان کی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اب بھارت نے ایک اور ڈیم سندھ دریا کے دہانے پر بنانے کیلئے زمین Acquire کرنے کے ٹینڈر دیئے ہوئے ہیں اوراس پانی کو Tunnelکے ذریعہ اور اس تک پہنچایا جائیگا۔ چناب اور جہلم پر بھی مزید 62 ڈیم بنائے جا رہے ہیں بھارتیوں کی سکیم یہ ہے کہ 2012ء تک پاکستان کو ایک بوند بھی پانی کی نہیں آنے دی جائیگی۔ پاکستان کو مکمل بنجر کر دیا جائیگا۔ پاکستان کے بیچارے انجینئر شور مچا رہے ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ بنایا جا رہا ہے لیکن ہمارے لیڈر اپنی ذاتی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکہ بھارت سٹریٹجک پارٹنر ہے امریکہ نہ ہی پاکستان کا پانی کا مسئلہ حل کرانے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کیلئے تیار ہے۔ بھارت 2012ء تک پاکستان کے پورے دریاؤں کا پانی روکنے کی فکر میں ہے جب پانی نہیں ہو گا کاشت کیسے ہو گی جب کاشت نہیں ہو گی تو پیداوار کیسے ہو گی جب خام مال انڈسٹری کو نہیں ملے گا تو انڈسٹری کیسے چلے گی، اگر انڈسٹری اور زراعت ٹھپ ہو جائیگی تو کسان اور مزدور کو روٹی کہاں سے ملے گی جب ایکسپورٹ نہیں ہو گی تو فارن ایکس چینج کہاں سے آئیگی جب پیسہ نہیں ہو گا تو گندم، چینی اور دیگر ضروریات زندگی امپورٹ کیسے ہوںگی۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے کیسے ادا ہونگے اسلئے اہل اقتدار کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔ بھارت نے روس سے ٹینک اور اسلحہ خریدا ہے وہ چین کیخلاف استعمال نہیں ہو گا پاکستان کیخلاف ہی استعمال ہو گا ۔ اسرائیل امریکہ سے ریڈار سسٹم جہاز، 100 بم بنانے کیلئے یورینیم خریدی گئی ہے وہ بم کہاں استعمال ہونگے۔ نت نئے تجربے میزائل کے جو بھارت کر رہا ہے 300 میل سے 3000 میل تک مار کرنیوالی جو میزائل بھارت نے تیار کی ہیں وہ پاکستان کے علاوہ کہاں استعمال ہونگی۔ ایٹمی آبدوزیں جو بھارت نے خریدی ہیں وہ کس کیخلاف استعمال ہونگی۔ چین کے ساتھ بھارت کبھی پنگا نہیں لے گا پاکستان کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کا خواہشمند ہے ہم پانی کے مسئلہ پر بھی بین الاقوامی مدد لینے سے قاصر ہیں ان حالات میں پاکستان کی حکومت نے بھارت کو سیکورٹی کونسل کا عارضی ممبر بنانے کیلئے ووٹ کس لئے دیا ہے تاکہ بھارت کا ملکی مفاد ادا کر سکے اور باقی ممبروں پر بھی اثرانداز ہو۔ سربراہ مملکت اور اپوزیشن لیڈر بھارت کیخلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتے جب ہم واویلا نہیں مچائیں گے تو آسمان سے فرشتے تو ہماری مدد کیلئے نہیں پہنچیںگے۔
امن آشا کے خواہشمندوں سے میری التجا ہے کہ وہ بھارت سے پوچھیں کہ2012 ء تک پاکستانی دریاؤں کا پانی بند کر کے پاکستانیوں کو بھوکا مارنے کی تجویزیں بند کریں بین الاقوامی قواعد کے مطابق پاکستان کے حصہ کا پانی پاکستان آنے دیں اسلحہ کی دوڑ کو ختم کریں۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بچتی دونوں ہاتھوں سے بچتی ہے۔ ہاتھ میں چھری منہ میں رام رام کا کوئی فائدہ نہیں امن کی آشا اسی لئے ہی ہو سکتی ہے جب نیت صاف ہو۔ آج تک کوئی ایٹم بم دنیا کی کسی قوم کو مکمل تباہ نہیں کر سکا۔ ہیرو شیما، ناگاساکی بم چلنے کے بعد جاپان کی آبادی کم نہیں ہوئی۔ بکرے دنیا میں ہر روز حلال کئے جاتے ہیں لیکن بکروں کی نسل ختم نہیں ہوئی اگر توپوں، میزائلوں، ایٹم بموں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گا تو پاکستانی بم اور میزائل الماریوں کی زینت نہیں بنے رہینگے۔ ایشیئن نسل کم ہو گی۔ مغرب تو عالمی جنگیں دیکھ چکا ہے لیکن مشرق کو مشرق کے لوگ عالمی جنگ میں جھونکیں…؎
کہاں کا عشق و محبت کہاں کا ہجرو وصال
یہاں تو لوگ ترستے ہیں زندگی کیلئے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں