کے ایچ خورشید (مرحوم) … ہمہ صفت موصوف رہنما
رشید ملک ـ 11 مارچ ، 2010
راقم الحروف کو تحریک آزادی کشمیر کے ایک چھوٹے سے کارکن اور قلم کاری سے رغبت رکھنے کے باعث تحریک آزادی کشمیر کے بڑے لیڈروں شیخ محمد عبداللہ، چودھری غلام عباس، اے آر ساغر، سردار محمد ابراہیم، میر واعظ یوسف شاہ، نوجوان کے ایچ خورشید ، سردار سکندر حیات اور دیگر رہنمائوں کو سننے ان سے گفتگو کرنے اور انہیں بظاہر پرکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا یہ تجزیہ غلط نہیں ہو گا کہ اقتدار کی لٹک کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ہو سکتی ہے، ان رہنمائوں کے شخصی کردار پر بظاہر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ (باطن کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے) ان رہنمائوں میں کے ایچ خورشید ہمہ صفت موصوف رہنما تھے، ان میں اللہ تعالیٰ نے اذہانت، لطافت، خطابت، وکالت، سیاست، شعر و ادب سے رغبت، زبان و بیان میں کمالیت (انگریزی اردو، کشمیری، پنجابی زبان پر دسترس) حکمرانی کی صلاحیت خوش جمالی، خوش خصال اور خوش لباس، فکر و تدبر سے مالا مال چاند سے مکھڑے پر شگفتگی اور تقریر کے حسن کیساتھ جملوں اور اشعار کیلئے استعمال میں برجستگی، اجتماع میں خوبصورت تقریر اور استدلال کیساتھ سامعین کا دل موہ لیتے اور مجلس میں شمع مجلس ہوتے یہ ساری خوبیاں اللہ تعالیٰ نے کے ایچ خورشید کی ذات میں ودیعت کر رکھی تھیں۔ پتہ نہیں انکی سحر آفریں شخصیت کو کس کی نظر کھا گئی، وہ 11مارچ 1988ء کو میر پور سے ہائی ایس میں لاہور جاتے ہوئے گوجرانوالہ کے قریب ٹریفک کے حادثہ میں جاں بحق ہو گئے تھے، انکی عمر 64سال تھی، اس جان لیوا سفر سے پہلے کے ایچ خورشید آزاد کشمیر اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن لیڈر تھے‘ انہوں نے اسمبلی میں ایک نہایت خوبصورت تقریر کی تھی، آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات میں مسلم کانفرنس کے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی تھی، اپوزیشن جماعتوں نے اس کیخلاف اتحاد قائم کر کے احتجاج شروع کر رکھا تھا، غالباً سردار مہتاب عباسی وزیر امور کشمیر نے مصالحتی کردار ادا کر کے یہ احتجاج ختم کرا دیا تھا اسمبلی میں اسی موضوع پر کے ایچ خورشید نے اپنی تقریر کو اس شعر کیساتھ اور زیادہ خوبصورت بنا دیا تھا ’’ایک ہی جام نے دونوں کا بھرم کھول دیا‘‘ شیخ مسجد کو گئے رند میخانے کو‘‘ کے ایچ خورشید کا خاندان جموں میں آباد تھا، انکے والد مولانا محمد حسن مسلم سکولز انسپکٹر کی حیثیت میں گلگت میں تعینات تھے، وہیں پر خورشید پیدا ہوئے، پھر والد کی کشمیر میں تعیناتی کے دوران کالج تک وہاں ہی تعلیم حاصل کی، تحریک پاکستان کے عروج کے زمانہ میں خورشید سٹوڈنٹس یونین کے سرگرم کارکن رہے، اورئینٹ نیوز ایجنسی سے وابستہ بھی رہے اور ریاست جموں و کشمیر کے ذہین ترین سیاستدان سحر بیان خطیب اور صاحب طرز ادیب، اے آر ساغر کے پاپولر اور طاقت ور ہفت روزہ جریدہ ’’جاوید‘‘ سے بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر منسلک بھی رہے۔ 1943ء میں راقم الحروف اپنے قصبہ ریاسی سے جموں گئے، اے آر ساغر سے ملاقات کیلئے ان کے دفتر میں گیا تو وہاں شیخ محمد عبداللہ کے دست راست، غلام محمد خاص ایشو پر بات کرنے کیلئے اے آر ساغر کے پاس بیٹھے تھے، راجوری کے مسلم کانفرنس کے کارکن مرزا فقیر محمد اور ایک خوبصورت نوجوان بھی وہاں موجود تھے۔ یہ کے ایچ خورشید تھے میری پہلی بار ان سے ملاقات ہوئی، قائداعظم مئی 1944ء میں سیالکوٹ سے جموں اور پھر وہاں سے سرینگر تشریف لائے تھے، دو ماہ انہوں نے سرینگر میں قیام کیا کے ایچ خورشید سرگرم نوجوان کی حیثیت میں قائداعظم کی ڈاک دیکھنے اور قائد اعظم کی ہدایت کیمطابق اسکا ڈسپوزل کرتے، یہ خدمت دلوں میں قربت اور اعتماد کا باعث بن گئی، قائداعظم کے ایچ خورشید کو اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر ساتھ نئی دہلی لے گئے، تحریک پاکستان کے عروج کے زمانہ میں قائداعظم رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تو کے ایچ خورشید انکے ساتھ گئے تھے، اس تحریک کے اہم ترین مراحل میں کے ایچ خورشید قائداعظم کے معتمد رہے۔ مئی 1946ء میں کشمیر چھوڑ دو تحریک میں شیخ محمد عبداللہ گرفتار ہو کر بھدر واہ جیل میں نظر بند رہے، چودھری غلام عباس آزاد کشمیر کی تحریک میں اپنے ساتھیوں کیساتھ اکتوبر1946ء میں گرفتار ہو کر ہمارے آبائی قصبہ ریاسی جیل میں نظر بند تھے، ایک چھوٹے سے رضا کار کی حیثیت سے انکے ساتھ جیل میں رابطے رکھنے کا مجھے موقع ملتا رہا، چودھری غلام عباس کے ساتھیوں میں مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری آغا شوکت علی بھی ریاسی جیل میں تھے، کے ایچ خورشید کا نئی دہلی سے آغا شوکت علی کے نام ایک خط ہمارے صبح و شام کے دوست حکیم محمد اسلم ایڈووکیٹ کے پتہ پر آیا تھا، یہ خط میں نے آغا شوکت علی کو ایک مسلمان جیل ملازم کے ذریعہ جیل میں پہنچایا، اس خط کا جواب آغا شوکت علی نے جیل سے جن الدین نا می ملازم جیل کے ذریعہ مجھے پہنچایا اسے میں نے کے ایچ خورشید کے نام پوسٹ کیا تھا جیل سے مجھے ہدایت ملی کے ایچ خورشید کے خط کو جموں میں مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر چودھری حمید اللہ کو پہنچایا جائے۔ یہ فرض بھی میں نے ادا کیا۔
اس خط کی اہم ترین یادیں آج میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ یہ تمام حضرات جیلوں میں نظر بند تھے کہ قیام پاکستان کا ایمان افروز اور فرحت انگیز اعلان ہوا۔ کانگریس کے لیڈروں گاندھی اور خاص کر جواہر لال نہرو کی گھنائونی نظریں کشمیر پر تھی۔ مسلم لیگ اس اعتماد پر مطمئن تھی کہ تقسیم ہند کے اصولوں کیمطابق ریاست جموں و کشمیر 80فیصد مسلمانوں کی آبادی اور پاکستان کے ساتھ صدیوں پرانے جغرافیائی، مذہبی، تمدنی اور معاشی و معاشرتی رابطوں کی بنا پر پاکستان کا حصہ ہو گی لیکن کانگرس وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کی پوشیدہ حمایت سے کشمیر کو ہتھیانے کی سازشیں برابر کر رہی تھی۔ اور ریڈ کلف ایوارڈ اس سازش کی پہلی مضبوط کڑی تھی ان سازشوں کا نقطہ عروج گاندھی کا یکم اگست1947ء کو راولپنڈی مظفر آباد کے راستے سرینگر کا سفر تھا۔ گاندھی سرینگر میں تین دن کے قیام کے دوران شیخ محمد عبداللہ کے گھر بھی گئے۔ مہاراجہ ہری سنگھ سے ملنے انکے محل میں گئے ہندوستان کا باپو گاندھی مہاراجہ کے پاس چل کر گیا۔ ہندو مہاراجہ اسکے سامنے ڈھیر ہو گیا کانگرس کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے 19جولائی 1947ء کو سرینگر میں ایک قرارداد کے ذریعے مہاراجہ کو خبردار کیا تاکہ وہ تقسیم ہند کے اصولوں کیمطابق ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرے ورنہ کشمیری عوام علم جہاد بلند کر دینگے۔ شیخ محمد عبداللہ نے بھدرواہ جیل سے ایک ہندو دولت مند کو جو مہاراجہ ہری سنگھ کا بھی معتمد تھا خط لکھا کہ مہاراجہ کو مشورہ دیا جائے کہ وہ ہندوستان سے الحاق کرے۔ کانگریس لارڈ مائونٹ بیٹن کی سازش گہری ہو رہی تھی۔ اس کو ناکام بنانے کیلئے پونچھ کے ایک دیندار پرجوش اور چاک و چوبند 23سالہ نوجوان سردار عبدالقیوم نے 23اگست1947ء کو نیلہ بٹ کے مقام پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع میں قرآن مجید ہاتھ میں لیکر ایک عہد نامہ کیا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان سے الحاق نہ کیا تو جہاد شروع کر دیا جائیگا۔ یہ جہاد بعد میں شروع ہو گیا جس میں صوبہ سرحد کے بھائیوں، مری کے لوگوں اور آزاد کشمیر کے عوام نے حصہ لیا۔ سردار محمد ابراہیم سرینگر سے چھپ کر آزاد کشمیر پہنچے اس جہاد کو وسعت و قوت دی ان کی برادری کے لوگوں نے اس جہادمیں بڑا نمایاں کردار ادا کیا اور آزاد کشمیر کا خطہ آزاد ہوا، پاکستان کے قیام پر قائداعظمؒ نے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا تو کے ایچ خورشید کشمیر کے مستقبل کیلئے سوہانی امیدیں لیکر سرینگر گئے وہاں پر گرفتار کر لئے گئے۔ پاکستان کے حامی سینکڑوں لیڈر اور کارکن پہلے ہی سے نظر بند تھے چودھری غلام عباس مارچ1948ء میں جموں جیل سے رہا کر کے سیالکوٹ پہنچا دیئے گئے تھے۔ انکی کوششوں سے ریڈ کراسکے ذریعے انکے ساتھی لیڈر کارکن بھی اپریل1949ء میں جیلوں سے رہا کر کے سیالکوٹ پہنچا دیئے گئے تھے۔ کے ایچ خورشید بھی ان میں شامل تھے کے ایچ خورشید نے کچھ عرصہ کراچی میں محترمہ فاطمہ جناح کیساتھ بسر کیا۔ وہ لندن چلے گئے وہاں سے بار ایٹ لا کر کے کراچی میں ہی رہے۔ گارڈین ہفت روزہ نکالا آزاد کشمیر کی سیاست سے منسلک بھی رہے۔ 1956ء میں آزاد کشمیر میں اس وقت کے رولز آف بزنس کیمطابق سردار عبدالقیوم کی سربراہی میں آزاد کشمیر حکومت تشکیل دی گئی تو کے ایچ خورشید اسکے پبلسٹی ایڈوائزر کراچی تعینات کر دیئے گئے۔
1957ء میں چودھری غلام عباس نے سیز فائر لائن توڑ دو کی زور دار تحریک شروع کر دی۔ کے ایچ خورشید اسکے سیکرٹری کے طور پر چودھری غلام عباس کے ہزاروں ساتھیوں کیساتھ گرفتار کر لئے گئے تھے۔ مئی 1959ء کو ان رولز آف بزنس کے تحت مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کی طرف سے آزاد کشمیر کے صدر مقرر کئے گئے۔ خورشید صاحب مئی 1964ء تک اس منصب پر فائز رہے اس اثناء میں پاکستان میں ایوب خان نے مارشل لا لگا کر بی ڈی نظام نافذ کیا کے ایچ خورشید نے یہی نظام آزاد کشمیر میں نافذ کیا اس پر انکے مسلم کانفرنس اور چودھری غلام عباس کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ کے ایچ خورشید نے اپنی جماعت لبریشن لیگ قائم کی اسے آزاد جموں و کشمیر حکومت تسلیم کرنے کا دلکش نعرہ بھی دیا لیکن اسے عوامی پذیرائی نہیں ملی سکی۔ انہوں نے ٹریفک حادثہ میں اپنی الم ناک موت تک ایک باوقار اور ذہین اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کیا۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھو ںکہ اے لیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں