فوجی حکمرانی ہمیشہ ظالم اور نا اہل ہوتی ہے … (۱)

A.B.C ـ 11 مارچ ، 2010
میں نے اپنے پچھلے کالم میں سابق بھارتی کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل کری آپا کا ذکر کیا تھا۔ یہ اُسی سلسلے کا دوسرا کالم ہے ۔ 1947ء میں جب تقسیم ہند پر عمل کا وقت آیا تو فوج کی تقسیم ایک مسئلہ بن گئی جس کے کئی پہلو تھے۔ پہلا مسئلہ تو یہ تھا کہ اُس وقت تک سب سے اعلیٰ بھارتی عہدیدار بریگیڈئیر کری آپا تھا جو اُس وقت امپیریل ڈیفنس کالج کیمبرلے انگلینڈ میں کورس کر رہا تھا۔ اُسے کورس کے دوران احساس دلایا گیا کہ اچھی اور پیشہ ور فوج اچھی لیڈر شپ کے بغیر ممکن نہیں اور اچھی لیڈر شپ وسیع کمانڈ اور سٹاف تجربے سے ہی ممکن ہوتی ہے ۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "Army is what its officers are" یہ دونوں مطلوبہ تجربات بھارتی فوجی افسران کے پاس نہ تھے۔ سینئیر کمانڈ کا تجربہ تو بالکل ہی نہ تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انڈین آرمی دنیا کی ایک عظیم فائٹنگ فورس بن کر ابھری تھی۔ اسے "Jewel in the British crown" یعنی برطانوی تاج کے ہیرے کا لقب دیا گیا۔ لہٰذا اس عظیم فائٹنگ فورس کیلئے عظیم قیادت کی ضرورت تھی جو اُس وقت تک بھارتی افسران میں نہ تھی۔ پریشانی یہ تھی کہ اگر جونئیر رینک کے افسران کو ترقیاں دیکر دنیاکی اس اعلیٰ فائٹنگ فورس کی قیادت سونپ دی جاتی ہے تو اُس کا نتیجہ فوج کیلئے تباہ کن ہو گا۔اتنا اعلیٰ معیار برقرار نہیں رکھا جا سکے گا۔
تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ فوج وہ واحد منظم ادارہ تھا جو تقسیم ہند سے جنم لینے والی قتل و غارت اور امن و امان پر قابو پا سکتا تھا اور اگر فوج کو بھی تقسیم کے عمل میں ڈال دیا گیا تو اُسکا نتیجہ برصغیر کے عوام کیلئے وسیع تباہی ہو گا ۔ چوتھا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ تقریباً 70فیصد یونٹوں کی کمان تاحال انگریز افسروں کے پاس تھی فوج کے ٹیکنیکل محکموں میں مقامی آفیسر زنہ ہونے کے برابر تھے۔ فوج میں مقامی افسران لانے کا عمل تو 1932ء سے شروع تھا لیکن دوسری جنگ عظیم اور کئی دیگر وجوہات کے مد نظر یہ افسران اتنی بڑی فوج کی قیادت سنبھالنے کیلئے تا حال اہل نہ تھے ۔ اسکے علاوہ بھی کئی اور ایسی وجوہات تھیں۔ سیاسی قیادت کے علاوہ فوج کے اندر بھی یہ سوچ پیدا ہوئی کہ فوج کا اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کیلئے کوئی مناسب لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلے میں کئی تجاویز سامنے آئیں۔ پہلی تجویز تو یہ تھی کہ فوج کو تقسیم ہی نہ کیا جائے۔ دونوں نئے آزاد ممالک کی فوج مشترک رہے اگر فوج کی تقسیم نا گزیر ہو جائے تو کم از کم جون 1948ء تک اس تقسیم پر عمل نہ کیا جائے تاکہ تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے اور بدامنی کو فوج کنٹرول کر سکے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ برطانوی فوجی افسران کو فوری طور پر فارغ کرنے کی بجائے کم از کم جون 1948ء تک رکھا جائے اور فوج کے کمانڈ سٹرکچر میں تبدیلی لاکر مقامی افسران کو اوپر لایا جائے لیکن کچھ لوگوں نے اس تجویزکی شدیدمخالفت کی کہ دس ماہ میں مقامی افسران کس طرح اتنی بڑی فوج کی قیادت سنبھال سکتے ہیں ؟ بریگیڈئیر کری آپا نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ موجودہ معیار برقرار رکھنے کیلئے کم از کم مزید پانچ سال برطانوی افسران کا فوج میں رہنا نا گزیر ہے اور مقامی افسران کی مناسب تربیت کے بعد ہی انہیں کمان سونپی جائے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں