امن کی آشا اور منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل …(۱)
ـ 10 مارچ ، 2010
سردار محمد اسلم سکھیرا ..........
ایک کالج کے زمانہ کے دوست نے امن کی آشا تحریک جو بھارت اور پاکستان میں چلانے کی کوشش کی ہے۔ بیانات کے تراشے اخباروں سے کاٹ کر ارسال کئے ہیں۔ خواہشات تو نیک ہیں لیکن یہ تحریک کے اثرات بھارت میں تو نظر نہیں آتے، ہمارے خارجہ امور کے سیکرٹری نے جو اظہار خیال بھارت میں ڈائیلاگ کے بعد دیا ہے اس پر ان کو مجبوراً کہنا پڑا کہ بھارت کو پاکستان کے متعلق اپنا Perception بدلنے کی ضرورت ہے۔
سلیمان بشیر صاحب نے کہا ہے کہ بھارت میں پاکستان کیخلاف جذبات عروج پر ہیں اور انکے وزیر خارجہ کے خیال میں اعتماد کا فقدان ہے پہلے اعتماد بحال کیا جائے ڈائیلاگ کے دوران یا میڈیا کے سوالات کے دوران جو بھارتیوں کے رویے سلیمان بشیر صاحب نے محسوس کیا‘ وہ یہ ہے کہ بھارتیوں کی نظر میں ہر برائی پاکستان میں ہے اور ہر برائی پاکستان کی طرف سے ہی آ رہی ہے اور پاکستان ہی ہر برائی کا موجب ہے جب سیکرٹری خارجہ نے ان سے کہا کہ ہر ایشو پر کھلے دل سے غور کریں۔ خارجہ بھارتی وزیر اور سیکورٹی کے مشیر نے بھی بشیر صاحب سے اور انہوں نے کہا composite dialogue شروع کریں اس سے ہی اعتماد کی بحالی ہو گی ان پر بشیر صاحب نے یہ بھی عیاں کہا کہ ہم نے گفتگو کرنے اور رابطہ کرنے کی ضرور کوشش کی ہے لیکن اگر بھارتی حکمرانوں کو خیال ہے کہ ہم اسکے لئے مرے جا رہے ہیں تو یہ غلطی یا خیال وہ دور کرنا چاہتے ہیں ۔ گفتگو برائے گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں اور اس خیال کو وہ ترک کر دیں اور معنی خیز اور نتیجہ خیز مذاکرات کی طرف توجہ دیں اور اب گیند بھارت کی کورٹ میں ہے وہ اپنے فائدہ کیلئے اور امن برقرار رکھنے کیلئے معنی خیز مذاکرات کریں جن کا کوئی نتیجہ بھی نکلے اور اس خطہ میں امن بھی ہو۔ خارجہ سیکرٹری نے بتایا کہ انکی گفتگو کا محور کشمیر اور پاکستانی دریاؤں کا بھارت کے پانی روکنے کی طرف تھا۔ بھارت کا کوئی خاص ایشو نہ تھا ماسوائے دہشت گردی کے گفتگو کے دوران۔
میڈیا کے سوالات میں پبلک میں صرف دہشت گردی، دہشت گردی اور دہشت گردی کی سب رٹ لگاتے رہے اور کسی ایشو پر بھارتیوں نے بات نہیں کی۔ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی بات بھی ہوئی بھارت کو غالباً ابھی وقت چاہیے۔ وزیروں کی سطح پر بات چیت کرنے کیلئے پاکستان نے زور دیا اور پاکستان کا صحیح Perception بھارتیوںکو کرنا چاہیے پاکستان کے متعلق غلط اندازے نہ لگائے جائیں اور میڈیا کو بھی درخواست کی گئی کہ پاکستان کے متعلق غلط رویہ کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ بھارتی تجویز پر پاکستان نے بھی لبیک کیا کہ رابطے قائم رہنے چاہیں اور مذاکرات جاری رہیں۔ پاکستان کے متعلق غلط تاثرات کو دور کرنا میڈیا اور رائے عامہ کے لیڈروں کا فرض ہے۔ سلیمان صاحب نے بھارتیوں پر واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کا Core ایشو ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جائے۔ پاکستان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ بھارت افغانستان سے دہشت گردی پاکستان میں کروا رہا ہے۔ افغانستان بارڈر سے پاکستان میں دہشت گرد داخل کئے جاتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ پاکستان بھارت میں دہشت گردی نہیں کر رہا بلکہ بھارت افغانستان کی زمین سے دہشتگرد پاکستان بھیج رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ کرشن گنگا ڈیم کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور بھارتیوں سے کہا گیا کہ اس مسئلہ کو سندھ طاس معاہدہ کیمطابق حل کیا جائے۔
پاکستان پانی کے مسئلہ پر یا کشمیر کے مسئلہ پر کسی بیرونی طاقت بشمول امریکہ ڈکٹیشن نہیں لے گا بلکہ اصولی موقف پر قائم رہے گا۔ حافظ سعید کے متعلق بھی بھارتیوں کو بتایا گیا کہ پاکستانی قانون کیمطابق عمل ہو گا اور پاکستان کی عدالتیں ہی فیصلہ کریں۔ حافظ سعید کو کسی بیرونی طاقت کے حوالے نہیں کیا جائیگا۔ رنجشیں دور کرنے کا طریقہ مذاکرات ہی ہیں لیکن مذاکرات معنی خیز اور نتیجہ خیز ہونے چاہیں اور مذاکرات ہی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں اگر بھارت سمجھتا ہے کہ اعتماد کا فقدان ہے تو پاکستان کو بھی کوئی جلدی نہیں اور نہ ہی پاکستان مذاکرات کیلئے Desperate ہے۔ بھارت کیساتھ تو موجودہ مذاکرات اس غرض سے تھے کہ دیکھا جائے بھارت کس حد تک سنجیدہ ہے اور کوئی مسئلہ حل بھی کرنا چاہتا ہے یا محض وقت ٹرخانے کیلئے چاہتا ہے اور مسئلہ حل کرنے کی بجائے وقت گین کرنا چاہتا ہے۔ ان مذاکرات کو کامیاب کہنا یا ناکام کہنا غلط ہو گا یہ تو محض بھارت کی سنجیدگی کو ٹیسٹ کرنے کیلئے تھے۔ پاکستان کے متعلق دہشت گردی جو وہاں ہو رہی ہے کہ پاکستان کرا رہا ہے غلط تاثرات تھے ہر دہشت گردی جو بھارت میں ہو رہی ہے‘ اس میںپاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا واقعات اور مشاہدہ اور مشہود کیخلاف ہیں۔
پاکستان بھارت میں ہربرائی کا ذمہ دار ٹھہرانا حالات، واقعات اور شہادت اسکے برعکس ہے اس لئے بھارت "Blame game" الزام تراشی بند کرے کرشنا خارجہ وزیر نے بھارتی پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ پاکستان کیساتھ مذاکرات سے دونوں ملکوں کے رابطے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے ذریعہ ہی اعتماد کی بحالی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کیلئے مزید کوشش کرنی چاہیے اور مذاکرات جاری رہنے چاہیں یہی طریقہ اس خطہ کو امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی یہی بیان دیا ہے کہ مذاکرات سے ہی معاملات حل ہو سکتے ہیں اور مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے لیکن ابھی تک جامع مذاکرات شروع کرنے کی نہ ہی کوئی تاریخ دی گئی ہے، نہ ہی اقرار کیا گیا ہے اور بھارتیوں کیمطابق رابطے تو ہونے چاہیں لیکن "Composite Dialogue" کیلئے ابھی وقت موزوں نہیں۔ جو تین ڈوزیر دستاویزات بھارتیوں نے دی ہیں وہ حافظ سعید صاحب کے افسانے ہیں کوئی خاص شہادت نہیں۔
بھارتیوں کو حافظ سعید کو آزاد چھوڑنے کی بجائے سلاخوں کے اندر قیدوبند کی صعوبتوں میں رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن بھارتی اپنی خواہش کی تکمیل چاہتے ہیں خواہ ثبوت ہوں یا نہ ہوں‘ نہ ہی پاکستان کی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ حافظ سعید کی ضمانت تو ہائیکورٹ لاہور نے لی ہے موجودہ جوڈیشری تو اس وقت اتنی آزاد ہے کہ پاکستان کے سربراہان کیخلاف بھی فیصلے کرنے سے مرعوب نہیں ہوتی نہ ہی پاکستان کا کوئی حکمران فیصلوں میں مداخلت کر سکتا ہے۔ بھارتی نیتوں کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے چاہیں اگر پاکستان کی عدالتوں سے کسی کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ زبانی جمع خرچ سے پاکستانی عدالتوں سے ہم منشا خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکتی‘ اصل نیت اور خواہش بھارتی حکومت کی یہ ہے کہ مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر پاکستان سے جیسے مشرف کے دور میں منوا کر تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگوا دی گئی تھی اور کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی ، مالی امداد جو پاکستان کر رہا تھا وہ بند کروانا بھارتی چاہتے ہیں پاکستان میں کوئی تنظیم ایسی نہیں جو دہشت گرد ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک پاکستان بننے سے پہلے کی چل رہی ہے۔
آزادی کی تحریک کو دہشتگردی سے منصوبہ نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین اور کشمیر میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور وہ حق خودارادیت مانگنا چاہتے ہیں۔ انڈونیشیا میں تیمور کے صوبہ میں بھی آزادی کی تحریک تھی جو مغربی معاونت سے کامیاب ہوئی اور تیمور کو انڈونیشیا سے الگ ریاست بنا دی گئی۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں