جسٹس (ر) نذیر احمد غازی ............
ہم اپنی شناخت رکھتے ہیں۔لیکن شناخت کروانے کے قرینے سے بالکل تو نہیں بہت زیادہ محروم ہیں۔ہماری دینی شناخت، ہماری ملی شناخت مختلف اور متضاد افکار کی آندھیوں میں گم ہوگئی ہے۔ہمارا وطن ایک جغرافیائی تقسیم نظر آتی ہے۔نظریات کی تعبیر ہماری بد نیتی کے طوفان کی زد میں ہے لیکن کیا ہم یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اپنے وجود سے دستبردار ہوجائیں؟ہمارا وجود کمزور سہی، بے وزن سہی لیکن ہے تو بالآخر مکمل وجود ایسا وجود جس میں ابھی ایمان کی رمق باقی ہے اورایقان کی روشنی جھلملا رہی ہے۔اس وجود میں روح محمدﷺ کا فیضان بہرحال موجود ہے۔ہم قوم ہیں اگرچہ آج کے راہزن ہمارے قافلہ رواں میں شبخون مارتے ہیں اور کھلے دن میں ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ہمارا دشمنِ ازلی نئے لباسوں میں ہمارا حساب چکانے پر آمادہ رہتا ہے۔ہم پھر بھی نہیں مرتے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی آنکھوں میں سنگریزوں کی طرح کھٹکتے ہیںاس کا سبب ہم اور ہمارے دشمن اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ہم ازاول تا آخر اپنے قومی وجود کے جوہر میں: اسلام تیرا دین ہے تو مصطفوی ہے کے مصداق ہے ۔
دنیا آج ایک طاغوتی نیو ورلڈ آرڈ کی منصوعی تکمیل کی خواہشِ شیطانی کا شکار ہے ابتدائے کائنات سے لیکر آج تک ملّتوں کی تاریخی اور جغرافیائی تبدیلیاں قوموں کے نئے رویوں کو حیات بخشتی ہیں لیکن انسان کے ایک انسانی ہمدردی کے مستقل سبق کی دریافت صرف اور صرف بارگاہ مصطفیٰ کریمﷺ سے میسر آتی ہے ۔
دنیا بھر کے قدیم اور جدید مفکرینِ معاشرت اور مصلحین انسانیت کی اخلاقی و قانونی تعلیمات کا موازنہ بہت ضروری ہوگیا ہے۔اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ مطالعہ سُپر مصلحین The Study of Reformers کا ایک شعبہ قائم کرے اور اس میں ہر ملک و ملت سے کامل المطالعہ وسیع النظر اہلِ علم کو تقابلی مطالعے سے گزارنے کے بعد بین المذاہب مکالمہ کی ابتداء کرے۔یہ تجویز سادہ اور قابل عمل ہے اگر اہل کلیسا اپنی روایتی لکیر سے چمٹ کر نہ رہ جائیں۔
آج کا ماہ رواں ربیع الاول شریف انسانی تہذیبوں کے سنگم میں حسن کی آماجگاہ کی ضمانت ہے۔یہ ماہ مبارک دنیا کی بہترین یادوں کوزندہ رکھنے کا سببِ عظیم ہے۔اس ماہ کی یادوں کی تازگی ہر دور کے مسائل کو حل کی قوت عطا کرتی ہے۔تاریخ و سوانح کے ادب میں ایک عجیب اور ناقابل انکار حقیقت پوری انسانیت کیلئے لمحہ سوال ہے کہ دنیا بھر کی آسمانی و غیر آسمانی مذہبی کتابیں حضرت محمدﷺ کے ذکر مبارک سے غیرحادثاتی طور پر بھری پڑی ہیں۔اور اہل علم جب اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو انہیں فرار کا راستہ بند نظر آتا ہے اور پوری انسانی تاریخ میں ایک وہ شخصیت جس کے کردار کی آسمانی گواہیاں معتبر ترین کتب کی آیات کی شکل میں موجود ہیں۔پوری انسانیت کوایک مستقل فطری دستور حیات پر جمع کرنا اور اپنے کردار کی روشنی میں عملی لائحہ زندگی عطا کرنا بھی تو ایک تاریخی حقیقت ہے ۔
معاشروں کے زوال کے اسباب جب بھی تلاش ہوئے تو وہاں پر اخلاقی کمزوری سبب اول نظر آتی ہے۔اخلاق محض اقوال زریں کا نام تو نہیں ہے بلکہ اقوال زریں کیساتھ افعال حسنہ بھی اخلاقیات کا برابر حصہ ہیںاور اخلاق ہی بنیادوسعت واخلاق کا تقاضہ کرتی ہے۔خوش قسمتی امت مسلمہ کی ہے کہ ان کو اپنے ہر جہاں کیلئے جو راہبرِ کامل ہے میسر آیا ہے وہ حضور محمد مصطفیﷺ کی ذات روشن ہے …؎
نَبیوں کو رہی جن کی معیت کی تمنا
قسمت سے ہمیں قافلہ سالار ملے ہیں
نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ قبل از بعثت بھی اپنے معاشرے میں قابل رشک ہی نہیں ہیں قابل اعتماد بھی تھے‘اس لئے سخت طبیعتوں والے خود سر قریشی اور جھگڑالو ہٹ دھرم بدو بھی آپﷺ کو صادق و امین ہی کہتے تھے۔ صداقت اور امانت ہی وہ بنیادی حصہ ہے جو انسان کو شرورِ نفس سے محفوظ رکھتی ہے۔شرور نفس سے حفاظت کے بعد شخصیت میں خلوص کا نکھار بہت جلد آجاتا ہے ۔ اعلان نبوت سے پہلے حجراسود کی تنصیب کے موقع پر مختلف اذہان، متضاد جذبات کے حامل اکھڑ اور اجڈ قبائل کو صداقت و امانت کی قوت کی جاذبیت ہی کے سبب ایک خونریز ہولناک تصادم سے بچا لیا تھا۔پھر قابل غور بات یہ ہے کہ انسانیت کے شرف کو بلا تمیز مذہب و نسل ہمیشہ ہی برتر رکھا ہے۔ساری دنیا نے دیکھا کہ اپنا حق ایثار کر کے اسے وقار اجتماعیت کی نذر کر دیا۔
بعثت مبارکہ کے بعد بھی آپﷺ کا اخلاقی برتری کو برقرار رکھنا ہر لحاظ سے اہم ترین ہے۔ مشرکین مکہ اور یہود مدینہ رسالت پناہﷺ کے سخت ترین دشمن تھے لیکن آپ ﷺ کی مشفقانہ اور رحمت بھرے رویوں نے مخالفین کو اپنا نہ صرف ہمنوا بنایا بلکہ وہی مخالف دین کے صف اول کے خیر خواہ ثابت ہوئے اور انسانی ہمدردی کو ہی اپنی معاشرتی ترجیحات میں شامل رکھا گیاتھا۔اسی لئے ضعفاء سے غمگساری۔ عملی مدد اور انکی اشک شوئی کیلئے اختلافِ مذہب کے پیمانے بھی ختم کر دئیے تھے۔بوڑھی عورتوں کے سامان اٹھا کر انکے گھر تک پہنچانا یہودیوں کے جنازے کوبھی احترام دینا دشمن کی بیٹی کو وقار عطا کرنا اور مخالفین کے یتیموں کو پیار کا سہارا دینا یہ سب باتیں معاشرتی بقاء کیلئے ایک سچا اور قابلِ عمل نمونہ تھیں۔اس میں دکھاوے کا ذرّہ بھر بھی دخل نہ تھا،یہاں تک کہ جنگوں کیلئے بھی یہ قانون وضع فرما دئیے تھے کہ درخت نہ کاٹے جائینگے۔عورتوں کا احترام بہر حال ضروری ہوگا۔بچوں کی حفاظت ہوگی اور ان پر حملہ بالکل نہ ہوگا۔بستی کے کمزور اور ضعیف لوگوں کا خیال رکھا جائیگا۔فصلیں برباد نہیں کی جائینگی۔گویا اگر طاقت کا استعمال نہایت ہی ناگریز ہوجائے تو انسان اور انسانیت کا احترام بہر حال ضروری ہوگا۔اور اس میں اپنے نظرئیے کی صداقت اور عمل میں امانت کا ہونا بھی ضروری ہے۔خلاف ورزی پر کڑا احتساب ہوگا۔
قارئین۔ حکمرانی اور اصولِ سیاست و ملک گیری میں یہی سادہ سا اصول صداقت اور منشورِ امانت قیادت کی فراہمی کا بنیادی ضامن ہے اور اگر صداقت و امانت کسی درجے پر ختم ہوجائیں تو قیادت کا تصور بالکل ہی ختم ہوجائیگااور بالکل ایسا ہی ہمارے وطن کو آج درپیش ہے۔ اصلاح کے جملہ ادارے اپنے اندر سے صداقت کے تمام اجزاء میں کمزور پڑتے جارہے ہیں۔اور امانت کا یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنے فرائض کی بجا آوری میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے خیانت کا ارتکاب کر رہا ہے ۔ اپنی ذمہ داریاں خود ادا کرنے کی بجائے دوسروں کے کاندھوں پر ڈالنے کا بے ضابطہ یا با ضابطہ سلسلہ جاری ہے اور اسی بے ہنگم کشمکش میں ہم باہمی انتشار کے اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں کہ اداروں کا باہمی اعتماد بہت ہی کمزور پڑ گیا ہے بلکہ بسا اوقات تصادم کی صورت سامنے آتی ہے اور گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے کی تجویزیں بھی آتی رہتی ہیں۔گھوڑا بے چارہ بے سمجھ ہوتا ہے اور گاڑی باوجود وزنی ہونے کے بے جان ہی ہوتی ہے۔ خیر ہم اصلاح کی خاطر جس قدر بھی قلمی و علمی تجزیے کرتے رہینگے دانے اور بھوسہ علیحدہ ہوتا رہے گا۔ ذرائع خبر و نشر بھی اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں لیکن نیت عمل میں صداقت و امانت کی کمی اِن تجزیات کو شر کی چنگاری سلگانے کیلئے استعمال کریگی بھوسے اور دانے کا کھلیان جل جائیگا‘قوم کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا۔
اور ہماری یہ بیمار روایت ہے کہ فیصلے کی قوت دشمن کو دے دی جائے۔بالآخر ہمیں 1857کی طرف موڑ دیگی۔امریکا برطانیہ کے سرکاری ایلچی اور ہرکارے روزانہ نئی ہدایات کا لالچ بھرا اور دھمکی بھرا بڑا لفافہ لیکر اترتے ہیں اور پھر چھوٹے لفافے بڑے لوگوں کو خرید کر ہمارے مراکز ِ غیرت کو کمزور کر دیتے ہیں اور جو بے چارے ’’چارہ گر‘‘ بہت کمزور ہوجاتے ہیں وہ اقوامِ متحدہ میں اپنا مسئلہ لے جاتے ہیں‘بے چارہ مسئلہ کشمیر تو مفت میں بد نام ہے۔
بس اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ حُکم ، حاکم اور عوام کی مثلث میں کئی نئے چوکھٹے مربع اور مستطیل کی شکل میں جذب ہوناچاہتے ہیں۔اور حق حکمرانی کے دعویدار ہیں۔ جو نہایت غلط ہیں۔
عوام بے چارے تو بس چارے کی تلاش میں رہتے ہیں۔انکے بہت سے مذہبی، نیم مذہبی، سیاسی اور نیم سیاسی نگران وچارہ گر صالحین اور مصالحین کی شکل میں انکو ہانکتے ہیں اور میوہ تازہ سمجھ کر پھانکتے ہیں۔لیکن یہ ہر نعرے پَر خوش رہتے ہیں۔پھر کچھ مفلس مصلح اُٹھتے ہیں اور مذہبی و سیاسی موضوعات نئے انداز سے مرتب کر کے نئی سرکس جماتے ہیں۔مذہبی لوگ جلسہ عوام چھوڑ کر سیمینار کراتے ہیں اور مذہب بیزار دھمال پر اُتر آتے ہیں۔یہ اُنہیں روئے صداقت کا پاس ہے نہ اِنہیں حقیقتِ امانت کا احساس ہے۔یہ مقدس ماہ یاد دلاتا ہے کہ وہ وجود اقدسﷺ جس نے صداقت و امانت کے بل بوتے پر مخالف قوتوں کو اپنے انقلابی دھارے میں شامل کر لیا تھا اور انسانیت کی فلاح کیلئے دائمی روشنی کا اہتمام کر دیا تھا۔آج ہم سے پھر تقاضہ کر رہا ہے کہ تمہارا ایمان، تمہارا ایقان اگر صداقت و امانت کا جوہر لئے ہوئے ہے تو پھر تم حقیقی انسان ہو اور سچے مسلمان ہو ورنہ تمہارے اندازِ فکر اور ٹیڑھے عمل نے تمہارے دعویٰ اسلام کو مشکوک بنادیا ہے۔تم مسلمان نہیں ہو کیونکہ ہمارا اصولِ اسلام بڑاسادہ اور صاف ہے کہ مسلمان تو وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ مذہب تو امن و سلامتی کا ضامن ہے اور نہ صرف اپنے پیروکاروں کو بلکہ اپنے مخالفین کو بھی امن و سلامتی کا سائبان مہیا کرتا ہے ۔
عالم اسلام میں بالعموم اور برصغیر میں بالخصوص مذہبیات کی آڑ میں مسلمانوں میں باہمی فکری و اعتقادی چپقلش کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے پیچھے ایک بین الاقوامی گھنائونی سازش کارفرما ہے۔ لیکن ہماری مذہبی قیادت ان سِرّی حقائق سے بالکل بے خبر ہے اگر باخبر ہے بھی تو انکے مسلکی دائرے کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔بین الاقوامی طور پر معاشی قمار باز اور مقامی طور پر انتخابی سیاستدان ان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔انکے باہمی تعلقات میں صداقت کارفرما نہیں ہوتی ہے اور یوں ووٹ کی امانت بھی سیاسی رشوت کی نذر ہوجاتی ہے‘اس لئے صداقت و امانت سے خالی قیادت وجود میں آتی ہے۔اگرچہ ان کیساتھ ہر دور میں مذہبی عنصر بطور نمائندہ موجود ہوتا ہے ۔لیکن…ع
مصطفوی تصورِ صداقت و امانت سے بے بہرہ
عشقِ مصطفیﷺ، شریعتِ مصطفیﷺ اور نظامِ مصطفیﷺ کے نعروں میں صداقت و امانت کی قوت بحال کر دیجئے۔ اسلام اور پاکستان کا بھلا کیا ہوگا۔دین کے تاجر اور قوم کے سوداگر اپنی دکان اٹھا لیں گے…؎
لوٹ جا عہدِ نبیﷺ کی سمت رفتارِ جہاں
پھر میری پسماندگی کو اِرتقاہ درکار ہے