حلقہ این اے 55 میں جماعت اسلامی کے ووٹ بنک میں کمی؟
پروفیسر نعیم قاسم ـ 10 مارچ ، 2010
گذشتہ کالم میں جب میں نے اپنی مستند معلومات اور حالات و واقعات کے مشاہدے کے بعد یہ عرض کیا کہ جماعت اسلامی کے ایک مؤثر دھڑے نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شکیل اعوان کی حمایت کی جس کی وجہ سے جماعت کے 8 سے 10 ہزار اراکین اور ہمدردوں نے شکیل اعوان کو ووٹ دیا جس کی وجہ سے ڈاکٹر کمال صاحب کو محض ساڑھے تین ہزار کے قریب ووٹ ملے حالانکہ 1970ء سے اس حلقے میں جماعت اسلامی کے سکہ بند اراکین کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہے۔ ردعمل میں شباب ملی کے مرکزی صدر شاہد گیلانی نے فون پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کی کہ انہوں نے پوری دلجمی اور دلچسپی سے ڈاکٹر صاحب کی انتخابی مہم میں حصہ لیا مگر اسکے باوجود انہیں جماعت کے نظریاتی ووٹ بھی نہ ملنا‘ انکے لئے بھی باعث تعجب ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نے شکیل اعوان کو میڈیا کے ذریعے کیوں مبارکباد دی حالانکہ ایسا کرنا تو ڈاکٹر کمال صاحب کا فرض تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا انہوں نے ذاتی حیثیت سے کیا کیونکہ شکیل اعوان بہرحال انکے دوست ہیں مگر رکن جماعت کی حیثیت سے انہوں نے انتخاب میں ڈاکٹر کمال کو ہی بھرپور سپورٹ کیا ہے۔
قارئین۔ انکی وضاحت نے مجھ سمیت ڈاکٹر حسین پراچہ جیسے کئی تجزیہ نگاروں کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ ہم سے یہ معمہ حل نہیں ہو رہا کہ جماعت اسلامی کے نظریاتی ووٹوں پر نقب کیسے لگی۔ مسلم لیگ (ن) نے کس حکمت عملی سے یہ ووٹ چرائے ہیں کیا جماعت اسلامی کے کسی گھر کے بھیدی نے یہ لنکا ڈھائی ہے یا پھر واقعی نواز شریف کی شخصیت کا سحر جماعت اسلامی کے روایات پرست اور قدامت پرست اراکین کو بھی متاثر کر چکا ہے۔ اگرچہ اس حلقے کی سیاست بڑی پیچیدہ اور لچھے دار ہے کیونکہ اس حلقے میں اکثر سیاسی جوڑ توڑ پارٹی وابستگی سے ہٹ کر بھی ہوتے ہیں۔ 2002ء کے الیکشن میں شیخ رشید احمد نے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے کے امیدوار عامر فدا پراچہ سے غیر اعلانیہ اتحاد کیا ہوا تھا اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کی اکثریت نے ایم این اے کیلئے شیخ رشید کو ووٹ دیا اور ایم پی اے کیلئے عامر فدا پراچہ کو ووٹ دیا جس پر شیخ رشید ایم این اے کی سیٹ جیت گیا اور عامر فدا پراچہ ایم پی اے بن گئے۔
ڈاکٹر حسین پراچہ نے جب جماعت کے ایک ذمہ دار سے ڈاکٹر کمال کو کم ووٹ ملنے کی وجوہات معلوم کرنا چاہیں تو انہیں جواب ملا اس پر اراکین جماعت مجلس شوریٰ میں بحث کریں گے۔ عوام کو وجوہات سے آگاہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کمال ہے کہ ایک سیاسی جماعت انتخابات میں ووٹ تو عوام سے مانگے مگر شکست کے ذمہ داروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے سے اجتناب کرے بقول شاعر…ع
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے
سابق رکن قومی اسمبلی میاں اسلم کے بقول جماعت اسلامی ہار جیت کو سامنے رکھے بغیر انتخابی عمل میں بطور جہاد حصہ لیتی ہے۔ کاش جماعت اسلامی ایسا ہی جہاد 2008ء کے انتخابات میں بھی کر لیتی جب نواز شریف کو عوام میں اپنی مقبولیت کا اندازہ نہ تھا اور مختلف حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو مالی طور پر مضبوط امیدوار بھی نہیں مل رہے تھے اکثر سیٹوں پر مسلم لیگ (ن) اپنے امیدوار ہی کھڑے نہیں کر پائی تھی اگر جماعت اسلامی نواز شریف کے ساتھ انتخابی اتحاد کرکے سیاسی جہاد میں حصہ لے لیتی تو آج اس کے اچھے خاص اراکین قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن ہوتے۔ایسا ضمنی انتخاب جہاں ایک طرف پنجاب حکومت کا امیدوار ہو اور دوسرے امیدوار کو فیڈرل حکومت کی غیر اعلانیہ حمایت حاصل ہو وہاں انتخاب میں نظریاتی تشخص برقرار رکھنے کے شوق میں حصہ لینا سیاسی خود کشی نہیں تو اور کیا ہے؟ محترم میاں اسلم صاحب انتخابات سے دو دن پہلے ایک ٹی وی مذاکرہ میں دعویٰ کر رہے تھے کہ ڈاکٹر کمال انتخاب جیت چکے ہیں کیونکہ عوام کو نیک‘ شریف اور باکردار نمائندوں کی ضرورت ہے اور حلقہ کے عوام لیڈروں اور غاصبوں سے نجات کے آرزو مند ہیں۔ اسکے علاوہ بھی جماعت اسلامی کے ووٹ بنک میں کمی کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
-1 ڈاکٹر کمال صاحب ذاتی حیثیت میں اس حلقے کے عوام کی اکثریت کیلئے اجنبی ہیں وہ نہ تو اس حلقے میں رہائش پذیر ہیں اور نہ ہی انکا ووٹ اس حلقے میں رجسٹرڈ ہے۔ انکا تعلق اور رہائش واہ کینٹ کیساتھ ہے۔
-2 جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے انکی انتخابی مہم میں زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی کروڑ پتی اراکین جماعت نے انکی انتخابی مہم پر مالی وسائل کا بے دریغ خرچ کیا۔
-3 شیخ رشید اور شکیل اعوان کو الیکٹرانک چینلز کی حمایت حاصل تھی جبکہ ڈاکٹر کمال صاحب جیسا متوسط سیاسی کارکن کیسے کروڑوں روپے اپنی انتخابی مہم پر خرچ کر سکتا تھا کیونکہ آج کی سیاست پیسے پھینک اور تماشہ دیکھ کی اسیر ہے۔
-4 حنیف عباسی صاحب حلقہ 55 اور 56 کے بے تاج بادشاہ ہیں وہ سیاسی وابستگیوں کے بغیر کاروباری برادری کے رہنما ہیں۔ جماعت اسلامی‘ پیپلز پارٹی اور شباب ملی کے بااثر دھڑوں پر انکا مکمل کنٹرول ہے۔ اسکے علاوہ عباسی برادری کے 15 ہزار سے زائد ووٹ انکے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں موجود ہیں یہ اسکی کسر نفسی ہے کہ وہ اپنی محنت کا کریڈٹ دوسروں کو دے رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں