بزم ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

ـ 10 فروری ، 2012
نذیر احمد غازی( سابق جج ہائیکورٹ
ماہ مبارک ربیع الاول ہماری تاریخ، ہمارے ایمان اور ہماری فکری قوت کا سرمایہ ہے۔ اسی ماہ مقدس میں ہم اپنے ایمان کی روشنی کو مزید بڑھانے کےلئے مختلف طریقوں اور مختلف قرینوں سے محافل، مذاکروں اور اجتماعات کا انعقاد کرتے ہیں۔ ہر شخص اور ہر مکتب فکر کائنات کے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود اقدس کی برکات کو سمیٹنے اور اپنی جان کا سرمایہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی اپنی کوشش اور اپنے اپنے انداز سے ایمان کی دنیا کو آباد کرنے کا شوق مومن کا سرمایہ قلبی ہے اور اُمت کیلئے ایک ایسی قوت فراہم کرنے کا سبب ہے جس کا نتیجہ بہرحال مثبت ہی ہوتا ہے کیونکہ علم و جذبہ اور عشق و عمل کی قوتیں بہرحال منزلِ مقصود کیلئے زاد راہ ہوتی ہیں۔ اختلافِ عمل بھی عمل کو رنگ جدید سے آشنا کرتا ہے اور محبت کے گلدستے میں ہر چھوٹا بڑا پھول اپنے فطرتی رنگ کے ساتھ ہی خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ فطرتی رنگوں کے امتزاج کو حسن اختلاف کہنا چاہئے نا کہ اسے تضاد اور پھر تصادم سے تعبیر کرنا چاہئے۔ پھول پھول ہے چاہے وہ کسی رنگ میں ہو۔ خوشبو بہرحال خوشبو ہے چاہے وہ فضائے چمن میں مہکے یا کسی خوبرو کے وجود سے پھیلے۔ خوشبو کی ہزار مہکیں ہیں۔ رنگ، خوشبو اور روشنی کو روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ساری کائنات اپنے حُسن کے فروغ کےلئے ایسی ہی حقیقتوں کا سہارا لیتی ہے اور کائنات کُل کا حسن حقیقی حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہے۔ انسانی کردار کی عظمتیں ایس بارگاہ اخلاق سے خیرات مانگتی ہیں اور اخلاص کی رفعتیں اسی نام کو وظیفہ جاں بنا کر محوِ پرواز ہوتی ہیں۔ کسی بھی انسان کے فکر کی پرواز اسی نام مقبول کا سہارا لیکر اپنی دنیا میں سفر کا آغاز کرتی ہے ....
بزم ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
یہ عجیب اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی حُسن اتفاق ہے بلکہ حقیقتِ اتفاق ہے کہ حضور کونین پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری انسانیت کو اتفاق و محبت اور باہمی احترام و شفقت کی راہ پر گامزن فرما دیا۔ کرم بالائے کرم یہ کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں ایسے خوبصورت معاشروں کے نمونے فراہم کئے کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے راستے کی مزاحمتوں کو بے جان کر دیا ہے اور ایک بین الاقوامی و بین معاشرے کی بنیاد فراہم کی ہے۔ رنگ و نسل سے جدا اور علاقہ و زبان سے علیحدہ جدید معاشرے کی بنیاد فراہم کرنا ایک بہت بڑا عمرانی معجزہ ہے اور حقیقت میں انسانیت کی طلب و ضرورت بھی ایسے عمرانی معجزے ہی سے پوری ہوتی ہے۔
ہمیں ایک قوم اور اُمت کے فرد کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کائنات کے جتنے بھی بڑے مصلحین کے ماننے والے ہیں وہ اپنے پیشوا¶ں کی ذات اور تعلیمات کے تعارف میں کس کس مثبت انداز کو اختیار کرتے ہیں اور ان کے اطاعت گزاروں کی حیثیت میں وہ اپنی اجتماعی اور ملی قوتوں کو کس طرح سے مضبوط کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی بہت ہی سنجیدگی اور دردمندی سے غور کرنا چاہئے کہ ہم اپنے آقا و مولا حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و تعلیمات کے تعارف اور فروغ کے لئے مثبت انداز کو اختیار کرتے ہیں یا حالات کے تغیر اور ناخوشگواری کے سبب اس مثبت انداز کو چھوڑ کر منفی راہوں پر چل پڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر اوقات ان ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ اپنی ناقص سوچ اور ناقص علم کے ساتھ ساتھ کمزور عمل کے باعث ہم کمزور بلکہ نقصان دہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ماہ ربیع الاول میں عام سادہ مسلمانوں میں محبتِ رسول کا ایک ایمانی اور فطری جذبہ موجود ہوتا ہے، وہ اپنے اظہارِ محبت میں اپنے مال اور اپنی صلاحیتوں کو صرف کرتے ہیں اور خوب سے خوب تر کی جستجو میں مصروفِ عمل رہتے ہیں اور پھر اس کی تاثیر و نتیجہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے مذہبی رہنما عوام الناس کے جذبات کو ابھارتے ضرور ہیں اور ان کی جذباتی حس کو نہایت درجہ گرماتے بھی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ جذبات اس درجہ حرارت پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے یہ مضبوط قوتِ بخارات میں تبدیل ہو کر منتشر ہو جاتی ہے یا بسا اوقات فضا میں اخلاقی ناخوشگواری اس قدر زیادہ پھیل جاتی ہے کہ جذبات میں صحت مندانہ قوت نہیں رہتی اور شیطانی قوتوں کا دخل تضاد اور تصادم کا ماحول پیدا کر دیتا ہے پھر لڑائی اور فساد کے راستے کھلتے ہیں، نئے انداز سے مذہبی سوچوں کا جہاں وجود میں آتا ہے اور اختلافی تقاریر و تدابیر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے اختلافی موضوعات کی ابتدا و انتہا حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ تک محدود ہو جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی شرمناک اور افسوسناک صورتحال ہوتی ہے لیکن ہمارے بے فکر اور غیر ذمہ دار نیم خواندہ واعظین سنگین ناخوشگوار نتائج سے بے خبر ہو کر اپنی خدمات سرانجام دینے پر مصر رہتے ہیں، وہ نیم پختہ سوچ کو فلسفہ کا نام دیکر ہر موضوع کا فلسفہ بیان کرنے کی کوشش میں لڑائی اور دنگا و فساد کو جنم دیتے ہیں اور اسی سبب سے وہ عوام الناس کو اپنی مرضی کے مطابق راستہ دکھاتے ہیں لیکن صاحبانِ فکر و علم کو کیا کہا جائے جو عوام الناس کو اللہ تعالیٰ اور رسول پاک کے نام پر دعوت تو دیتے ہیں لیکن اتحادِ اُمت کیلئے ان کی ذہنی تربیت نہیں کرتے ان کو راہِ محبت نہیں سمجھاتے، اتفاقِ اُمت کیلئے ان کے ہاں کوئی فارمولا نہیں ہوتا۔ اسلام کی متفقہ تعلیمات کے فروغ کیلئے ان کے ہاں نصاب سازی کا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا ہے۔ دوسری جانب ہماری حکومتیں اور ان کی دینی سرپرستی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اتحادِ اُمت کیلئے اپنی سطح پر کوئی مثبت کوشش نہیں کی ہے۔ اتحاد بین المسلمین کے نام پر عارضی تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ خوشامد پسند لوگوں کو علماءکا نام دیکر اپنی مرضی کے بیانات اور خوشامدی بیانات حاصل کئے جاتے ہیں۔ اختلافات اور فساد کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ چل چلا¶ کی پالیسی اپنا کر وقت گزارنے کی تدبیر کی جاتی ہے جس کا نتیجہ ہم ہر نازک موقع پر دیکھتے ہیں بلکہ ہر آنے والے لمحے میں یہ ناخوشگوار صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے اور ملک ایک نئی خانہ جنگی کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا صوبائی سیرت کانفرنس میں دیا جانے والا بیان ہماری آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے کہ ”علماءاور حکومتیں دہشت گردی روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔“
قارئین علمائ، حکومتوں اور ملک کی بقا اسی میں ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف ہی رجوع کریں اور ایک سچے اور وفادار اُمتی ہونے کا ثبوت فراہم کریں ورنہ ہمارے باہمی اختلافات اور غفلت بدنام ہی نہیں بے نام کر دے گی۔ ذلت سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے رجوع اِلی الرسول
اے خاصہ¿ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب و قت پڑا ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں