سعودی عرب ‘ بھارت اور پاکستان … (آخری قسط)

جاوید قریشی ـ 9 مارچ ، 2010
منموہن سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت اور سعودی عرب دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی سے ان دونوں ممالک کے مجموعی نقصانات سے کہیں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ کاش اس کا تذکرہ اجمالی طور پر ہی سہی ریاض میں جاری ہونیوالے اعلامیہ میں ہو جاتا۔
پاکستان میں میڈیا اور تجزیہ نگاربھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو اس دورہ کی معنی خیز پیش رفتسمجھتے ہوئے اس کے ہر پہلو پر نظر ڈالنی چاہئے اور یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کی رعونت اور تکبر کب تک بھارت کا ساتھ دیتا ہے۔ کل ہی بھارتی پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ پاکستان سے مذاکرات ہی آگے جانے کا راستہ ہے ۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مزید کہا کہ مہذب ملکوں میںمذاکرات کے ذریعہ ہی مسائل حل کئے جاتے ہیں۔ امریکہ اور سویت یونین کی مثال دیتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ سرد جنگ کے عروج کے وقت بھی امریکہ اور سویت روس نے مذاکرات کا راستہ ترک نہ کیا لیکن پاکستان کو اپنی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں سے پاک کرنا ہو گی تب ہی بامقصد مذاکرات ممکن ہوں گے ورنہ نہیں۔ اس قسم کی باتیں معاملات میں مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتیں۔ تمام دنیا دہشت گردوں کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی معترف ہے۔ اس جنگ میں ابھی تک30,457 پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ۔ جن میں 21,672 شہری اور 8,785 فوج کے جوان اور افسر شامل ہیں۔ کون حکومت ایسی ہو گی جواس تکلیف دہ صورت کو ختم کرنے کیلئے انتہائی کوشش نہ کرے پھر بھی بھارت کے بے معنی مطالبات پاکستانیوں کا منہ چڑانے کے مترادف لگتے ہیں۔ہم پاکستانیوں کو بھی اپنے داخلی حالات بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے۔ دستور کے مطابق تمام ریاستی ادارے اپنے فرائض کی بجا آوری میں مصروف رہیں۔ ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت سے معاملات سلجھنے کی بجائے الجھیں گے۔ حکمرانوں کو سادگی اپنانا چاہئے۔
زرق برق قیمتی لباس اُس پر T.V کی چکا چوند، غریب عوام کے دلوں میں اچھا تاثر قائم نہیں کرتی۔ لاء اینڈ آرڈر اور گورننس کو بہتر بنانا ہو گا۔ چنیوٹ میں پولیس کی بربریت دیکھ کر چیف جسٹس چودھری افتخار بھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ لگتا ہے ملک میں جنگل کے قانون کا دور دورہ ہے۔ حکمرانوں کی چکنی چپڑی باتیں اب زیادہ دیر کامیاب نہ ہو سکیںگی۔
میڈیا باخبر ہے اور عدلیہ کواحساس ہے کہ ان حالات میں اُسے کیا کرنا چاہئے۔ عوام کے مسائل حل ہونا چاہئیں۔ غربت، افلاس، جہالت، بیماری لوگ ان سب کا علاج مانگتے ہیں۔ اب زیادہ دیر تک انہیں محض باتوں سے پھسلایا نہ جا سکے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں