پاکستان کیخلاف بھارت کی آبی دہشتگردی اور ہمارے سیاستدان

ڈاکٹر انور سدید ـ 9 فروری ، 2010
بھارت کی طرف سے پاکستان کو خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات کی باضابطہ پیشکش پر پاکستان نے خیر مقدم اس طرح کیا ہے جیسے ’’بلی کے بھاگوں چھینکا‘‘ ٹوٹ گیا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے تمام معاملات میں گزشتہ 60برس سے خود ’’بلی‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے اور ’’چھینکا‘‘ بھی اس کے قبضہ میںہے بھارتی وزارت خارجہ کا یہ بیان کہ ’’بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ مثبت ذہن کے ساتھ بات چیت میں جائیگی‘‘ ۔
دراصل وہ رام، رام ہے جو بھارت بغل میں سیواجی رہٹہ کی چھری چھپا کر گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے الاپ رہا ہے۔ لیکن اسکے مقاصد اور مفادات کا یہ نالہ وہیں ہے جہاں پنڈت جواہر لال نہرو نے پاکستان کی تشکیل کے پہلے روز رکھا تھا اور توقع کی تھی کہ براعظم ہند سے کٹ کر آزاد ہونیوالا یہ مسلم ملک، جہاں توحید کی اذان گونج اٹھی تھی، اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو سکے گا اور بھارت کی جھولی میں از خود گر جائیگا اور پنڈت نہرو کا اکھنڈ بھارت کا خواب روبہ تعبیر ہو جائیگا لیکن نہرو کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا جبکہ اپنی اس خواہش کے تحت ہی نہرو نے ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو اپنے آئینے میں اتارا اور ریڈکلف ایوارڈ اس طرح تشکیل دیا گیا کہ پنجاب کا آب پاشی کا نظام منقطع ہو گیا۔ اس پر مستزاد ریاست کشمیر پر فوج کشی کرکے غاصبانہ قبضہ کر لیا گیا۔
تقسیم ہند کے تسلیم شدہ قانون کے برعکس بھارت سے کشمیر کے جعلی الحاق کا اعلان کر دیا گیا اور جب پاکستان نے مزاحمت کی تو نہرو نے اقوام متحدہ سے استصواب کی قرار داد منظور کراکے اپنے غیرقانونی جعلی قبضے کو قائم رکھنے اور پھر اس معاہدے سے منحرف ہو جانے کیلئے وقت حاصل کرلیا۔
پاکستان کیخلاف نفرت کا جو بیج پہلے روز پنڈٹ نہرو نے بویا تھا بعد میں یہ برگ و بار تولاتا رہا لیکن اس میں کمی کبھی نہیں ہوئی اور مئی 1998 میں پوکھران کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر خالی کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور پاکستان کے امن و بقاء کو بھی خطرے میں ڈال دیا لیکن اس ماہ کے آخر میں جب چاغی کے ایٹمی دھماکوں نے دونوں ملکوں کی جوہری توانائی کا توازن برابر کر دیا تو بھارت نے اپنی اس سٹریٹجی پر پھر عمل شروع کر دیاجو 1948 میں عارضی طور پاکستان کی طرف بہنے والی نہروں کا پانی بند کرکے آزمایا گیا تھا۔
یہ بھارت کی آبی دہشت گردی کی ابتدا تھی۔ اس دوران میں بھارت نے مشرقی دریائوں سے زیادہ پانی حاصل کیا اور پاکستان کو غذائی قلت کا شدید ترین شکار بنادیا۔ اس دور میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعہ سے بھارت ایک گولی چلائے بغیر پاکستان کو تباہ کر سکتا ہے۔ شاید اس خوف اور خطرے کے تحت ہی اس وقت کے فوجی حکمران خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے عالمی بنک کی گارنٹی کے تحت ستلج، بیاس اور راوی کے سارے پانی کے استعمال کے حقوق ’’سندھ طاس معاہدے‘‘ کے تحت بھارت کو دے دیئے۔
مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے منحرف ہو جانے کے باوجود ایوب خان کو توقع تھی کہ بھارت اس معاہدے کی پاسداری عالمی اصولوں کیمطابق کریگا اور پاکستان کے حصے کے تین دریائوں جہلم، چناب اور سندھ پر دراندازی نہیں کریگا جن کے منابع مقبوضہ کشمیر میں واقع تھے لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن تھا جب بھارت پاکستان کے وجود کو دل و جان سے قبول کر لیتا۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان مکار، عیار اور دروغ گو سیاستدان نہرو سے دھوکا کھا گیا اور اس نے قدرتی بہائو سے چلنے والے دریائوں سے محرومی اختیار کرلی۔
سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے اور رابطہ نہروں کا ایک ایسا نظام قبول کرلیا جس نے ایک لمبے عرصے سے پاکستان کو سیم و تھور کی آفات میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ بھارت کی پاکستان دشمنی اس تمام عرصے میں روز افزوں رہی اور اسکی بدترین صورت دسمبر 1971ء میں سامنے آئی جب اس وقت کے ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے متحدہ پاکستان کا دایاں بازو فوجی مداخلت سے توڑ دیا اور یہ اعلان بھی کیا کہ اس نے ایک ہزار سال کی غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔
پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد یہ خدشہ تو ختم ہو گیا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے لیکن پاکستان کی سالمیت کو گزند پہنچانے کا فتور اس کی نیت میں موجود ہے اور اب اس نے افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانوں میں تربیت دیکر دہشت گردوں کو پاکستان کے شہروں میں تخریب کاری کیلئے بھیجنے اور وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی زرخیز اراضی کو آبپاشی کے پانی سے محروم کر کے بنجر بنانے کے منصوبے پر بھی عمل درآمد شروع کر رکھا ہے۔ اس آبی دہشت گردی کی مثال یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف آنیوالے دریائوں پر 62 ڈیموں کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سپلائی میں مسلسل کمی کی جارہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دریائے چناب سے نکلنے والی نہریں اور چناب، لوئر چناب اور مرالہ راوی لنک خشک نظر آتی ہیں۔ منگلا ڈیم پر دریائے جہلم سے آنیوالا پانی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے اس کا ایک مقصد آزادکشمیر میں نیلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔ اسکے ساتھ ہی دریائے نیلم کے بالائی حصے میں کشن گنگا ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے جو دریائے جہلم کا رخ ہی تبدیل کر دیگا۔ اطلاعات کیمطابق بھارت، مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم پر 330 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے ایک ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کا پانی بجلی پیدا کرنے کے بعد ایک نالے میں گرایا جائیگا۔
اسکی تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف آبی دہشت گردی کی جنگ جاری کر رکھی ہے اور اس میں کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات کی پیشکش سے پاکستان کشمیر کے بنیادی مسئلے اور اس وقت جاری آبی دہشت گردی کے سوال کو کس طرح حل کریگا جبکہ گزشتہ 63 سال میں بھارت نے ہمیشہ معاہدہ شکنی کی ہے اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ بھارت پاکستان کو تباہی اور بربادی سے دو چار کرنے کیلئے اپنی تخریب کاری جاری رکھتا ہے لیکن مذاکرات میں وہ پاکستان کو جھانسہ دینے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اب اس قسم کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔
یہاں کالا باغ ڈیم کا ذکر بھی ناگزیر ہے جس کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کا حصہ ہے یہ ڈیم اگر تربیلا ڈیم سے پہلے تعمیر کر لیا جاتا تو اب تک اسکی تعمیری قیمت واپس مل چکی ہوتی۔ آبپاشی کے علاوہ پن بجلی کیلئے پانی کا ایک ذخیرہ دستیاب ہوتا۔ لوڈشیڈنگ نہ ہوتی لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی بھارت کی دشمنی رنگ لائی اور اب یہ خبر چھپ چکی ہے کہ بھارت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سیاسی بنیادوں پر رکوانے کیلئے پاکستان کے مفاد پرست سیاستدانوں کو انکی مطلوبہ قیمت پر اپنے ساتھ ملا رکھا ہے۔
کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نذر کرنے کے بعد منگلا ڈیم کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانے پر 90 ارب روپے کا جو منصوبہ زیر عمل ہے اس پر بھی سیاست بازی ہو رہی ہے۔ تین چھوٹے صوبوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر کو اس ڈیم سے صرف 600کیوسک پانی لینے کا حق نہ دیا جائے۔ سندھ سے یہ آواز بھی اٹھی ہے کہ چشمہ بیراج سے نہر نکالنے کا کام بند کر دیا جائے۔
زرعی آبپاشی اور سستی پن بجلی کے یہ منصوبے وسیع تر قومی مفاد کے منصوبے میں جن سے آج کے فعال سیاستدانوں کی نسلیں بھی استفادہ کریں گی۔ لیکن قومی مفاد پر ذاتی اور عارضی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے تو دشمن کا ہاتھ کس طرح روک سکتے ہیں کہ وہماری سالمیت کو نقصان پہنچائے۔ یہ لمحہ فکریہ سیاستدانوں کیلئے ہے جو بلاشبہ مارشل لا گزیدہ ہیں لیکن اب اپنے ساتھ اور ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں