کراچی! چارہ گری سے گریز
ـ 9 فروری ، 2010
محمد طارق چودھری ۔۔۔
کراچی کے حالیہ واقعات، تشدد اور غارت گری کی نئی قسم اور نئی لہر کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے ان واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدگی نظر نہیں آتی، خوں ریزی، تشدد اور بدامنی کی ایک لہر سے توجہ ہٹانے کیلئے نئی لہر اور قسم ایجاد کرلی جاتی ہے۔ ان دنوں انسانی زندگی جس قدر بے وقعت کراچی میں ہوئی ہے وہ صومالیہ اور روانڈا میں نہ ہوئی ہوگی۔ کراچی کو ہماری قومی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت حاصل ہے یہ توانا ہے تو ہم پائوں پہ کھڑے ہیں خدانخواستہ اس میں دراڑ آجائے تو صحت مند زندگی جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ رونا یہ نہیں کہ مجرم، قاتل، قبضہ گروپ مافیاز طاقت ور ہو کر دندناتے پھرتے ہیں رونا اس بات کا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں سکیورٹی کے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر تیار نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح ان جرائم میں خود بھی ملوث ہیں یا انکی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں۔
نام کی حکومت جو امریکہ کی سفارش پر فوج کی کوشش سے ملک پر مسلط کی گئی ہے وہ چھٹے ہوئے جرائم پیشہ گروہوں پر مشتمل ہے۔ ان سے کوئی توقع رکھنا بہتر کارکردگی کا مطالبہ کرنا ہی حماقت ہے۔ آج کی طرح ماضی کی حکومتوں نے بھی کراچی میں امن و امان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اس شہرِ بے مثال کو لوٹ مار کا ذریعہ بنائے رکھا۔ یہ شہرمجموعی طور پر پرامن، سنجیدہ کاروباری، محنت مزدوری کیلئے جمع ہو جانے والوں کی بستی ہے ان کو بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر یہاں کھینچ لائی لیکن کراچی کو نام نہاد خفیہ ایجنسیوں سیاسی جرنیلوں اور انکے لے پالک سیاستدانوں نے جرائم کا گڑھ بنا دیا۔ کراچی پاکستان کے معماروں کا شہر ہے صنعت کار، تاجر، محنت کش، مزدور، درس گاہوں کے استادوں اور دانشوروں کا شہر، جسے غنڈوں، قاتلوں، رسہ گیروں، بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے یہاں زندگی بے رحم درندوں کے خونی پنجوں میں سسکتی ہے مگر کوئی ہمدرد ہے نہ مددگار۔ انتظامیہ مفلوج، پولیس پشت پناہ، سیاستدان جرائم کا حصہ، خفیہ ایجنسیاں خود ان کی پیدائش اور افزائش کی ذمہ دار ہیں‘ عدلیہ ازخود کچھ بھی نہیں کرسکتی کہ انتظامیہ کی شکایت اور کوشش سے ہی انکے کام کی تکمیل ممکن ہے۔
کراچی میں سیاست کیلئے دھونس، گولی اور قتل کا آغاز فوج کے سربراہ کی سرپرستی میں اسکے بیٹے گوہر ایوب نے کیا۔ وہ ان بے مثال لوگوں کو ایوب خاں کی مخالفت اور جمہوریت نوازی پر سزا دینا چاہتے تھے پھر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو سندھ کے شہروں میں شکست کا سامنا ہوا تو وزیراعظم بھٹو کے ٹیلنڈڈ کزن نے لسانی فسادات کی بنیادیں اٹھائیں یوں کراچی انسانی خون میں نہا گیا۔ تیسرے مارشل لاء کے بعد جی ایم سید کی انتہا پسندی اور سندھ کے شہروں میں مذہبی جماعتوں کی مقبولیت کے علاج کیلئے فوجی جرنیلوں کی رہنمائی میں خفیہ اداروں نے لسانی گروپ کی سرپرستی شروع کی آج تک اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پرویز مشرف جو کمانڈر انچیف تھا فوج کی طاقت سے ملک کا حکمران بن بیٹھا۔ اس نے کراچی میں غارت گروں کی سرپرستی کی انہیں اپنے عزائم کیلئے استعمال کرتا رہا حتیٰ کہ 12 مئی 2007ء کو چیف جسٹس کی آمد پر اسی کے حکم اور سرپرستی میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ لسانی گروپ کی قیادت سے اختلاف کرنیوالے اپنے ہی کارکنوں اور شہر بھر میں انکی سیاست کو چیلنج کرنیوالی دوسری جماعتوں کے کارکنوں کو چُن چُن کر قتل کیا جاتا رہا لیکن کسی کیلئے کوئی داد نہ فریاد۔ ایرانی انقلاب اور افغانستان میں روس کیخلاف جہاد کی کامیابی سے گھبرا کر انڈیا اور یورپ نے مسلمانوں کی ہم آہنگی کو توڑنے کیلئے فرقہ واریت کو اچھالا انتہا پسندوں کی سرپرستی کی جنہوں نے مساجد اور امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا۔
ایوب خاں کی آمریت سے زرداری الطاف مفاہمت تک کراچی میں ہلاک شدگان کی تعداد پورے ملک کے ہلاک ہونیوالوں سے بھی زیادہ ہے پیپلز پارٹی کے ہر دورِ حکومت میں سندھ بھر میں جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی سندھ سے ملحقہ پنجاب کے علاقے رحیم یار خاں اور ڈیرہ غازیخاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ بلوچستان کے ویرانے سندھ کے جنگل جرائم پیشہ اور اغوا کاروں کی اماجگاہ بن جاتے ہیں اور شہروں میں لسانی گروہوں کے تصادم اور ٹارگٹ کلنگ شروع ہو جاتی ہے۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں لسانی فسادات سے شروع ہو کر بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکمرانی میں پکا قلعہ حیدر آباد تک ایک دن میں دو سو سے زیادہ بچوں، عورتوں اور بے گناہ نہتے شہریوں کو قتل کر ڈالا گیا۔
بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے تنگ آ کر کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے آپریشن کیا تو کافی عرصہ کیلئے شہر میں امن قائم ہوگیا لیکن بعد کی حکومتوں میں حصہ بن جانے کے بعد انہی گروہوں نے تمام پولیس اہلکاروں اور افسروں کو ایک ایک کرکے ذبح کر ڈالا آج ان میں ایک بھی پولیس افسر زندہ نہیں بچا ۔دوسری طرف زرداری صاحب کے جرائم کی تفتیش کرنیوالے پولیس افسران ، پراسیکوٹر اور جج بھی قتل ہوئے۔ اب بے نظیر بھٹو کے قتل کی شہادتیں مٹانے کیلئے شہنشاہ کاقتل، پولیس کے ہاتھوں رحمان بلوچ کی ہلاکت۔
پچھلے چند ہفتوں سے کراچی ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جو خوفناک لسانی فسادات اورخانہ جنگی کا سبب بن سکتی ہے، بدقسمتی ہے اب کے مرتبہ صوبائی حکومت کے اتحادی ایک دوسرے کیخلاف صف آرا ہیں، ابتداً بلوچ نوجوانوں کا قتل ہوا پھر اسکا رخ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرف مڑا بعد میں لیاری میدان جنگ بنا۔ یہ سب سندھ کارڈ کا شاخسانہ ہے۔
پچھلے کچھ ہی عرصہ میں ایم کیو ایم کے ایک سو پینتس135 کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔ جواباً ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے واحد قومی اسمبلی کے حلقہ لیاری میں پیش قدمی کرتے ہوئے اس پر ہاتھ صاف کرنا چاہتی ہے تاکہ سندھ کے شہروں پر مکمل اجارہ داری حاصل کرکے سندھ کارڈ میں برابر شریک ہو یا اسکو غیر موثر کرسکے۔دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت اور جنگ ہر روز ٹوٹ کے بنتی ہے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کہتے ہیں مفاہمت نے میرے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ورنہ میں قاتلوں کو الٹا لٹکا دوں یعنی انکی مفاہمت قاتلوں اور غارتگری کے تحفظ کیلئے ہے۔کراچی میں بدامنی فوجی آمروں، سیاسی حکمرانوں اور طاقتور سیاسی پارٹیوں کے جرائم کی داستان ہے، پچھلے پینتالیس برسوں میں ہزاروں مقتولین کے ایک بھی قاتل کو عدالت کے کٹہرے تک نہیں لایا گیا۔ ایسی اندھیر نگری دنیا کے کسی گوشے میں نہ ہوگی۔
یہاں کوئی چارہ ساز ہے‘ ہمدرد نہ غم گسار۔ خونیوں، قاتلوں، دہشت گردوں، جرائم پیشہ گروہوں کیلئے صلائے عام ہے کوئی کچھ بھی کرے پکڑے جانے کا خطرہ ہے نہ سزا کا خوف قانون نافذ کرنیوالے جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ ہیں یا مددگار اب پوری قوم مارشل لا سے خائف ہے جمہوریت سے مایوس۔
ایسے میں وہ ایران جیسے خونی انقلاب کا انتظار کریں یا کسی ملا عمر کو صدا دیں؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں