ساحل دور نہیں
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ـ 8 مارچ ، 2010
گذشتہ ہفتے حلقہ این اے 55 راولپنڈی کے ضمنی انتخاب کے بارے میں شائع ہونے والے میرے کالم کے حوالے سے مجھے کئی تنقیدی کئی تائیدی‘ کئی تلخ کئی شیریں‘ کئی تندوتیز اور کئی فکر انگیز خطوط وصول ہوئے ہیں۔ میں اپنے قارئین کے خطوط‘ ای میلز اور برقی پیغامات کو بہت عزیز سمجھتا ہوں۔ انہیں غور سے پڑھتا ہوں اور ان کی روشنی میں اپنی رائے کا ازسرنو جائزہ لیتا ہوں اور بعض اوقات اپنی رائے میں تبدیلی بھی کر لیتا ہوں مگر بالعموم میں ان تحریروں کو کالم کی زینت نہیں بناتا۔ تاہم آج ایک دانشور قاری کا مکتوب میں کالم میں شائع کر رہا ہوں تاکہ ان کی فکر انگیز رائے سے دوسرے قارئین بھی استفادہ کر سکیں اور اگر وہ چاہیں تو اس حوالے سے اپنے خیالات کا بلا جھجک اظہار فرمائیں۔ ہم خط کو من و عن شامل اشاعت کر رہے ہیں تاکہ قاری کو کوئی گلہ نہ رہے۔
محترم ڈاکٹر حسین احمد پراچہ صاحب
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
امید ہے خیریت سے ہوں گے۔
نوائے وقت میں آپ کا کالم ’’حکم اذاں‘‘ بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کالم کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ ہلکے پھلکے انداز میں نہایت ہی اہم مسائل پر تبصرہ ہوتا ہے اور حالات کا بیباک تجزیہ کیا جاتا ہے۔
یکم مارچ کے اخبار میں آپ نے راولپنڈی کے ضمنی انتخاب کا تجزیہ کیا ہے۔ آپ کے تجزیہ سے اس حلقے کی اصل صورتحال سے آگاہی ملتی ہے۔ آپ دانشور ہیں‘ تجزیہ نگار ہیں‘ ملک و ملت کا احساس رکھنے والے معلم ہیں میرا آپ سے ایک سوال ہے ان انتخابات کا اس نگاہ سے بھی جائزہ لیں کہ اس حلقے میں امیدواران کون اور کیا تھے؟ اور عوام نے کس اہلیت اور صلاحیت کے امیدوار کو منتخب کیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ فقرہ اب زبان زدعام ہے کہ اجتماعی شعور کبھی غلط نہیں ہوتا۔ اور اسی وجہ سے اس ’’اجتماعی شعور‘‘ پر جب کوئی تنقید کی جاتی ہے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس انتخاب کے نتائج کو پیش نظر رکھ کر یہ جائزہ بھی لیا جانا چاہئے کہ ہماری قوم کی سوچ کیا ہے۔ یہ کس طرف جا رہی ہے۔ اور اس ’’اجتماعی سوچ‘‘ کے ملک و ملت پر کیا مثبت اور کیا منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر یہ اثرات مثبت ہیں تو انہیں پروان چڑھایاا جائے اور اگر یہ اثرات منفی ہیں تو انہیں تبدیل کرنے کیلئے قوم کی رہنمائی کی جائے۔
اب آپ حلقہ این اے 55 کے امیدواروں اور انکی پارٹیوں کا جائزہ لیں تو جماعت اسلامی کا امیدوار تعلیم کے اعتبار سے ایم بی بی ایس‘ خدمات کے اعتبار سے زمانہ طالب علمی سے لیکر آج تک سراپا خدمت ہے اور ان کی عام شہرت دیانت دار‘ امین اور معاملہ فہم کی ہے ذرا ان گزارشات کی روشنی میں جائزہ لیں اور پھر رائے دیں کہ کہ کیا ’’اجتماعی شعور‘‘ نے درست فیصلہ کیا؟ کیا اہل دانش کا کام یہ ہے کہ وہ کبھی پراپیگنڈہ کے زیر اثر وہی ڈھول پیٹتے ہیں یا ان کا کام عوام کی صحیح رہنمائی ہے۔
والسلام
آپ کا قاری
عبدالحفیظ احمد لاہور
ہم اپنے محترم قاری کی رائے کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ ان کے خط کے آخری حصے سے اندازہ ہوتا ہے۔ کہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں ایک فکر انگیز بات کی ہے۔ تاہم انہیں بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ’’اجتماعی شعور‘‘ بالعموم صرف شخصیت کے ایک دو مثبت پہلوؤں کی روشنی میں فیصلہ نہیں کرتا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان کا نمائندہ کتنا قابل رسائی ہے اور کتنی بھاگ دوڑ کرنے والا ہے۔ عوام بالعموم اصحاب علم و فضل کا احترام تو بہت کرتے ہیں مگر ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ نمائندہ ایسا ہونا چاہئے۔ جسے وہ حسب ضرورت تھانے کچہری میں اپنے ساتھ لے جائیں اور اپنے مسائل حل کروائیں۔ بہرحال عبدالحفیظ صاحب کے نقطہ نظر کا ہم احترام کرتے ہیں اور قارئین کو دعوت خیال دیتے ہیں۔ اب آئیے آج کے موضوع کی طرف اگرچہ آج کل ہر طرف یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاہ رات نے اپنے پر پھیلا رکھے ہیں۔ کرپشن کے خلاف تمام تر عدالتی و صحافتی یلغار کے باوجود حکمران اتنے بیباک ہیں کہ وہ کھلم کھلا آج بھی مال بنا رہے ہیں۔ میڈیا ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ اس کرپشن اور لوٹ مار کا تذکرہ کرتا ہے مگر حکمران پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے ہدف پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور وہ دائیں بائیں دیکھنے کو تیار نہیں۔ عوام ہر طرف بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ غریبوں کی اجرتوں میں اضافہ نہیں شدید کمی ہو رہی ہے مگر وزیروں اور حکمرانوں کے مقربین کے اثاثے دوگنا‘ چوگنا بلکہ کئی کئی گنا ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بے روزگاری کا تعلق ہے تو تقریباً آدھا ملک بے روزگار ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل اور ان کے مصائب سے کوئی سروکار نہیں‘ کوئی دلچسپی نہیں۔
ان حالات میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کے سیاہ رات گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ سیاہ رات ہی نہیں عوام کے اندر‘ مایوسی بھی پروان چڑھ رہی ہے اور انہوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں ان کے مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں اور انہیں اگر کوئی فکر ہے تو وہ اپنے اقتدار کی اور اپنے مال کی فکر ہے۔
مگر بقول عبدالقیوم صبا…؎
وہ ہیں سحر کی حجابیں صفات کے پہلو
سمجھتے ہو جنہیں تم سخت رات کے پہلو
ڈھلتی ہوئی سیاہ رات کے افق پر سپیدہ سحر کے نمودار ہونے کی بڑی واضح علامات نظر آنے لگی ہیں اور ہمارایقین ہے کہ یہ علامات‘ عطیہ خداوندی ہیں اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ اب پھر مشیت ایزدی لئے جوش میں آرہی ہے۔ کیا 2007ء کے اوائل میں کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ قاضی القصاۃ باوردی فوجی آمروقت کے سامنے خم ٹھونک کر ڈٹ جائے گا اور اس کی وکٹیشن لینے سے انکار کر دے گا اور پھر کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ صرف دو سال کے عرصے میں قوم لانگ مارچ کرے گی اور اسلام آباد پہنچنے سے پہلے منزل مقصود پر پہنچ جائے گی اور اب عدالت عظمیٰ کسی جھانسے کسی بہلاوے اور کسی دکھلاوے میں آنے کو تیار نہیں۔
اسی طرح ایک جاگتا ہوا میڈیا ہر خبر پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سیاست دان اور حکمران سمجھتے ہیں کہ کیمرے کی آنکھ اور صحافی کا قلم ان تک نہیں پہنچ سکتا مگر انہیں معلوم کب ہوتا ہے کہ جب ان کی کرپشن یا قانون شکنی طشت ازبام ہو جاتی ہے۔
بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشتی طوفانوں میں گھر چکی ہے۔ کشتی کے چاروں طرف لہریں بلند ہو رہی ہیں۔ ان لہروں میں کشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ مگر دوسری طرف کچھ اخلاص سے چپو چلانے والوں کو حدنظر کنارا بھی دکھائی دے رہا ہے اور یہ کنارا امید کا کنارا ہے۔ میرا وجدان کہتا ہے اور وجدان ہی نہیں قانون و فطرت بھی یہی ہے کہ جب کشتی منجھدار میں پھنس جاتی ہے اور ملاح آسمان کی طرف دیکھ کر دست دعا پھیلا دیتے ہیں تو نالوں کا جواب عرش سے آجاتا ہے۔ بے شک کشتی منجھدار میں ہے مگر اب ساحل دور نہیں اور کشتی ساحل پر پہنچ کر ہی دم لے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں