”نہرو خاندان“ حیران کن انکشافات

سکندر خان بلوچ ـ 8 فروری ، 2012
31جنوری2012 کے نوائے وقت میں ڈاکٹر محمد سلیم صاحب کا کالم بعنوان ”قائد اعظم اور پنڈت جواہر لال نہرو“ شائع ہوا ہے جس میں محترم ڈاکٹر صاحب نے برصغیر کی دو اہم سیاسی شخصیات کی سوچ اور عمل کا تضاد دلچسپ اور چشم کشا انداز میں پیش کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں شخصیات بیسویں صدی کی اہم ترین شخصیات تھیں جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا لیکن دونوں ایک دوسرے کی ضد تھے۔ قائد نے کبھی اصول پرستی اور شرافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جبکہ پنڈت صاحب کے نزدیک اصول پرستی اور شرافت کا معیار بالکل ہی الگ تھا بلکہ یہ دونوں اقدار اسکے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ایک مجسم طور پر شاطر ۔ فریب کار اور سازشی انسان تھا جو ہر قیمت پر اپنا مطلب حاصل کرنے کا ماہر تھا۔ مطلب براری کےلئے سازش۔ فریب ۔منافقت۔ دھوکہ دہی حتیٰ کہ قتل تک سب کچھ جائز سمجھتاتھا۔ مسلمانوں کوعموماًاور پاکستان کوخصوصاً شاطرانہ اور گمراہ کن چالوں سے اس ایک شخص اور اسکے خاندان نے جتنا نقصان پہنچایا اتنا اور کسی بھارتی سیاستدان نے نہیں پہنچایا۔یہ شخص شروع سے آخر تک پاکستان مسلم لیگ اورر قائد اعظم کا مخالف رہا۔ پاکستان کے خلاف پہلی بین الاقوامی سازش بھی اسی شخص نے تیار کی اور پاکستان کی سرحدوں کو بدلوا کر فیروز پور ہیڈ ورکس۔ مادھو پور ہیڈ ورکس اور گورداسپور سے محروم کر دیا جسکی کچھ تفصیل میں نے اپنے 4اور5جنوری کے کالم میں دی ہے۔ ایک مرحلے پر کلکتہ بھی پاکستان کو ملنے والا تھا لیکن وہاں بھی یہ شخص اپنی چال چل گیا۔ یہ شخص کون تھا۔اسکا اور اسکے خاندان کا کردار کیسا تھا اسکے متعلق حال ہی میں ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے جو میں قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرواور اسکی بیٹی اندرا گاندھی کی تاریخ نا قابل یقین حد تک دلچسپ بلکہ سنسنی خیز ہے۔ اس خاندان کا شجرہ نسب ایک مغل شہزادے غیاث الدین غازی سے شروع ہوتا ہے جو1857کی جنگ آزادی (انگریزوں کی نظر میں بغاوت)کے وقت دلی شہر کا کوتوال تھا اور بہادر شاہ ظفر ہندوستان کا حکمران تھا۔ اس دور میں مغل حکمران کوئی بھی اہم عہدہ کسی ہندو کو نہیں دیتے تھے۔ ا س دور میں شہر کا کوتوال خصوصاً دلی شہر کا کوتوال اہم ترین عہدہ تھا لہٰذاوہ کسی مغل خاندان کے فرد کو ہی دیا جا سکتا تھا جس پر اسوقت غیاث الدین غازی متمکن تھا۔ یاد رہے کہ اس دور میں شہر کا پولیس کوتوال موجودہ دور کے پولیس کمشنر کے برابر تھا۔1857کی جنگ آزادی میں مغلوں کو شکست ہوگئی اور انگریز مسلمانوں کے عموماً اور مغلوں کے خصوصاً دشمن بن گئے۔ انہوں نے ہر اس شخص کوموت کے گھاٹ اتار دیا جس کا ذرہ برابر بھی مغل خاندان سے تعلق تھا بلکہ بہت سے لوگ تو محض شک کی وجہ سے بھی موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انگریزوں کو وہم ہو گیا کہ اگر خاندان مغلیہ کا ایک بھی فرد زندہ بچ گیا تو انکی حکومت کیلئے خطرہ بن سکتا تھا۔ جہاں مسلمانوں کا یہ حشر ہوا وہاں ہندو اور سکھ مکمل طور پر محفوظ رہے کیونکہ ان سے کسی قسم کا خطرہ نہ تھا۔ ان حالات میں بہت سے مسلمان اپنی جانیں بچانے کےلئے ہندو بن گئے یا ہندوﺅں کا لبادہ اوڑھ لیا۔ انہی لوگوں میں دلی شہر کا کوتوال غیاث الدین غازی بھی تھا۔
1857کی شکست کے بعد انگریزوں نے دلی میں مغلوں کا قتل عام شروع کیا تو غیاث الدین غازی نے ہندوانہ لباس زیب تن کیا۔ اپنا نام گنگا دھر رکھا۔ اسکا گھر لال قلعہ دلی کے نزدیک ایک نہر کے کنارے تھا۔ اسی مناسبت سے اس نے نام کےساتھ لفظ ”نہرو“ کا اضافہ کیا اور یوں یہ ” گنگا دھر نہرو“ بن کر اپنی فیملی کے ساتھ آگرہ کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ اپنے خدوخال کی وجہ سے راستے میں یہ شخص پکڑا گیا لیکن اپنے آپ کو کشمیری پنڈت ظاہر کرکے بچ نکلا۔یہ نام اس لئے بھی سچ معلوم ہوتا ہے کہ پوری بھارتی تاریخ میں کوئی بھی شخصیت فیملی نام ”نہرو“ کے ساتھ وجود نہیں رکھتی۔
صرف ”گنگا دھر نہرو“ واحد شخص ہے جو 1857 کی شکست کے بعد تاریخ میں اس لقب کے ساتھ ہی ظاہرہوا۔ اس پس منظر کی تفصیل ایم۔کے۔سنگھ نے اپنی مشہور ریسرچ
Encyclopaedia of Indian War of Independence (SBN:81-261-3745-9) کی جلد نمبر13 میں دی ہے۔ یہ حقیقت حکومت ہند نے چھپا رکھی ہے۔
اسکے علاوہ اور بھی کئی شواہد ہیں جو اسی نتیجہ کی نشاندہی کرتے ہیں مثلاً جواہر لعل نہرو کی دوسری بہن کرشنا ہوتھیسنگKrishna Hutheasing نے اپنی یادداشتوںمیں لکھا ہے کہ ”میرا پردادا1857 سے پہلے جب بہادر شاہ ظفر سلطان ہند تھا تو وہ دلی شہر کاکوتوال تھا“ جواہر لعل نہرو نے بھی اپنی سوانح عمری میں اعتراف کیاہے کہ اس کے پردادا کے ایک پرانے فوٹو میں اس نے مسلمانوں والی گھنی اور لمبی داڑھی رکھی تھی ۔سرپر مغلوں والی ٹوپی تھی او ر ہاتھوں میں دو تلواریں تھیں۔ وہ بالکل مغل ”نوبل مین“ Noblemanکا شاہکار لگتاتھا۔
نہرو نے اپنی بائیوگرافی میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اسکے پردادا جب دلی سے آگرہ جا رہے تھے تو راستے میں انگریزوں نے انہیں پکڑ لیا تھا جسکی وجہ انکے مغلوں والے خدوخال تھے لیکن اس نے اپنے آپ اور اپنی فیملی کو کشمیری پنڈت کے طور پر پیش کرکے جان بچائی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ انیسویں صدی کے اردو لٹریچر اور خصوصاً خواجہ حسن نظامی کی تحریروں میں بہت تفصیل سے لکھا گیا ہے کہ کس طرح انگریزوں نے مسلمانوں اور مغلوں پر ظلم ڈھائے۔سرکردہ مسلمان اور مغل اپنی جانیں بچانے کے لئے ہندوﺅں کا روپ بدل کر چھپ چھپاکر مختلف شہروں کی طرف بھاگ گئے اور پناہ کے لئے انہیں کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑے۔یقین لگتا ہے کہ نہرو کے آباﺅ اجداد جان بچانے کےلئے بھاگنے والوں میں شامل تھے۔اس خاندان نے بعد میں الہ آباد کے ایک بدنام علاقے میں جا کر پناہ لی تاکہ کسی کو شک نہ گزرے۔
جواہر لعل نہرو وہ شخص تھا جسکی بھارتی عوام پوجا کرتے ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اسکی جنم بھومی پرحکومت ہند نے کسی قسم کی یادگار تعمیر نہیں کی۔اسکی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اسکی پیدائش االہٰ آباد میں میر گنج کے محلے کے 77نمبر مکان میں ہوئی اور یہ علاقہ الہ آباد کا مشہور ”ریڈلائٹ ایریا (بازار حسن) ہے۔ اس دور میں بھی یہ محلہ پورے بھارت میں مشہور تھا اور یہ جواہر لعل نہرو کی پیدائش سے پہلے بھی اسی طرح مشہور تھا۔ اس آبائی گھر کا ایک حصہ جواہر لعل نہرو کے باپ موتی لعل نے ایک مشہور طوائف لالی جان کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس حقیقت کی مزید بااعتماد ذرائع سے بھی تصدیق کی جاسکتی ہے مثلاً :
encyclopedia.com and Wikipedia.comسے ۔
بعد میں موتی لعل میرگنج کا علاقہ چھوڑ کر آنندبھون منتقل ہو گیا جہاں نہرو کی پرورش ہوئی۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آنندبھون جواہرلعل نہرو کے اباﺅاجداد کی خاندانی رہائش گاہ ضرور تھی لیکن اس عظیم سیاستدان کی جنم بھومی ہرگز نہ تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں