پاکستان، بھارت اور امریکہ
جاوید قریشی ـ 8 فروری ، 2010
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جب تک اقتدار میں رہے پاکستان کے معاملات کو اپنی مرضی سے بلا مشاورت شرکت غیرے چلاتے رہے۔ ان کے دور میں نہ پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت تھی، نہ وزیر اعظم اور کابینہ کی ۔ بلکہ بعد میں معلوم ہوا کہ جنرل موصوف اپنے کورکمانڈرز تک کو مشاورت اور فیصلہ سازی میں شریک نہ کرتے تھے جنرل (ر) معین الدین حیدر نے یہ انکشاف اپنے حالیہ T.V انٹرویو میں کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی مرتب کرنے میں بھی مشرف دفترخارجہ سے مشاورت غیر ضروری سمجھتے تھے۔ چنانچہ 9/11 کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جنرل پائول کی ایک ٹیلیفون کال پر صدر مشرف نے امریکہ کی طرف سے کئے گئے تمام مطالبات کوفی الفور قبول کر لیا۔ ایسا کرنے میں موصوف نے دفتر خارجہ ، وزیر اعظم ، کابینہ کسی ایک سے بھی مشورہ ضروری نہ سمجھا اور امریکہ کو ایسی مراعات دینا قبول کر لیا جو ملکی وقار اور اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) کے بر خلاف تھیں جن کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ وزیر ستان کے علاقہ پر ڈرون حملے بھی غالباً اسی زما نہ کی عطا کردہ مراعات میں سے ہیں۔
اسی طرح امریکی افواج کا ہمارے (Air Bases) کا استعمال اُسی قسم کا فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر جنرل مشرف صاحب نے کچھ توقف کیا ہوتا اور امریکیوں کو کہہ دیا ہوتا کہ ان اہم فیصلوں کے لئے کابینہ اور پارلیمان کی منظوری ضروری ہے تو ہو سکتا ہے ہمیں کوئی بہتر ڈیل مل جاتی۔ امریکہ کی مخالفت یا محاز آرائی توشاید ممکن نہ ہوتی لیکن یہ ضروی تھا کہ ہم اتنا سستا نہ بکتے اور اپنی خدمات کا بہتر معاوضہ وصول کر سکتے ۔ جیسا مصر نے کیا اور امریکہ کی مجبوری سے فائدہ اُٹھاکر اپنے تمام قرضے معاف کرائے۔ امریکہ، افغانستان میںالقاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر نہیں لڑ سکتا۔ امریکہ اور اتحادی افواج کو سامان رسدپاکستان ہی کے راستے جاتا ہے۔ ہماری ایک لاکھ چالیس ہزار فوج فاٹا، وزیرستان اور پاک افغان باڈر پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے ایک پُرعزم جنگ لڑ رہی ہے۔ جس میں پاکستان کو زبردست جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے لیکن افسوس کہ امریکہ اور دیگر مغربی اقوام کو پاکستان کی دی ہوئی قربانیوں کا ذرا پاس نہیں اور زبانی جمع خرچ کے علاوہ امریکہ ابھی تک ہماری کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کر سکا۔ آئے دن کسی نہ کسی طرف سے کسی نہ کسی شکل میں (Do more) کے تقاضے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکہ اور اتحادی افواج آٹھ نو سال کے عرصہ میں افغانستان میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں نہ ہی اس بد قسمت ملک میں ترقی کا کوئی کام ہو سکا ۔ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے پاکستان دل سے چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن چین ہو۔ یہ ملک اقتصادی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند ہو اور پاکستان کا دوست رہے تاکہ ملک کو مغربی سرحد سے کوئی کھٹکا باقی نہ رہے اور ہماری افواج وطن دشمن دہشت گردوں اور نتہا پسندوں کوملیا میٹ کرنے میں مصروف رہیں۔
غیر ملک افواج افغانستان میں لا محدود مدت تک نہیں رہ سکتیں۔ جلد یا بہ دیر افغانستان کی قومی فوج اور قومی پولیس کو سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی ۔ پاکستان نے افغانی فوج اور افغانی پولیس کو تربیت دینے کی پیشکش کی ہے ۔ اس خیال کے ساتھ کہ اس سے دونوں ملکوں میں دوستی اور مفاہمت کے تعلقات میں اضافہ ہو گا۔ امریکہ اور دیگر اتحادی قوتوں کے افغانستان میں مفادات عارضی ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان کی دلچسپی افغان معاملات میں دائمی نوعیت کی ہے۔ جیسا پاکستانی فوج کے سربراہ نے غیرملکی میڈیا کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان کا ماضی ہے ،افغانستان پاکستان کا حال ہے اور افغانستان پاکستان کا مستقبل ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان بھارت کو افغان معاملات پر دخل اندازی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکی افغانستان کے مستقبل سے متعلق پالیسی سازی میں پاکستانی تحفظات کا پورا پورا خیال رکھیں۔ایک تو افغانستان پاکستان کا پڑوسی ہے پھر دونوں ملکوں کے تایخی ، ثقافتی ، سماجی اور مذہبی رشتے بھارت کے مقابلہ میں کہیں گہرے اور مضبوط ہیں۔ پاکستان کی دلچسپی ان وجوہ کی بناء پر افغانستان کے معاملات میں بھارت کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہے۔
امریکہ اپنے ذاتی مفادات کی بنا ء پر بھارت کو افغانستان میں ضرورت سے زیادہ بڑا رول دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بر سلز میں نیٹو ممالک کے نمائندوں سے ایک حالیہ ملاقات میں پاکستانی موقف اور تحفظات کھل کر بیان کردیئے۔ بعد ازاں پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جنرل موصوف نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان دو ہزار جوانوں اور افسران کی جان کا نذرانہ دے چکا ۔ اتنی قربانی امریکہ اور اتحادی ممالک کی افواج نے مجموعی طور پر نہیں دی۔ پاکستان اس جنگ کو کامیابی کے حصول تک جاری رکھنے میں پرعزم ہے ۔ جنرل صاحب نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کو جو کامیابی حاصل ہوئی اس کا انحصار جن پانچ عوامل پر ہے ان میں رائے عامہ ، میڈیا کا تعاون ، فوج کی صلاحیت اور عزم ہے ۔ "ہماری جنگ امریکہ کی جنگ نہیں تھی" یہ سب ایک جامع حکمت عملی کے تحت ممکن ہو سکا۔
پرویز مشرف صاحب کی امریکہ نوازی کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جب انھوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کچھ عرصہ بعد اس وقت کے ایک امریکی صدر کلنٹن برصغیر کے دورہ پر آئے۔پہلے تو کلنٹن نے پاکستان آنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا۔ یعنی پاکستان آنا ان کے دورہ میں شامل ہی نہ کیا گیا۔ بڑی بھاگ دوڑ اور خوشامددرآمد سے کلنٹن نے آنے کی حامی تو بھر لی لیکن بھارت کے 6 روزہ دورہ کے مقابلہ میں صرف 6 گھنٹہ کے لئے اسلام آباد میں قیام کیا ، پھر بھارت میں پارلیمنٹ کو خطاب کرنے کے مقابلہ میں پاکستانیوں سے محض ٹی۔وی پر خطاب فرمایا۔صدر مشرف سے ہاتھ ملانے کی کوئی تصویر اتروانے کی اجازت نہ دی۔یہ سبکیاں اور محرومیاں مشرف صاحب کے ذہن سے دور نہ ہو سکیں اور وقت آنے پر انہوں نے امریکی حکومت اور صدر کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو گا۔یا پھر ہو سکتا ہے کہ ہمارے کمانڈر صدر ــ نے "تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمنوں کے" والی فون کال کے بعد عافیت اسی میں سمجھی ہو کہ اس وقت ہر قیمت پر امریکہ کو راضی کیا جائے۔بہر حال وجہ کچھ بھی ہو اس اہم فون کال کے بعد جنرل مشرف اور امریکی صدر بش کے تعلقات بڑھتے چلے گئے اور بش نے مشرف کو (My Friend Musharraf ) کہنا شروع کر دیا۔ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ مشرف کی T.V تقریرپاکستا نی ٹیلی ویژن ، سی این این اور بی بی سی سے ایک ساتھ نشر ہونے لگیں ۔ مشرف صاحب نے تو اس سے استفادہ کیا ہو گا لیکن پاکستان کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی طرح اپنے ایک فیصلہ کے بعد مشرف نے بھارت سے تعلقات میں بہتری کا ارادہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ "Core Issue" کشمیر کا مسئلہ تھا۔خدا جانے کیوں مشرف پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے اس کور ایشو پر پاکستانی روایتی اور تاریخی موقف تک کو قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔کشمیر کے سوال پر انہوں نے پاکستان کے اس موقف تک کو ترک کر دیا کہ کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اہلیان کشمیر کی رائے سے ہو گا۔تصفیہ کے لئے متبادل حل پیش کئے گئے لیکن بھارت کو رام کرنا آسان بات نہ تھی۔ یہ بیل مشرف کے اقتدار کے اختتام تک منڈھے نہیں چڑھی اور کشمیر کا تنازعہ وہیں کھڑا رہا جہاں کہ تھا۔ ہو سکتا ہے کشمیر پر اپنے موقف میں تبدیلی کارگل کا بدلہ چکانے کیلئے کی گئی ہو اور سمجھا ہو کہ اس طرح وہ خود کو بھارت کے قریب لانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ بھارت اپنی روش اور موقف سے ٹس سے مس نہ ہو ا۔
بھارت پاکستان کا روائتی دشمن رہا ہے ۔ وہ ہر قیمت پر ہمارے ملک کو زک پہنچانے کی کوئی کوشش ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ پاک بھارت تعلقات جنگ کی دھمکیوں، فوج کشی اور محاز آرائی کی پالیسیوں سے اٹے پڑے ہیں ۔ ممبئی واقعات کی پاکستان میں بھر پور مذمت کی گئی تھی۔ پاکستان نے کہا تھا کہ اس میں کوئی ریاستی ادارہ ملوث نہیں ہے یہ (non state actors )کی کاروائی ہے۔ بھارت شہادتیں مہیا کرے تو پاکستان ملوث افراد کیخلاف قانونی کاروائی کرنے میں ذرا دریغ نہیںکرے گا۔ لیکن بھارت نے شواہد فراہم کرنے میں بہت کاہلی سے کام لیا اوراس واقعہ کو وجہ بنا کر پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں زبردست پراپیگنڈہ کیا۔ پاکستان اپنا کام کرتا رہا ۔ شہادتیں دستیاب ہونے پر مقدمات قائم کئے گئے ۔ ملزمان گرفتار ہوئے اور اب انہیں عدالتوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مستقل کہا جاتا رہا کہ اتنی بڑی کاروائی بغیر مقامی تعاون کے ممکن نہیں۔ بھارت اس سے انکار کرتا رہا۔ تاہم اب بھارت کے وزیر داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس میں کوئی بھارتی شہری بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ دنیا کو یقین آ گیا ہے کہ ممبئی واقعات میں حکومت پاکستان یا کسی ریاستی ایجنسی کا کوئی دخل نہیں۔ بھارت نے ان دو واقعات کو وجہ بنا کے پاکستان سے ( Compromise Dialogue) کا سلسلہ بھی معطل کر دیا۔ پاکستان مذاکرات کا تقاضہ کرتا رہا بھارت کسی صورت مزاکرات پر آمادہ نہ ہوتا تھا۔
تعلقات کو مزید خراب کرنے کیلئے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کے پانی میں کمی کرنا شروع کر دی۔ مقبوضہ کشمیر میں 5 بند تعمیر کر نے کے منصوبہ کے زریعے پاکستانی پانی (دریائے چناب ) کے 40 فیصد پانی سے پاکستان کو محروم کر دیا ہے۔ اس طرح پاکستان کی زراعت کو زبردست نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دراصل اس میں حکومت پاکستان کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ اوربھارت کے متعلق حکومت ابھی تک اسی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ کو خوش رکھنے کی کوشش ہر قیمت پر کی جاتی ہے۔ بھارت کے متعلق صدر زرداری نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت سے پاکستان کو کبھی کوئی خطرہ ہوا نہ اب ہے۔ خدا جانے حکمران ایسے بیان کیوں دے دیتے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مقابلہ میں فوج کے سربراہ کا بیان ہے کہ بھارتی پلان Cold Start) ) کے پیش نظر ہماری منصوبہ بندی اور پالیسی بھارت پر مرکوز رہے گی۔ اگر امریکہ اور مغربی اقوام نے اِس کا نوٹس نہ لیا تو لازماً پاکستان کو اپنی مشرقی سرحدوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس صورت میں دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گی۔ یہ بات امریکہ اور مغرب کے اپنے مفاد میں ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری ہو جو اس صورت میں ممکن ہے کہ جامع مذاکرات کا آغاز ہو اور بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ پانی کے مسئلہ پرحقیقت پسندانہ پالیسی اپنائے جس سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
ہماری بد قسمتی یہ کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کو اقتدار میں رہنے یا اُسے حاصل کرنے کی تگ ودو سے فرصت نہیں۔ ملک اور قوم کو درپیش سنگین مسائل ابھی تک ان کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ بھارت اور امریکہ دونوں کے ساتھ ہمارا رویہ نیم دلانہ ہے۔ ضرورت تھی کہ دونوں ملکوں سے صاف صاف بات کی جائے اور واضح کر دیا جائے کہ ہمارے مفاد کیا ہیں اور ہم کیا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں کے چپ رہنے پر جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مضبوط استدلال نے قومی جذبات کی صیحح نمائندگی کی ہے جو لائق تحسین ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں