تحریک آزادی ٔ کشمیر … قربانیوں کی لرزہ خیز داستان…(آخری قسط)

ـ 8 فروری ، 2010
ساجد حسین ملک ...........
1991ء سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارتی استبداد کیخلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہم ان کے شانہ بشانہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں جلسے جلوس‘ ریلیاں احتجاجی مظاہرے کوہال پل پر ہاتھوں کی زنجیر اور اقوام متحدہ کے دفاتر میں یاداشتوں کا پیش کرنا یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ اظہار یکجہتی دن بدن محض رسمی زبانی اور نمائشی بنتا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور قائدین کو اقتدار کی بندر بانٹ‘ اپنے لئے مراعات اور پرتعیش زندگی کے حصول اور آپس کی لڑائی جھگڑے سے ہی فرصت نہیں جبکہ ہم نے پچھلے چند سالوں میں بھارت کی خوشنودی خاطر اور اعتماد سازی کے نام پر بھارت کے سامنے جس طرح گھٹنے ٹیک رکھے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے دیرینہ اصولی موقف سے انحراف کرتے ہوئے طرح طرح کے دیگر آپشنز اور فارمولوں کی باتیں کرتے رہے ہیں‘ اس سے لگتا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ ہمارے لئے بنیادی اور اہم مسئلے COREISSUE کی بجائے ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہم کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ اسکے الحاق کا نعرہ بلند کرنیوالی مقبوضہ کشمیر میں برسرپیکار جہادی تنظیموں کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیکر ان پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں گذشتہ سال ممبئی حملوں کے بعد ہم نے جماعت الدعوۃ جیسی رفاعی اور فلاحی کاموں میں مصروف تنظیم کو بھی خلاف قانون قرار دے دیا ہے یہ ہماری خام خیالی ہے کہ ہمارے اس طرح کے اقدامات سے بھارت ہم سے خوش ہو جائے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور جبرو استبداد میں کمی آجائیگی یا وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے پر راضی ہو جائیگا۔ یقیناً ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ہماری طرف سے مصلحت اندیشی‘ بزدلی اور بے حمیتی کی یہ باتیں اور اقدامات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے اور پاکستان کیساتھ ان کی محبت کو کم کرنے یا ختم کرنے میں آج تک کامیاب نہیں ہو سکا۔
پچھلے اٹھارہ انیس برسوں کا بالخصوص 1988ء کے بعد جب سے تحریک آزادی کشمیر نے ازسرنو زور پکڑا ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں پورے مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی گاؤں‘ قصبے یا شہر میں کوئی ایسا قبرستان نہیں ہو گا جہاں شہداء کی لاتعداد قبریں نہ ہوں اور پھر آئے روز کی ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے اور بھارتی افواج کے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں پر مظالم‘ قیدو بند کی صعوبتیں اور ہزاروں مسلمان عورتوں کی بھارتی درندوں کے ہاتھوں بے حرمتی اور عصمت دری یہ باتیں ایسی ہیں جو انسانیت کے چہرے پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
عالمی ضمیر ان مظالم کو دیکھ کر بیدار ہوتا ہے یا نہیں لیکن بوڑھے سید علی گیلانی جیسے بطل جلیل جب تک کشمیریوں میں موجود ہیں کوئی بھی انکے جذبہ حریت کو ختم نہیں کر سکتا۔ آج بھی سید علی گیلانی ایک اپیل کرتا ہے تو پورے مقبوضہ کشمیر میں بھارتیوں کیخلاف ایسے احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں ہوتی ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔
26 جنوری 2010ء کو بھارت کے ’’یوم جمہوریہ کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منا کر کشمیری اس کا ثبوت ایک بار پھر مہیا کر چکے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کو قربانیوں اور ناکامیوں کی لرزہ خیز داستان کا ہی نام دیا جا سکتا ہے تحریک آزادی کشمیر کا قافلہ سخت جان ابھی تک کیوں کامیاب نہیں ہو سکا ہے؟ اس کا جواب ہم سب کے ذمہ ہے۔
کونسی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہے
عشق بلاخیز کا قافلہ سخت جواں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں