آزاد کشمیر میں بجٹ خسارہ اور بیرونی سیاست
رشید ملک ـ 7 جولائی ، 2010
28جون سوموار کو آزاد کشمیر میں سیاسی رومان کا ماحول تھا پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے چیئرمین عبدالمجید نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے ایک مذاق قرار دیا اور الزام لگایا کہ حکومت اپنی غلطیاں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چودھری مجید پختہ سیاسی فکر کے رہنما ہیں وہ بات ناپ تول کر کرتے ہیں‘ اپنی بجٹ تقریر میں انہوں نے آزاد کشمیر کی بدلتی صورتحال پر اشاروں کنایوں میں اظہار خیال کیا‘ انکے تازہ فکر کے اس اعتراف کو ہم ’’زود پشیمانی‘‘ کا نام نہیں دیتے بلکہ انکی پختہ سیاسی فکر اور فراخ دلانہ اعتراف پر معمول کرتے ہیں کہ سردار عتیق احمد کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کر کے ہم نے کبیرہ گناہ کیا تھا بجٹ پر سرکاری بنچوں اور اپوزیشن بنچوں کی طرف سے تقریریں کی جا رہی ہیں۔
بجٹ سیشن میں مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین اس شور میں زچ ہوئے مگر ہنگاموں سے گونجتے اس سیشن میں سیاسی رہنمائوں‘ وزراء اور ارکان اسمبلی کی مثبت تقاریر سے سجا ماحول اس بجٹ سیشن کا ماحصل ہے۔ چودھری عبدالمجید کی تقریر میں یہ اعتراف ہے بجٹ سیشن کے دوران ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی سے مایوسیوں کے اثرات واضح تھے‘ اس بجھے بجھے سے ماحول میں سردار عتیق احمد اور چودھری عبدالمجید کے اسمبلی ہاسٹل میں ناشتہ اور کھانے کی میز پر خوشگوار موڈ میں تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے وفد نے چودھری مجید کی سربراہی میں وزیر امور کشمیر منظور وٹو سے ملاقات بھی کی تھی اور بجٹ سیشن کے دوران تبدیلی نما صورتحال پر گفتگو کی تھی ‘ اس ملاقات اور گفتگو کی روشنی میں اسمبلی ہاسٹل میں سردار عتیق احمد اور چودھری مجید کے مابین خوشگوار ملاقاتوں کو معنی پہنائے بھی جاتے ہیں‘ اور نتائج بھی اخذ کئے جاتے ہیں۔
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
لیکن یہ اب رقیب کے نہیں‘ محبوب کے تھے‘ اس لئے ماحول بے مزہ ہو گیا تھا۔
جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے حل کیلئے چار نکاتی فارمولا پیش کرتے وقت بھارت کو یہ پیشکش کی تھی کہ بھارت اگر مثبت جواب دے تو ہم اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالنے کیلئے تیار ہیں‘ ایک فوجی جرنیل ہی اسطرح کی پیشکش کر کے اپنے ہتھیار پھینک سکتا ہے‘ سیاستدان کبھی نہیں کریگا‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دستبردار ہو کر آپکے پاس بات کرنے کی بنیاد کیا رہتی ہے۔
چنانچہ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ایک بیان میں بڑا لطیف طنز کیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے اسے فراخدلانہ آپشنز آتے ہیں کہ خوشگوار تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ موجود ہی نہیں ہے‘ اس طرح ملٹری ڈیموکریسی کا تصور کا سوچ بھی نہیں سکتے‘ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد میں سردار عتیق احمد اس بے ہودہ فلسفہ کا ذکر کر کے اپنی اچھی سیاسی ساکھ کوٹلہ لگاتے ہیں‘ جنرل پرویز بے چارہ ہانپتا پھرتا ہے کہ اسے پاکستان آنے کی اجازت دی جائے‘ یہاں اسکے چیلے چانٹے جو دس بار انہیں وردی میں منتخب کروانے کا دعویٰ کرتے تھے‘ دہائی دے کر کہتے ہیں۔
ہمارا پرویز مشرف سے کوئی تعلق نہیں۔ آزاد کشمیر کا بڑے خسارہ کا بجٹ منظور ہو گیا ہے لیکن وفاقی بجٹ میں 11 ارب روپے کا خسارہ آزاد کشمیر کی ننھی ننھی حکومت کہاں سے پورا کریگی۔ ہر سال وفاقی حکومت ترقیاتی فنڈز کی کمی پوری کرتی ہے‘ 11 ارب روپے کی رقم کوئی بڑی رقم نہیں ہے‘ آزاد کشمیر حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں ایک پیسہ نہیں دیا گیا‘ اسکے منگلاڈیم میں واٹر چارجز کی تربیلا ڈیم کے واٹر چارجز کے برابر ادا کر دیئے جائیں‘ جو اس کا حق ہے اور وفاقی محاصل سے آزاد کشمیر کا حصہ دے دیا جائے تو اسکے بجٹ کا خسارہ پورا ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد کے حکمرانوں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے آزاد کشمیر کو بجٹ کی ضروریات پوری نہ کر کے بند گلی میں نہیں چھوڑنا چاہئے‘ کشمیریوں نے پاکستان کے دماغی اور معاشی استحکام کی خاطر بھارتی فوج کا مقابلہ کر کے منگلا ڈیم کیلئے اسے گھر بار اجاڑ کر قربانیوں کے انبار لگائے ہیں11 ارب رو پے کی گرانٹ کشمیریوں کی قربانیوں کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں