تازہ ترین:

پاک فضائیہ جو بات ہمیں نہیں بتا رہی!

ـ 7 جولائی ، 2010
ڈاکٹر شیریں مزاری ۔۔۔
پی اے ایف اور امریکیوں نے یقینی طور پر امریکہ کی وائسرائے جیسی سفیر مسز پیٹرسن اور ائر چیف راؤ قمر کیساتھ جیکب آباد ائر بیس پر کیمروں کے سامنے مسکراتے ہوئے ایک مکمل فوٹو سیشن برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ائر بیس کبھی پاکستان کا خود مختار علاقہ تھا لیکن اب اسکو امریکی فوج مؤثر طور پر کنٹرول کر رہی ہے اس تمام تر خوش طبعی کا مظاہرہ خریدار پاکستان ائر فورس کو امریکی مینو فیکچررز کی جانب سے پہلے تین ایف 16کی حوالگی کے موقع پر کیا گیا۔ سرکاری پریس ریلیز میں امریکیوں کیلئے خیرسگالی کے اظہار اور یہ طیارے ملنے پر پی اے ایف کو محسوس ہونیوالی خوشی تقریباً کراہت آمیز ہے لیکن اس تمام منظر نامے کے پیچھے بہت سی چیزیں حقائق کے برعکس ہیں اور ان پر تمام پاکستانیوں کو شدید پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔
آغاز کرتے ہوئے آئیں ہم یاد کریں کہ ہم نے ان طیاروں کیلئے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی خطیر قیمت اور ایف 16 طیاروں کے موجودہ بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کیلئے مزید ایک ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کر رکھے ہیں۔ یہ چند ایک طیارے ہم حاصل کر پائے اور امریکی انکار کے باعث انکے سپیئر پارٹس کے حصول کیلئے ہمیں دنیا بھر میں بھاگ دوڑ کرنا پڑی، خوش قسمتی سے ہمارے آج بھی چند ایک مخلص اتحادی ہیں۔ ہمیں اب تک صرف تین نئے طیارے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری طور پر چار کا ذکر کیا گیا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم تمام 18 طیارے حاصل کر لیں گے لیکن ماضی کا ریکارڈ یقیناً مایوس کن ہے۔ امریکہ نے طیاروں کی فراہمی سے انکار کرتے ہوئے ہماری رقم دبائے رکھی بلکہ طیارہ ساز کمپنی نے دیدہ دلیری کے ساتھ ہم سے ان طیاروں کی پارکنگ فیس بھی وصول کی اور پھر ہمیں گندم اور سویابین بھجوا دی جن سے ہمارے دفاع کو تو کوئی فروغ نہ ملا تاہم اس طرح امریکی کسانوں کی جیبوں میں یقینی طور پر خاصی رقم چلی گئی اس سے مختلف آخر کیونکر ہونا چاہیے؟ اب تک امریکہ کے ٹریک ریکارڈ نے کوئی بہتر تبدیلی نہیں دکھائی جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ اس نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے سلسلے میں ہمارے واجبات کی ادائیگی ابھی تک روک رکھی ہے جبکہ یہ امداد بھی نہیں بلکہ وہ رقم ہے جو پاکستانی ریاست کی جانب سے امریکی مقاصد کیلئے کسی حیل و حجت کے بغیر اور قوم کیلئے بھاری قیمت پر انجام دی گئی خدمات کے عوض ہے۔ ان حالات میں ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ پاکستان ائر فورس نے ماضی سے کچھ سبق سیکھا ہو گا اور بعض ٹھوس گارنٹیاں حاصل کی ہونگی لیکن یہ ذمہ داری ہمارے پارلیمنٹیرینز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نئے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے سمجھوتے تک رسائی کا مطالبہ کریں‘ اگر ان طیاروں کی سپلائی کیلئے پختہ گارنٹیاں حاصل نہیں کی گئیں تو ہم ایک بار پھر ایف 16 طیاروں کی ماضی کی تاریخ دہرائے جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں مزید یہ کہ یہ ڈیل بھی ایسے وقت ہوئی ہے جب ہم افغانستان کی ایک اور جنگ میں امریکہ کیلئے فرنٹ لائن سٹیٹ ہیں۔
خدشات صرف یہ نہیں کہ ہم ایک بار پھر اپنی رقم سے محروم ہو جائینگے اور انجام کار یہ رقم سیاسی لحاظ سے کسانوں جیسی امریکہ کی طاقتور لابی کی جیبوں میں چلی جائیگی۔ ایک زیادہ بڑا ایشو وہ شرائط و ضوابط ہیں جو امریکی اصرار پر فروخت کے نئے سمجھوتے سے منسلک کئے گئے ہیں اور جن سے ہمارے ائر چیف انکار کرتے ہیں، جب وہ اعلان کرتے ہیں کہ پی اے ایف ان طیاروں کو جہاں مناسب سمجھے استعمال کر سکتی ہے دوسرے الفاظ میں انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال اور کسی بھی دشمن کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ نئے طیارے پی اے ایف کی صلاحیت میں کس نوعیت کا اضافہ کرینگے ائر چیف کی توجہ بنیادی طور پر انتہا پسندوں کیخلاف جنگ پر مرکوز تھی۔ یہی بات امریکہ پاکستان کو ان طیاروں کی فروخت کی وضاحت کرتے ہوئے مسلسل کہتا رہا ہے درحقیقت امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک حال ہی میں بھارتیوں کو یہ آگاہ کرنے کیلئے خصوصی طور پر نئی دہلی گئے کہ نئے ایف 16 طیارے بھارت کیخلاف استعمال نہیں کئے جائینگے اب امریکہ آخر کس طرح یہ یقین دہانی کرا سکتا ہے جب تک پاکستانیوں نے اس سلسلے میں تحریری طور پر بعض احمقانہ وعدے نہ کئے ہوں؟ بہرحال اگر بھارت کیساتھ جنگ چھڑ جائے تو ہم کیوں اپنا انتہائی مؤثر ہتھیار سسٹم استعمال نہ کرنا چاہئیں گے؟ کیا بھارتیوں نے پاکستان کے بالمقابل امریکہ سے میزائل ڈیفنس سسٹمز حاصل کرتے ہوئے اس طرح کے وعدے کئے ہیں؟ بلاشبہ نہیں! اور پھر امریکہ نے بھی اس معاملہ میں ہمارے خدشات دور نہیں کئے پاکستانیوں کیلئے تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسی رپورٹیں ملی ہیں کہ امریکہ ان طیاروں کے ساتھ اپنے ٹیکنیشنز بھیج رہا ہے جو یہ بات یقینی بنائیں گے کہ یہ طیارے ہمارے اپنے لوگوں ’’انتہا پسندوں‘‘ کے سوا کہیں بھی استعمال نہیں کئے جائینگے۔ دی نیشن یہ نیوز سٹوری شائع کر چکا ہے (جس کی امریکہ نے تردید نہیں کی) اور پی اے ایف کے غضب کو ابھار چکا ہے اور اسکے پی آر مین جو اب ہمارے لئے ایف 16 پر کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیتے ہیں وہ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے کہ یہ ہمارا نہیں اس کا نقصان ہے۔
اسی طرح بھارتی اور امریکی ذرائع کیمطابق گزشتہ ماہ بھارت امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے دوران امریکی حکام نے یہ واضح کر دیا کہ امریکہ پاکستان کو ایف 16 طیارے سخت شرائط پر فراہم کریگا جن میں یہ یقین دہانیاں شامل ہونگی کہ یہ طیارے بھارت کیخلاف کسی جنگ میں استعمال نہیں کئے جائینگے۔ ایف 16 طیاروں کیساتھ امریکی ائر فورس کے اہلکار بھی پہنچیں گے اور یہ نہ صرف اس ائر بیس کی نگرانی کرینگے جہاں یہ طیارے رکھے جائینگے بلکہ پی اے ایف کے طالبان اور القاعدہ کیخلاف آپریشنز کی نگرانی بھی کرینگے۔ گویا کہ فاٹا کے عام رہائشی اپنی سیاسی شناخت اپنے ماتھے پر لگائے پھرتا ہے۔ اطلاعات کیمطابق ان ایف 16 طیاروں کی لاجسٹکس مینجمنٹ اور کنٹرول امریکی اہلکاروں کے پاس ہو گا۔ لہٰذا ہم نے آخر کیوں ان مشینوں کیلئے ادائیگی کی، اگر انہیں امریکہ ہی کنٹرول کریگا؟ اس بات کی واضح ضرورت ہے کہ پی اے ایف ثابت کرے کہ معاملہ یہ نہیں ہے اور یہ صرف اس طرح کیا جا سکتا ہے اگر حقیقی معاہدے منظر عام پر لائے جائیں۔ بہرحال یہ ہمارے ٹیکس دہندگان کی بھاری رقم ہے اور یہ جاننا ہمارا حق ہے کہ اسکے ساتھ کیا معاملات طے پا رہے ہیں خصوصی طور پر جب اس کا تعلق بیرونی خطرے اور ہماری سیکورٹی سے بھی ہے۔
ان حالات میں یہ سوچنا بھی پریشان کن ہے کہ یہ تمام لڑاکا مشینین ہمارے اپنے علاقوں اور عوام پر بمباری کیلئے استعمال کی جائینگی اور اس وقت یہ شناخت کون کریگا کہ کتنے ’’دہشت گرد‘‘ اور کتنے معصوم سویلین مارے گئے ہیں، یقینی طور پر ہماری فوج کو جان لینا چاہیے کہ بے دریغ ہلاکتیں محض زیادہ مایوسی اور انتہا پسندی کو جنم دیتی ہیں اور ڈرون حملوں کا ردعمل پی اے ایف کیلئے ایک سبق ہونا چاہیے۔ انتہا پسندی سے لڑنے کیلئے پیرا ملٹری فورسز کی ضرورت ہے جو امن عامہ اور ان دہشت گردوں کو دیگر آبادی سے الگ کرنے کیلئے سیاسی، اقتصادی حکمت عملیاں طے کرے۔ ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے بدلے غریب شہری ایک زیادہ قابل بھروسہ ایٹمی ڈیٹرنس اور بیرونی خطرے سے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔ ائر چیف راؤ قمر محض انتہا پسندوں کیخلاف لڑنے کی صلاحیت میں اضافے کی باتیں کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں اور بیرونی دشمن کیخلاف ڈلیوری سسٹمز میں اضافے کے بارے میں بمشکل ہی کوئی لفظ کہتے ہیں جو افسوسناک اور کھلے طور پر ناقابل قبول ہے‘ اگر نئے ایف 16 بنیادی طور پر ہمارے اپنے ہی علاقے اور عوام کیخلاف استعمال ہونے ہیں تو پھر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا بہترین مصرف فاٹا میں ترقیاتی منصوبے ہو سکتے تھے جن سے انتہا پسندی کیخلاف کہیں جلدی اور بہتر نتائج حاصل ہوتے۔ کیا ہم امریکیوں سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ہم اپنے دفاع اور سٹرٹیجک ضروریات کا برملا اظہار نہیں کر سکتے؟ جیکب آباد ائر بیس پر پاکستان کے حوالے کئے جانیوالے ایف 16 طیارے پہلے ہی پاکستانی سرزمین پر امریکی کنٹرول میں ہیں، ہماری دلجوئی کیلئے امریکہ نے کہا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو تازہ پانی اور دیگر سہولتیں فراہم کریگا جس کا مطلب ہے کہ وہ ائر بیس پر اپنا کنٹرول جاری رکھے گا جسکے بارے میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اسے خالی کر چکا ہے۔ کیا ہم پاکستانی امریکہ کیلئے اتنی آسانی سے خریدے جانے کے قابل ہیں؟
اس دوران بھارت اپنے کسی بھی بیرونی سپلائرز کی جانب سے کسی شرط کے بغیر اپنی فضائیہ کو جدید بنانے میں مصروف ہے۔ بھارت اپنے 50 اگلے ائر بیسز کو اپ گریڈ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان بیسز کا ہدف پاکستان اور چین بھی ہے بھارتی فضائیہ کے سربراہ نائیک نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ روسیوں کے اشتراک سے جدید ترین سٹیلتھ بمبار طیارے تیار کر رہا ہے۔ وہ 126 ملٹی رول لڑاکا طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے جس کیلئے اس نے 11 ارب ڈالر مختص کئے ہیں۔ بھارت کیلئے ان سسٹمز کا استعمال کوئی بھی محدود نہیں بنا رہا صرف پاکستان ہی ایسی کمزور کرنیوالی شرائط کا شکار ہوتا ہے‘ جب تک بعض مضبوط اور سمجھوتوں کے تحریری متن سامنے نہیں لائے جاتے افسوس کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی اے ایف کچھ مہنگے طیاروں کیلئے امریکی ڈکٹیشن کا ایک بار پھر شکار ہو گئی ہے۔ یہ طیارے حقیقی طور پر ہماری ایٹمی ڈیٹرنس کے اندر ہماری طاقت کو کئی گنا بڑھانے کے کام آتے لیکن اسکے برعکس یہ مہنگے سفید ہاتھی بن جائیں اور صرف پاکستانی قوم ہی ایک بار پھر نشانہ بنے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں